دیدبان کی دید

آدم شیر

 تین ملکوں میں مقیم تین خواتین کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ۔دیدبان۔ ملا -دیدبان کا آغاز برقی جریدے کے طور پر ہوا تھا اور تین پرچوں کے انتخاب کو کتابی صورت دی گئی ہے۔ اس کا پیش لفظ نعیم بیگ نے لکھا ہے اور نسترن احسن فتیحی نے اپنی بات کہی ہے۔ اس میں پرانے اور نئے مصنفین کے بائیس افسانے اور سولہ افسانچے شامل ہیں۔ آٹھ تنقیدی مضامین کے علاوہ چار کتب پر تبصرے بھی ہیں- حصہ نظم میں اکتیس نظمیں و غزلیں ہیں۔ تراجم کا حصہ سات افسانے و نظمیں سمیٹے ہے اور ایک ناول بھی قسط وار شامل ہے۔ تین برقی پرچوں کے دیدہ زیب سرورق بنانے والوں کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی، بھارت نے شائع کیا, صفحات چار سو بیس ہیں اور قیمت چار سو پچاس روپے درج ہے۔ تبصرہ بعد میں پیش کیا جائے گا، ابھی دور دور رہنے والی خواتین کی ہمت کو داد - 

حصہ مضامین میں علی رفاد فتیحی نے سردار جعفری کی نظم ۔میرا سفر۔ کا ساختیاتی آہنگ جانچا ہے، ظہیر بدر نے اقبال اور فیض میں چند فکری مماثلتیں ڈھونڈی ہیں، پیغام آفاقی وقت کے تخلیقی تصور اور آج کے اردو فکشن کو زیر بحث لائے ہیں، فرخ ندیم نے ۔ اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی۔۔۔ٴٴ کے عنوان سے منٹو پر مضمون لکھا، قاسم یعقوب نے تانیثی تھیوری اور اردو نظم کے عنوان، نصیر احمد ناصر نے عورت عظیم ہے، خورشید حیات نے تنقید اور تخلیق کا رشتہ کے عنوانات کے تحت مضامین لکھے ہیں اور افشاں ملک نے عصمت چغتائی کے افسانوں میں رومانوی رجحانات پر بات کی ہے۔ سردار جعفری کی کتاب لکھنو کی پانچ راتیں، اقبال حسن کے ناول گلیوں کے لوگ، نعیم بیگ کے افسانوی مجموعے پیچھا کرتی آوازیں اور ناول لفٹ پر تبصرے ہیں۔

آدم شیر

آدم شیر نامور افسانہ نگار  اور روزنامچہ  نئی بات لاہور سے منسلک صحافی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form