عالمی مزاحمتی ادب

March 23, 2018
" شمارہ -٧ "مزاحمتی ادب مضامین

 

عالمی مزاحمتی ادب

نسترن احسن فتیحی

 

عربی مزاحمتی ادب

سماجی حالات کے پیش نظر مزاحمتی صورتِ حال بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ تشدد کے ادوار میں مزاحمت کی جو صورت ہوتی ہے وہ آئینی اور سیاسی ادوار میں اسی انداز اور طریقے سے منطبق نہیں ہوسکتی۔عرب میں بڑھنے والی ثقافتی، ادبی اور فکری سرگرمیوں کو بھی موجودہ حالات کے تناظر میں  فلسطینیوں کی جانب سے پُرامن مزاحمت کی ایک مضبوط صورت  ملتی ہے۔

فلسطینیوں کے شہر تقسیم کے بعد گویا عملی طور پر کئ شہر ان سے چھن چکے ہیں اور فلسطینی ہمیشہ اس خوف اور عدم تحفظ کا شکار رہے کہ کیا ان کے تاریخی شہروں میں ان کی واپسی کبھی ممکن ہوپائے گی؟ مندرجہ ذیل مثالوں میں اس عدم تحفظ کا اظہار ملتا ہے۔

محمود دورویش 

محمود دورویش کو عصر حاضر کےعربی ادب کا نمائندہ شاعر تصور کیا جاتا ہے۔ اُن کی عظمت کا گواہ تو آنے والا  زمانہ ہو گا کہ اُن کے لکھےاشعار کتنا عرصہ زندہ رہتےہیں لیکن ناقدین اُن کو بیسویں صدی کا  انتہائی معتبر نام قرار دیتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں جنتِ گُم گشتہ یعنی سن اُنیس سو اڑتالیس اور پھر سن اُنیس سو سڑسٹھ میں مقبُوضہ ہو جانے والےارضِ فلسطین کا دُکھ اور صدمہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا ہے۔

 

قاری کے لیے

 

فلسطینی شاعر: محمود درویش

مصری ترجمہ نگار: ھانی السعید

 

سیاہ لِلیاں میرے دل کے اندر

اور لب پہ  بھڑکتے ہوئے شعلے

کس ویرانے سے آئی ہیں

اے غصے کے تمام صلیبیں؟

 

سمجھوتہ کر لیا میں نے اپنے غموں اور رنجوں سے ۔۔

اور اپنا لیا میں نے آوارگی اور بھوک کو

میرا ہاتھ غیظ وغضب کی تصویر بن گیا ہے ۔۔

میرا کنجِ لب غصے سے سرگشتہ ہوگیا ہے ۔۔

اور میری رگوں میں غصے کا لہو دوڑ رہا ہے !

اے مجھے پڑھنے والے !

تو مجھ سے سر گوشی کی امید چھوڑ دے !

اور مجھ سے میرے غزل سرا ہونے کی آس چھوڑ دو

 

یہ میرا اپنا عذاب ہے ۔۔

ایک بے سوچ سمجھے چوٹ ریت میں

اور دوسری بادلوں میں !

میرے لیے کافی ہے کہ میں غضبناک ہوں

اور آگ کا پہلا مرحلہ غصے کی شکل میں ہوتا ہے !

 

نزار قبانی

 

انگریزی سے اردو ترجمہ: سلمیٰ جیلانی 

 

 قصیدہ بلقیس / نزار قبانی

بلقیس !...... اوہ شہزادی

قبائلی جنگوں کی آگ نے

تمہیں جھلسا دیا

اپنی ملکہ کی جدائی پر میں کیا لکھوں ؟

میرے الفاظ با عث ندامت ہیں ....

جب ہر طرف مظلوموں کے انبار لگے ہوں

ایک ستارے کے لئے جو ٹوٹ گیا ہو

کسی جسم کے لئے

جو آئنے کی کرچیوں کی طرح ریزہ ریزہ ہو جائے

جب ہم اپنی محبت سے سوال کرتے ہیں

کیا یہ تمہاری قبر تھی ؟

یا پھر عرب قوم پرستی کا مدفن ؟

آج کے بعد میں تاریخ کو نہیں پڑھوں گا

میری انگلیاں جل گئی ہیں ،

میرا ملبوس لہو میں لتھڑا ہے

ایسا لگتا ہے جیسے ہم پتھر کے دور میں جا بسے ہوں

جہاں ہر روز ہزاروں برس پیچھے دھکیل دیئے جاتے ہوں

بلقیس !

شاعری اس دور کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

اس دور عیار کے بارے میں کیا کہتی ہے شاعری ؟

عرب دنیا کچلی ہوئی ، مسلی ہوئی ، زباں دریدہ ہے

ہم مجسم جرم بنا دیئے گئے ہیں

بلقیس !

میں تم سے معافی کا طلب گار ہوں

شائد تمھاری زندگی خود میری زندگی کا تاوان تھی

میں اچھی طرح سے جانتا ہوں

اس قتل میں الجھا ئے جانے سے

ان کا مقصد دراصل

میرے الفاظ کو قتل کرنا تھا

خدا کی پناہ میں رہو

اے حسن بے مثال

تمہارے بعد

شاعری محال ہے

-----------

انگریزی سے اردو ترجمہ

سلمیٰ جیلانی

-------------

نظم بلقیس کا پس منظر :

نزار قبانی شام کے مشھور شاعر اور سیاسی مفکر تھے بلقیس عراقی نژاد اسکول ٹیچر قبانی کی دوسری بیوی تھیں ان کی پہلی ملاقات ایک مشاعرے میں ہوئی تھی -بلقیس سے ان کے دو بچے زینب اور عمر ہوئے ، ١٩٨١ میں لبنان کی خانہ جنگی کے دوران عراقی سفارت خانے پر بمباری کے نتیجے میں بلقیس کی موت واقع ہو گئی اس اندہوناک سانحے نے نے نزار قبانی کو بالکل توڑ کر رکھ دیا ان کی طویل نظم بلقیس میں اس کے اثرات بآسانی محسوس کئے جا سکتے ہیں جس میں تمام عرب دنیا کو اس قتل کا زمہ دار ٹہرایا گیا ہے بلقیس کی ہلاکت کے بعد نزار قبانی نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی

فلسطینی شاعر سمیع القاسم 

فلسطینی شاعر سمیع القاسم کی  نظمیں  :ترجمہ افتخار بخاری

١- موت کےلئے ایک کام

۔

ان قبروں پر

سیلن جن کی

ہزار برس سے

آنسو مجھے رلاتی ہے

حکم امیر شہر کے بل پر

باب رزق کھلا رہتا ہے

اندھے مجاور

اور لفظوں کے سوداگر

پلتے ہیں.....

دستک دے اے موت!

ذرا دروازوں پر

میرے پاس اک کام ہے

تیرے کرنے کا !!

              

٢ - حیات نو

۔

اک دن میرے بال و پر

پھر اگ آئیں گے

لوٹ آئے گی

دور پڑے وقتوں سے

چڑیا

جو مقتل سے اڑی تھی

جس نے کہا تھا

لمحہ لگے یا صدیاں

لیکن میرا جسم

یہ مجھ سے کہتا ہے

یہ خون آلودہ ریشے

وطن کا شہپر بن جائیں گے !

               

٣ - مایوسی

میں وقت میں

چلتے چلتے رکا

تا کہ بچوں کی خاطر

خریدوں

میں کچھ روٹیاں

اور گزر بھی گئے

جانے کتنے برس.....

اور میرے لئے

وقت بد قسمتی بن گیا

تھے مرے ہاتھ میں پیسے

پر ہنسنے والوں نے دیکھا

انہیں غور سے،

اور بولے کہ اے غم زدہ !

اب تو سکے ہمارے

بدل. بھی چکے ہیں !!

ترکی مزاحمتی ادب

ترجمہ: فیض احمد فیض

کسی بھی معاشرے میں سماجی اور اخلاقی اقدار کی بنیاد دور حاضر کا تخلیقی ادب ہوتا ہے‘ ایسا تخلیقی ادب جو ایک تحریک کی صورت میں سماج کے ارتقاءکے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہے۔ سچا ادیب اور شاعر مزاحمتی ادب تخلیق دیتا ہے۔

 

ناظم حکمت

۔ ۱ ۔

جینے کے لیے مرنا

یہ کیسی سعادت ہے

مرنے کے لیے جینا

یہ کیسی حماقت ہے

۔ ۲ ۔

اکیلے جیو ایک شمشاد تن کی طرح

اور مل کر جیو

ایک بَن کی طرح

۔ ۳ ۔

ہم نے امّید کے سہارے پر

ٹوٹ کر یوں ہی زندگی کی ہے

جس طرح تم سے عاشقی کی ہے

........................               

 

سندھی مزاحمتی شاعری

شیخ ایاز

شیخ ایاز سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ  1923ء میں شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو" کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔

شیخ ایازکی شاعری کے ایک انتخاب کا ترجمہ فہمیدہ ریاض نے بھی کیا ہے .وہ لکھتی ہیں :----" ان کو حکومتوں نے کئی بار جیل میں ڈالا ۔۔ ہم عصر شاعر فیض کی طرح وہ جیل سے بہت خوبصورت شاعری لے کر آَ ئے ۔۔ یہ ایک اور واَ ئی سکھر جیل میں لکھی جہاں بعد میں بے نظیر کو بھی رکھا گیا تھا."

ترجمہ : فہمیدہ ریاض

آرے زنداں کے جھروکے سے نہار کتنی

پیاری رات ہے گر رہی ہے

آسماں سے چاندنی کی آبشار

کر رہی ہے دو جہاں پر وار کوئل کی

پکار

یہ ہوا یہ سامنے لمبی کھجوروں کی قطار

چاند بھی سیخوں سے تجھ کو جھانکتا ہے

بار بار

 ناچ سکتا ہے گھڑی بھر اپنی زنجیروں

میں یار

گارے پیارے یہ درو دیوار کب ہیں پائیدار

    کتنی پیاری رات ہے

ترجمہ :فہمیدہ ریاض) دیدبان عالمی ادب انتخاب.1 )

.....................

 

میرے دیدہ ورو

میرے دانشورو

پاؤں زخمی سہی

ڈگمگاتے چلو

راہ میں سنگ و آہن

کے ٹکراؤ سے

اپنی زنجیر کو

جگمگاتے چلو

رود کش نیک و بد

کتنے کوتاہ قد

سر میں بادل لیے

ﮨﯿں ﺗﮩﯿﮧ کیے

بارش زہر کا

اک نئے قہر کا

میرے دیدہ ورو

میرے دانشورو

اپنی تحریر سے

اپنی تقدیر سے

نقش کرتے چلو

تھام لو ایک دم

یہ عصائے قلم

ایک فرعون کیا

لاکھ فرعون ہوں

ڈوب ہی جائیں گے

شیخ ایاز )انہوں نے یہ نظم اردو میں ہی لکھی )

...................

 

 احتجاج اور مزاحمت کے شاعر:کارلس نی ہار 

(CARLOS NEJAR)

   تعارف و ترجمہ : احمد سہیل

برازیل کے پرتگیزی زبان کے شاعر ، ناول نگار، ناقد ، مترجم اور ادب اطفال نویس، خطوط نویس ان کا پورا نام لوئیس کارلس نی ہار ھے۔ ۱۱ جنوری ۱۹۳۶ کو برازیل کے شہر " پرٹو ایگر" میں پیدا ھوئے وہ 1988میں برازیل کی اکادمی آف لیٹر کے رکن رھے ہیں۔ ۲۰۰۹ میں پرتگال کے صدر نے انھیں تعلیم کے بورڈ کا رکن مقر کیا۔ ۲۰۰۵ ھوانا [کیوبا] میں برازیلی ادب اور لسانیات کی کانفرس میں شرکت کی۔ ان کا تعلق 1960 سے 1970 کے درمیاں جنوبی امریکہ میں ابھرنے والی شعری نسل سے ھے ۔ ان کی شاعری میں نظرئیے سے وابستگی، اور ریڈیکل تبدیلی کا تصور نمایاں ھے۔ ان کے شعری لہجے میں تیکھاپن پن ھے جو ان کے اظہار کو دیگر شعرا سے منفرد بناتا ھے۔ ان کا ادبی نظریہ یساریت پسندی{ باءیں بازو} سے قریب ھے۔ اسی سبب ان کی شاعری میں درمندی ھے۔ جو احتجاج اور مزاحمت ، اسٹبلشمنت شکنی سے بھری ھوئی ھے۔ وہ بنیادی طور پر احتجاج اور جبر کے شاعر ہیں ۔ انھوں نے موسیقی کے مخصوص آہنگ کو اپنی شاعری میں متعارف کرواتے ھوئے پرتاگلی زبان کے زخیرہ الفاظ میں بیش بہا اضافہ کیا۔ جو قاری کو تحیر میں بھی مبتلا کردیتی ہے۔ ان کو ۱۹۷۰ میں رونالڈ آگسٹو ناریو کونٹینا اور ہیکر اسٹونیا کے ساتھ کار لوس نی ہار کو برازیہل کا بہتریں شاعر قرار دیا گیا۔ 1960 سے وہ جنوبی برازیل میں مقیم ہیں۔ کارلوس نی ہار کے جونتیس / ۳۴ شعری تصانیف کے علاوہ تین/۳ ناولین، بچوں کے لیے چھہ/۶ کتابیں، مقالات کا ایک مجموعہ شائع ھوچکی ہیں ۔ ان کی چند نظموں کو ایک فلپائی/ امریکی خاتوں میڈلیں پسیوٹو نے انگریزی میں ترجمہ کیا ھے۔

..................

 

"احتجاج"

کارلوس نی ھار/ برازیل ترجمہ:احمد سہیل

انسان اور کشتی بہتے ہیں احتجاج سے احتجاج تک ساحلوں کی طرف برھتے ہیں اور تیز ریت ــــ انسان اور کشتی بہتے ہیں احتجاج سے احتجاج تک ان کی روحین لہروں پر گرداب بناتی ہیں

انسان اور کشتی بہتے ہیں احتجاج سے احتجاج تک اچانک وہ گہرائی میں دھکیل دیے جاتے ہیں دو تیر پیالے کو اٹھاتے ہیں احتجاج سے احتجاج تک اور کشتی سورج سے نبردآزما ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"گواہی"

کارلوس نی ھار/ برازیل ترجمہ:احمد سھیل

خون کو ہاتوں سے مت روکو تمہارا وجود کلنک کا ٹیکہ ھے تم ان ھواؤں میں نہیں سوسکتے

خون کو اپنے ہاتھوں سے مت روکو اپنے آپ کو آگ اور وقت کے ساتھ باھم کرو تمہارے گیت کبھی متعبر نہیں ھوں گے تم کیسے قبول کرسکتے ھو دوسرا ورثہ تمہارے لہو میں شگاف پڑ چکا ھے سایوں کو پیدا کرو تمہارے گھوڑوں کی ٹاپوں سے وقت کچلا جاتا ھے ................

"تیل کا چراغ"

کارلوس نی ہار / برازیل ترجمہ:احمد سھیل

ھوڈلودو مونٹی جب تم آزاد ھو جاؤ وہاں تمہاری کمر پر کوئی گھٹٹری نہ ھوگی آج تم کاشت نہیں کروگے کاغذ میں لپٹا ' آگ میں تر جنگلا  تمہاری جنم بھومی کے قریب

تم آزاد ھو جاؤ گے تمہاری کمر پر کوئی گھٹٹری نہ ھو گی اور نہ رسد گاڑی اور نہ ھی کوئی چابک برسائے گا اور نہ تمہارے خوابوں کو سزا دی جائے گی

جب تم آزاد ھوجاؤ گے تمہاری کمر پر کوئی گھٹٹری نہ ھوگی

..............

 

 تبّت کا مزاحتمی، احتجاجی،قوم پرست انقلابی شاعر اور ادیب : تن زین تشنڑو (Tenzin Tsundue)

ان کی پیدائش ۱۹۷۵ میں مینالی، ھما چل پردیش ، بھارت میں ہوئی۔ ۱۹۵۹ میں ان کے والدین ۱۹۵۹ میں تبّت سے نقل مکانی کرکے ہندوستان آئے تھے۔ تن شین نے چین کے تبّت کے جابرانہ تسلط کے خلاف اور تبّت کی تحریک آزادی کی تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا ۔ جنوری ۲۰۰۲ میں جب چین کے وزیر اعظم ژونگ نونگوجی دروے پر ممبئی آئے تو انھوں نے ان کے منہ پر۔۔" تبّت کو آزاد کرو" ۔۔۔۔ " تبّت سے باہر نکلو" ۔۔۔۔ کےنعرے لگائے اور آزاد تبّت کا پرچم بھی لہرایا۔ جس پر وہ گرفتار ہوئےاور پابند سلاسل کردئیے گئے ۔ پھر انھوں نے اپریل ۲۰۰۵ جب چین کے وزیر اعظم ون چیکوکی بنگلور آئے تو انھوں نے شدید احتجاج کیا اور دھرم شالا میں عوامی تحریک بھی چلائی جس پر بھارتی حکومت نے ان کی نقل وحمل پر پابندی عائد کردی۔ تن زین نے ممبمئی یونیورسٹی سےماسٹر کی ڈگری حاصل کی ھے ۔ ایک مرتبہ چین کے سرحدی پولیس نے انھیں گرفتار کرکے "لاسا" کے ایک عقوبت خانے میں تین ماہ قید رکھا۔ انھوں نے تیں کتابیں لکھی ہیں۔ ۱۔ Crossing the Border (شاعری) 2. Kora - stories and poems ( کہانیاں اور شاعری) 3. Semshook -essays on the tibetan freedom struggle(مضامین)   " میں دھشت گرد ہوں"

تن زین تشنڈو - تبّت

ترجمہ: احمد سہیل

میں دہشت گرد ہوں میں قتل کرنا پسند کرتا ہوں میرے سینگ ہیں دو لمبے دانت اڑنے والے اژدھے کی طرح پونچھ تم نے میرے گھر سے دور میرا تعاقب لیا ھم خوف سے روپوش ہوجاتے ہیں میری جان بچاو میرے چہرے پر زور سے دروازہ بند کرتے ہو میں انصاف کی مسلسل تردید کرتا ہوں میں نے صبر کا تجربہ کیا ہے ٹیلی وژن پر تباہی خاموش اکژیت کے سامنے مجھے دیوار سے لگایا گیا مردہ گلی سے واپس آگیا مجھے ذلّت محسوس ہوئی تم مجھے نیچے سے نگل جاتے ہو چپٹی ناک کے ساتھ میں دھشت گرد ہوں مجھے مار ڈالو بزدلی اور خوف کو میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں وادی میں میاوں ۔۔ میاوں کرنے والی بلیون کے ساتھ اور چوما چاٹی کرنے والے کتوں کے ساتھ میں کنوارہ ہوں میرے پاس کچھ نہیں کھونے کے لیے میں ایک " گولی" ہوں میں نہیں سمجھتا ٹین کے خول سے میں نے سننی خیزی کو ان کی طرف اچھال دی دوسری زندگی اور میں مردوں کے ساتھ مر جاتا ہوں۔

تعارف اور ترجمہ: احمد سہیل

..............

 

آسامی مزاحمتی شاعر

 شاعر:حسین

نسترن فتیحی

 

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کا علاقہ سطح دریا کے قریب کا علاقه ہے . وہاں  بنگالی نسل کے لاکھوں باشندے  کئی نسلوں سے ریاست میں آباد ہیں۔ ان بنگالی مسلمانوں نے  وہاں کے ایک بنجر زمین کے علاقے کو اپنی محنت اور مشقت سے زر خیز بنا لیا. اور کئی نسلوں سے آباد ان محنت کشوں نے جب اس علاقے کوزرخیز بنا لیا  تو آسامیوں نے انہیں غیرملکی کہ کر ظلم اور تشدد سے انہیں وہاں سے بے دخل کرنا شروع کر دیا.ان کے پاس سبھی دستاویزات موجود ہیں لیکن انھیں غیرملکی یعنی بنگلہ دیشی قرار دیا گيا ہے۔ انھیں فارینرز ٹرائبیونل میں اب ثابت کرنا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'ہمارا جنم یہیں ہوا۔ ہمارے پاس سارے  ریکارڈ ا ہیں  حج کرنے کے وقت کا ۔پاسپورٹ ہے لیکن اس کے باوجود انہیں  فارنر ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ جیل میں ہزاروں عورتیں بھی قید ہیں۔ہر ثبوت دکھا نے  کے بعد بھی پولیس انہیں کسی دن بنگلہ دیشی بتا کر گرفتار کر لیتی ہے ۔

"حسین" کا تعلق اسی علاقعے سے ہے . ان کی مزاحمتی نظم دیکھئے جس میں سیلاب اور دلدلی زمین ایک کلیدی لفظ ہے .

نظم "میں میاں ہوں" انگریزی سے آزاد اردو ترجمہ :نسترن فتیحی

میں "میاں " ہوں

اس سیلاب زدہ علاقے سے

مجھے.....

 اب ابھرتے ہوئے دیکھو

نشیبی علاقوں کے دلدل

اور پھنسا ر سے پھسلتے ہوئے

اپنے پھاوڑوں اور بیلچوں سے

میں اب بھی ...

زمین کے سینے کو چیر سکتا ہوں.

گنے اور دھان کے لہلہاتےکھیتوں سے نکل کر

میں ہیضے میں رنگ رہا ہوں .

میں شاعری کے چند سطور

اور حسا ب کے چند اصول سمجھ کر

اپنی دس فیصد خواندگی کا جشن

اپنے کندھے کو اچکا کر مناتا ہوں

اور یہ لمحاتی خوشی میری

اس وقت کافور ہو جاتی ہے

جب کوئی مجھے بنگلہ دیشی کہتا ہے .

لیکن میں اپنے انقلابی ذہن کو

 سمجھا لیتا ہوں

کہ میں "میاں " ہوں .

...........................

 

 

 

 

ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی

Dr.Nastaran Ahsan Fatihi  is an Indian Urdu  fiction writer and social activist. Her notable literary works include Novel" Lift"، and  "Eco Feminism،AsriTanisi Afsana .

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form