ادب اور مزاحمت نیّر حیات قاسمی

ادب اور مزاحمت سے فردا فردا تعارف تو ہم میں سے بیشتر کا ہے، کہ یہ دونوں ایسے بھرپور اور وسیع المعانی الفاظ ہیں جو تقریبا ہرشعبہئ زندگی سے کہیں نہ کہیں جڑے ہیں۔ ادب یعنی لٹریچر اور مزاحمت یعنی ریزیسٹنس سے اگر بالمشافہ ہوں تو ان کی ذات کی ہمہ جہت پرتیں ہم پر تہ در تہ منکشف ہوتی ہیں۔ سب سے اہم انکشاف تو یہ ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں الفاظ ذاتی حیثیت میں، الگ الگ ،فکر کا در کھٹکھٹاتے ہیں تو ان کا رنگ روپ اور ہوتا ہے۔ لیکن جب کبھی یہ دونوں یکمشت مہمان بن کر آئیں تو ان کی خاطر سوچ کا نیا در وا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ رخ ہوتاہے کہ عام طور پر جدھر سے حدت، شدت اور نمی کی ہی توقع کی جاتی ہے کہ مزاحمت کا لفظ گونجتے ہی ذہن میں ایسے ہی کچھ احساسات جنم لیتے ہیں۔ لیکن جہاں مزاحمت کی حدت ادب کے سائے میں دہکتی ہے، جہاں مزاحمت کی شدت ادب کی حلاوت سے ملتی ہے، جہاں مزاحمتی نمی بادِ ادب کو چھوتی ہے تو بالعموم ایک لطیف ٹھنڈک کو جنم دیتی ہے۔ جس کا مقصد غصے کی شدت کو قابو میں رکھتے ہوئے فکر کے انتہائی تاروں کو چھو کر احساس کا سُر گنگنانا ہے۔ یوں ادب کی یہ مزاحمتی صنف اپنے تمام تر خواص کے ساتھ دنیا بھر کے فنون لطیفہ میں شاعری اورنثر دونوں ہیتوں میں پائی جاتی ہے۔موضوع کی علمی و تحقیقی جہتوں سے قطع نظر،عام فہم وضاحت کی غرض سے ذیل میں کچھ سوالیہ نکات کو دیکھتے ہیں جن کا مقصد موضوع کے حوالے سے سوچ بچار اور سوال و جواب کو فروغ دینا ہے:

ادب اور مزاحمت کا ساتھ کیسا ہے؟ اس کا جواب اچھے یا برے کی صورت میں دینا تو شاید ممکن نہ ہو مگر اتنا ضرور ہے کہ جیسے لفظ سے لفظ جڑ کر جملہ بنے تو معانی نکھر جاتے ہیںویسے ہی مزاحمت، ادب کو چھوتے ہی روشن ہوجاتی ہے۔ مزاحمت جسمانی بھی ہوتی ہے اور فکری بھی۔ فکری مزاحمت کے بھی کئی پہلو ہیں کہ جس طرح کوئی پودا کیسی مٹی اور حالات میں پرورش پا رہا ہے؟ اسی کے تئیں فکری مزاحمت کس سرزمین پہ اگ رہی ہے؟ یہ سوال سب سے اہم ہے۔ ادب کی دھرتی ہمیشہ ایسا ماحول فراہم کرتی ہے کہ جس میں اگنے والے خیالات دیگر ذرائع کی نسبت زیادہ خوشنما ہوتے ہیں۔ اور محض دکھاوے کے نہیں بلکہ ان کی مہک اور بارآوری کی خوبی اچھے ثمرکا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ مزاحمتی سوچ کا ادب سے ہٹ کر معمول کے کار دنیا میں نمو پانا اکثر اوقات اس سوچ کی وہ خوبصورتی چھین لیتا ہے جو اس کا روحانی اثاثہ ہوتی ہے۔ اس کو یوں سمجھیے کہ جیسے چولہے پر شعلہ بھڑک رہا ہو اوراس پر جس چیز کا پکانا مقصود ہو اسے براہ راست شعلے پہ رکھ دیا جائے۔ اب یا تو وہ شے جل کر خراب ہو جائے گی یا پھر اس کے ساتھ ساتھ شعلہ بھی بجھ جائے گا۔ مزاحمت اور ادب کا ساتھ کچھ ایسا ہی ہے۔ ادب وہ حساس سطح ہے جو مزاحمت کے بھڑکتے شعلے سے درکار تپش ہی آگے منتقل کرتی ہے۔ یوں مزاحمت کے مقاصد بذریعہ ادب زیادہ بہتر سلیقے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

کیامزاحمت سے ادب جنم لیتا ہے یا ادب سے مزاحمت پھوٹتی ہے؟ اگر عمومی نقطہئ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ دونوں طریقے قابل عمل ہیں۔ مگر باریکی سے جانچنے پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دراصل مزاحمت کی چنگاری ہی مزاحمتی ادب کی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔ یعنی اگر کسی مزاحمتی عمل سے قبل ہی ادب میں اس کے آثار جھلکنے لگیں تو تب بھی درپردہ ایک مخصوص مزاحمتی سوچ ہی کارفرما ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ مزاحمت، ادب کی تشکیل سے قبل اتنی نمایاں نہ ہو۔ یعنی یہ کہ سوچ پہلے جنم لیتی ہے اور عمل بعد میں آتا ہے۔ یہاں ادب ایک چھلنی کا کام بھی کرتا ہے جو مزاحمت کے حوالے سے ناپسندیدہ اجزائ کو اس سارے عمل سے باہر رکھنے کا وسیلہ بنتا ہے۔ کیونکہ مزاحمتی ادب کی تشکیل کے وقت جذبات کاغالب آ جانا ایک قدرتی امر ہے لیکن سلیقہ اسی میں ہے کہ مزاحمت کو بھی زبان و بیاں کے قوائد اور ادبی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تراشا جائے۔ بصورت دیگر، مزاحمتی ادب کی تیاری میں اگر ادبی اصناف میں سے ادب منہا کر دیا جائے تو وہ محض خام جذباتی بیانیہ رہ جاتا ہے اور اس کی وہ حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی جو ادب سے منسلک اصناف کا خاصہ ہوتی ہے۔ چنانچہ مزاحمتی سوچ ایک چنگاری کی طرح ہوتی ہے جو فکر کے خام مال کو چھو کر شعلوں میں تبدیل کرتی ہے اور ادب ایک ایسے ذریعے کی طرح ہوتا ہے جو اس ساری آگ کو اپنے اندر سمیٹ کر سلیقے سے سامنے رکھتا ہے تاکہ نہ تو یہ آگ بے قابو ہو کر نقصان کا باعث بنے اور نہ ہی انسانی فہم اس کی تپش سے متنفر ہو۔

مزاحمتی ادب کس لیے؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ مزاحمتی ادب کا حقیقی مقصد کیا ہوتا ہے۔ تبدیلی، انقلاب، احتجاج یا کچھ اور؟ میری رائے میں مزاحمتی ادب مقاصد کے لحاظ سے ہرگز محدود نہیں ہے۔ اگر مخصوص مقصد سے تھوڑا ہٹ کر اس کے عمومی مقصد کی بات کریں تو بنیادی طور پر مزاحمتی ادب رائے عامہ کی ہمواری کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے اس کے بعد شعور کی پختگی کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر عمل کا مرحلہ بھی آتا ہے جہاں رجحان سازی کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ قارئین کی توجہ کسی مخصوص معاملے کی جانب مبذول کروائی جائے۔ وہ کوئی معاشرتی بگاڑ بھی ہو سکتا ہے یا غلامی سے آزادی کی جدوجہد بھی۔ غرضیکہ نوعیت کوئی بھی ہو مقصد مشترک ہے، یعنی پڑھنے والوں میں آگاہی بیدار کرنااور خرابی و بگاڑ کے تدارک کے لیے جذبہ بیدار کرنا۔ یوں مزاحمتی ادب کا مقصد حقیقتا فلاحی نوعیت کا ہوتا ہے جبکہ کمرشل یا کاروباری نقطہئ نظر سے اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ بعض انفرادی صورتوں میں کوئی مزاحمتی تحریر کمرشل حیثیت بھی حاصل کر لیتی ہے، جس کے پیچھے یقینا پڑھنے، سننے اور دیکھنے والوں میں اس کی مقبولیت بنیادی جزو ہے وگرنہ خواہ جتنا مرضی زور لگا لیا جائے مقبولیت دکھاوے سے نہیں ، اثر انگیزی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ مزاحمتی ادب کا مقصد اگر جینوئن ہو گا تو مقبول ہو گا ورنہ وقت کی سلوٹوں مین کھو جائے گا۔

کیا مزاحمتی ادب زمانے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے؟ یہ یقینا ایک دلچسپ سوال ہے کیونکہ عام طور پر صدیوں سال پرانا ادب بھی زمانہئ حال میں زیرِ مطالعہ ہوتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے، مگر کیا مزاحمتی ادب ایسا ہوتا ہے؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ چونکہ مزاحمتی ادب کی وجہئ تسمیہ انسان کے ہمیشہ سے موجود مخصوص مسائل، معاملات اور نظام کی خرابیاں رہے ہیں اور وقت کی بے شمار پرتوں میں تہ در تہ مضاحمتی ادب پرویا ہوا ہے۔ چاہے وہ رزمیہ شاعری ہو یا فرسودہ معاشرتی اقدار سے بغاوت، تاریخی حوالے جا بجا بکھرے پڑے ملتے ہیں۔ انسان کے حالات زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہیں جس میں ترقی کا پہلو سب سے متحرک ہے۔ لیکن بنیاد تو تقریبا وہی رہتی ہے، مثلا غربت، بھوک، جنگ، غلامی، اخلاقی مسائل وغیرہ ہمیشہ سے مسائل کی بنیاد رہے ہیں۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ ان سب کے باوجود،بیشتر، زمانے کے ساتھ ساتھ لکھا گیا مزاحمتی ادب ہی مقبولیت حاصل کر پاتا ہے۔ جبکہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ ماضی میں اتنی آفاقی نوعیت کا مزاحمتی ادب تشکیل دیا گیا ہو جو آنے والے زمانوں میں بھی کارآمد ثابت ہو۔ یعنی پرانا مزاحمتی ادب بطور حوالہ تو استعمال ہو سکتا ہے مگر پاپولر لٹریچر کے قاری کے لیے اس میں کوئی خاص عملی دلچسپی نہیں ہوتی۔ گویا مزاحمتی ادب کی عمر کے تعین میں سب سے اہم بات مدتِ زمانہ کا حساب کتاب ہے۔

کیا مزاحمتی ادب ، پاپولر ادب کے ہم پلہ آ سکتا ہے؟ اس بارے میں مقبولیت کا پیمانہ اتناہم نہیں جتنا کہ تحریر کی عمر درازی کا سوال ہے۔ کیونکہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پاپولر  لٹریچر کی عمر زیادہ طویل ہوتی ہے اور صدیوں پر وسیع بھی ہو سکتی ہے، چاہے مقبولیت بہت زیادہ نہ بھی ہو پھر بھی اس کی مدت میں توسیع اس کو زندہ جاوید ثابت کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ جبکہ مزاحمتی ادب چونکہ فی زمانہ موضوعاتی نوعیت کا ہوتا ہے لہذا اس کی مقبولیت کسی خاص وقت میں تو پاپولر لٹریچر سے بھی بلند ہو سکتی ہے مگر غالب تعداد ایسی ہے کہ جس کی عمر پاپولر لٹریچر جتنی طویل نہیں ہوتی۔ یعنی مزاحمتی ادب کی بڑی تعداد زمانہ، حالات، واقعات سے جڑی ہوتی ہے اور ایک مرتبہ جب تحریر کے مخصوص ماخذ مدہم پڑ جائیں یا مکمل ہو جائیں یا ختم ہو جائیں تو تحریر کی پسندیدگی اس طرح نہیں رہتی۔ جبکہ پاپولر لٹریچر چونکہ ہم گیر نوعیت کا ہوتا ہے لہذا اس کی استعداد بھی مختلف زمانوں پر محیط ہو سکتی ہے۔

اور آخر میں بنیادی سوال کہ کیا مزاحمتی ادب لکھنا چاہئیے؟ اس کا جواب تو بالکل سیدھا اور واضح ہے۔ ادب کی چاہے کوئی بھی صنف ہو اس کا خمیر انسانی فکر سے اٹھتا ہے۔ انسان مزاحمتی ادب تشکیل دیتے وقت یقینا اپنی ادبی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے، تحریر کے جزیات بھی پاپولر لٹریچر سے مختلف نہیں ہوتے، بس صرف موضوع اور مقصد کی انفرادیت اس کو مزاحمتی ادب کا درجہ دلواتی ہے۔ چنانچہ انسان کو اپنی فطری صلاحیتوں پہ بلا قدغن بھروسہ کرتے ہوئے، اظہار سے منسلک رہنا چاہئیے۔ اظہار کی بناوٹ، ساخت، جزیات چاہے کس بھی قسم کے ہوں، انہیں روکنا، محدود کرنا یا کمرشلزم کی آمیزش کرنا شاید مناسب نہیں۔ تحریر بہر طور اثر انگیز ہو گی اگر اوریجنل ساخت میں ہو گی۔ مقبولیت کی اونچائیوں یا اتاہ گہرائیوں سے قطع نظر اگر فکر اور سوچ میں مزاحمتی ادب سے متعلق خیال آئے یا پاپولر لٹریچر، ہر صورت میں اظہاربنیادی خاصہ ہے اور یقینا اظہار کی انفرادیت اور سلیقہ اس کا لباس ہے جو کسی بھی اظہار کو خوبصورت یا بدصورت بنا سکتا ہے۔

جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا گیا ہے کہ اس مختصر تحریر کا مقصد موضوع کے دقیق علمی و ادبی پہلوئوں سے تھوڑا ہٹ کے نسبتا آسان اور عام فہم انداز میں بحث کو فروغ دینا ہے۔ نقطہئ نظر سے اتفاق، اختلاف، ترامیم و اضافہ ہمیشہ سے جاری قدرتی تخلیقی عمل کا خوبصورت رخ ہیں، جن کا محرک بذات خود، انسان کی مزاحمتی سوچ کا وفور ہی ہے۔ لہذا ’’مزاحمت‘‘ کے لفظ پر جمی تاثراتی منفیت کی گرد کو ادب کی پھونک کے ذریعے ہٹانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا فکرانگیز چہرہ قارئین کے سامنے جگمگا سکے اور رہنمائی کا سنگ میل بنے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیّر حیات قاسمی

شا عر اور افسانہ نگار نیّر حیات قاسمی: پیدائش چھبیس نومبر سنہ 1977، تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ ایک پرائیویٹ ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف ادیب اور شاعر جناب احمد ندیم قاسمی کے نواسے ہیں اور ان کے موقر ادبی جریدے "فنون" کے مدیر بھی ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form