منیر احمد رزمی

  منیر رزمی تلمبہ کے ایک ماہر تعلیم معروف شاعر خادم رزمی کے صاحب زادے ہیں -قلمی نام منیر ابنِ رزمی۔۔۔۔25 جون 1953 ء جھنگ کی تحصیل احمد پور سیال کی ایک مضافاتی بستی ۔۔۔سجاول چدھڑ میں ننھیال میں پہلی اولاد ہونے کی روایت میں ننھیال میں آنکھ کھولی۔۔۔۔۔۔تاریخی قصبہ نما شہر تلمبہ سے میٹرک کیا ۔۔۔خادم رزمی والد پرایمیری سکول میں مدرس تھے۔۔۔۔خادم رزمی اُردو اور پنجابی / رچناوی کے شاعر تھے۔۔۔۔۔زر خواب ان کی اردو غزلوں کا مجموعہ اور من ورتی رچناوی شاعری ( صدارتی ایوارڈ یافتہ ) ان کی زندگی میں چھپا۔۔۔۔۔محقق کے طور پر ضلع خانیوال میں لمبی قبروں اور دیگر آثار قدیمہ کے حوالے سے وقیع کام شروع کیا جس کا اعتراف تاریخ سرزمین ضلع خانیوال کے مصنف نے دیباچے اور کتاب کے اندر متعدد حوالہ جات میں کیا ۔۔۔۔۔5 شعری مجموعے ابھی اشاعت کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لسانیات کے حوالےسے ساندل بار۔۔۔گنجی بار ۔۔نیلی بار کے وسیع علاقے کی زبان کو جسے کبھی جانگلی اور کبھی ابھیچڑ لہجہ کہا گیا کو ۔۔۔۔سراہیکی اور ماجھے سے الگ اور اصل زبان قرار دینے کی تھیوری پیش کی اور اس کا نام ۔۔۔رچناوی ۔۔۔۔تجویز کیا۔۔۔۔۔۔۔میں نے جامعہ پنجاب ، لاہور سے ایم۔اے پنجابی اور اردو ۔۔۔ لاء کی ڈگری حاصل کی۔۔۔۔رحیم یارخان ۔۔۔چیچہ وطنی اور ملتان میں اردو کا استاد رہا۔۔۔۔24جون 2013 ء بحیثیت پرنسپل کالج ریٹائر ہونے کے بعد چیچہ وطنی میں رہائش پذیر ۔۔۔۔۔۔ لکھنے لکھانے کا شوق والد گرامی سے ملا۔۔۔۔۔نثر سے دلچسپی زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔چند مضامین ۔۔۔۔کتابوں پر تبصرے اور دیباچے لکھے ہیں۔۔۔۔لکھنے سے کم اور پڑھنے سے زیادہ دلچسپی ہے۔

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form