دیدبان شماری ۹
پہچان
عمارہ خان

ڈوبتے سورج کی سرخی جہاں سردی سے کپکپارہی تھی وہیں طلوع ہوتے چاند کی ٹھنڈک ماحول کو مزید سرد کررہی تھی۔خوبصورت شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیاں آسمان کوچھوتے مینار اپنی پاکیزگی بیان کررہے تھے۔ میناروں کے عین سامنے سیاہ دروازے پہ بنا سفید کراس اندھیرے میں بھی جگمگاتا اپنی پہچان آپ تھا۔
ان دونوں مقدس عمارتوں کے درمیان ایک پتلی گلی تھی ، جس کے انہتائی کونے میں کچر ا کنڈی بنی ہوئی تھی ۔ اسی کے بالکل قریب ایک دس بارہ برس کا ادھ ننگا بچہ ٹھنڈی سڑک پہ بیٹھا ہواتھا ۔
اس کی حیران آنکھیں اپنے سامنے لیٹی ماں پہ جمی ہوئی تھیں ۔جو بے سدھ پڑی الجھی الجھی سانسیں لے رہی تھی ، اس زندہ لاش کی ہر آتی جاتی سانس کمر سے لگی پسلیوں کو نمایاں کررہی تھی ۔ماں کا سردی سے برف بنا ہاتھ ،بچہ اپنے ہاتھوں میں لیے سہلانے کی کوشش کررہا تھا، یا شاید گرمائش دینے کی خواہش تھی
اس بچے کے پچکے گالوں پہ سوکھے آنسوں کے نشان بتا رہے تھے وہ روتے روتے تھک چکا ہے ، چہرے کی کٹی پٹی کھال بچے کی وحشت کو مزید نمایاں کررہی تھی۔ چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں اور پاؤں کی کھال خشکی اور سردی سے جا بجا چٹخ رہی تھی ۔سر کے بال میل سے چپکے ہوئے تھے ، بہتی ناک اور پپڑی زدہ ہونٹ وقت گزرنے کے ساتھ سردی سے نیلے پڑرہے تھے۔ ،اس کی گدلی نیم وا لگی آنکھوں میں نیندکے واضح اثرات تھے۔ گھٹنوں سے کافی نیچے تک بوسیدہ قمیض لہرارہی تھی جو یقیناً بچے کی واحد جمع پونچی تھی۔اس قمیض میں بھی ان گنت سوراخ تھے،سامنے کے تین بٹنوں میں سے صرف ایک ہی بٹن اپنی جگہ موجود تھا ۔ پتہ نہیں اس قمیض کے نیچے کچھ تھا بھی یا نہیں لیکن جس طرح سردی سے دانت بج رہے تھے اسے دیکھ کے امکان تھا قمیض اکیلی ہی ستر پوشی کررہی ہے۔
بچے کے چہرے پہ بھوک کے ساتھ تکلیف کا احساس بھی تھا، اس کی ایڑی میں سردی سے زخم بننے شروع ہوگئے تھے ۔۔یہ بھی شکر کا مقام تھا کہ ایڑی ایک تھی کیونکہ دوسری ٹانگ کا کوئی وجودہی نہی تھا۔۔اس بچے نے اپنے میل سے بھرے ناخنوں والے ہاتھ کوبڑھایااور نظروں کے سامنے پڑے ہوئے لاغر وجود کو دیکھا جو دنیا میں اکلوتا رشتہ میسر تھا اسے
ماں ۔۔۔ بچے نے بمشکل گلے کو اپنے بچے کچے تھوک سے تر کیا اورآہستگی سے پکارا۔۔اے ماں، اٹھ نا
بے ہوشی کو چھوتی وہ عورت اپنی کپکپاتی آنکھیں کھولنے پہ مجبور ہوگئی۔۔سوکھے ہونٹوں کو لمحہ بھر چیراشاید مسکرانے کی کوشش کی تھی ۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں بیٹے کو تسلی دی۔
پیٹ میں بہت درد ہورہا ہے ماں ۔۔الٹی بھی آرہی ہے
بچے نے معصومیت سے ماں سے کہا ۔وہ جانتی تھی بھوک کے آگے اس کا بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے۔ بھوک نامی عفریت سے کون مقابلہ کرسکتا تھا ۔
سن نا کیسی کیسی آوازیں آرہی ہے پیٹ سے
اولاد کی بھوک کا احساس اس کمزور عورت کو اٹھانے کا سبب بن گیا۔اس نے اپنے دکھے ہوئے بدن سے نظریں چرائیں اور دائیں بائیں دیکھ کے وقت کا اندازہ لگایا۔۔کچھ سوچ کے سر ہلایا جیسے خود کو تسلی دی ہو
تو بیٹھ ادھر میں آتی ہوں۔
تو کہاں جارہی ہے ماں ۔۔ مجھے ڈر لگےگا نا ۔۔ بچے کو ایک دم تنہائی کاخوف بھی لاحق ہوا، اس وقت وہ پیچھے بہنے والی گندی نالی کے ان چوہوں کو بھول گیا جو اس کے سوتے ہی اکلوتے پاؤں سے گوشت کاٹ کھاتے تھے ۔ اسی بناء اس کا زخم کسی طرح ٹھیک نہیں ہورہا تھا لیکن یہ وقت ابھی ان چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غور کرنے کا نہیں تھا کہ اس کی آنکھ لگتے ہی کمزور جانور اپنا پیٹ بھرنے اس کو اذیت دیتے ہیں اور یہ اذیت ناک لمحات اس وقت ہوتے جب ماں اس کا پیٹ بھرنے کو اسے چھوڑ کے جاتی تھی ۔طاقت ور انسانوں کی طرح جانور بھی کمزور اور لاچار پہ ہی حملہ کرتے تھے ۔ سوئی ماں نیند میں بھی اپنی اولاد کی ہلکی سی کراہ سن کے فورا پاس پڑے پتھر مار کے بیٹے کا تحفظ کرلیتی تھی
ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ماں بیٹے کو کپکپا کر گزر گیا ۔لمحہ بھر کے لیے دونوں ہی اپنی بات بھول گئے ۔۔۔ کچھ پل ہاتھوں کو رگڑ کے گزارا، جان میں جان آئی تو اسے یاد آیا بیٹے کو کچھ کہنا تھا ۔
بات سن ۔۔۔میں تجھے بہت سا دودھ لا دونگی لیکن پہلے تو وعدہ کر اس دروازے پہ نہیں جائے گا۔
پر ماں ۔۔۔۔
بس میں منع کررہی ہوں نا تجھے ۔۔ ماں نے خفگی سے آنکھیں دکھائیں، لیکن غربت اور لاچاری کی ستائی مامتا بیٹے کی نظروں سے ٹپکتی بھوک کا زیادہ سامنا نہیں کرسکی
تیرا باپ بھاگ گیا تو کیاہوا رے، میں ہوں نا
باپ نہیں چاہیئے، روٹی چاہیئے ۔بچے نے دل ہی دل میں دنیا کی تلخ حقیقت بنا جھجکے تسلیم کی ۔
آدم کی اولاد نے کچھ نا سمجھتے ہوئے سر ہلا کے اپنی رضامندی دے دی۔لیکن الجھتے ہوئے سوچا ضرور۔۔۔پتہ نہیں ماں اس جگہ جانے سے کیوں روک رہی ہے ، وہ آدمی بھی تو دودھ کا گلاس دیتا ہے بلکہ ساتھ کچھ میٹھا بھی دیتا ہے جو ماں نہیں لاتی تھی
بس تو نے اس صلیب والے دروازے پہ نہیں جانا ۔۔ دیکھ وہ تیرا حرام خور باپ، کرم جلا جیسا بھی تھا ایک مسلمان تھا، میں نہیں چاہتی تیری پہچان خراب ہو ۔۔۔۔ بچے نے ایک دم چونک کے ماں کو دیکھا جو اسے اس کی پہچان بتارہی تھی
پر وہ کھانا دیتے ہیں ماں۔۔ آنتوں کو نوچتی اس بلا کے آگے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی جو اس وقت ٹھنڈی سٹرک پہ ایک خستہ حال قمیض میں سکڑے بچے کے پیٹ میں تباہی مچارہی تھی ۔۔۔۔ُ گرہیں لگاتا خالی پیٹ، صرف ایک ٹکڑے روٹی کی چاہت رکھتا تھا، باپ نامی رشتے کی نہیں
کھانا میں لاتی تو ہوں ۔کم۔۔۔ زیادہ بھوکا تو نہی سوتا نا تو۔۔
ماں ایک دم تڑپ گئی۔کوئی کھانا دے کر اس کے بچے کی پہچان کیسے بدل سکتا ہے، نہیں نہیں یہ میں نہیں ہونے دونگی ۔
پر ماں ۔۔۔
بس تو وعدہ کر کبھی اس جگہ نہیں جائے گا۔ماں نے اصرار کیا تو بچے نے ناسمجھی سے سر ہلادیا۔۔۔۔لیکن اسے یاد آیا۔۔پرسوں ہی تو اس کی ماں اپنے کام سے خالی ہاتھ روتی ہوئی واپس آئی تھی تو وہ چپکے سے اسی صلیب والی جگہ سے کیک اور ڈبل روٹی لے آیا تھا۔لیکن بعد میں ماں کو علم ہوا تو اس نے سختی سے منع کردیا۔ ماں کے منع کرنے کے باوجود بھی اس کا چھوٹا سا ذہن اس بات کا احاطہ نہی کر پایا کہ جس طرح میناروں والی جگہ کا حلوہ بھوک مٹادیتا ہے اسی طرح کراس والی جگہ کا کیک بھی تو پیٹ میں پڑنے والی گرہیں ختم کردیتا ہے ۔۔۔ اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کھانا کس جگہ سے آرہا ہے ۔ کھانا اور پیٹ بھر کھانا اہم ہے جہاں سے مرضی آئے ۔

چل میں جارہی ہوں تو ادھر ہی بیٹھا رہ ۔۔کہی مت جائیو اچھا، ورنہ پاؤں میں اور درد ہوجائے گا۔ماں نے بیٹے کو تاکید کی اور خود لرزتے قدموں مسجد و گرجا گھر کے سامنے سے نظریں جھکائے گلی پار کرگئی۔
ماں کے جانے کے بعد وہ بچہ گرتی انسانیت کی اصل اور ننگی شکل کا روپ دھارے،اپنی اکلوتی ٹانگ کو پھٹے ہوئے کرتے سے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔اس نے آس پاس سے چند پتھر بھی جمع کرکے اپنے پاس رکھ لیے تاکہ آنکھ لگنے کا خمیازہ کم سے کم بھرے ۔ اب جان لیوا وقت کاٹنا تھا ۔ اس کی بھوکی نظریں گلی کے کونے پہ جم گئی جہاں سے ماں گئی تھی ۔اسے معلوم تھا ابھی دودھ دینے والی بڑی سی گاڑی آئے گی اور کچھ ہی دیر بعد گلی کے کونے یعنی ٹرک کے پیچھے سے ماں گیلی آنکھوں کے ساتھ نکلے گی ۔اس تک آتے آتے وہ آنکھیں خشک کر لےگی لبوں پہ زخمی مسکراہٹ سجالےگی ۔ ہاتھ میں پکڑی دودھ کی تھیلی کو کسی تمغہ کی طرح لہرائے گی تاکہ بچہ دور سے دیکھ لے ماں خالی ہاتھ نہیں آئی ۔
بھلا ایک سانس لیتی ماں کس طرح گوارا کرلیتی کہ اس کا بیٹا صلیب والے دروازے کے پیچھے چغہ پہنے لوگوں سے مفت پھل لائے ،جبکہ وہ اونچی شلواروں والوں کے پاس جا کے واپس آسکتی ہے ۔
بچے کو ماں کی اجڑی ہوئی شکل اور مسکے ہوئے کپڑوں سے کوئی مسئلہ نہی تھا وہ صرف ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھیلے دیکھتا تھا چہرے اور روح پہ لگے داغ نہیں جو اس کی پہچان بچارہے تھے۔

ختم شد

عمارہ خان

عمارہ خان کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے۔ وہ کئی جرائد میں افسانے ناولٹ اور ہارر کہانیاں لکھ چکی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form