سعید الدین

آج نظم بھی کماڈتی ہے۔نظموں کا ایک باقاعدہ کاروبا ہے۔جینون شاعر اپنا سامان اوٹ میں رکھے ہوئے ہیں۔ سیناریو میں نظمیں سستے داموں بِک رہی ہیں۔منڈی کی بھیڑ اور حروف کی بھرمار میں سعید الدین اپنی جگہ خود بناتا ہوا ایک نمایاں نام ہے۔جہاں خام مال لیئے شورو غوغہ کرتے پھرتے شاعر اپنا بھاؤ کہیں بہتر لگوانے کی فکر میں ہیں وہاں سعید الدین زات کو پیچھے کرتے اپنی نظم کے توسط سے آدرش کا پلُو پکڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی نظموں کے بھیتر مزاحمت کا عنصر جا گزین ہے جسے آنکھین محسوس کرتی ہیں آہستگی سے دلوں پر بھی اُترتا ہے۔نظم ''دو باغی'' میں اپنے اندر ہوتی جنگ اور سٹیٹس کو کے خلاف لڑائی صاف نظر آتی ہے۔۔ نظم کی ایک لائن دیکھئے۔۔''' سب اُلٹے سیدھے پاؤں مار رہے ہیں'''اطراف مین پھیلی شدید بے ترتیبی کی جانب اشارہ ہے۔ انڈو پاک "

" کے معتبر شاعر یقین رکھتے ہیں کہ اُن کے پہلے نظموں کے مجموعے ''رات'' کی یہ نظم گلوبل ویلیج کے کسی بھی ادبی فورم پر بہت اعتماد سے پیش کی جا سکتی ہے۔۔،

تنویر قاضی

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form