A CURSE IT WAS

August 2, 2019
BUDDUNG TALENT SPECIAL نظمیںpoem

اداریہ شمارہ ۔  ۹۔

نسترن احسن فتیحی

دیدبان کا آن لائین شمارہ نہم ’مزاحمتی ادب ‘ کے موضوع پر تیسرا اور آخری شمارہ ہے ۔ جوکسی حد تک تاخیر سے آپ کے سامنے پیش کیا جا رہاہے۔ ہماری رفیق کار سلمی جیلانی کی شدید اور طویل علالت کے سبب ہم سب ذہنی طور پر پریشان ہیں اور خدائے وند کریم کی بارگاہ میں دعاءگو ہیں کے اللہ انہیں شفائے کاملہ عطا کرے۔آمین ثم آمین۔

ہم تینوں رفیق کاریعنی میرے ساتھ سلمی ٰجیلانی اور سبین علی یقناًایک دوسرے کی طاقت ہیں اور ایک ساتھ مل کر اس جوکھم کو اٹھانے کی ہمت اب بھی برقرار ہے۔ اس دو سال کے قلیل عرصے میں ”دیدبان جلد ۔۱ “ اور ” دیدبان جلد ۔ ۲ “کی اشاعت کتابی شکل میں بھی ممکن ہو پائی اور اس کی بھر پور پذیرائی نے ہمیں یہ یقین دلا دیا ہے کہ ہماری محنت وقت کی رائیگانی نہیں ہے بلکہ وقت کی ضرورت ہے ۔

آج ہم اردو زبان کے تاریک مستقبل کا کتنا بھی نوحہ پڑھ لیں مگر اس سے محبت کرنے والے ابھی باقی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ نئی ڈیجیٹل دنیا میں اردو زبان کا پھیلاﺅ تیزی سے ہو رہا ہے ۔ اردو کی محبت میں غیر اردو داں طبقہ بھی تیزی سے جڑا ہے اور اس کامیابی کی کئی وجوہات ہیں ،اس میں اردو کے لئے مختلف لوگوں کی طرف سے الگ الگ طریقے سے کی گئی کاوشیں شامل ہیں۔ جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ مگر اب اس خبر کی صداقت پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ” اردو زبان دنیا کی اگیارہویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اس کے علاوہ 2011 کے سنسس کے مطابق ہندوستان میں ساتویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔جسے اپنانے والی آٹھ کروڑ عوام صرف ہندوستان میں ہے۔“(DECCAN Chronicle. jan 20 /2019)

لیکن لمحہءفکریہ یہ ہے کہ اس میں ادب سے دلچسپی رکھنے والے چند ہزار ہی ہیں اور فعال چند سو ہیں اور مخلص گنتی کے چند لوگ ۔۔۔ ایسا صرف اس لئے ہے کہ اردو صرف ایک خاص طبقے تک سمٹ گئی ہے جس میں چند نے فیشن کے طور پر،چند نے نام و نمود کی خاطر اور چند نے مجبوری کے تحت اردو کو اپنا رکھا ہے ۔اور ان وجوہات کی تحت جڑنے والے اردو سے مخلص نہیں ہو سکتے ۔بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اردو سے کسی فائدے کے لئے نہیں بلکہ زبان کی ترویج کے لئے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی سطح پر کچھ نہ کچھ ایسا کر رہے ہیں کہ اس سے زبان پھلے اور پھولے۔ اس کوشش میں ایک نئی نسل آگے آئی ہے ۔۔۔ جو بہت خوش آئیند بات ہے ،جس میں چند مخلص نوجوانوں کے علاوہ بے حد خوبصورت ذہن رکھنے والی ذہین لڑکیاں سامنے آئی ہیں اور اردو سے محبت کی ایک نئی فضا سازگار کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں ۔ ابھی آسمان ادب پر جگمگانے والے یہ ستارے کل کے آفتاب اور ماہتاب ہونگے۔اور ویسے بھی گہری تاریکی کو امید کی ایک ہلکی سی رمق ہی دور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ اور ان نا مساعد حالات میں دیدبان نکالتے رہنا ہماری وہی چھوٹی سی امیدہے ، اور ہمیں خوشی ہے کہ اس کی روشنی کو بڑھانے والے ہاتھ بڑھ رہے ہیں ۔

”مزاحمتی ادب نمبر“پر تیسری جلد کی تزئین و ترتیب کاکا م شروع ہو چکا ہے ۔ انشاءاللہ یہ زخیم شمارہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ 2019 میں آپکے ہاتھ میں ہوگا ۔جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ اسے خاص بنانے کے لئے اس موضوع پر اہم لوگوں کی رائے اور ان کا نظریہ کسی نہ کسی شکل میں اس میں شامل کیا جائیگا۔وہ انٹرویو ، آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں ہمارے سامنے ہوگا۔مگر تھوڑی سی ترمیم یہ کی گئی ہے کہ یہ اہم انٹرویو پہلے کتابی شکل میں سامنے آجائے تب اسے آن لائین برقی جریدے کا حصہ بنایا جائیگا۔

اس سلسلے میں ایک اہم اعلان اور بھی ہے کہ دیدبان کے برقی جریدے میں شامل وہ مضامین جو پہلے کہیں شائع ہو چکے ہیں یا اس موضوع سے مطابقت نہیں رکھتے، انہیں دیدبان مزاحمتی ادب نمبر میں جگہ نہیں دی جائیگی بلکہ مزاحمتی ادب پر تازہ ترین معیاری مضامین کو کتاب آنے سے پہلے دیدبان کی ای میل آئی ڈی پر بھیجا جائے تو اسے کتاب میں ضرور شامل کیا جائیگا۔ابھی مضامین بھیجنے کے لئے دو ماہ کا وقت ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ اسے وقیع بنانے میں اپنا حصہ ادا کریں۔

دیدبان آن لائین شمارہ اب تک ہر قاری کے لئے فری ہے ۔ اس کے قارئین سے استدعا ہے کہ اس پر اپنی کتابوں ، اشیاءیا کسی بھی بزنس کا اشتہار ڈلوائیں۔ بہت معمولی اجرت کے ساتھ تاکہ اس سلسلے کو زندہ رکھنے میں آپ کی مدد بھی شامل ہو جائے۔ یہ شمارہ پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے ممکن ہے آپ کی ایک ادنی ٰسی کوشش آپکی محنت کو دور دور تک پہنچانے کا ذریعہ بنے ۔ خاص کر کتابیں صحیح قارئین تک پہنچ سکیں۔ اور ہماری اس بے لوث اور غیر منافع بخش کاوش میں آپ کی شرکت کچھ بہتری کی صورت پیدا کرے۔

دیدبان کی ہارڈ کاپی خرید کر پڑھیں کہ اس میں صرف ہماری محنت نہیں سرمایہ بھی لگا ہے ۔ اور سرمایہ اگر واپس نہ آئے تو اس کاوش کو زندہ رکھنا محال ہوگا۔

اسی کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہوں۔ مزاحمتی ادب نمبر کی تزئیں و ترتیب کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ اب بھی وقت ہے اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

خیر اندیش

نسترن

A CURSE IT WAS ~ayesha

With a broken heart ,

No eyes, no ears

No voice to speak

But full of fear


I ask this world

Why only boy and no girl

If we are born, are situations worse?

Why when born, are we understood as a curse,

When sons are there, they are meant to be smart

But don't you think of our heavy heart


No one cares for the tears we shed

In fear, we never raised our head

People thought of us as illiterate

It was a stereotype people did create

The past was past, now it will vary

No problems will we carry


We'll go against our exploitation

We'll do this without any hesitation

We'll protest for our fundamental rights

We'll make them understand, we'll fight

Why do they need to be so rude

Cause our work is still devalued


We want to achieve equality

As we've proven of good qualities

We carry the pride of our society

We're not afraid, we're mighty!


Ayesha

VIII - C



Ayesha Omar

My name is Ayesha Omar . I study in standard 9 of DPS RK Puram , Delhi. I like singing and drawing , writing poems and stories. drawing is my all time favorite activity, though i am still learning but i am excited to share my some of my sketches. drawing is my way of putting my thoughts and ideas on a paper and sharing with everyone.The feedback i get always help me to get better and improve. i am enthusiastic of learning new things
I also love to write poems and stories. The artwork of deedaban excites me a lot, and i would love to learn urdu so that I would be able to read and understand the stories and articles from it.


Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form