آنکھوں کے زخم اور ھلدی

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

سبین علی کی کہانیوں کی کتاب

'''گُلِ مصلوب''' کا ویروا

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

باری علیگ کی کتاب ''' کمپنی کی حکومت''' کالونیوں کی بربادی کی داستانیں سناتی ھے۔۔ جہاں تاریخ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑ کر ایک ایسا پُل بناتی ھے۔۔ جس پر کھڑے ھوکر ھم 'ایسٹ انڈیا کمپنی' کی چیرہ دستیاں دیکھتے ہیں تو ان سفید لوگوں کا حریص چہرہ نمایاں ھو جاتا ھے ۔۔ یہ ایک سچے اور سُچے تاریخ دان کی لکھت ھے جو ھمیں قدرے بہتر سمت دیتی ھمارے دل حقائق کے قریب لے آتی ھے۔۔ اس کے بر عکس سرکاری مورخ کی لکھی تاریخ میں کارپٹ کے نیچے فرمانرواؤں کے لہو لِتھڑے کرتوت بیان کرنے کی بجائے ان کی مدح سرائی کا عنصر غالب ھوتا ھے اور ایسے میں فکشن رائٹر کی کھتا اپنے سلیس بیانیئے،، علامتی اور تجریدی طریقے سے اس وقت کا سارا مسخ شدہ نظام سامنے لے آتی ھے ۔ وہ ایسے ممنوعہ علاقوں تک بھی پہنچ جاتا ھے جہاں اجتماعی قبریں اور مفتوحہ علاقے کے لوگوں کی چیخیں صاف سنائی دیتی ہیں ۔۔ سرکاری کارندے کچھ اور کہانیاں سنا رھے ھوتے ہیں ۔۔

عبداللہ حسین نے 'اُداس نسلیں' میں جلیانوالہ باغ کا واقعہ جو ایک مچھیرے کی زبانی بیان کیا ھے وہ اصل تاریخ ھے ۔۔ سو اصل مورخ فکشن لکھنے والا ہی ٹھہرتا ھے

کہانیوں کی ابتدائی کتاب میں ''' کلمہ و مہمل''' جیسی منفرد کہانی جو بطون میں خامشی۔۔ لُکنت اور روانیءِ کلمات کا تجربہ اپنی تمام کٹھنائیوں سمیت بیان کرتی ھے۔۔ سبین علی کو میچورٹی کا فلیگ تھماتی ھے۔۔ یہاں وہ بچوں سے abusing جیسے گھناونے جرم کا ارتکاب کرتے کریہہ لوگوں کے چہرے کمال فن اور سلیقےسے بے نقاب کرتی ھے ۔۔ ایسے میں اس کے اندر کی پُر خلوص اور نڈر فنکارہ ڈرائینگ روم سے صحن اور صحن سے گلی کی فرسودگی اور سیلن کے مقابل آ جاتی ھے،، ایسی جرات طاہرہ اقبال اور سلمی جیلانی کے ہاں بھی دیکھنے کو ملتی ھے۔۔

ان چند خواتین نے جینڈر کا مسلہ یکسر پُھلا دیا اور واقعی شانہ بہ شانہ برفانی ریچھوں،، مگرمچھوں اور دریائی گھوڑوں کی سفاکیوں کے خلاف بیر رکھنے کی ٹھان لی ھے ،،،

'''ہلدی بیچاری کیا کرے''' کم وسائل لوگ متاثرہ جگہ پر ھلدی لگا لیا کرتے ہیں۔۔ یہاں تو آنکھیں زخمی ہیں ۔۔ قلبوت کے ساتھ روح بھی لنگڑاھٹ کا شکار ھے ۔۔ ھلدی بیچاری کیا کرے ۔۔ جبر کے ماحول میں پرندے بھی متاثر ھوتے ہیں ۔ انسان بھی تو ذرا بڑے پنجرے کا پرندہ اور قیدی ھے ۔۔ قفس سے سر ٹکراتا تصویر بن جاتا ھے ۔۔ سبین علی نے اس کہانی مین اچھا نقش بنایا ۔۔

'''کتن والی''' نچلے طبقے کے لوگوں کا مرثیہ ھے ۔۔ غُربت جو کُفر کے قریب لے جاتی ھے ۔۔وہ اس کہانی میں نظر اتی ھے ۔۔ بھولا پُڑی پر لگا ھوا ۔۔ قبر کی دیواروں سے وقت سے پہلے جا لگا ۔۔ وقت سے پہلے ٹوٹ جاتے ہیں جن کھلونوں کی دیکھ بھال نہ ھو ۔۔ یہ ایڈکشن افغان جہاد کے مالِ غنیمت میں سے بانٹی گئی ۔ جس نے بے شمار گھروں میں موت بن کر دستک دی ۔۔ مائی جس کا ایک چھوٹا سا خواب ڈھائی مرلے کا مکان تھا وہ اس کی جھگی بھی بہا کر لے گیا ۔۔ اور اُدھر ناجائز دولت سے عمرے اور حج کرنے والے بھیڑئے ہزاروں ایکڑ کی رہائش میں خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتے رہے ۔۔ جن کا مزھب کہتا ھے ۔۔ دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے کرتے ھو ۔۔ یہاں مصنفہ نے صحیح کہا '''روئی کی پُونی کی بجائے کسی نے مائی کا وجود تکلے کی سُوئی میں پرو ڈالا ھے''' masses کی کہانیاں لکھنے کے لئے ان جیسا روپ دھارنا پڑتا ھے ۔۔ ان کرداروں جیسے چولے پہننے پڑتے ہیں ۔۔ جیسے ''' مٹی کی مونا لیزا''' میں اے حمید نے چولا پہنا اسی طرح سبین علی نے مائی کا روپ بدلا ۔۔ میرے خیال میں تو اس جاں لیوا مایوسی کو اور بڑھنا چاھئےکہ اسی میں سے امید کے در وا ھوں گے ۔

سرمایہ دارانہ نظام کی دلدل کا پُتلی تماشہ سبین کی کہانیوں میں جا بہ جا لگا رھتا ھے ڈور جن ہاتھوں میں ھے دکھائی نہیں دیتے۔۔ وہ کھوپڑیوں میں شراب بھر کر پیتے تھے ۔۔ یہ فٹ بال بنا کر کھیلیں گے ۔۔ جیت کس کی ھو گی ۔۔ ڈاھڈے کی ۔۔ جس کے ہاتھ میں ان پتلیوں کی ڈور ھو گی ۔ وسائل والے ہی یہ روبوٹ خرید سکیں گے ۔۔ emporium میں بھاؤ لگیں گے ۔۔ سکت نہ ھونے پر اُفتادگانِ خاک ایک دوسرے کا منہ تکیں گے ۔۔ سنا ھے آنے والے دنوں میں aging بھی ختم ھو رہی ھے ۔۔ لوگ اپنی مرضی کی زندگی من بھاتی عمر کے ساتھ جئیں گے ۔۔ لیکن یہ مہنگا سودا کون خرید سکے گا ۔۔ ایسے میں تو غریب غربا کے اعضاء کی قیمت لگے گی ۔۔ تیسری دینا جس میں ترقی یافتہ لوگوں کا خام مال پڑا ھے ۔۔ اس کا استحصال پہلے جیسا ہی ھو گا ۔۔ وہ اپنے آقاؤں کے سامنے قرض کے لئے اپنا ہی سامان خریدنے کو گڑ گڑا رھے ھوں گے ۔۔ بچپن میں وہ چارپائی پر پردہ ڈال کے پیچھے بیٹھا شحص پتلیاں نچاتا تھا ۔اب وہی پتلیاں digitalized ھو کر رقص کرتی ہیں ۔۔ ان میں زیادہ بے باک پتلیاں missing persons میں شمار ھونے لگتی ہیں ۔۔

'''لپ اسٹک''' گھریلو فضا میں جو کشمکش ھے وہاں انا، پرانی اقدارکے آگے جھکاؤ اور نئی روش اختیار کرتے ھوئے نفسیاتی کھچاؤ کی اچھی تصویر کشی ھوئی ۔۔ صابرہ کا لپ اسٹک لگانے کا شوق اب اس کی بیٹی پورا کرے گی میکے سے سسرالی دہلیز پار کرتے تشکیک ،، اندیشے اور روائیتی رسوم و رواج کی بکل اوڑھے ۔۔ صابرہ کی لنگڑاھٹ کے سائے میں گھرا یہ گھر شائد آھستہ آھستہ نئے زاویہ نگاہ کو اپنا لے ۔۔۔

'''گگڑی''' یہ ایک ایسا کردار ھے جو ھماری بد بُو اُٹھائے پھرتا ھے یعنی ھم اپنی بد بُو سے کتراتے اپنے آپ کو بھینسوں کے باڑے میں چھوڑ آتے ہیں ۔ اور ھمیں خبر تک نہین ھوتی ۔۔یہ بیگانگی کے نہایت پست درجے میں چلے جانے کی طرف اشارہ ھے ۔

''' چیونٹیاں''' ایک خوبصورت کہانی جو اپنی گنجلک حیثیت میں خواب سے حقیقت اور حقیقت سے خواب تک سفر کرتی ھے ۔ ہیلوسینیشن کا شکار کردار جہاں جاتا ھے چیونٹیاں اپنے ساتھ لے جاتا ھے ۔۔اسی خوف کی بھینٹ اس کی بیوی چڑھ گئی ۔۔ شائد یہ بھی ایک خواب ھو جو اس کا پیچھا کرتا ھے ۔۔ غلام حسین کے کردار کی بناوٹ اس سے بہتر کیا ھوتی ۔۔ وہ اپنے خدو خال میں ورکنگ کلاس کا نمائیندہ اور ھماری ہی دھرتی کا باشندہ لگا۔۔ اس کہانی کے توسط سے پورے معاشرے کی نفسیات ،، اور بے چینی کو تصویر کیا گیا۔۔ غلام حسین کا خود ساختہ خوف ھماری چہار اطراف پھیلی بیگانگی کی نشان دہی کرتا ھے۔۔

'''' ڈول رسی سے آزاد ھو کر کنوئیں کی تہہ میں گرنے لگا۔۔ رسی چرخی پر لپٹی رہ گئی جس پر چیونٹیاں ہی چیونٹیاں تھیں'''

یہ کیفیت ھماری اکنامکس،، سائیکی،، سیاسیات کو بھی اپنے گھیرے میں رکھتی ھے۔۔ آدمی ڈول بنا ھوا ھے۔۔ چرخی پر چیونٹیاں اسے معاشرت سے بے دخل کر رھی ہیں۔۔ '''چیونٹیاں''' کہانی کو ھم کہانیوں کی کہانی بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔

کچھ کہانیوں کو علیحدہ بحث نہیں کرتے لیکن مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو جیسے ان میں گلوبل ویلج کے دو مختلف منطقوں کی اقدار اور جینریشن گیپ کا المیہ بیان کیا گیا ھے ۔۔ تہزیبوں اور لسانیات کا ٹکراؤ ایک خلیج پیدا کرتا انسان کے اندر چھناکے کرتا ھے ۔۔ جسموں میں یورک ایسڈ بھرتا جوڑوں کا مرض دیتا روحوں کو چھلنی کرتا روند تا چلا جاتا ھے ۔۔ سبین کی کہانیوں میں شہر اور گاؤں کی رہتل کا ملاپ زندگی کے مختلف رنگ،روپ اور پلسیٹے فیسینیٹ کرتا ھے ۔۔ خصوصی طور پر دیہی پس منظر کی کہانیاں بیدی ،، کرشن،، احمد ندیم قاسمی،،بلونت سنگھ،، محمود احمد قاضی ،، خالد فتح محمد اور طاہرہ اقبال کے کام کی یاد دلاتی ہیں ،،،

اپنی مٹی کی مھک اوڑھے اپنے پچھوکڑ کو ساتھ لئے نیٹِو ھونا ہی commitment ھے عشق ھے۔۔ گارسیا دنیا جہان کی باتین سن سنا کر واپس اپنے گاؤں '''اراکاتاکا'''کی گلی کی خاک پر ماتھا ٹیکتا ھے۔۔ سبین بھی یہاں پگڈنڈیوں پراپنے کیکروں کے خارو پُھول پلُو میں بھرتی نظر آتی ھے ۔۔۔۔

کچھ سادہ بیانئےکی ایسی کہانیاں جو ابھی افسانہ بننے کو خود سپردگی پر مائل ہیں ۔۔ لیکن سبین علی کشتیاں جلا کر ان پانیوں میں اُتری ہے ۔۔ اسے بات بنا آتی ھے۔۔سمیع آھو جا کہتے ہیں کہانی اور افسانے کی بنیاد وقوعہ ھےجس پر لکھنے والا اپنے اپنے طریق سے لکھت کو شکل دیتا ھےسو وہ وقوعے سے کہانی اور کہانی سے افسانے کی مسافت پر گامزن ھے۔۔ دعا ھے لکھتی رہے اور ھمیں نئی نئی کہانیاں سناتی رہے ۔اس کی لگن سچی ھے ۔ مشاہدہ اچھا ھے اور اسے خواب دیکھنا اسے بیان کرنا بھی آتا ھے ۔ میرے خیال میں شاعر اور فکشن رائٹر ایک سو نظمیں یا کہانیاں لکھتے ہیں تو ایک نطم یا ایک کہانی ان کے ہاتھ لگتی ھے ۔۔ منٹو۔، بیدی ،، کرشن چندر ،، ڈاکٹر انور سجاد،، اسد محمد خان ،،مستنصر حسین تارڑ ،، سمیع آھو جا،، محمود احمد قاضی ،، اسلم سراج الدین اور خالد فتح محمد کے ساتھ ایسا ھوا ۔ سبین علی بھی مجھے کسی ایک ایسی کہانی کی جستجو میں نظر آتی ہے ۔۔۔۔

تنویر قاضی

تنویرقاضی کی پیدائش  11 ستمبر  1955کو ننکانہ صاحب میں ہوئی- تعلیم  ۔۔۔  ایم ۔ اے  ۔،۔ پنجابی ، ڈپلومہ ( انسیٹیوٹ آف بینکرز ین پاکستان)کرنے   کے بعد بینکر کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھا تے ہوئے شاعری سے  بھی ناتہ نہیں توڑا .اس طرح ان کا شعری مجموعہ "جادو سبز ھواؤں کا 1998 میں آیا .ان کی پہلی  غزل "  پاکستانی ادب . کراچی  ، 1974 ..بیسویں صدی  ۔۔ دیلی انڈیا  ۔۔۔ 1974 اور پہلی  نظم ۔۔  وارث شاہ  ۔ملتان۔ (1974)میں شائع ہوئی 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form