دیدبان شمارہ 11

افسانہ: بیسٹ سیلر

تحریر سلمی جیلانی

جنت کی طرف جانے والی ائرلائن پوری طرح بک ھو چکی تھی لیکن اس کے ناول کی آن لائن سیل ابھی بھی جاری تھی - تین کاپیاں خریدنے والے کو قیمتی لکڑی کے ڈبے فری دئیے جارھے تھے لوگ ناول سے زیادہ ان ڈبوں کی آرزو میں آرڈر بک کروائے جا رھے تھے - ان کے نزدیک اس لکڑی سے انھیں اپنے بزرگوں کی خوشبو آرھی تھی جو کبھی اسی طرح کے ڈبوں کو اپنے کاندھے پر رکھے جنت کے سفر پر نکلے تھے جنت کے سفر کا ان ناولوں کی فروخت سے گہرا تعلق یوں بھی تھا کہ اس کے پاس  خطیر تعداد میں وہ کاغذ جمع ھو گئے جن پر جنت کی مہر لگی تھی اس مہر کی مدد سے  دنیا میں بھی  ہر بڑے محل میں بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ھو سکتی تھی-  پر تعیش زندگی  پوری طرح اس کی دسترس میں کیوں کر آئی اور ایک ہی جست میں بیسٹ سیلرز کی صف میں کیسے کھڑی ہو گئی حالانکہ کچھ دن پہلے تک اسے پچھتاوے کا احساس کھائے جا رہا تھا کہ وہ نوجوانوں کو سستی سنسنی کا عادی بنانے والا مواد تخلیق کررھی ھے-

دراصل اس نے مقدس صیحیفوں   سے ایسے الفاظ  ڈھونڈ لئیے تھے  جو  رومانوی منظر میں اس طرح جذب ھوجاتے  کہ  پڑھنے والے کے دل میں اٹھنے والی جذبات کی اتھل پتھل  الوھی جذبات سے ھم آھنگ ہوجاتی ۔ انہیں  کوئی گلٹ ستانا اور نہ اسے کوئی احساس جرم  ۔ وہ  اور اس کے قاری مطمئن  تھے کہ مذھب  کے قریب ہونے کی جدوجہد میں ایک اھم کردار ادا کر رہے ہیں  -

اتنی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسے چین کی نیند سونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا - اس نے وہ قیمتی ترین گدے خرید لئیے تھے جن  میں میٹھی نیند کے خصوصی لوازمات شامل کئیے گئے تھے - اب تک تو کھردرے بان کی چارپائی پر  سوتی آئی تھی دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد ریشمی اور نرم و گداز بستر کے تصور سے ھی پر لطف نیند کے جھونکے آنا لازمی تھے ۔لیکن ایسا نہیں ھوا تھا ۔تمام رات  شاندار بستر پر کروٹیں بدلتے گزری  اور پھر ہر رات ہی اندیکھے کانٹوں کی چبھن ایک لمحے کو سونے نہ دیتی -

پہلے تو اس نے پورا بستر کھنکھوڑ  ڈالا دبیز گدے سے کچھ نہ ملا سوائے نرم و ملائم  مخملی گدیلے اور ریشمی   رضائی کے جسے دوبارہ لپیٹ کر سونے کی کوشش کرتی تو ڈراؤنے خوابوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ وہ جھنجلا جاتی آخر کار اس مسئلہ سے نمٹنے کو ان خوابوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل  کرنے کی سوچی لیکن قلم نے ایک قدم آگے بڑھنے سے انکار کر دیا ۔یوں لگتا تھا اس کے دماغ کے تخلیقی سوتے خشک ہو چکے ہوں - مگر پرواہ کسے تھی وہ تو کامیاب ناول نگاری کے سارے کلیات پر  دل و جان سے  عمل پیرا تھی پھر ان سوتوں کو دوبارہ جاری کرنے کی خواہش بھی بے کار  تھی -

کئی دن اور بہت سی بے راتیں گزر گئی تھیں اس کی بے چینی کسی طرح کم نہیں ہو رہی تھی یہاں تک کہ جنت کی فلائٹ کا وقت ھو گیا۔ عجیب بات تھی  جہاز   گھر کے دروازے پر   ہوا میں معلق  تھا ۔اس میں داخل ھونے کے لئے کوئی سیڑھی نہیں تھی بلکہ  ایک بادل پر سوار ہو کر وہ بھاری بھرکم سوٹ کیس لے کر جہاز کے دروازے پر پہنچی - جہاز کے عملے نے اس کا بورڈنگ پاس چیک کیا ۔وہ پرشوق نظروں  سے وی آئی پی گیٹ کو تکتی ھو ئی اندر داخل ھونے کی منتظر تھی   کہ دربان نے بورڈنگ پاس پر ریجکٹ کی مہر لگا دی اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی  ایک تیز آواز کے ساتھ جہاز ہوا میں پرواز کر گیا۔  وہ بادل کی سیڑھی پر کھڑی ہوا میں ڈول رہی تھی جو واپس زمین کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا جیسے ہی اس کے قدم کھردری زمین سے ٹکرائے  چاروں طرف سے اپنے کاندھوں پر لکڑی کے وہی ڈبے اٹھائے غصے میں بھرے لوگ اس کی طرف لپک رہے تھے - وہ زور زور سے چلا رہے تھے ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ اس کے لکھے ہوئے اور کمائے ھوئے کاغذوں سے زمین اٹی پڑی تھی ۔ اسے محسوس ھوا جیسے ورق ورق بکھرتی جا رہی ھو ۔ چند ہی لمحے گزرے ھوں گے کہ وہ خود بھی ردی کی ٹوکری میں پڑی تھی ۔

تحریر سلمی جیلانی

سلمیٰ جیلانی

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan. After completing her M.Com she worked as a lecturer for eight years in Karachi Commerce College. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form