عزیز از جاں محبوبہ

April 3, 2020
دیدبان شمارہ 11Storyتراجم

دیدبان شمارہ 11

ّّ" عزیز از جاں محبوبہ "

از ہیروکی موراکامی (جاپانی کہانی)

مترجم:عدیل عباس عادل

اپریل کی ایک خوبصورت صبح تھی،میں ٹوکیو کے پڑوس میں واقع پُر وضع شہر ہیراجوکیو کی ایک تنگ گلی میں ایک من بھاتی لڑکی کے پیچھے گیا۔سچ بتاؤں تو، وہ کچھ زیادہ خوبصورت نہ تھی اور نہ ہی ایسی کہ نظریں اس پہ ُرک جائیں۔اُس کے کپڑے بھی کچھ خاص نہ تھے۔رات بھر کی نیند کے باعث ابھی تک اس کے بال بری طرح اُلجھے اور بگڑے ہوئے تھے۔وہ جواں نہ تھی،یہی کچھ تیس کے پیٹے میں ہو گی۔دراصل اُسے اک دو شیزا کہنا مناسب نہ تھا۔پر اُس سے پچاس گز کے فاصلے پہ بے حس و حرکت کھڑا میں یہی جانتا تھا کہ یہی لڑکی میری عزیز از جاں محبوبہ ہے۔جس لمحے میں نے اسے دیکھا میرے سینے سے اک چیخ سی اٹھی،اور میرا منہ کسی صحرا کی مانند خشک ہو گیا۔

ممکن ہے کہ محبوبہ کے بارے میں آپ کی ترجیحات کچھ خاص ہوں۔کوئی کہتا ہے ایڑی تک پتلی ہو، یا اس کی بڑی بڑی آنکھیں ہوں،یا سجیل خدوخال ہوں،ہم میں سے کوئی بھی لڑکی کی ایسی تصویر پیش نہیں کر سکتا جو ہر اک کی خواہش کے مطابق ہو، بالکل اسی طرح میری اپنی ذاتی ترجیحات ہیں۔چونکہ مجھے اس کی پتلی ناک پسند ہے اس لیے بسا اوقات کسی ریستوران میں ‘میں اپنے آپ کو ساتھ کی ٹیبل پہ بیٹھی لڑکی کو گھورتے ہوئے پاتا ہوں۔کوئی بھی اس بات پر اصرارنہیں کرتا کہ اس کی محبوبہ پہلے سے طے شدہ کسی معیارِ حسن کے عین مطابق ہے۔جیسا کہ مجھے ناک پسند ہے تو میں اُس کے خدوخال کو ذہن میں نہیں لاتا حالانکہ وہ سب کچھ رکھتی ہے۔ہے نا عجیب بات کہ خود کو اِس بات کا یقین دلانے کے لیے کہ وہ کوئی حسین شاہکار نہیں میں کئی باتیں سوچ سکتا ہوں۔میں نے کسی کو بتا یا کہ کل میں اپنی اسی عزیز ازجاں محبوبہ کے پاس سے گزرا ہوں۔

اس نے کہا: ”کیا سچ میں وہ خوبصورت ہے؟“۔

میں:نہیں!وہ اس طرح کی تو نہیں ہے جیسا کہ تمہاری پسند۔میں نہیں جانتا!اس کی آنکھیں کیسی ہیں،اس کے سینے کے زیرو بم کیسے ہیں۔

میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں سوچ سکتا۔

وہ:عجیب بات ہے؟

میں:ہاں! عجیب بات ہے۔

وہ مکمل بیزاری سے کہتا ہے:اچھا تو پھر تم نے کیاکیا؟ اس سے بات کی؟ اس کے پیچھے گئے؟

میں: نہیں‘ محض گلی میں اس کے پاس سے گزرا

ہوں۔

وہ مشرق سے مغرب کو جا رہی ہے اور میں مغرب سے مشرق کو۔ یہ اپریل کی ایک دلکش صبح ہے۔کاش میں اس سے بات کر سکتا۔ڈیڑھ گھنٹے کے قریب وقت گزرا ہو گا۔میں نے صرف اُس سے اُس کا نام پوچھا اور اس کو اپنے متعلق بتایا۔حقیقت میں مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟ دراصل مجھے اسے کبھی نا بھولنے والااک راز اور قسمت کی ستم ظریفی بتانا تھی کہ1981میں اپریل کی ایک خوبصورت صبح کو ہیرا جوکیو میں ہم ایک دوسرے کے قریب سے گزرے تھے۔

گپ شپ کے بعد ہم نے کہیں کھانا کھایا،یاد پڑتا ہے کہ ووڈی ایلن کی کوئی فلم بھی دیکھی۔اس کے بعد ہوٹل بار میں کچھ کاکٹیل چلی اور شاید پھر ہم بستر پر آن گرے تھے۔ان تمام یادوں نے دل کے دروازے پر اک شدت بھری دستک دی۔ اب ہمارے درمیان کا یہ تمام فاصلہ سمٹ کر پچاس گز ہو گیا تھا۔میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ مجھے اس سے کیا کہنا چاہیے؟

صبح بخیر محترمہ! آپ کے خیال میں کیا آپ گفتگو کی خاطراپنے ڈیڑھ گھنٹے دے سکتی ہیں؟

یوں تو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ایسے میں تومیں کسی بیمہ پالیسی کے سیلز مین کی طرح نظر آؤں گا۔

معاف کیجیے گا! کیا آپ پسند کریں گے کہ رات بھر آپ کے پہلو میں کوئی دھوبی ہو؟

نہیں! میں نے کوئی لانڈری نہیں اٹھا رکھی یہ تو فقط ایک چٹکلا تھا ورنہ میں کونسا کوئی ایسی بات کہنے لگا تھا۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بالکل سادہ انداز میں یوں کہا جائے۔”صبح بخیر! آپ مکمل طور پر مجھے عزیز از جاں اور محبوب ہو“۔نہیں! وہ اس بات کا یقین نہ کرے گی یا ہو سکتا ہے وہ مجھ سے بات بھی نہ کرنا چاہے،ہوسکتا ہے وہ کہے ”ممکن ہے کہ میں مکمل طور پر آپ کو عزیز از جاں اور محبوب ہوں پر معاف کیجیے گا آپ میرے لیے مکمل طور پر عزیز از جاں اور محبوب نہیں“۔اگر کچھ ایسا معاملہ ہو جاتا ہے اور میں خود کو ایسی حالت میں پاتا ہوں تو یقیناََ میں تو بکھر کے رہ جاؤں گا، پھر کبھی بھی اپنے آپ کو پہلے سا نہیں پا سکوں گااور نہ ہی کبھی خود کو اس سانحے سے نکال پاؤں گا۔ابھی تو میں بتیس سال کا ہوں باقی کی زندگی کیسے گزاروں گا۔

ہم پھولوں کی ایک دکان کے سامنے سے گزرے۔سڑک پر شبنم گری ہوئی تھی۔ذرا سی گرم ہوا نے میری جلد کو چھوا۔میں پھولوں کی خوشبو میں گرفتار سا ہو گیا۔مجھ میں اُس سے بات کرنے کی ہمت پیدا نہ ہوسکی۔اس نے سفید سویٹر پہن رکھا تھا اور دائیں ہاتھ میں اس نے ایک سفید کورا اور بے رنگ لفافہ تھام رکھاتھا۔یقیناََاُس میں اُس نے کوئی خط لکھ َر کھا تھا،اس کی خوابیدہ آنکھوں سے ممکنہ طور پر یہ محسوس کیا جا سکتا تھاکہ تما م رات اس نے لکھنے میں گزاردی ہوگی۔یہ لفافہ کچھ ایسا ہی رازلیے ہوئے تھا۔میں کچھ قدم مزید آگے بڑھا اور مڑ گیا۔وہ بھی ہجوم میں کہیں کھو گئی۔

یقیناََ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ مجھے اس سے کیا کہنا چاہیے تھا۔اگرچہ میں مکمل طور پر اُسے اپنے حالِ دل سے آگاہ نہ کر سکتا تھا مگر پھر بھی گفتگو کا اک طویل سلسلہ ہونا چاہیے تھا۔ میرے ذہن آنے والا خیال کچھ زیادہ قابل عمل نہ تھا۔

ارے ہاں! اس کا آغاز یوں ہوتاکہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے“ پرآخر میں کیا آپ یہ نہ سوچ رہے ہوتے کہ یہ ایک درد بھری کہانی تھی؟

ہاں توایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی کہیں رہتے تھے۔لڑکے کی عمر اٹھارہ سال ہو گی جبکہ لڑکی یہی کچھ سولہ سال کی۔لڑکا کوئی غیر عمومی خوبصورتی کا مالک نہ تھا اور نہ ہی لڑکی کچھ زیادہ حسین و جمیل تھی۔وہ انتہائی اکیلاعام سا لڑکا تھا اور مقابل میں وہ لڑکی بھی بالکل عامیانہ سی تھی جیسا کہ عمومی طور پر لوگ ہوتے ہیں۔لیکن وہ ایک دوسرے کے دلوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے اور دنیا بھر میں گر ان کا کوئی وجود تھا تو یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر عزیز از جاں اور محبوب تھے۔وہ معجزات کے قائل تھے‘اور یہ واقعہ یقیناََ ہوگیا تھا۔ایک دن وہ گلی کی ایک نکر پرایک دوسرے کے قریب آگئے۔کیا ہی کمال تھا۔

لڑکے نے کہا: میں ایک مدت سے تمہاری راہ دیکھ رہا تھا۔تم اس بات کا یقین نہیں کرو گی‘پر تم ہی میری عزیز از جاں اور محبوبہ ہو۔

جواباََ لڑکی نے اس سے کہا:اور تم بھی میرے عزیز از جاں اور محبوب لڑکے ہو۔

میرے بتانے میں یہ بات بالکل ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔

وہ ہاتھ تھامے ایک بینچ پرکئی گھنٹوں سے ایک دوسرے کو کہانیاں سنا رہے تھے۔اس کے بعد اب وہ اکیلے نہیں تھے۔وہ اپنے محبوب اور عزیز از جاں کا انتخاب کر چکے تھے۔کیا ہی حیران کن ہے کہ جو چیز آپ جیسی چاہتے ہو‘ ہوبہو آپ کوویسی ہی مل جائے۔یقیناََ یہ ایک معجزہ ہے، ایک بہت بڑا معجزا۔

تاہم بیٹھے بیٹھے باتو ں کے دوران کوئی معمولی سا، ذرا پھرخدشہ اُن کے دل میں جڑ پکڑ رہا تھا۔ کیا حقیقت میں ایساممکن ہے کہ کوئی خواب یوں با آسانی شرمندہ تعبیر ہو پائے۔

لمحہ بھر کو جب وہ مکمل طور پر گفتگو میں منہمک تھے تو لڑکے نے لڑکی سے کہا:ہم ایک دفعہ اپنی محبت کا خود امتحان لیتے ہیں اور اگر ہم ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہوئے تو ہم زندگی میں آئندہ پھر ضرور ملیں گے۔ہمیں اس میں کوئی دشواری نہ ہو گی۔اور اگر ایسا ہوا تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ہم سچی طور پر ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہیں۔تمہارا کیا خیال ہے؟

لڑکی نے کہا: یقینا ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔

اوریہ کہہ کروہ بچھڑ گئے لڑکی مشرق کی جانب چل پڑی اور لڑکے نے مغرب کو قدم بڑھائے۔

تاہم انہوں نے وہی کیا جس پر وہ دونوں متفق ہوئے تھے،حالانکہ اس صورتحال میں انھیں کچھ ایسا کرنے کی ضرورت نہ تھی۔انہیں ایسی بات پر بالکل آمادہ نہیں ہونے چاہیے تھا۔کیونکہ حقیقت میں وہ ایک دوسرے کے عزیز ازجاں محبوب تھے۔یہ معجزہ ہی تھا کہ وہ بچپن میں پہلے آپس میں مل چکے تھے لیکن یہ نا ممکن تھا کہ وہ یہ سب جانتے ہوں۔وہ بڑے ہو چکے تھے،ان کے درمیاں لاتعلقی کی لہریں حائل ہوچکی تھی اور بد قسمتی سے وقت کا سکہ ان کی قسمت کا فیصلہ کر چکا تھا۔

سردیوں میں زکام کی اک بھیانک وبا کے دوران وہ ایک دوسرے کے پاس سے گزرے۔وقت کے اس تیز بہاؤ میں وہ گزشتہ سالوں کی باتوں کو بھول چکے تھے۔اور اب جبکہ وہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے تو ڈی ایچ لارنس کے ”پگی بینک“کے جوان کی مانند بالکل خالی الذہن اور بھولے ہوئے تھے۔اگرچہ وہ ذہین اور پُر عزم قسم کے جوانوں میں سے تھے۔اک مستقل آرزو و جستجو کے بعد وہ اس قابل ہوئے

تھے کہ وہ ایک دفعہ پھر وہ دوسرے کو حاصل کر پائیں، محبت اور احساسات نے انھیں اتنی ہمت دان کر د ی تھی کہ وہ اپنا گھر بسا پاتے۔گھر

بسنے کو تیار تھا، وہ حقیقی معنوں میں ایک مکمل عملی زندگی کے لیے تیار ہو گئے انھیں اس بات کا ادراک ہو گیاکہ زندگی کو ایک ڈگر سے دوسری پہ کیسے منتقل کیا جاتا ہے،وہ اپنے من کی ہر بات دوسروں تک پہنچانے کی اہلیت رکھتے تھے۔حتیٰ کہ وہ محبت کا دوبارہ تجربہ بھی کر چکے تھے،بسا اوقات انھیں محسوس ہوتا کہ یہ ہماری حقیقی محبت سے آدھی ہے یا آدھی سے کچھ زیادہ ہوگی۔وقت تیزی سے گزر گیا اور اب لڑ کا بتیس سال کا تھا جبکہ لڑکی کی عمر تیس سال ہوگی۔

اپریل کی ایک خوبصورت صبح کو جب وہ لڑکا کافی کے ایک کپ کی طلب میں مغرب سے مشرق کو جا رہا تھا تو وہی لڑکی کوئی خاص خط ارسال کرنے کو مشرق سے مغرب کو آ رہی تھی۔دونو ں ہیراجوکیو شہرکی ایک تنگ سے گلی میں ساتھ تھے، وہ گلی کے عین درمیان میں سے ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ان کی گم شدہ یادداشتوں کی شمع لمحہ بھر کے لیے ٹمٹمائی،دونوں نے دل سے اک چیخ اٹھتی سنی اور وہ جان گیاکہ یہی لڑکی میر ی عزیز از جاں اور محبوبہ ہے اور وہ بھی سمجھ گئی کہ یہ ہی وہ لڑکا ہے جسے میری دل نے مکمل طور پر عزیز از جاں جانا۔لیکن ان کی یادوں پر ایسی دھول پڑ چکی تھی کہ وہ چودہ سال پہلے کی اس جذبے کو مکمل طور پر محسوس نہ کر سکے ا ور بنا کوئی لفظ کہے ایک دوسرے کے بالکل قریب سے گزر کر ہمیشہ کے لیے ہجوم میں گم ہو گئے۔

ٓٓآپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ایک درد بھری کہانی تھی۔

ہاں!ایسا ہی ہے اور میں اس لڑکی کو بھلا کیا کہتا۔

"ON SEEING THE 100% PERFECT GIRL ONE BEAUTIFUL APRIL MORNING"

from THE ELEPHINT VANSHESH by HARUKI MURAKAMI (Japanese Writer)

٭٭٭٭٭

--

Translator :Adeel Abbas Adil

"ON SEEING THE 100% PERFECT GIRL ONE BEAUTIFUL APRIL MORNING"

from THE ELEPHINT VANSHESH by HARUKI MURAKAMI (Japanese Writer)

٭٭٭٭٭

--

Translator

Adeel Abbas Adil

Jauharabad(KHB)

0302-6395211

HARUKI MURAKAMI (Japanese Writer)

A legendary writer, novelist from Japan

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form