ارشد سیماب ملک


ادبی سفر کا آغاز اردونظموں پر طبع آزمائی سے کیالیکن جلد ہی افسانہ و تحقیق کی جانب مائل ہوئے ان کے افسانے ادبیات، فنون،ماہ نو،روشنائی،قندیل اور مشعل میں شائع ہوئے۔ ادبی تنظیم قندیل ادب سے وابسطہ ہوئے اور اسی کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے سہ ماہی کتابی سلسلہ ’’ قندیل‘‘ کے مدیر رہے۔ بعد ازاں اس ادبی تنظیم کے معاون سیکرٹری رہے ۔ان کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے پرچہ کی حلقہ ء نگارش میں نذر صابری ،ڈاکٹر وزیر آغا،نثار اکبر آبادی ،داکٹر انور سدید،پروفیسرفتح محمد ملک ، محمد اظہار الحق، ڈاکٹر ایوب شاہد،ڈاکٹر رشید امجد،منشا یاد، ڈاکٹر ستیہ پال آنند،شبنم رومانی، محسن بھوپالی، اکبر حمیدی،ڈاکٹر مرزا حامد بیگ، حمید شاہد،ڈاکٹر ناصر عباس نیر،ڈاکٹر روش ندیم ،ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر،ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کے علاوہ دیگر کئی ممتاز اہل قلم شامل رہے۔۲۰۰۶ء سے مقامی زبان کیمبل پوری کے چھاچی لہجہ میں کہانیاں لکھ اور مضامین لکھ رہے ہیں۔۲۰۱۲ء میں کتاب’ تذکرہ‘  اور جنوری ۲۰۱۹ میں ’دستاویز‘ شائع ہو چکی ہیں۔ اپنی بولی کے نام سے کتاب پبلیشنگ کے مراحل میں ہے۔ علاوہ ازیں ادبی جریدہ ’’ذوق‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ نیز اردو افسانوں کا مجموعہ زیر طبع ہے۔

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form