1۔عزیزی نسترن فتیحی ۔ دعائے دارین۔

ہمیشہ اسی طرح فعال و خوش حال رہیں ۔ آمین ۔ ان دعائوں کے ساتھ شکریہ ، مجھے ’’دیدبان‘‘ جیسا بیش قیمت تحفہ ملتے ہی ادا کر دینا تھا ۔ چاہتی تو میں یہی تھی مگر دیکھئے ہوا کیا؟ دیدبان پر نظر پڑتے ہی میں اس کے سحر کی گرفت میں جا پڑی ایک سے ایک درّہ ہائے طلسم آنکھوں کے سامنے وا ہو گئے، دربند کے در بند کھلے جا رہے تھے ان سے نکلنے کے لئے مجھے ان سے گزرنا تھا کہ نہیں ؟۔ آج پورا پڑھ لینے کے بعد عش عش کرتی آپ کو خط لکھنے بیٹھ گئی ہوں ۔

آپ کے ساتھ سبین صاحبہ اور سلمیٰ جیلانی کی فکر انگیز ، ذہن و نظر کو بالیدگی بخش دینے والی کوششوں کا ثمرہ یہ انتخاب، بصیرت افروز ہے ۔۔ دل پذیر ہے۔ اردو ادب کے عام قاری کے لئے (جن کی پہنچ آن لائین رسائل تک نہیں ہے ) آپ لوگوں نے اردو ادب کا ایک عالمی در وا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اجر خیر سے نواز دیں۔ اور جیسا کہ حقانی القاسمی نے لکھا ہے، اس سے ہمارے اردو ادب کو ایک نئی آکسیجن مل جائے ۔ ’’ دیدبان ‘‘ تو بیش قیمت ہے ۔ معمولی نذرانہ چک کی صورت بھیج رہی ہوں ۔ قبول کر لیں ۔

مخلص بلقیس

۱۶ فروری ۲۰۱۹ ؁

تبسّم فاطمہ

نام : تبسّم فاطمہ پیدائش : تین جولائی وطن : آرہ ،بہار تعلیم : علم نفسیات   میں ایم .اے ،صحافت میں ڈپلوما ، انعام وا عزاز :دلی اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کے انعامات .ہیومن  رائٹس دلی کی طرف سے خصوصی انعام تبسّم فاطمہ کی پیدائش بہار میں ہوئی .تعلیم بہار میں حاصل کی .شادی کے بعد دلی میں سکونت  اختیار کر لی .اب تک اردو اور ہندی میں انکی کئی  کتابیں منظر عام  پر آ چکی ہیں .لیکن جزیرہ نہیں ،سیاہ لباس ،تاروں کی آخری منزل افسانوی مجموعے ہیں .ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے ، میں پناہ تلاش کرتی ہوں شعری  مجموعے شایع  ہو کر مقبول ہو چکے ہیں ،جرم ( ہندی افسانوی  مجموعہ .اردو سے ہندی ، اور ہندی سے اردو میں اب تک وہ بیس سے زاید  کتابوں کا ترجمہ کر چکی ہیں .الیکٹرانک میڈیا کے لئے انہوں نے پچاس سے زیادہ ڈوکیو منٹری فلمیں بنایی ہیں .پچیس سے زیادہ سیریل بنا چکی ہیں .ادب سے وابستہ ہستیوں پر بھی انہوں نے ٥٢ سے زیادہ مختصر فلمیں بنائی  ہیں . .وہ مختلف رسائل میں کالم بھی لکھتی رہتی ہیں .پاکستان کے روزانہ جناح اور دینک بھاسکر میں انکے کالم کو پسند کیا  گیا .پچھلے چار برسوں سے وہ روزنامہ انقلاب میں بھی کالم لکھ رہی ہیں .تبسم کے یہاں  ’نہیں‘ ان کے فکری نظام کا کلیدی لفظ ہے۔ شعور کے ایک مرحلے میں ہر نہیں، ہاں سے بڑی ہوتی ہے۔ تبسم فاطمہ کی تخلیقات  شعور کے اسی مرحلے کی تخلیق ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کی بے کس مظلوم استحصال زدہ اور نفسیاتی طور پر کچلی ہوئی عورتوں کو اپنی تحریروں  میں کسی نہ کسی طرح باغی بننے کی ترغیب دی ہے۔ ان کی آئیڈیل عورت ٹپیکل سچویشن میں رہتے ہوئے بھی بالآخر زمانے کی ستم رانیوں سے ٹکراتی ہے اور اپنا حساب خود ہی بے باق کرتی ہے۔ 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form