DEATH METAPHORS IN THE POETRY OF GHALIB

April 15, 2020
دیدبان شمارہ 11تنقیدENGLISH CORNER

The Forty Rules of Love(Novel)

Writer - Ellif Shafaque  

محبت کے چالیس اصول

مترجم - نعیم اشرف

 (پہلی قسط)

افتتا حیہ

 بہتے ہوئے دریا میں اگر کنکر پھینکا  جائے تو یہ اس کی ریاست پر خاطر خواہ کوئی اثر نہیں کرے  گاحتیٰ کہ یہ مظہر غورطلب بھی نہ ہوگا۔۔تاہم ایک ساکن جھیل پر پتھر پھینکنے کا نتیجہ غور کیے بغیر ہی نظر آجاتا ہے کیو نکہ یہ پتھر اس پر سکو ن پانی میں ہلچل مچا دیگا۔یہ پرسکون پانی پہلے اپنی چھوٹی سی سلطنت میں آنے والی اس نئی چیز کے خلاف مزاحمت کی شکل میں یااس نئے مہمان کی آمد کے ردعمل کے طور پر کئی نئے دائرے بنائے گااوریوںپا نی کی سطح پر دائرے ہی دائرے نظر آئیں گے۔ دوسری جانب جب پتھر ایک بڑے دریا میں گرتا ہے تو یہ اس دریا کے لئے معمولی ساحادثہ ہے اور وہ اس کو معمولی جان کر اپنی ہیجان انگیزی میں ہی کہیں ارادی طور پر گم کردیتا ہے جبکہ یہی پتھراگر کسی جھیل میں گرتا ہے تو جھیل کے خدوخال یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔’’ایلا رابنسٹین ‘‘ کی زندگی بھی اسی ٹھہرے اور گم سم پانی کی مانند تھی۔ ایسی زندگی جس میں محض ضروریات کی تکمیل اور عام سی عادات پر ہی ساری توجہ مرکوز تھی۔۔۔۔۔۔ ایسا کہنا بے جانہ ہوگا کہ وہ ایک عظیم عورت تھی۔۔ہاں یہ اس کی عظمت ہی تو تھی کہ وہ اس یکسانیت سے لبریزاورمعمولی زندگی سے نہ باغی ہوئی ، اور نہ ہی کبھی تھکنے کا سوال پیدا ہوا۔اس کا شوہر نامدار ’’ڈیوڈ‘‘ جو کہ اپنی از حد محنت کے بعد ایک کامیاب ڈینٹسٹ بنا تھا، آج اس کو دنیا ایک مشہور دندان ساز کے حوالے سے جانتی تھی تاہم وہ اپنی شادی شدہ زندگی کو لے کر لاپروائی اختیار کیے ہوئے تھاجس طرح سے کوئی بچہ اپنے کھلونوں کو لے کر لابالی پن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایسانہ تھا کہ ایلا اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار تھی ، اسے بخوبی علم تھا کہ وہ کسی مضبوط بندھن میں منسلک نہیں ہے۔ اپنے شادی شدہ زندگی کے تجربے کی بناء  پر وہ سوچتی تھی کہ عائلی زندگی ایک دوسرے کی چیدہ چیدہ ضروریات اور فرائض پوری کرنے پر محیط ہے جب کہ اس تعلق میں کسی بھی قسم کے جذبات کوکوئی اہمیت حاصل نہیں تھی۔خاص کر وہ شادی شدہ جوڑا جو کافی عرصے سے شادی کے رشتے میں منسلک ہوں۔ایک شادی شدہ زندگی میں ایک دوسرے کو سمجھنا، معافی ، بردباری اور درگزر کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے جب کہ عشق و محبت اس رشتے میں ایک ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ پیار، عشق اور محبت کی باتیں اچھی تو ضرور لگتی ہیں مگر صرف فلموں اورناولوں میںجبکہ عملی زندگی کی حقیقت تو یکسر مختلف ہے۔ایلا کی بطور خاتون خانہ کئی مصروفیات اور ذمہ داریاں تھیں تاہم اس کے بچے ان ترجیحات میں سرفہرست تھے۔اس کی سب سے بڑی خوبرو بیٹی ’’جینٹ‘‘ کالج کی طالبہ تھی جبکہ اس کے دوبچے ’’اورلی ‘‘اور ’’ایوی ‘‘ جڑواں اور کم عمر تھے۔بچوں کے علاوہ اس کا ایک ساتھی بھی گھر کا حصہ تھا جو صبح کی سیر میں اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ایلاکی اس سنہرے گھنے بالوں والے بارہ سالہ اسپرٹ سے اس وقت سے دوستی تھی جب وہ محض ننھا سا پلا تھا۔ بچوں کے علاوہ سنہرے گھنے بالوں والا بارہ سالہ سپرٹ بھی ایلا کے گھر کا حصہ ،اس کا دوست اور اسکی صبح کی سیر کا ساتھی تھا اوریہ دوستی اس وقت سے تھی جب وہ محض ایک ننھا سا پلا تھا۔ضعیف ہونے کے باعث یہ بہرہ اور تقریباً اندھا ہو نے کے ساتھ ساتھ فربہ جسم کا حامل تھا۔حقیقت یہ تھی کہ اب اس قریبی ساتھی کو’’بھی ‘‘ الوداع کہنے کا وقت آن پہنچا ہے تاہم وہ پر امید تھی کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے گا ، شاید وہ سب جانتے ہوئے بھی انجان بن رہی تھی ، یا حالات ہی کچھ ایسے تھے جن کے باعث وہ اس چیز کی اُمید رکھے ہوئے تھی۔۔جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ یہ عادت نہیں بلکہ اس کی سرشت تھی۔۔ اس نے کبھی کسی چیز کے خاتمہ کو قبول نہیں کیا تھا چا ہے وہ ز ندگی کا کوئی اہم مرحلہ ہو ، یا کوئی عادت۔۔اور شادی۔۔ ان سب کا اختتام ایک حقیقت تھا جن سے وہ نظریں چرا رہی تھی۔ایلا کا خاندان رانب اسٹن کے نام سے پہچانا جاتا تھا جو کہ امریکی ریاست مساچوسیٹس Massachusets کے شہر نارتھ ایمٹن Northampton میں آباد تھا۔ ان کا وکٹوریہ نما عا لی شان گھر 5 بیڈرومزاور 3 غسل خانوں پر مبنی زندگی کی تمام تر آسائشوںسے آراستہ تھا۔بلاشبہ اس گھر کو معمولی مرمت کی ضرورت ضرور تھی مگر اس کے باوجود یہ بنگلہ اعلیٰ قسم کی لکڑی کے فرش ،تین عدد میگا گاڑیوں پر مشتمل گیراج اور فرانسیسی دروازے سے آراستہ تھا۔ گھر کی خوبصورتی میں بیرونی حوض مزید اضافہ کرتا تھا۔ ا س گھر کے افراد مالی طور پر اس قدر مضبوط تھے کہ انہوں نے زندگی کا بیمہ ، تعلیمی اخراجات کی باقاعدہ منصوبہ بندی اوریہاں تک کہ گاڑیوں کی انشورنش بھی کروائی ہوئی تھی۔مزید یہ کہ ان کے بوسٹن اور جزیرہ ہوڈ پر رہائشی فلیٹس بھی موجود تھے۔ مختصراً یہ گھرانہ معاشی لحاظ سے کافی مضبوط تھا۔ یہی وہ آسائشیں تھیں جن کے حصول کیلئے ایلا اور ڈیوڈ نے دن رات محنت کی تھی۔تو یہ طے تھا کہ ہر قسم کی مادی سہولیات سے آراستہ یہ گھر جہاں پر اولاد جیسی نعمت بھی موجود تھی اورجس کے آنگن میں اکثروبیشتر لذیذ کھانوں کی ہلکی ہلکی خوشبو بھی مہکا کرتی تھی، کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ایک مثالی زندگی تھی تاہم ان کے نزدیک یہ ایک خیالی زندگی تھی۔ وہ زندگی جس کا تصور اور جس کی بنیاد انہوں نے شادی سے قبل رکھی تھی اور وہ دونوں اس کی تعبیر میں کسی حد تک کامیاب بھی رہے تھے۔ڈیوڈ چھوٹے موٹے موقعوں پر اسے کوئی نہ کوئی تحفہ دے کراسے اپنے ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ جیسا کہ گزشتہ ویلنٹائن ڈے پر ڈیوڈ نے اس کو ہیرے کا جھمکا دیا تھا ، جس کے ساتھ منسلک کارڈ پر یہ تحریر درج تھی :میری پیاری ایلا،’’ایک ایسی خاتون کے نام جو خاموش طبیعت ، سخی دل ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد صابر ہے۔ مجھے میری کمزوریوں کے ساتھ تسلیم کرنے کا شکریہ۔۔ میری شریک حیات رہنے کا شکریہ‘‘تمہارا ڈیوڈ

یہ الفاظ پڑھ کر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی موت پر تعزیتی الفاظ بیان کیے جارہے ہوں۔۔ ہاںشاید یہ وہی الفاظ ہیں جو اس کی موت پربولے جائیں گے اور اگر اس کے گھر والے اس سے زیادہ مخلص ہوئے تو شاید ان میں مزید کچھ الفا ظ کا اضافہ بھی ہوجائے۔اس نے مزید سوچا شاید وہ الفاظ کچھ یوں ہوں گے۔۔’’ایک ایسی خاتون کے نام جس کی زندگی محض اس کے شوہر اوربچوں کے گردگھومتی تھی۔اس کے پاس کوئی ایسا ہنر موجود نہیںتھا جس کو استعمال کرکے وہ اپنی زندگی کی سختیوں کو جھیل سکتی۔ وہ تو ہواؤں کارخ بھی تبدیل کرنا نہیں جانتی تھی۔حتیٰ کہ کافی کا برینڈ تبدیل کرنابھی اس کے لئے کسی بڑے محاذ سرکرنے سے کم نہ تھا‘‘ایلا سمیت کوئی اس بات کی وضاحت نہیں کر سکا کہ سن 2008 ئ کی خزاں میں شادی کے 28 سال مکمل ہونے کے بعد اس نے عدالت میں طلاق کی درخواست کیوں دائرکی۔٭اس کی وجہ اس کے دل میں کھلنے والی ایک ننھی کلی تھی۔۔ جسے اہل زبان محبت کا نام دیتے ہیں وہ ایک شہر میں مقیم نہیں تھے نہ ہی وہ ایک براعظم میں رہتے تھے ، وہ نہ صر ف ہزاروں میل دور ہونے کے ساتھ ساتھ دن اور رات کی مانند ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔ان کی طرز زندگی اس قدر مختلف تھی کہ چاہے وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے تب بھی ایک دوسر ے کی موجودگی ان پر گراں گزرتی۔لیکن یہ ہو گیا۔۔ اور اتنی تیزی سے ہوا کہ ایلا کو اپناآپ بچانے کا موقع بھی نہ مل سکا ۔اگر محبت سے بچ جانے کا کوئی راستہ تھا بھی تو وہ اس سے ناواقف تھی۔عشق ایلا کی پرسکون زندگی میں اس قدرتیزی اور شدت سے داخل ہوا کہ ایک ہلچل مچ گئی جیسے کسی نے پر سکون ساکن جھیل میں پتھر پھینک دیا ہو۔٭ایلانارتھ ایمپٹن مئی 17،2008 ئموسم بہار کے اس خوشگوار دن میں اس کی کھڑکی کے باہر حسب معمول پرندے چہچہا رہے تھے۔ ایلاکے دماغ میں کئی منظر چلنے لگے، اب تو اسے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ منظر کائنات کے کسی اور گوشے میں بھی اسی طرح چل رہے ہیں۔ہفتے کی سہ پہرایلا کا خاندان دوپہر کا کھانا کھانے کیلئے میز پر بیٹھ چکا تھا۔ڈیوڈ پلیٹ میں اپنا پسندیدہ پکوان لیگ پیس ڈال رہا تھا۔ ایوی چمچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بجانے میں مصروف تھا، جب کہ اس کی جڑواں بہن لی اس کشمکش میں مبتلا تھی کہ وہ کون سی چیز کھائے جس سے اس کا مقررہ ڈائٹ پلین متاثر نہ ہو۔ان کی بڑی بہن جینٹ جو قریبی ہو لئیوک کالج میں پڑھتی تھی اپنی ڈبل روٹی پر پنیر لگاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔آج کھانے پر غیر معمولی طور پر ان کے ساتھ ایستھرآنٹی بھی موجود تھیں جوکھانے سے کچھ دیر قبل اپنا پسندیدہ کیک دینے آئیں تھیں مگر ایلا نے انہیں دوپہر کے کھانے کیلئے زبردستی روک لیا تھا۔تقریباً سب کھانا کھا چکے تھے، اور ایلا کو اس کے بعد گھر کے مختلف کام بھی نمٹانا تھے مگر اس کے باوجودوہ کھانے کی میز پر براجمان رہی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں مصروف زندگی کے باعث اکٹھا ہونے کا موقع بہت کم ملتاتھا اور یہ اس کیلئے ایک سنہری موقع تھا۔ڈائننگ روم میں مکمل خاموشی تھی ، اچانک ڈیوڈ نے سکوت توڑتے ہوئے ایستھرآنٹی سے دریافت کیا کہ آپ کوایلانے خو شخبری سنائی ہے کہ اس کو ایک اچھی جگہ نوکری مل گئی ہے۔اگرچہ ایلا نے انگریزیادب میں گریجو ایشن کر رکھا تھا اور ادب سے اس کو لگاوبھی بلا کا تھامگراس کے باوجود تعلیم مکمل کرنے کے بعد خواتین کے چند رسائل کی جزوی ادارت اور کتابوںپر چند تبصروں کے علاوہ اس نے عملی ندگی میں خاطر خواہ کوئی کام نہیں کیا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے یہ سب کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا۔حالانکہ کبھی وہ کتابوں کی نقادبننے کے بارے میں سوچا کرتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ تقدیر کی خواہش ہے کہ وہ ایک گھریلو عورت بن کر رہے ، جہاں اس نے بچوں سمیت گھر کی کئی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔ایسا نہیںتھا کہ اسے اپنی زندگی سے کوئی شکایت تھی ، ایک مکمل ماں کے روپ میں ہوتے ہوئے وہ ایک بیوی بھی تھی۔۔۔ یہ تمام تر ذمہ داریاں اس کو بہت مصروف رکھتی تھیں۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈیوڈ نے اس پر کبھی نان و نفقہ کی ذمہ داری عائد نہیں کی بلکہ اس کو ہمیشہ گھریلو ذمہ داریوں تک ہی محدود رکھا۔تاہم ایلاکے دوست اسکے عملی میدان میں سرگرم ہونے کے حمایتی تھے۔۔مگروہ ممتا کا کردار ادا کرتے ہوئے خوش وخرم اور مطمئن نظر آتی تھی۔اسے اس بات پر بھی اطمینا ن تھا کہ وہ اور اس کا شوہر ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں مگران سب کے باوجودبھی اس کا کتاب سے عشق کبھی ختم نہیںہوا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خود کو ایک بہتر قاری تصور کرتی تھی۔کچھ عرصے سے ایلا کی زندگی میں معمولی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئیں۔اس لئے اس نے یہ محسوس کیا کہ اب اس کے بچے اس قابل ہو گئے ہیں کہ انہیں اس کی اتنی ضرورت نہیں رہی جتنی آج سے کچھ برس قبل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایلا نے ایک طویل وقفے کے بعد یہ سوچنا شروع کیا کہ اسے ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے کوئی مناسب جگہ تلاش کرنی چاہیے۔اس بار ڈیوڈ نے بھی اس کے بھرپور ساتھ دیا اور قدم قدم پہ اس کی حو صلہ افزائی کی۔ وہ دونوں اکثر اس موضوع کو زیر بحث لایا کرتے تھے۔ کچھ عرصے تک تو اس کے پاس نوکری کے مواقع بھی آتے رہے مگر گھریلوذمہ داریوں کے باعث وہ اس کیلئے ذہنی طور پرتیار نہ تھی۔پھر ہوا کچھ یوں کہ جب وہ نوکری کیلئے تیار ہوئی تو وقت اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا تھا، جب بھی وہ کسی ادارے میں انٹرویو دینے جاتی تو وہاں پر قدرے نوجوان اور تجربہ کار افراد کو اس پر فوقیت دی جاتی۔ بار ہا مستر د ہونے کے باعث اس کے دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیاجو اسے مسلسل ستانے لگا،اسی لئے مزید نظرانداز ہونے کے وسوسے نے اس کو قائل کیا کہ وہ نوکری کی تلاش کا ارادہ اب ختم کردے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ اس کی نوکری کی راہ میں حائل تمام تر رکاوٹیں رواں سال مئی میں خود بخود ہی ختم ہوتی گئیں۔اپنی چالیسویں سالگرہ کے دو ہفتے بعد وہ ایک ادبی تنظیم کے لئے بوسٹن میں کام کر رہی تھی۔۔ ہاں یہ اس کا شوہر ہی تھا جس نے اپنے یااپنی کسی’’ دوست ‘‘کے ذریعے اس کو یہ نوکری حاصل کرنے میں مدد دی۔’’اوہ یہ کوئی بہت اعلیٰ پائے کی جگہ اور کام نہیںہے‘‘ ایلا روانی میں تفصیل بتا رہی تھی۔میں ایک ادبی ایجنٹ کی پارٹ ٹائم قاری ہی تو ہوں ‘‘مگر ڈیوڈ کی بھرپور کوشش تھی کہ اس کام کی وجہ سے اسے اپنے کم تر ہونے کا احسا س نہ ہو۔اسی لئے اس نے ایلا سے مخاطب ہوکر تکرار کرنے کی کو شش کی ’’کیا ہو گیا ہے ؟ ان کو سمجھاؤ ، وہ ایک نامور ایجنسی ہے ‘‘ اس نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی مگر جب اسے محسوس ہو ا کہ وہ کامیا ب نہیں ہو سکا تو اس نے خاموشی اختیا ر کرنے میں ہی حکمت سمجھی۔’’یہ ایک اعلیٰ پائے کی جگہ ہے آینٹی ایستھر۔دوسرے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو دیکھووہ اچھے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس ادارے میں موجود ہیں اور اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ہمیں اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ایلا اس جگہ کی وہ واحد خاتون ہیں جو گھر چلانے کے ساتھ ساتھ وہاں کام بھی کرتی ہے، اب اپنے آپ کو کمتر سمجھنا بند کرو‘‘۔ اس لمحے ایلا کہ دل میں بے اختیار خیال آیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کا شوہر اس کی کی نوکری کے موضوع کو لے کر بہت پرجوش ہے ، اس نے سوچا شاید ڈیو ڈ اپنی ماضی میں کی گئی کسی غلطی کی تلافی میں یہ سب کچھ کررہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسے احساس جرم ہو کہ اس نے بیوی کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اسے عملی زندگی سے دور رکھا یا پھرعین ممکن ہے کہ اسے اس بات کا احسا س ہوکہ اس نے اسے اس نے عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر کے دھوکا دیا۔مختصراً یہ کہ نوکری کے متعلق اس کا یہ جوش اور ولولہ اس کی سمجھ سے بالکل بالاتر تھا۔تاہم اس نے ا س موقع پر بھی بات کو ختم کرتے ہوئے قدرے خوشی سے کہا ’’اس کو کہتے ہیں قدرت کا تحفہ ‘‘۔اگلے ہی لمحے ایستھرنے کچھ سوچتے ہوئے کہا کہ ’’ایلا ہمیشہ سے ایک تحفہ تھی اور اب بھی ہے۔ انہوں نے یہ بات کچھ اسی طرح سے کہی جیسے ایلاتاحال ٹیبل پر موجود نہیں، بلکہ ہمیشہ کیلئے کہیں جاچکی ہے۔میز پر موجود سب افراد اس کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔حتیٰ کہ ایوی نے بھی اس مرتبہ کسی طنزیہ جملے کا وار نہیں کیا ،اور لی کو بھی یکدم اس طرح محسوس ہو ا جیسے ایلاکے باطن میں کچھ مخفی ہے۔ایلا اس لمحے غیر معمولی طور پر سب کی توجہ کا مرکز تھی، حقیقتاً یہ سکون بخش ساعتیں اس پر بہت بھاری گزررہی تھیںکیونکہ ان کو قبول کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت اس نے شدت سے دعا کی کہ کا ش یہ گھڑی ختم ہو یا کوئی موضوع تبدیل کردے۔۔۔یہ معلوم نہیں کہ اس کی یہ دعا قدرت نے سنی یا اس کی بیٹی نے ،بہر حال ان لمحات کا گلا جینٹ نے گھونٹا۔ ’’میرے پاس بھی آپ سب کیلئے ایک خوشخبری ہے ‘‘اس وقت تمام نگاہیں اس کی جانب متوجہ ہو گئیں۔’’ میں نے اورسکاٹ نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘‘ اس نے بلاشبہ ایک تہلکہ خیز انکشاف کیا۔’’مجھے بخوبی علم ہے کہ اس خبر کے بعد آپ کے کیا تاثرات ہوں گے ، یہی کہ ابھی ہماری تعلیم جاری ہے وغیرہ وغیرہ۔۔لیکن ہم نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کھانے کی میز پر جہاں کچھ دیر پہلے ایک الگ سی گرم جوشی تھی وہاں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا۔۔۔۔اورلی اور ایوی کے درمیان سرد نگاہوں کا تبادلہ ہوا۔۔ آنٹی ایستھر نے جوس سے بھرے گلاس پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ڈیوڈ نے کچھ اس طرح اپنا کانٹا ایک طرف رکھا جیسے اس کی بھوک مٹ گئی ہو،اس نے اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو نظر انداز کر کے خود کو پرسکون کرتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی جس میں کامیاب بھی ہو گیا۔وہ اپنی ناراضگی چھپانے کی کوشش کررہا تھا بالکل اسی طرح جیسے مسکراتے ہوئے سرکہ پی رہا ہو۔ ’’بہت اعلیٰ میں تو سمجھی تھی کہ آپ لوگ میری خوشی میں شامل ہوں گے ، مگر یہ کیا آپ لوگ تو میری خوشی میں شریک ہی نہیں ہوناچاہتے۔جینٹ آخر کار سب کا ردعمل دیکھنے کے بعد بولی۔بیٹا تم نے محض اتنا کہا کہ تم شادی کرنے جارہی ہو۔۔ڈیوڈ نے اس طرح جواب دیا جیسے جینٹ کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا بول چکی تھی اور اس نے اپنے گھروالوں کو نامکمل اطلاع دی ہے۔پاپا! سکوٹ کو میں جانتی ہوں اور یہ فیصلہ آپ کو سب کچھ جلد بازی میں کیا ہوا لگ رہا ہے نہ ؟ مگر سچ یہ ہے اس نے مجھے کچھ دن قبل شادی کاکہااور میں اسے ہاں کر چکی ہوں۔مگر کیوں ؟ایلا اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے بولی۔اس کی ماں کا یہ سوال آخر کیوں اس کے لئے غیر متوقع تھا۔ ہاں یہ تو غیر متوقع تھا۔۔ اسے تو لگا تھا کہ سب اسے خوشی سے پوچھیں گے کہ ’’کب ‘‘ ’’کیسے ‘‘یا اس سے پوچھے جانے والے ہر سوال میں اس کی شادی کی تیاری ہی مضمر ہونی چاہیے تھی۔ بلاشبہ ’’کیوں ‘‘ایک ایسا سوال تھا جواس سے یکسر مختلف تھاجو اس نے سوچ رکھا تھا۔۔وہ انجانے میں ہی ماری گئی تھی۔’’کیونکہ میرا خیال ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں‘‘ اب اس کا لہجہ قدرے دھیما تھا۔نہیںمیری پیاری بچی میرا مطلب تھا کہ اتنی جلدی کیوں؟کیا تم حاملہ ہو؟آنٹی ایستھر نے بے چینی سے پہلو بدلا۔۔ان کی بیزاری اور حیرانگی قابل دید تھی اورسب اس کو باآسانی محسوس کرسکتے تھے۔اسی اثنائ میں انہوں نے جیب سے ہاضمے کی دوا نکالی اور منہ میں ڈال لی۔ایوی لا ابالی انداز میں ہنستے ہوئے بولا گویا میں ماموں بننے جا رہا ہوں ‘‘۔ ایلا نے جینٹ کا ہاتھ پیار سے پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں لے کر نرمی سے دبایا اور کہا ’’ہمیں سچ کا علم ہونا چاہیے ، یہ بات ذہن نشین کر لو کہ کچھ بھی ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔’’ما ما خدا کیلئے بس کردیں‘‘ جینٹ نے یکدم اپنی ماں کا ہاتھ جھٹک کے پیچھے کیا۔۔’’ میری شادی کے فیصلے کاحاملہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ مجھے شرمندہ کررہی ہیں ‘‘اس مرتبہ جینٹ غصے سے بولی تھی۔’’میں تمہاری مدد کرنا چاہ رہی تھی تھی ، اس سے زیادہ کچھ نہیں ‘‘ایلا کیلئے اس وقت پرسکون رہنا قدرے مشکل کام تھا ، مگر پھر بھی وہ پر سکون رہتے ہوئے اس سے مخاطب تھی۔’’آپ مجھے شرمندہ کررہی ہیں۔ میری اور سکاٹ کی شادی کو حاملہ ہونے پیرائے میں دیکھ رہی ہیں ؟؟ میں اس سے محض اس لئے شادی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ میں نے پچھلے آٹھ ماہ میں اسے نہایت قریب سے دیکھا ہے۔ ایلا نہایت مدبرانہ لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی ’’ ہاں! جیسے آٹھ ماہ میں انسان کا کردار سامنے آجاتا ہے۔ میں اور تمہارے والد گزشتہ بیس برس سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کے باوجود یہ دعویٰ نہیں کرسکتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں۔ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا آٹھ ماہ کوئی بھی رشتے بنانے کے لئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہوتا ‘‘۔ایوی نے ماحول کے تناؤ کو کم کرنے کیلئے کہا ’’خدانے دنیا کو چھ دنوں میں تخلیق کیا تھا‘‘ مگر شاید اس نے یہ جان کر خاموشی اختیار کرلی کہ اس کشیدگی بھرے ماحول میں اس طرح کا مذاق درست نہیں ہے۔ڈیوڈ نے ماحول گرم ہوتے ہوئے اس میں اپنی گفتگو شامل کی۔ اس نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مگرقدرے سرد لہجے میں کہا ’’ بیٹی تمہاری ماں تمہیںیہ سمجھانا چاہ رہی ہے کہ تم اسے آٹھ ماہ سے جانتی اور تم دونوں مسلسل رابطے میں ہو تاہم ملاقاتیں اور شادی ایک دوسرے سے یکسر مختلف چیزیں ہیں۔ شادی کسی بھی شخص کی زندگی کا سوال ہوتا ہے۔کیا ڈیڈ ہم دونوں ہمیشہ ملتے ہی رہیں گے ؟ شادی کے بندھن میں نہیں بندھیں گے ؟ جنیٹ نے جھگڑنے کے انداز میں اپنے والد سے دریافت کیا۔اسی اثنائ میں ایلا بولی ’’سچ پوچھو تو ہم یہ چاہ رہیں کہ تم ابھی اپنی زندگی کے اس فیصلے میں جلد بازی نہ کرو اور ویسے بھی اس سنجیدہ رشتے کو اپنانے کیلئے تم ابھی تک بہت چھوٹی ہو۔جینٹ جو کہ کافی دیر سے کچھ کہنے کو تھی سرگوشی نے انداز میں مخاطب ہوکر بولی’’مام میرے خیال سے آپ اپنے خوف اور اندیشے میرے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کررہی ہیں ، کیونکہ میری عمر میں آپ ایک بچے کی ماں بن چکی تھیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ میں بھی وہی غلطی دہراوں‘‘۔اپنی بیٹی کے منہ سے دو ٹوک الفاظ سنتے ہی ایلا سکتے میں چلی گئی ، اسے یوں لگا جیسے اس کی بیٹی نے اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کردیا ہو۔اس کے یہ الفاظ ایلا کو یادوں کی ان وادیوں میں لے گئے۔۔اسے یاد کہ کم عمری میں جینٹ کو دنیا میں لانے کا مرحلہ اس کے لئے کس قدر کٹھن تھا۔۔پھر اس کی پیدائش بھی تو قبل از وقت ہی ہوئی تھی۔اس بچی نے ہوش سنبھالنے تک اسے بے جان کیے رکھا تھا۔ اسی لئے جینٹ کے بعد ایلا 6 سال بعد ماں بننے کے لئے جسمانی اور ذہنی طور تیار رہوئی۔ڈیوڈ اپنی بیٹی کی سوچ تبدیل کرنا چاہتا تھا اسی لئے اس نے مزید کہا کہ ’’میری پیاری بیٹی ابھی تمہارا گریجوایشن چل رہا ہے ، اس دوران یا اس کے بعد ہوائیں کس طرف کا رخ کرتی ہیں کسی بھی معلوم نہیں۔ کون جانے اس وقت تک تمہاری سوچ تبدیل ہوجائے ‘‘۔ جنیٹ نے مصنوعی رضا مندی دیتے ہوئے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور بولی ’’کہیں یہ اس وجہ سے تو نہیں ہے کہ سکاٹ یہودی نہیں ہے ‘‘ اس کے اس استفسار پر اس کے باپ نے ایک بے یقینی کی سی کیفیت میں نہ کے معنوں میں سر کو حرکت دی۔بلاشبہ وہ ایک آزاد خیال باپ تھا جس نے گھر کے ماحول میں مذہب ، نسل یا وصف کو بالائے طاق رکھا ہوا تھا۔ وہ اگراس کو باپ تھا تو وہ اس کی بیٹی تھی ، اس نے اگلے ہی لمحے پوچھا ’’اگر ہارون

سکاٹ ایک یہودی ہو تا کیا تب بھی آپ مجھے شادی سے روکتے ؟‘‘اس کے لہجے میں اس قدر زہر تھا کہ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھاکہ یہ اس کی بیٹی ہی بول رہی ہے۔’’میری جان!اگرچہ جوانی میں قدم رکھنا اور محبت جیسے احساس کو محسوس کرنا نہایت پرکیف جذبہ ہے ، تاہم تمہارے والدین ہونے کے ناطے ہم تمہیں ایک بہترین مشور دے رہیں ہیں ، ہمارا اعتبار کرو۔ یکسر مختلف انسان سے ایک مضبوط ترین رشتہ استوار کرنا ایک جوائ ہے۔ تمہارے سر پرست ہونے کے ناطے ہمارا تسلی کرنا ضروری ہے کہ جو تم کررہی ہو وہ تمہارے کل اور آج کیلئے ایک درست فیصلہ ہے بھی یا نہیں؟اور آپ کو کیسے معلوم کہ آپ کا ’’درست فیصلہ ‘‘میرے لئے بھی ’’درست ‘‘ ہے ؟اس سوال نے ایلا کو متزلزل کردیا اور وہ اپنی پیشانی اس طرح ملنے لگی جیسے ’’مائیگرین‘‘ کے مرض میں مبتلا ہو۔’’ماما ! میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ کبھی بھی کہیں سے یہ لفظ آپ نے سنا ہے ؟وہ شخص میرے دل کی دھڑکن تیز کردیتا ہے۔ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ‘‘کیا یہ آپ کے نزدیک معنی نہیں رکھتا ہے ؟ایلا نے اس لمحے ایک ہنسی کی آواز سنی۔ اور وہ سوچ میں پڑ گئی کہ یہ آواز  کس کی ہے۔یہ تو اس کی ہی ہنسی تھی ،اس کی یہ ہرگز نیت نہیں تھی کہ وہ اپنی بیٹی پر ہنسے۔۔پر یہ اسے بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اس پر ہنس رہی تھی یا اپنے آپ پر۔۔پر اسے یہ ضرور معلوم تھا کہ اس لمحے وہ پریشان ضرور ہوئی تھی۔اس کی جینٹ کے ساتھ سینکڑوں لڑائیاں ہو چکی تھیں۔۔ تاہم اس مرتبہ اس کا سامنا ایک مختلف اور یقینی طور پہ ایک بڑی شے سے تھاجس کے لئے وہ اس وقت اس کے لئے ماں کے بجائے کچھ اور تھی۔ماما آپ کو کبھی محبت ہوئی ہے؟ اس کے لہجے میں حقارت بھر آئی ’’مجھے کچھ سانس لینے دودن میں سپنےدیکھنا بند کرو۔ حقیقت پسند بنو اور وہ۔۔وہ ہونا چھوڑ دو‘‘ ایلا بات کرتے ہوئے ایک لفظ جان بوجھ کر’’بھول ‘‘ گئی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ، اس وقت اس کے دماغ میں وہ لفظ آیا۔ ’’رومانٹک ‘‘ہونے میں کیابرائی ہے ؟جینٹ کی آواز میں اس وقت نمایاں خفگی تھی۔ ایلا کے تو کسی نے ہونٹ سی دیے تھے ، اس وقت وہ سوچوں کی کسی وادی میں جا کھوئی تھی۔ ماں کا جواب نہ سن کر جینٹ نے مزید جملوں کا تبادلہ کرنا شروع کیا۔ ’’میری بچی تم کس صدی میں زندہ ہو ؟عورتیں ان مردوں سے شادی نہیں کرتیں جن سے انہیں محبت ہوتی ہے بلکہ وہ ان مردوں کو فوقیت دیتی ہیں جواچھے باپ اور اچھے شوہر بن سکیں۔محبت یقینا ایک لطیف جذبہ ہے ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس جذبے کی عمر بہت کم ہے‘‘ اس نے بات مکمل کرکے ڈیوڈ کی جانب دیکھا ، جس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت باہم مضبوط کی ، جیسے وہ پانی میں ڈوب رہا ہو‘‘’’آپ کے اس رویے کے پیچھے آپ کی وہ نامکمل طویل عرصے تک رہنے والی خواہشات مخفی ہیں جو پایا تکمیل نہیں ہو سکیں۔ آپ ایک نا خوش گھریلو عورت ہیں جو میری خوشی دیکھنے سے قاصر ہے‘‘اس وقت ایلا کو اپنا وجودبے معنی محسوس ہوا۔دل و دماغ کے خانہ ئ دیوار میں کئی سوچوں اور تکلیفوں نے بیک وقت جنم لیا۔ کیاوہ واقعی ایک ناکام گھریلو عورت تھی ؟ایک مسترد شدہ ماں جس کی شادی شدہ زندگی صرف وقت کے کاندھوں پر چل رہی تھی، جس میں خوشیوں اور اعتماد نے کبھی دستک نہیں دی۔کیا اس کے اہل و عیال اسے ناچیز سمجھتے تھے ؟دوست ، احباب بھی اس کے متعلق یہی گمان کرتے تھے ؟ہاں تو اور کیا۔۔۔ سبھی اس پر ترس کھاتے تھے ،تبھی اس کے ساتھ تعلق رکھا ہواتھا مگر زبان سے کچھ نہیں کہتے تھے۔۔ یہ سوچیں اتنی تکلیف دہ تھیں کہ اس کے منہ سے ایک درد بھری آہ نکلی۔’’اپنے الفاظ کی پاداش میں اپنی ماں سے معافی مانگو‘‘ اس کے باپ نے اسے غصے سے مخاطب کیا۔’’کوئی بات نہیں۔۔ مجھے معافی کی ضرورت نہیں ‘‘ اس وقت ایلا کو اپنا وجود ایک ایسے سپاہی کی مانند تھا جو میدان جنگ میں ہار قبول کرلیتا ہے۔اسکی سگی بیٹی نے اس وقت اسے طنزیہ نظروں سے گھورا اور رومال پھینک کر باہر چلی گئی۔ اس کے بعد ایوی اور لی جو کہ اپنی بہن کی یکجہتی میں۔ ایسا بھی عین ممکن ہے کہ زیر بحث موضوع ان کی عمر کے حساب سے کئی گنا بڑا تھاجس کے باعث وہ بیزار ہو چکے تھے۔ان کے پیچھے ایستھر بھی اپنی تیزابیت کش دوا کی آخری گولی لیتے ہوئے باہر نکل گئیں۔وہ سب لوگ تو چلے گئے مگر پیچھے ڈیوڈ اورایلا اس افسردہ فضا کا مقابلہ کرنے کے لئے تنہا رہ گئے۔ان دونوں کو اپنے درمیان حائل اجنبیت کی دیوار کا سامنا کرنا آسان نہیں تھا ۔در حقیقت ان دونوں کی ازدواجی زندگی کی حقیقت ان دونوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔ یہاں تک کے ان کے بچے بھی نہیں۔ڈیوڈ نے دوبارہ سے کھانا کھاتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا تم نے اس مرد سے شادی نہیں کی جس سے تم محبت کرتی تھی ؟نہیں ، ایسا نہ کہیں میرا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا، ایلا نے اپنی صفائی میں صرف اتنا ہی کہا۔پھر اور تمہاری اس سے کیا مراد تھی ؟جہاں تک مجھے یاد ہے جب ہم شادی کے بندھن میں بندھے تھے تم مجھ سے محبت کرتی تھی ، ڈیوڈ نے کھانے سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا۔میری واحد محبت تم ہی تھے۔ میرا یہ سوال ہے کہ یہ محبت کب ختم ہوئی ؟ ڈیوڈ نے جذبات سے عاری ہو کر سوال کیا۔ایلا نے اپنے شوہر کو ازحد حیرانی سے دیکھا جو آج اس کے سا منے آئینہ لیے منصف بنا کھڑا تھا، جسے شادی کے بیس سالوں میں یہ دریافت کرنے کی فرصت ہی کہاں تھی۔ ایلا نے بھی اسی لمحے اپنے آپ سے یہ حقیقت دریافت کرنا چاہی کہ کیا وہ واقعی محبت کے جذبات بے دخل کر چکی تھی ؟ یہ وہ سوال تھا جو اس نے کبھی انجانے میں بھی اپنے آپ سے نہیں کیا تھا۔۔اس سوال کے بہت سے جواب تھے جو وہ اسے دینا چاہتی تھی۔۔ مگر اس کے پاس تو شاید الفاظ ہی ختم ہو گئے تھے۔۔ ایسا بھی ممکن تھا کہ جواب دینے کی اس کی ہمت ہی باقی نہ رہی ہو۔ یہ لمحات اگرچہ اس کیلئے بہت مشکل تھے مگر پھر بھی اس نے ایک ماں ہونے کے ناطے سوچا۔ جو بھی تھا جیسے بھی تھا، ان کی عائلی زندگی جس بھی دوراہے پر تھی وہ بہر حال اپنے بچوں کیلئے ایک قابل رشک مستقبل کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ہاں زندگی کو بہرحال گزر جانا تھا۔اس وقت ایلا کا دل کر رہا تھا کہ وہ دھاڑیں مار کر روئے۔اسی لمحے اس کے مجازی خدا نے اپنا غصے بھرا منہ دوسری جانب پھیر لیا۔یہ سچ تھا کہ ایلا روتی ہوئی بے حد بری لگتی تھی۔۔ مگر یہ بھی تو حقیقت تھی کہ اسے اس کے سامنے رونا بے حد برا لگتا تھا۔اسی اثنائ میں ایلا کے فون کی گھنٹی بجی جس نے اس رشتے کو مزید کھوکھلا ہونے سے بچا لیا ۔ڈیوڈنے فون اٹھایا ، ایلا نے اسے کہتے سنا جی وہ موجود ہیں۔۔اس نے فون کان کو لگانے سے قبل اپنے آپ کو مضبو ط کیا ’’جی !میں ایلی بول رہی ہوں !‘‘ ایلا نے اس وقت فون پہ نہایت چنچل اور ہنستی ہوئی لڑکی کو پایا۔’’ہائے ! میں مشال بات کر رہی ہوں ، معاف کیجئے آپ کو چھٹی کے دن بھی ڈسٹرب کیا، کل مجھ سے سٹیو نے دریافت کیا تھا تاہم میں مصروفیت کے باعث بھول گئی۔ آپ نے مسودے پر کام کرنا شروع کیا؟اوہ ہاں! ایک ’’ناخوش گھریلو‘‘ عورت ذمہ داریوں کے باعث یہ بھول گئی تھی کہ ایجنسی میں اس کا پہلا کام ایک ناول کے مطالعے کا تھا جو ایک گمنام یورپی لکھاری کا تحریر کردہ تھا، اس کے بعد اسے اس ناول پر ایک رپورٹ لکھنا تھی۔ ’’جی مجھے یاد ہے ، انہیں بتا دیں کہ میں نے اس ناول کوپڑھنے کاآغازکردیا ہے ‘‘ اس موقع پر ایلاکو جھوٹ بولنا ہی مناسب لگا۔ دوسری جانب مشال بھی ایسی لڑکی تھی جو ایلا کو اس پہلے قدم پر مایوس نہیں کرنا چاہتی تھی۔’’یہ تو خوش آئند ہے ، آپ کو کیسا محسوس ہوا؟وہ اس تحریر کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی کہ یہ ایک تاریخ ناول تھا جس کے مرکزی کردار معروف صوفی شاعر مولانا رومی تھے۔ناول کی داستان اسی ایک کردار کے گرد گردش کرتی تھی۔’’رومی عظیم شاعر ہو گزرے ہیں جنہیں اسلامی دنیا کا ’’شیکسپئر‘‘بھی کہا جاتا ہے۔اوہ ! وہ کافی صوفیانہ کلا م ہے ‘‘ ایلا کو جھوٹ بولتے ہوئے بے حد ہنسی آئی تاہم اس نے ہنسی روکتے ہو ئے اپنی بات مکمل کی۔ یہاں یہ حقیقت تھی کہ مشال کو صرف اور صرف کام سے غرض تھی ، اس نے نہایت خود اعتمادی سے کہا کہ کام پر جت جاؤ۔ آپ نہیں جانتی کہ اس کی رپورٹ بنانے میں آپ کی سوچ سے کہیں زیادہ وقت صرف ہوگا۔ ایلا نے محسوس کیا کہ وہ فون پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے کاموں میں مصروف تھی ، جیسا کہ وہ ای میل پڑھنے کے ساتھ ساتھ کسی کتاب کا تجزیہ پڑھ رہی ہے ، ساتھ ہی ساتھ وہ مچھلی کے سینڈوچ کھاتے ہوئے نہایت مہارت سے نیل پالش کا استعمال بھی کررہی ہے۔ایک منٹ بعد مشال نے پوچھا ’’ تم ابھی تک فون پر موجود ہو ؟’’ جی میں فون پر ہی ہوں‘‘ ایلا نے جواب دیا۔مشال نے کچھ سمجھا نے والے انداز میں کہا ’’یہاں بہت عجیب ماحول ہے ، آپ کے پاس اس کام کے لئے تین مہینے موجود ہیں ‘‘۔ ’’جی مجھے بہ خوبی علم ہے ، میں وقت پر کام مکمل کر لوں گی ‘‘ایلا نے خود اعتمادی سے جواب دیا۔اس کے برعکس حقیقت تو یہ تھی کہ ایلا کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ وہ یہ کام کرنا بھی چاہتی ہے یا نہیں۔اس کو یہ کام نہایت عجیب گزرتا تھا کہ وہ کسی مصنف کی تحریر کا تجزیہ کرکے ا س کی قسمت میں کوئی کردار ادا کرے۔اس کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک تیرہویں صدی کے ایسے موضوع پر پڑھنے والوں کی توجہ دلا سکے گی جس کا اس سے کوئی تعلق نہ رہا ہو۔ حقیقت یہ تھی کہ اسے موضوع میں رتی بھر بھی دلچسپی نہ تھی۔مشال جو کہ نہایت پیشہ وارانہ تھی اس نے فون پر دوسری طرف ہونے کے باجود اس کی سوچوں کو جانچ لیا تھا’’کوئی مسئلہ تو نہیں ؟‘‘ دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہونے پر اس نے کہا ’’تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو ‘‘ کچھ دیر سوچنے کے بعد ایلانے سچ بولنے کا فیصلہ کیا’’بات کچھ یوں ہے کہ حالیہ دنوں میں ذاتی وجوہات کی بنائ پر میں کچھ ایسی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوں کہ میں کسی تاریخی ناول پر توجہ نہیں دے سکتی ہوں، میری دلچسپی ’’رومی ‘‘ میں ضرور ہے مگر موضوع میرے لئے ‌‌ذرا ہٹ کر ہے یعنی مجھے اس کے لئے ایک پرسکون دما غ کی ضرورت ہے جو آج کل میسر نہیں‘‘’’یہ تنگ نظری ہے کہ تم سوچتی ہو کہ تم صرف ان ناولوں کا تجزیہ کرسکتی ہو جن کے موضوع کے متعلق تمہیں علم ہے ، ایسا ہرگز نہ سوچو! تم صرف ان ناولوں کا تجزیہ نہیں کرسکتی ہو جو صرف تمہاری اپنی ریاست میسا چوسٹس کے لکھاریوں کی جانب سے لکھے گئے ہوں، ٹھیک ؟نہیں میرا ہرگز ایسا مطلب نہیں تھا؟اس وقتا یلا کے ذہن میں آیا کہ آج سہ پہر میں اسے یہ جملہ کئی مرتبہ بولنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔اسی لمحے ایلا نے ڈیوڈ کو دیکھا ، جس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر یہ واضح اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اس نے یہ بات محسوس کی ہے ، مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ ڈیوڈ کے خیالات کو جا نچنا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔’’یہ ہمارے شعبے کی ضرورت ہے کہ ہمیں وہ ادب بھی پڑھنا ہے جس کا ہم سے دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے میں نے ایک ایسی عورت کی کتاب پر کام کیاجو ایران میں ایک قحبہ خانہ چلا رہی تھی۔کیا میں اسے یہ کہتی کہ اس کتاب پر میں کام نہیں کرسکتی ، اسے کسی ایرانی ادب کی ایجنسی کو دو؟’’نہیں۔ہرگز نہیں ، ایلی نے تقریباً سرگوشی کے سے انداز میں جواب دیا،وہ اس وقت شرمندہ تھی اور اپنے آپ کو کمتر محسوس کررہی تھی۔’’کیا یہ ادب کی خاصیت نہیں ہے کہ وہ خطوں میں منقسم ثقافت اور افراد کو باہم متحد کرتا ہے؟، ہا ں یہ تو ہے۔۔جو میں نے پہلے آپ سے کہا اسے بھول جائیں ، مقرہ وقت پر رپورٹ آپ کے سامنے ہوگی ‘‘۔ اسے یہ الفاظ کہتے ہوئے مشال پربے حد غصہ آیا کیونکہ وہ اسے دنیا کانالائق ترین انسان تصور کر چکی تھی۔اس لمحے صرف اسے اس پر غصہ نہیں آیاکہ بلکہ اسے اپنی ذات سے بھی نفرت محسوس ہوئی کیونکہ یہ وہی تھی جس نے اسے یہ موقع فراہم کیاتھا۔’’یہ تو بہت اچھی بات ہے ، اور دراصل انسان میں یہی جذبہ ہونا چاہیے ‘‘ مشال نے تقریبا گنگناتی آواز میں بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا’’مجھے غلط مت سمجھنا ،لیکن میری ایک بات یاد رکھنا کے تم سے آدھی عمر کے کئی نوجوان ایسے ہیں جو یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ چیز یقینا تمہیں آگے بڑھنے میں مدد دے گی ‘‘ایلا نے فون رکھتے ہوئے اپنے شوہر کو دیکھا جس کا چہرہ سنجیدہ اور جذبات سے عاری تھا۔فرض کیا کہ وہ دونوں اگر جینٹ کو لے کر ہی پریشان تھے توڈیوڈ اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں مزید بات کرنا چاہتا تھاتاہم وہ اب اس بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔اسی دن شام ایلا نارتھ ایمٹن کے غروب آفتا ب کا نظارہ کرنے بیٹھی۔وہ اپنی پسندیدہ رولنگ میز پر بیٹھی سرخ نارجہ ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھنے بیٹھی تھی۔آسمان اسے اُس وقت اتنا کشادہ اوراپنے قریب محسوس ہورہا تھا کہ اسے یوں گمان ہوا کہ وہ اسے چھو بھی سکتی ہے۔اس کا ذہن جسے اندر کے بے ہنگم خیالات کے شور کے باعث تھک ساگیا تھااسی لئے اس کے دماغ نے چپ سادھ لی تھی۔رواں ماہ کے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی ،ارلی کی غیر متوازن غذا کھانے کی بری عادت ،ایوی کی پڑھائی میں عدم دلچسپی ،آنٹی ایستھر اور ان کے اداس کیک ،ان کے واحد دوست اسپرٹ کی روزبروز بگڑتی ہوئی صحت،جینٹ کا نئی زندگی کے آغاز کا یک طرفہ فیصلہ ،اس کے شوہر کے خفیہ ناجائز تعلقات اور اسکی زندگی میں محبت کی عدم موجودگی۔۔ یہ وہ تمام مسائل تھے جن کا اسے بیک وقت سامنا تھا۔اس نے ان تما م مسائل کو دماغ کے چھوٹے چھوٹے خانوں میں نہایت مہارت سے مقفل کردیا۔ایلا نے وہ مسودہ لفافے سے نکا لا اور اسے یوں اچھالا جیسے کے وزن کا معائنہ کر رہی ہو۔ناول کا عنوان’’انڈیگو انک ‘‘ سے تحریر کردہ تھا۔ایلا کومصنف کے متعلق کچھ خاص نہیں بتایا گیا تھا ماسوائے اس کے کہ ایک ’’ذھارا‘‘نامی شخص ہالینڈ میں رہتا ہے۔یہ مسودہ ایمسٹرڈم سے بھیجا گیا تھا اور اس لفافے کے اندر ایک پوسٹ کارڈ بھی موجود تھا۔پوسٹ کارڈ کے ماتھے پرگل لالہ کے شاندار اور خوشنما گلابی ، زرد ، اور نارنجی رنگوں کے پھولوں کے کھیت تھے جو کہ ہالینڈکا خاصا تھے ۔پوسٹ کارڈ کی پشت پر کچھ الفاظ تحریر تھے :’’محترمہ /جناب،ایمسٹرڈم سے سلام میں جو داستان آپ کو بھجوارہا ہو ں یہ تیرھویں صدی میں اشیائے کوچک میں پیش آئی۔تاہم میں پرُ امید ہو ں کہ ثقافت اور صدیوں کے فرق سے بالاترہو کر یہ دنیا بھر میں اپنا نام پیدا کرے گی۔‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو کہ معروف صوفی شاعر و عظیم روحانی پیشوا’’رومی ‘‘ اور پراسرار واقعات کے باعث مشہور درویش شمس تبریز کے روحانی رشتے سے متعلق ہے۔’’امید ہے کہ آپ کی زندگی محبت سے آراستہ ہو اور یہ محبت سے مالامال رہے ‘‘الف۔ذال۔ ذھارا

ایلا کومحسوس ہوا کہ یہ پوسٹ کارڈ ’’ادب کی ترسیل ‘‘ کرنے والے کے لئے ضرور پرتجسس ثابت ہوا ہوگا، لیکن اسٹیو ایسا انسان نہیں تھا جو کسی نئے لکھاری کا کام پڑھنے کے لئے اپنا وقت برباد کرتا۔ اسی لئے اس نے یہ لفافہ بنائ کھولے اپنی معاون مشال کو دے دیا اوراس نے بھی آگے اپنی نئی معاون ایلا کو دے دیا۔اس طرح سے’’‘ ایلا تک پہنچا۔ایلا نے جب پہلی بار وہ ناول دیکھا تو اسے کہاں معلوم تھا کہ یہ اس کی زندگی کے خدوخال یکسر تبدیل کردے گا۔۔ جب وہ اس کو پڑھ رہی ہو گی تو اس کی زندگی کی کہانی نئے سرے سے لکھی جائے گی۔۔ ’’الف۔ذال۔ زھارا جب دنیا کا سفر میں نہیں ہوتاتو اس وقت وہ اپنی بلیوں ، کتابوں اور کچھوں کے ساتھ ایمسٹرڈم میں ہوتا ہے۔اس کا پہلا اور شاید آخری ناول ’’سویٹ بلاسفیمی‘‘ ہے اور نہ ہی ان کا مستقبل میں کوئی بڑا ناول نگار بننے کا ارادہ ہے۔انہوں نے یہ کتاب محبت کے جذبے کے تحت لکھی تھی۔۔اس محبت بھر ے روحانی ساتھ کے نام جومشہور صوفی شاعر ، عظیم فلسفی رومی اور ان کے ساتھی شمس تبریز کے درمیان تین سالوں تک رہا۔ایلا کی نظریں صفحے کے اختتام پر گئیں وہاں اس نے یہ الفاظ پڑھے ’’لوگوں کے محبت کے بارے میں مختلف نظریا ت ہیں تاہم محبت ایسا جذبہ نہیں جو آپ کی زندگی میں کچھ لمحوں کے لئے شریک سفررہے اورآپ کے جذبات گدگدا کر روانہ ہو جائے ‘‘یہ فقرہ پڑھ کر ایلا حیرانی کے باعث سکتے میں چلی گئی۔ یہ تو اس کے ان الفاظ کے برخلاف تھے جوآج اس نے اپنی بیٹی سے بحث کے دوران استعمال کیے تھے۔کچھ دیر کے لئے تو وہ حواس باختہ سی ہو کر رہ گئی کہ یہ کس طر ح ممکن ہے ؟ کیا دنیا کی کوئی پراسرار شے اس کی جاسوسی میں ملوث تھی ؟ کیا وہ مصنف اس کی جاسوسی کر رہا تھا؟کیا اسے یہ معلوم تھا کہ یہ کتاب سب سے پہلے کون پڑھے گا۔۔ یا پھر اسے یہ معلوم تھا کہ وہ اس کی سب سے پہلی قاری ہوگی۔۔پلک جھپکتے ہوئے ایلا کے ذہن میں بے شمار خیالات نے گردش کی ، اس بات پر جہاں ایلا حیران تھی وہیں اسے نامعلوم سی پریشانی نے بھی آگھیرا۔تیرھویں اور اکیسویں صدی کے کئی ایسے پہلو ہیں جنہیں دیکھ کے واضح طور پرکہا جا سکتا ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔دونوں صدیاں تاریخ میں مذہبی کشیدگیوں ،ثقافتی دوریوں مختصراً انسانوں کو ایک دوسرے کی ذات سے ازحد خوف محسوس ہوتا تھا۔یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جن میں پیارو و محبت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اس سمت میں ایک تیز رفتار ہوا کا جھونکاآیا، تیز اور یخ بستہ جس نے پورچ میں گرے پتوں میں ہلچل مچادی۔ ڈوبتاہوا سورج مغرب کی سرحدو ں کو چھونے والا تھا، تاہم کچھ دیر پہلے خوبصورت دکھائی دینے والا یہ دلفریب منظربھی اسے اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہا۔’’ کیونکہ محبت ہی زندگی کا اصل مقصد ہے رومی ہمیں یاد کرواتے ہیں کہ محبت ہر انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور چھو کر گزرتی ہے۔ حتیٰ کہ یہ لطیف جذبہ ان لوگوں کی راہوں اور منزلوں کا حصہ بھی بنتا ہے جو اسے محض وقتی ’’رومانس‘‘ کہہ کر اس کی نفی کرتے ہیں۔ایلا کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ اسی کے لیے تحریر کی گئی ہو، محبت ہر ایک سے خود متعارف ہوتی ہے خواہ وہ نارتھ ایمپٹن میں رہائش پذیر ناخوش خاتون خانہ ہی کیوں نہ ہو۔۔ایلا کے دل میں کئی انجانے وسوسوں نے جگہ گھیر لی۔اسی وقت اس کے اندر سے ایک آواز آئی کہ وہ اندر جاکر مشال سے اس ناو ل پر رپورٹ لکھنے کے متعلق معذرت کرلے ، تاہم اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے  ہوئے کتاب کا اگلا صفحہ پلٹ دیا۔

صوفی حضرات کے مطابق قرآن کاراز سورۃ فاتحہ میں پوشیدہ ہے۔سورۃ فاتحہ کا راز بسم للہ الرحمن الرحیم میں مخفی ہے جب کہ بسم اللہ کا لب باب ’’ب‘‘ ہے۔ اس حرف کے نیچے ایک نقطہ ہے جو تما م کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مثنوی مولانا جلال ادین رومی کا شعری مجموعہ کاآغاز بھی ’’ب ‘‘ سے ہوتا ہےاسی طرح ناول کے ہر باب کا بھی۔۔ 

مقدس گستاخی

ناول

By

A. Z . Zahara

 

صوفی حضرات کے مطابق قرآن کاراز سورة فاتحہ
میں پوشیدہ ہے ۔۔

سورة فاتحہ کا راز بسم للہ الرحمن الرحیم
میں مخفی ہے جب کہ بسم اللہ کا لب باب ”ب“ ہے ۔ اس حرف کے نیچے کے ایک نقطہ ہے جو تما
م کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ۔

مثنوی (مولانا جلال ادین رومی کا شعری مجموعہ
)کاآغاز بھی ”ب “ سے ہوتا ہے

اسی طرح اس ناول کے ہر باب کا بھی۔۔

 

پیش لفظ

 

تیرہویں صدی عیسوی میں ایشیائے کوچک ( اناطولیہ)
کے دن ورات مذہبی فسادات، سیاسی معرکہ آرائیوں اور اقتدار کی لامتناہی جنگوں میں ڈوبے
ہوئے تھے، تاریخ کا یہ حصہ اس علاقے کے لئے سیاہ ترین باب کی حیثیت رکھتا ہے۔مغرب میں
بھی جنگیں عروج پر تھیں ،عیسائی جنگجووں نے صلیبی جنگوں کا آغاز کر رکھا تھا۔انہوں
نے بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا ، جس سے بازنطینی
سلطنت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ دوسری جانب، مشرق میںچنگیز خان کی مدبرانہ عسکری قیادت میں
منگولوں جیسی منظم فوجیں ہر جگہ پھیل چکی تھیں۔اسی دوران ،مختلف ترک قبائل ایک دوسرے
سے جھگڑ رہے تھے ،جب کہ بازنطینی اپنے کھوئے ہوئے علاقے ، املاک اور طاقت دوبارہ حاصل
کرنے کے لیے کوشاں تھے۔یہ وہ دور تھا جب ہر طرف خون خرابے اور نفرت کی لہر پھیلی تھی
۔مسلمان ، مسلمان سے ، عیسائی عیسائی سے اور عیسائی مسلمانوں سے لڑ رہے تھے ۔ ہر سو
نفسا نفی کا عالم تھا، ہر انسان کے انجانے خوف میں مبتلا تھاکوئی بھی نہیں جانتا تھا
کہ کیا ہونے کو ہے، ہر کوئی اپنے مستقبل کو لے کر ایک خوف میں مبتلا تھا۔انہی فسادات
اور کشیدگیوںکے اندھیروں میں روشنی کی کرن کی مانند ایک اسلامی دانشور نظر آتے ہیں
جن کا نام مولانا جلال الدین رومی ہے ۔ جن کو عرف عام میںمولانایعنی ” ہمارے آقا“کہا
جاتا ہے۔ ان کو اپنا راہنما ماننے والے ان کے مریداور معتقد پورے خطے غرض کے پوری دنیا
میں پھیلے ہوئے تھے ۔

 1244 ءمیں مولانارومی کی ملاقات شمس تبریز سے ہوئی ۔
شمس ۔۔جن کی روح کو ایک جگہ ٹھہرنا منظور نہ تھا۔ وہ جگہ جگہ نگری نگری مختلف علاقوں
میں گھومتے رہتے ۔۔ا نہیں کسی چیز کی تلاش تھی یا کسی چیز کو ان کی ۔۔ کسی کو معلوم
نہیں ۔۔۔ وہ دنیا کے ہر رسم ورواج اور روایتوں سے باغی درویش تھے۔ان دونوں کا ملنا
ایک بے مثال دوستی کا آغاز تھا ۔ ان دونوں کے ملنے کے باعث ان دونوں کی زندگیوں کارخ
یکسر تبدیل ہوگیا۔یہی وہ ملن تھا جس کو صوفیاکی جانب سے صدیوں تک دو سمندروں کے ملاپ
سے یاد رکھا گیا۔شمس تبریز سے ملاقات سے قبل وہ ایک روایتی مذہبی پیشوا تھے ،تاہم اس
دوستی کے بعد وہ ایک مکمل صوفی ، روحانی شاعر ، محبت کے پیامبربن گئے ۔یہی وہ ہستی
تھے جنہوں نے وجدان میں ڈوب کر رقص کرنے کا آغاز کیا۔رومی وہ انسان ثابت ہوا جس نے
معاشرے کی ریت توڑ ڈالے ،وہ لوگوں کی روایات کو روندھتے ہوئے آگے نکل گیا جنہیں وہ
بتوں کی مانند پوجتے تھے ۔ایک ایسا دور جس میں لوگ مذہب کی بنیادوں پر خون بہاتے تھے،اس
دور میںجہاں ہر کوئی لڑائیوں اور جنگ وجدل میں مصروف تھا، رومی کے دروازے ہر(مذہب
)، رنگ ونسل ،خطے اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے کے لئے ہمہ وقت کھلے تھے۔نفرت کے اس
دور میں وہ پیار، محبت کے پیغام کے ساتھ نمودار ہوئے ۔رومی اور شمس نے دوستی کی مثال
قائم کی مگر ان کی دوستی بھی اپنوں کی نفرت ،حقارت اور حسد کی نظر ہوئی ۔ ان کو بھی
ایک دوسرے نہایت بے دردی سے ایک دوسرے سے جدا کردیاگیا۔ان سے عداوت رکھنے والے ان کوئی
غیر نہیں ان کے ان اپنے خونی رشتے تھے، جن کی ملی بھگت سے یہ دونوں علیٰحدہ تو ہو گئے،
مگران دونوں کی دلچسپ و عجیب داستان کا اختتام کبھی ہوا ہے اور نہ ہی ہو گا۔حقیقت توےہ
ہے کہ اس داستان کا اختتام کبھی ہوا ہی نہیں۔ تقریباً آٹھ سو سال گزرجانے کے باوجو
د رومی اور شمس کی ارواح آج بھی زند ہ اور تابندہ کہیں نہ کہیں ہمارے گرد و پیش میں
گھوم ر ہی ہیں۔

 

قاتل 

اسکندریہ نومبر 1252

کنویں کا سیاہ پانی اور اس میں موجود اس
کا مردہ جسم ۔۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس کی آنکھیں کیوں آج تک میرا پیچھا کرتی ہیں۔اس
کی آنکھوں میں ایک کشش تھی جو کسی بھی انسان کو اپنی سمت متوجہ کرنے کا ہنر رکھتی تھیں،وہی
آنکھیں جو فلک پر موجود ستاروں کی مانند تھیں۔وہی دو چمکتے ستارے جن کے باعث ،میں نے
اسکندریہ کا طویل سفرطے کیا تاکہ میں کہیں دور نکل جاو




¿ں۔ دنیا کے کسی کوچے میں ماضی کی وہ چبتی ےادمےرا
پیچھاچھوڑ دے اور میرا ضمیر اس کی موت پربےن کرنا بند کر دے۔ اس کی وہ آ خری چیخ میرے
کا ن آج بھی یاد رکھے ہوئے ہیں ،جب میں نے اس پر خنجر سے حملہ کیا تھا۔اس جسم سے خون
بہنے کے باعث اس کا چہرہ بالکل سفید ہو گیا، تب اس کے حلق سے ایک درد ناک آہ نکلی تھی۔ہاں
اسکی وہی آنکھیں ، جو اس کے آخری سانسوںکے وقت سوج چکی تھیں ، وہ بری طرح کراہ رہا
تھا ،وہ ایک مرتے ہوئے انسان کی چیخ تھی۔وہ اس وقت بالکل اس بھیڑیے کی مانند لگ رہا
تھا جو کسی دشمن کے شکنجے میں مکمل طور پر پھنس چکا ہو۔

جب آپ کسی کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں تو
اس شخص سے بدعا کے طور پر کچھ نہ کچھ آپ میں ضرور منتقل ہوجاتا ہے۔ کوئی مہک ،درد بھری
آہ یا کوئی حرکت ۔یہ کوئی معمولی شے نہیں ہوتی ، یہ باقاعدہ ایک لعنت کے موافق ہے جو
زندگی بھر انسان کے ساتھ زندگی بھر ایک حلق میں پھنسے کانٹے کی طرح منسلک رہتی ہے
۔وہ تما م لوگ جو مجھے دنیا کے کونوں میں مارا ماراپھرتا دیکھتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے
کہ دراصل میرے اندر کیا لاوا ہے جو ہمہ وقت ابلنے کو تیاررہتا ہے۔ میںوہ شخص ہوں جو
اپنے ساتھ کئی بدنصیبوں کی نشانیاں لئے پھرتا ہوں جن کومیں نے موت کے گھاٹ اتارا ہے،یہ
میرے لئے ایک طوق کی مانند ہیںایک ان چاہا ساتھی ، جو سایہ بن کے میرے ساتھ موجود ہیں۔میں
لاکھ ان سے پیچھا چھڑوانے کی کوشش کروں مگر یہ ناممکن ہے ۔ یہی تو وہ وجہ ہے جو مجھے
ایک قاتل ہونے کا احساس دلاتی ہیں،یہ گندگی میری ذات کاحصہ بن چکی ہے تاہم یہ بھی ایک
اٹوٹ حقیقت ہے کہ میرا پیشہ ہونے کے باعث یہ میرے لئے یہ ایک معمولی بات ہے ۔قاتلوں
کی یہ داستان کوئی نئی نہیں ہے ،یہ داستان تو تب سے چلتی آرہی ہے جب ہابیل نے قابیل
کو قتل کیا ہوگیا۔ تب سے ایک قاتل کے اندر مقتول کی چند نشانیاں ضرور ضبط ہوتی ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ قتل کرنامیرے لئے کوئی
جان جوکھوں کا کام ہے ، اس کے برعکس میرے لئے یہ معمول کا کام ہے ۔تاہم وہ قتل جو میں
آخری مرتبہ کیااس کا منظر آج تک میرے ذہن میں سمویا ہوا ہے ۔ مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا
ہے کہ وہ منظر میرے آنکھوں میں مقفل ہے کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ کبھی ختم ہوا
ہی نہیں تھا، بلکہ وہ آج بھی جاری ہے۔میری زندگی اجیرن کردینے والے قتل کا محض منظر
ہی عجیب و غریب نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ کئی ایسی پر اسرار باتیںوابستہ تھیں۔ اس کام
کا آغا ز ہی کچھ یوں ہوا کہ مجھے یوںلگا کہ شایدوہ کامجھے ڈھونڈنے بغداد کی گلیوں میںآیا
تھا۔

1248 ءکے موسم بہار کا آغاز ہے میں قونیہ کے
قحبہ خانے کانگران تھا اور ایک ایسی مخنث کیلئے کام کیا کرتا تھا جو شہر میں غیض و
غضب کے باعث جانی جاتی تھی ۔ مےں وہاں پر طوائفوں کی نگرانی کرتا تھا ،ساتھ ہی ساتھ
میں گاہکوں کی بھی دیکھ بھال کرتا تھا جو کہ کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔

میں وہ دن اپنے یاداشت کے ذخیرے سے کبھی
بھلا نہ پاو




¿ںگا ،وہ دن جب میںکسی گلی کوچوں میں تلاش کررہا
تھا۔ وہ ایک خوبرو عورت تھی جو خدا کی تلاش میں کہیں غائب ہو گئی تھی ،مجھے اس وقت
اس کیلئے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ جب میں اسے پکڑوں گا
تو میں اس کا چہرہ برباد کر دوں گا۔ میرا ارادہ اس کا حلیہ اس حد تک بگاڑنے کا تھا،
جس کے بعد اسے کو ئی بھی آدمی دوسری مرتبہ دیکھنابھی گوارا نہ کرتا ۔وہ بیوقوف عورت
مجھے ملنے ہی والی تھی کہ میں نے اچانک ایک پر اسرار خط کو اپنی دہلیز پر پایا۔میں
چونکہ ان پڑھ ہوں اس لئے میںاسے خود نہیں پڑھ سکتا تھا۔ میں ایک مدرسے گیا ، وہاں پر
ایک طالب علم کو چند سکے دیے ، جس کے باعث وہ خط پڑھنے پر را ضی ہوگیا۔

خط کی تفصیل کچھ یوں تھی کہ وہ کسی انجان
جگہ سے بھیجا گیا تھا ،اس پر مدیر کے نام کی جگہ ”کچھ ایمان والے “ لکھا گیا تھا ۔
خط اس طرح سے تحریر تھا:

”ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم کون ہو اور کہاں
سے آئے ہو؟ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حسن بن صباح کی موت کے بعداور تمہارے پہلے حکمران
کی قید کے بعد تم لوگوں کے حالات پہلے کی طرح نہیں رہے ہیں۔تم قونیہ آئے ہی سزا سے
بچنے کیلئے ہو اور تم نے اسی لئے اپنا بھیس بھی بدل رکھا ہے“

اس خط میں میرے لئے درج تھا کہ ان لوگوں
کو کسی اہم معاملے میں میری خدمات درکار ہیں۔مجھے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی
کہ اس کام کے لئے مجھے اچھا خاصا معاوضہ بھی ملے گا۔آخر میں سارا معاملہ مجھ پر چھوڑ
دیا گیا تھا کہ اگر مجھے منظور ہے تو اسی شام مجھے ایک مے خانے آنا ہو گا، جس کا پتا
مجھے بتا دیا گیا تھا۔مجھے سختی سے تنبیہہ کی گئی تھی کہ مجھے کھڑکی کے ساتھ والی میز
پر ہی بیٹھنا اور اپنی نظریںزمین پر مرکوز رکھنا۔علاوہ ازیں میری پشت بھی دروازے کی
جانب ہونا لازمی ہوگا۔مجھے بتایا گیا تھا وہ لوگ جنہوں نے مجھے ہدایات دینی تھیں وہ
اسی صورت میں آئیں گے جب میںوہاں ان کے بتائیے گئے طریقے سے بیٹھوں گا۔ مجھے سختی سے
تاکید کی گئی تھی کہ میںاس دوران ان کی طرف نظریں اٹھا کر نہ دیکھوں۔

یہ نہایت عجیب وغریب خط تھا لیکن میں گاہکوں
کی اس قسم کی خواہشات سے نپٹنے کا عادی تھا ۔ کئی سالوں کے دوران میں تقریباً ہر قسم
کے گاہک نے میرے سے خدمات لیں اور ان میں سے زیادہ تر افراد نے اپنا نام اور پہچان
مجھ سے مخفی رکھی ۔میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جتنا کوئی گا ہک اپنی پہچان مجھ سے چھپاتا
ہے اتنا ہی وہ نشانہ بنائے جانے والے شخص کا قریبی ہوتا ہے ، لیکن میرا اس بات سے کوئی
سروکار نہیں،میرا کام صرف قتل کرنا تھا۔مجھے محض اپنے تفویض کردہ کام سے لگاو


 ہے ،اس کے ساتھ وابستہ وجوہات کی تحقیق کرنا نہیں۔کئی
سال قبل میں جب سے میںنے اپنے آبائی شہر الموت کو چھوڑا، میں نے اپنے لئے اس زندگی کا انتخاب
کرلیا تھا۔

میں سوال بہت کم پوچھا کرتا تھا، پوچھوں
بھی تو کیوں؟زیادہ تر انسان جن سے میرا واسطہ پڑتاہے ، ان کی آنکھوں کو کم از ایک انسان
ضرور کھٹکتاہے، وہ جس سے ان کی نفرتیںوابستہ ہوتی ہیں۔یہ وہی شخص ہوتا ہے جس سے وہ
چھٹکارہ پانے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔در حقیقت جو ایسا کرنے کہ چاہ رکھتے ہوں ، وہ
محض چاہ ہوتی ہے، در حقیقت وہ اس کو عملی شکل نہیں دے سکتے ۔مختصراً یہ کہ ہر ذی روح
کے اندر کسی نہ کسی کو قتل کرنے کیلئے جذبات مخفی ہوتے ہیں۔

پر یہ نہایت حیرت انگیز بات ہے کہ لوگ اس
بات کو تب تک ایک غلط فہمی تصور کرتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اتنے بڑے گناہ کے
مرتکب بھی نہیں ہوسکتے ہیں۔تاہم ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ان کے دلوں میں نفرت کا
وہ مقام پیداہوجاتا ہے کہ وہ اپنے آپ پر قابو بھی نہیں رکھ پاتے۔دراصل اس نوبت تک پہنچنا
ایک اتفاق کی بات ہے ،بعض اوقات کوئی معمولی سی بات ہی کسی کے اندر آگ بھڑکانے کے کافی
ہوتی ہے۔جیسا کہ دشمنوں کی جانب سے دو افراد کے مابین جان بوجھ کر پیدا کی گئی غلط
فہمی ،چھوٹی سی بات پر جھگڑا ، کسی غلط جگہ پر غلط وقت میں موجود ہونا ان لوگوں کے
درمیان نفرت پیدا کرسکتا ہے جو کہ ماضی میں ایک دوسرے کے بہت قریبی تھے ۔ہر کوئی قتل
کرسکتا ہے،تاہم ہر کسی کے اندر اتنی ہمت نہیںکہ اجنبی کا سرد مہری سے قتل کردے۔ہاں
! میں دوسروں کی مشکل آسان کرتا ہوں اورلوگوں کے اس قبیح کام کو سر انجام دیتا ہوں۔شاید
میں غلط نہیں ہوں ۔۔

کیونکہ یہ ایسا کام ہے جس کو سر انجام دینے
کیلئے خدا کو بھی اپنی آفاقی منصوبہ بندی میں ایک جلیل القدر فرشتہ تعینات کرنے کی
ضرورت محسوس ہوئی ۔ عزرائیل ؑکو مخلوق خدا ایک ملامتی اور نفرت کی گاہ سے دیکھتی ہے
جب کہ خدا کے ہاتھ صاف رہتے ہیں اور ا س کی عظمت میں کوئی بھی فرق نہیں آتا۔جب کہ خدا
کے ہاتھ صاف رہے اور نام بھی تابندہ رہا۔یہ اس فرشتے کے ساتھ انصاف نہیں تھالیکن کیا
کیا جائے ، یہ دنیا انصاف کی وجہ سے نہیں پہچانی جاتی کیا ایسا ہے ؟

جیسے ہی اندھیرا چھایا میں اس شراب خانے
کی جانب گیا۔کھڑکی کے ساتھ والی میزپراےک آدمی بیٹھاتھا، جس کا چہرہ جھریوں سے بھرا
ہوا تھااوروہ گہری نیند سو رہاتھا۔مجھے خیال آیا کہ مجھے اس کو گہری نیند سے جگا نا
چاہے اور اسے کہنا چاہیے کہ کہیں اور چلا جائے ۔وہ آدمی شراب کے نشے میں دھت تھا، اور
شرابی کیسارد عمل دیںکوئی بھی اس بات کی پیش گوئی نہیں کرسکتا ہے ۔اسی لئے مجھے لگاکہ
مجھے احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ وہاں موجود لوگ میری طرف متوجہ نہ ہوں۔اسی لئے
میں کھڑکی کے سامنے موجود دوسری خالی میز پر براجمان ہوگیا۔کچھ ہی وقفے بعد دو آدمی
پہنچے۔دونوں میرے اطراف میں بیٹھ گئے جس سے ان کے چہرے نظر نہیں آسکتے تھے۔یہ دیکھنے
کیلئے کہ وہ کتنے کم عمر تھے اور جو وہ کارنامہ سر انجام دینے جارہے ہیں اس کیلئے وہ
کتنے اناڑی تھے مجھے یہ جاننے کے لئے انہیں دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔

”تمہاری سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہے “ان
میں سے ایک نے کہا۔اس کی آواز اتنی محتاط ہونے سے کئی زیادڈری ہوئی تھی ۔”ہمیں بتایا
گیا تھا کہ تم بہترین ہو“

وہ بولتے ہوئے بہت مضحکہ خیزمحسوس ہورہا
تھا،تاہم میں نے اپنی ہنسی دبانے کوشش کی ۔مجھے یوں محسوس ہوا جس طرح وہ مجھ سے ڈرے
ہوئے ہیں جو کہ میرے لئے ایک اچھی بات تھی، کیونکہ جتنے وہ مجھ سے ڈرے ہوئے تھے،وہ
میرے ساتھ کوئی دغا بازی کرنے کی جرات نہیں کر سکتے تھے ۔اسی لئے میں نے ان کی ہاں
میں ہاں ملائی ،”جی میں بہترین ہوں“۔اس لئے انہوں نے مجھے ”جیکل ہیڈ“ کہا،”میں نے کبھی
اپنے گاہکوں کو مایوس نہیں کیاچاہے کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو“۔”بہت اچھے“ اس نے
تھکاوٹ کے سے انداز میں بولا،”یہ کام بھی شایداتناآسان نہ ہو “

اب کی بار دوسرا بولا”دیکھو!ہمارے علاقے
میں ایک آدمی ہے جس نے اپنے بہت سے دشمن بنالیے ہیں۔ یہاں تک کہ جب سے وہ شہر میں آیا
ہے اس نے ہمیں مشکلات کے سوا کچھ بھی نہیںدیا۔ہم نے اسے کئی مرتبہ خبرادر کیا لیکن
وہ اس کان نہیں دھرتا۔دوسری جانب ،اس وقت وہ شہر میں متنازعہ ترین انسان ہے اور وہ
کسی بھی قیمت پرہمیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔وہ ہمیشہ سے اسی طرح کا ہی تھا۔

ہر مرتبہ گاہک ایک معاہدہ طے کرنے سے قبل
اپنے آپ کو یوں ہی درست ثابت کیاکرتے تھے،جیسے کہ میری منظور ی ان کے سنگین جرم میںکمی
کا باعث بن سکتی تھی۔

میں جانتاہوں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں
۔پہلے مجھے یہ بتائیں کہ یہ شخص کون ہے ؟میں نے پوچھا۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ اس
کانام بتانے سے ہچکچا ہٹ محسوس کررہے تھے۔اس کے بجائے انہوں نے مجھے اس کے بارے میں
ایک دھندلی سی تفصیل بیان کرنا شرو ع کی، ”وہ ایک بدعتی ہے جس کااسلام سے کوئی تعلق
نہیں ۔ایک بے لگام شخص جوکہ بے حرمتی کا مرتکب اور گستاخ شخص ہے۔وہ ایک آوارہ درویش
ہے “

جیسے ہی میں نے یہ آخری لفظ سنا میرے اندر
کچھ عجیب سے احساسات پیدا ہونا شروع ہوگئے۔میرا دماغ تیزی سے چلنے لگا اور اس میں بیک
وقت بہت سی سوچیں آنے لگیں۔میرا ماضی اس کام سے ہی تعبیر تھا ،میں نے ہرطرح کے لوگوںکا
قتل کیا ، خواہ وہ جوان ہو ،جوان ہو یا بوڑھا ، آدمی ہویا عورت، لیکن ان میں کوئی بھی
درویش نہ تھا۔۔ایک پاک انسان۔

”میری اپنی توہمات ہیں اور میں نہیں چاہتا
کہ اللہ مجھ سے ناراض ہو،چاہے میں جیسا بھی ہوں، اپنے خالق پر کامل ایمان رکھتاہوں۔میں
آپ لوگوں کی بات سے ڈر گیا ہوں، میں یہ پیشکش رد کرتا ہوں۔مجھے نہیں لگتا کہ میں ایک
پاکیزہ انسان کا قتل کرسکتاہوں، آپ مجھے چھوڑیں اورکسی دوسرے کو اس کام کے لئے تلاش
کریں۔یہ بات کہتے ہی میں وہ جگہ چھوڑنے کے لئے کھڑا ہوا،لیکن جوں ہی میں آگے بڑھا ان
میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑااور مجھے ٹھہرنے کی درخواست کی ۔تمہارا معاوضہ تمہارے
کام کی نوعیت کے مطابق کردیا جائیگا ،یعنی دوسروں سے جو بھی قیمت لیتے ہو اس کو دوگنا
کردیا جائیگا۔

اچھا!قیمت تین گنا کرنے کے متعلق آپ کیا
خیال رکھتے ہیں ؟میں نے پوچھا ۔میں پر امید تھا کہ وہ اتنی زیادہ قیمت نہیں ادا کرپائے
گا۔کچھ دیر کی تذ بذب کے بعد میری توقعات کے برعکس انہوںنے یہ قبول کرلیا۔میں دوبارہ
اپنی نشست پر بیٹھ گیا، میں شدید اعصابی تناو




¿ کا شکار تھا۔اتنی بڑی رقم سے آخر کار میں اس قابل
ہوسکتا تھا کہ ایک شادی کے بندھن میں بند سکتا تھا۔ میں نے اپنے معالی حالات کے متعلق
سوچنا چھوڑ دیا ۔چاہے کوئی درویش ہو ، یا کوئی اورہر کوئی اتنی بڑی قیمت کے عوض کسی
کو بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا۔

میں اس لمحے سوچ بھی نہیںسکتا تھا کہ میں
اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرنے جارہا ہوں اور مجھے پوری زندگی اس پر ماتم کرنا
ہوگا ۔ایک درویش کو قتل کرنا کس قدر مشکل تھا، اس کے مرنے کے بعد سب کچھ سہنا کسی عذاب
سے کم نہیں تھا۔اس کی چاقو کی مانند آنکھیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں ۔۔ ہرجگہ
۔۔ہرکہیں۔۔

اس بات کو چار سال کا عرصہ بیت چکا ہے،
مجھے آج تک یاد ہے کہ میں نے صحن میں اس کا خنجر سے وار کیا تھا۔ اس کو کنویں میں پھینک
دیا تھا، اوراس سے آنے والی چھینٹوںکو سننے کی کوشش کرنے لگا جو مجھے دوبارہ کبھی نہیں
سنائی دینی تھیں۔یہاں تک کہ اس درویش کے کنویں میں گرنے کی آواز تک نہیں آئی ۔ مجھے
اس وقت یہ محسوس ہوا کہ وہ درویش پانی میں گرنے کی بجائے سیدھا آسمان کی جانب پرواز
کر چکا تھا۔میں آج بھی جب سوتا ہوں مجھے ڈرواو


نے خواب آتے ہیں ۔میں جب بھی پانی کی طرف دیکھوں،
پانی کے کسی بھی ذخیرے کی جانب ،کئی لمحوں سے زیادہ تو خوف کی لہر میرے پورے جسم کو
جکڑ لیتی ہے ۔اس وقت میں اپنے آپ کو قابو نہیں کرسکتا ،اسی لئے قے کردیتا ہوں

 

25 - 26

پہلا حصہ

۔۔۔۔۔

زمین

 ٹھوس


 ، مستغرق اور ساکن چیزیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمس

(27 to 33 )

سمرقند کے باہر ایک سرائے ، مارچ 1242ئ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لکڑی کی مےز سے بلندشہد کے موم سے بنی موم
بتیاں میری آنکھوں کے سامنے ٹمٹما رہی تھیں ۔ آج شام جو ’کشف “ مجھ پر انقاھو ا وہ
نہایت واضح اور قابل فہم تھا۔ میں نے دیکھا کہ اےک بہت بڑا گھر ہے جس کے صحن میں چاروں
سوپیلے رنگ کے پھول کھلے ہوئے ہیں ۔ اس صحن کے وسط میں ایک کنواں ہے ، جس میں دنیا
کا یخ بستہ ترین پانی موجودہے ۔یہ نظارہ پرسکون تھا،یہ موسم خزاں کی ایک رات کا آخری
پہر تھااوروہ پورے چاند کی رات تھی ۔کئی جانور اپنے معمول کے مطابق پوری دنیاسے بے
خبر شور اور واویلا مچانے میں مگن تھے ۔کچھ ہی دیر میں ایک درمیانی عمر کا آدمی جس
کا چہرہ شفیق، کاندھے کشادہ اور آنکھیں گہری بنفشی تھیں ،گھر سے باہر نکلا ، وہ مجھے
اس رات کے اندھیرے میں تلاش کررہا تھا ۔اس کے چہرے کے تا ثرات نہایت آ زردہ اور آنکھیں
بہت پریشان تھیں ۔

شمس ، شمس ۔۔ تم کدھر ہو؟ وہ دائیں بائیں
دیکھتے ہوئے چلا یا۔۔

ہواتیزی سے چلی اور چاند بادل کے پیچھے
چھپ گیا ، جیسا کہ وہ یہ دیکھنے سے ڈر رہاتھا جو ہونے جارہاتھا۔۔ الوو


ں نے شور مچانا بند کردیااور چمگادڑوں نے اپنے پرو
ں کو پھرپھرانا روک دیا،یہاں تک کہ گھر کے اندر آگ نے چرچرانا بھی بند کردیا، غرض اس
وقت پوری دنیا پر ایک سکوت طاری تھا۔اسی رات کے اندھیرے میں ایک آدمی آہستہ آہستہ کنویں
کی جانب پہنچا،وہ کنویں کی طرف جھکا اورکنویں میں جھانک کر دیکھا۔

شمس ، میری عزیز ترین ہستی ،کیا تم ادھر
ہو ؟

جب میں نے اے جواب دینے کیلئے اپنے لبوں
کو حرکت دی مجھے بے حد حیرانی ہوئی کے میرے حلق سے آوازنہیں نکل پارہی تھی ۔وہ آدمی
مزید آگے کوجھکا اور کنویں میںدوبارہ جھانکا۔پہلی نظر میں وہ کنویں کے پانی کی سیاہی
کے سوا کچھ نہ دیکھ پایاتھا۔ تاہم مزید غور سے دیکھنے پر اسے کنویں کے پیندے پر میرا
ہاتھ پانی کی سطح پر بے مقصد تیرتے ہوئے دیکھا ئی دیا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی کمزورکشتی
بہت بڑے طوفان کے بعدادھر ادھر ہلکورے کھا رہی ہو۔ اگلے لمحے اس شخص نے میری آنکھیں
پہچان لیں ۔ وہ دو چمکتے ہوئے کالے پتھر ،چاند کو ٹکٹکی باند کر دیکھ رہے تھے، جو کہ
اب سیاہ اور گہرے بادلوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ باہر آرہاتھا۔میری آنکھیں اس وقت
چاندکو دیکھ رہی تھیں ، جیسے وہ آسمانوں سے میرے قتل کی وضاحت کا انتظار کر رہی ہوں۔وہ
آدمی اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا اور زاروقطار رونے لگا اور سینہ کوبی کرنے لگا۔”انہوں
نے اس کو مار دیا، انہوں نے میرے شمس کو ماردیا “،وہ چلایا۔

اسی دوران جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک سایہ
تیزی سے باہر نکلتا ہوا معلوم ہوا،اور نہایت تیزی اور خفیہ طریقے سے وہ دیوا ر پر چھلانگ
لگاتا ہوا نظر آیا، اسی طرح جس طرح ایک جنگلی بلی کرتی ہے۔وہ قاتل ہوگا۔۔۔تاہم اس آدمی
نے قاتل کو توجہ د ینا ضروری نہ سمجھا، شدیداذیت میں مبتلا وہ شخص چلایا، اور چلاتا
گیا۔ پھر اس کی آواز ٹوٹتے ہوئے شیشے کی مانند بکھرگئی اورپھریہی شیشے کی تیز دھار
ٹھیکریاں رات کی خامشی میں کہیں پنہاں ہو گئیں۔

اوہ ۔۔ تم ۔ پاگلوں کی طرح چلانا بند کرو۔

اس طرح کی خوفناک آوازیں نکا لنا بند کرو۔۔۔
ورنہ میں تمیں باہر نکال دوں گا۔

ایک مرد نے چلانے کے سے انداز میں یہ الفا
ظ کہے۔

بکواس بند کرو۔۔ کیا تم مجھے سن رہے ہو۔؟
بکواس بند کرو۔ وہ تقریباً دھمکی دیتے ہوئے گرجا۔میں نے ایسا ظاہر کیا کہ میں نے سنا
ہی نہیں کیونکہ میں اپنے ”کشف“ کومزید دیکھن چاہتا تھا، اس کو محسوس کرنا چاہتاتھا،میں
اپنی موت کے متعلق مزید جاننا چاہتا تھا۔میں ان غمگین ترین آنکھوں والے انسان کوغور
سے دیکھنا چاہتا تھا۔یہ کون تھا؟ اس کا مجھ سے کیا تعلق تھا؟ وہ اس خزاں کی رات میں
مجھے اتنی شدت سے کیوں تلاش کررہا تھا؟اس سے پہلے کے میں اپنے ”کشف“ میں ایک نظرمزید
ڈالتا ، کسی نے مجھے میری بازو سے پکڑا اور مجھے اتنی شدت سے ہلایا کہ مجھے اپنے منہ
میں دانتوں کی واضح گڑگڑاہٹ محسوس ہوئی اور میں حقیقی دنیا میں واپس آگیا۔میں نے تذبذب
کا شکار ہوتے ہوئے آہستگی سے آنکھیں کھولیں، اور اس آدمی کو دیکھاجو میرے ساتھ کھڑا
ہوا تھا۔وہ ایک لمبا،صحت مند آدمی تھا جس کی داڑھی اس کی بزرگی کا اظہار کرنے کئے کافی
تھی اور مو نچھیں گھنی تھیںجو کناروں سے مڑی ہوئی اور نوکدارتھیں۔مجھے ایسا محسوس ہوا
کہ وہ اس سرائے کا مالک ہے ۔

اسے دیکھتے ہی فوری طور پر اس کے مزاج کے
متعلق دو باتیںمےرے ذہن میں آئیں ، ایک یہ کہ وہ لوگوں کو اپنی سخت مزاجی اور تشددسے
دہلاتا ہوگا ، دوسری وہ اب بھی شدید غضبناک حالت میں تھا۔تم کیا چاہتے ہو؟ تم میری
بازو کیوں کھینچ رہے ہو؟

کیا؟؟ یہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں
کیا چاہتا ہوں؟سب سے پہلے ،میں چاہتا ہوں کہ تم اس طرح چلانا بند کرو، تم میرے گاہکوں
کوڈرا رہے ہو۔

سچ!!!کیا میں چلا رہاتھا؟ میں نے آہستگی
سے بولا ساتھ اپنے آپ کو آزاد کروانے کی کوشش کی۔تم شرط لگا سکتے ہو کہ تم ہی تھے؟تم
ایک ریچھ کی طرح چلا رہے تھے جیسے اس کے پاو


ں میں کوئی کانٹا چبھ گیا ہو۔آخر تمہارے ساتھ کیا
ہواتھا؟کیا تمہیں رات کے کھانے کے دوران ہی نیند آ گئی تھی ؟تم نے ضرورڈراو ناخواب دیکھا ہوگایاکچھ اور ؟

میں جانتا تھا کہ اسے سمجھانے کا یہی ایک
مناسب طریقہ تھاجس سے وہ مطمئن ہوجاتا اور مجھے آرام سے جانے دیتا،پھر بھی میں جھوٹ
نہیں بولنا چاہتا تھا۔

”نہیں میرے بھائی نہ میں سویا تھا نہ ہی
میں نے کوئی ڈراو


ناخواب دیکھا،دراصل میں کبھی خواب دیکھتا ہی نہیں“”مجھے
کشف ہوتاہے، جس کے اندر مجھے آئندہ درپیش آنے والے مناظر آتے ہیںیہ ایک مختلف چیز ہے“۔میں
نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا،جب اس نے میری طرف دیکھا تو مجھے یوں محسوس ہوا
کہ جیسے وہ کسی کشمکش کا شکار ہو چکاہے۔ اس نے اپنی مونچھوں کو بل دینا شروع کیا۔آخر
کار وہ بول پڑا”تم درویش لوگ بالکل اسی طرح پاگل ہوتے ہوجیسے چوہے باورچی خانے میں
۔سارا دن تم لوگ روزے سے رہتے ہو ، عبادا ت کرتے رہتے ہواور تپتے سورج میں میلوں سفر
کرتے ہو۔تم لوگوں کے دماغ کا بھیجہ پک جاتا ہے ، پھر راتوں کوفریب نظر میں مبتلا ہو
جاتے ہو“

میں مسکرایا،وہ درست بھی ہو سکتا تھا
۔”وہ کہتے ہیں نا کہ خدا میں خود کو کھو دینے میں اور دماغ کھودینے میں تھوڑا ہی فرق
ہوتا ہے “

 اسی دوران دو بہرے نمودار ہوئے جن کے ساتھ ایک بڑی کھانے کی ٹرے تھی،جس
میںمختلف اقسام کے کھانوں کی تھالیاں موجودتھیں۔جن میں بکریوں کاسیخ پہ بھونا ہواتازہ
گوشت ،نمک کے ذریعے خشک کی گئی مچھلی کا سالن،مسالے داربکرے کا گوشت ،گندم کے کیک ،کوفتے
بمہ مصری چنے اور مصور کی دال بمعہ بھیڑ وںکا گوشت شامل تھے۔

وہ پورے ہال میں پیاز ،ادرک اور مرچوں کی
خوشبو پھیلاتے ہوئے اسے پورے ہال میں تقسیم کر رہے تھے ۔جب انہوں نے کھانے کی ٹرے میرے
سامنے پیش کی،تومیں اپنے لئے ایک گرم سوپ اور اور کچھ روٹیاں پکڑ لیں۔مجھے یوں پکڑتا
ہوا دیکھ کر اس نے کچھ حاکمانہ اور حقارت آمیز لہجے سے دریافت کیا تمہارے پاس ان کھانوں
کی قیمت ادا کرنے کے لئے پیسے موجود ہیں؟جیسے کہ اس نے میرا حلیہ دیکھ کر ہر چیز کا
اندازہ لگا لیا ہو ۔

”نہیں ! میرے پاس واقعی نہیں ہیں “۔میں نے
کہا”لیکن مجھے اس امر کی اجازت دو کے اس کے بدلے میں تمہیں کچھ اور بہتر دے سکوں۔میں
تمہیںآج یہاں رات قیام کرنے اور کھانے کے عوض تمہارے خوابوں کی تعبیر بیان کرسکتا ہوں
۔

اس کے جواب میں سرائے کے مالک نے قدرے حقارت
آمیز لہجے میں کہا اس کی بازو کمر کی طرف مڑی ہوئی تھی ۔”تم نے مجھے ابھی کہا کہ تم
خواب نہیںدیکھتے “۔”ہاں ، تو یہ درست ہے ۔اگرچہ میں خواب نہیںدیکھ سکتا، پھر بھی میں
خواب کی تعبیرکرسکتا ہوں۔

اے درویش ”میں تمہیں یہاں سے باہر نکال
دوں گا،جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ تم درویش لوگ اخروٹ کی مانند ہو تے ہو۔اس نے الفاظ
کی ایک جنگ ہی شروع کردی تھی۔تمہارے لئے ایک نصیحت ہے ”میں نہیں جانتا کہ تمہاری عمر
کیا ہے لیکن میں اتنا جان سکتا ہوں کہ تم دونوں جہانوں کے لئے عبادت کرچکے ہو۔ایک اچھی
عورت ڈھونڈو اور اس سے شادی کرلو،تمہارے بچے ہوں گے جو تمہیں دنیا بھر میں آوارہ گردی
نہیں کرنے دیں گے۔بھلاتمہارا پوری دنیا میں آوارہ گردی کرنے کا کیا مقصد؟ تم شاید تم
نہیںجانتے کہ پوری دنیا ایک سی ہے ، ہر جگہ اسی طرح کی تکلیفیں اور پریشانیاں ہیں۔اس
میںایسا کچھ نیا نہیں ہے جو دیکھنے کے قابل ہو۔میرے پاس دنیا کے دور دراز علاقوں سے
لوگ آتے ہیں ۔ چاہے وہ جس بھی رنگ ونسل کے ہوں ،شراب کے نشے میں مست ہوکرسب ہی ایک
طرح کی درد بھری داستان سناتے ہیں۔ایک ہی طرح کاکھانا ، ایک ہی طرح کا پانی اور ایک
ہی طرح کے جوئے کے طریقے جو قدیم دور سے چلے آرہے ہیں ۔”نہیں تم مجھے غلط سمجھ رہے
ہو ،میں کسی نئی چیز کی تلاش میں نہیں ہوں،میری تلاش میرے خدا کی تلاش ہے“ ۔ ”تو تم
اس کو ایک غلط جگہ تلاش کر رہے ہو “اس نے فوراً جواب دیا ۔اس کی آواز قدرے بھاری ہو
گئی ۔”خدا یہ جگہ چھوڑ چکا ہے، وہ اسے لاورث بنا چکا ہے ،ہم نہیں جانتے کہ وہ کب واپس
آئے گا “۔

 اس کے منہ سے یہ مایوس کن لفاظ سننے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہو ا کہ جیسے
میرادل سینہ چیر کر باہر آجائے گا، ان الفاظ پر میں بے اختیار بول اٹھا”جو کوئی خداکے
بارے میں کوئی من گھرٹ بات کرتا ہے اس کا مطلب وہ اپنے متعلق کچھ غلط کہتا ہے ۔“

اس بات پر سرائے کامالک عجیب سے معنی خیزانداز
میں مسکرایا،اس کے چہرے پر ایک کرواہٹ اور خفگی تھی ،اس کی ناراضگی کی کوئی وجہ ضرور
تھی جوکہ مجھے معلو م نہ تھی۔

”کیاہمارا خالق یہ نہیں کہتاکہ وہ ہماری
شاہ رگ حیات سے زیادہ ہمارے قریب ہے، خدا ہم سے ہزاروں میل کے فاصلے پر آسمان میں نہیں
بستا ؟بلکہ وہ ہم سب کے اندر ہی موجود ہے۔وہ ہمیں کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ ۔۔نہیں ایسا ممکن
نہیں وہ اپنے آپ کو بھلاکیسے چھوڑ سکتا ہے،میں نے پوچھا۔

”وہ چھوڑ جاتا ہے“ سرائے کے مالک نے جواب
دیا۔اس کی آنکھیں سرد اور گستاخانہ تھیں۔

میں نے کہا یہ پہلا قانون ہے میرے بھائی
۔ میں نے کہا ” خدا اس کی شبیہہ ہے جو گمان ہم اپنے آپ اور اپنی ذات کے متعلق رکھتے
ہیں۔اگر خداکے ذکر سے ہمارے دماغ میں زیادہ تر خوف اور ملامت لاتا ہے اس کا مطلب ہمارے
خوف اور الزام تراشی ہمارے سینوں میں کہیں دفن ہے ۔اگر ہمارے نزدیک خدا محبت اور تقویٰ
ہے تو اس کامطلب ہمارے اندر بھی یہی چیزیں موجود ہیں“

سرائے کے مالک نے اس بات سے فوراً انکار
کردیا ، تاہم میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ میرے بات سے حیران ضرورہواتھا ۔” یہ تم کیسے
کہ سکتے ہو کہ خدا ہمارے تصور کی تخلیق ہے؟“

انہی باتوں کے دوران ایک دم کھانے کے کمرے
میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوا جس کے باعث میرے جواب میں خلل پیدا ہوا۔جب ہم اس سمت میں مڑے
، تو ہم نے دو بے ڈھنگے آدمیوں کو دیکھا جو شراب کے نشے میں دھت چیخ رہے تھے ۔وہ اس
وقت بے لگام تھے اور غنڈہ گردی کرتے ہوئے دوسرے گاہکوں کے پیالوں میں سے ان کا کھانا
چھین رہے تھے۔کسی کو احتجاج بھی کرنا چاہتا تو وہ اس کا مدرسوں کے لونڈوں کی طرح اس
کا مذاق اڑانے لگتے۔

”ان دونوں نے یہاں ہنگامہ برپا کیااور لوگوں
کو تکلیف پہنچائی، کسی کو ضروران دونوں کو باز رکھناچاہیے تھا “ کیا تمہیں ایسا نہیں
لگتا؟ ۔سرائے کے مالک نے غصے کے مارے اپنے دانتوںکو دبایا اور کہا کہ اب دیکھنا میں
کیا کرتا ہوں۔وہ تیزی سے ہال کی دوسری جانب ان دونوں کے پاس پہنچا اوران میں سے ایک
شرابی گاہک کو جھٹکے سے اس کی نشست سے کھینچااور اس کے منہ پہ ایک گھونسہ دے مارا۔وہ
آدمی اس وقت اس مار کی امیدنہیں کررہاتھا،وہ ایک خالی بوری کی طرح زمین کے فرش پر منہدم
ہوگیا۔اس کے منہ سے درد کی وجہ سے بمشکل ایک ہلکی سی آہ نکلی جو سنائی دی جاسکتی تھی،
تاہم اس کے علاوہ اس کے حلق سے مزید کوئی آواز نہ نکلی ۔وہ اگلے ہی لمحے دوسرے شرابی
پر بھی حملہ آور ہوا ، تاہم وہ قدرے طاقت ور ثابت ہوا اور شدت سے جوابی وار کیا،تاہم
سرائے کے مالک کو اسے بھی نیچے گرانے میں اتنا وقت نہیں لگا۔اس نے اس بے قابو شرابی
کی پسلیوں پہ ٹھوکر یںلگائیں اور پھر اس کے ہاتھ کو زدوکوب کیا،اور اپنے بھاری جوتوںکے
نیچے اسے مسلنے لگا۔اس وقت وہاں موجود سب افراد نے ایک آواز سنی جو کہ یقینااس کی انگلی
میں شفاف پڑنے کی آوازتھی نہ صرف اس کی انگلی میں بلکہ مزید شگاف بھی پڑ سکتے تھے۔
رکو،میں کہتا ہوں رک جاو


،میں نے ایک دم کہا۔تم
اسے قتل کرنے جارہے ہو۔۔ کیا تم ایسا ہی ارادہ رکھتے ہو؟

ایک صوفی ہونے کی حیثیت سے میرا یہ عزم
تھا کہ ایک ایک زندگی بچاو


ں اور اسے کوئی نقصان پہنچنے نہ دوں ۔اس جعلی دنیا
میں بہت سے لوگ دوسرے سے بغیر کسی وجہ کے لڑنے کے لئے تیار رہتے تھے اور بہت سے ایسے
ہیں جو کسی وجہ سے لڑتے ہیں۔لیکن ایک صوفی کے پاس لڑنے کی کوئی وجہ بھی ہو وہ تب نہیں
لڑتا ہے ۔

میرے پاس کوئی طریقہ نہ تھا جس پر عمل کرکے
میں تشدد کو روک سکتا۔لیکن میں ان دونوں کے درمیان ایک مخملی شے کی مانند ضرورضرور
دخل اندازی کرسکتا تھا تاکہ ان دونوں کوایک دوسرے سے دور رکھتا۔

”تم اس معاملے سے دور رہو،درویش ، ورنہ میں
تمہارا بھی یہی حال کر سکتا ہوں

سرائے کا مالک چلایا،پر یہ میں بخوبی جانتا
تھاکہ مجھے وہ محض دھمکا رہا تھا ، وہ ایسا کرنے کا قطعی ارادہ نہیں رکھتا۔اس دوسرے
شرابی کی انگلی کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور ہر جگہ خون بکھرا ہوا تھا۔ایک خوفزدہ سی خاموشی
نے پورے کھانے کی کی میز کا احاطہ کر لیا۔لڑائی سے فارغ ہونے کے بعد سرائے کے مالک
نے جب بولنے کا آغاز کیا تو یوں محسوس ہواگویا وہ وہاں ہر کسی سے خطاب کررہاتھا،اس
وقت اس کی آواز اونچی اور حد سے بڑی ہوئی تھی ۔ اس وقت وہ ایک آوارہ پرندے کی مانند
دکھائی دے رہا تھا جو بغیر کسی روک ٹوک کے کھلے آسمان تلے بے لگام اڑرہاتھا۔

دیکھو درویش !میں ہمیشہ سے اس طرح کا انسان
نہیں تھا تاہم یہ عادت اب میری طبیعت کا حصہ بن چکی ہے۔جب خدا ہمیں پیدا کرکے ہمارے
بارے میں بھول جائے تو ہمیں یقینا انصاف بحال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، جس کیلئے
ہم عام انسانوں کو ضرور اقدام اٹھانے چاہیں۔اگلی مرتبہ تم جب اس سے بات کرو تو اس کوبتانا
کہ وہ جب اپنے میمنے کو چھوڑ دیتا ہے ، اس وقت وہ اتنا فرمانبردار نہیں رہتے کہ قربان
ہونے کے لیے تیارہیں بلکہ بھےڑیے بن جاتے ہیں“۔

میں نے کندھے اچکائے اور دروازے کی جانب
جانے کا اشارہ دیا ۔۔”تم غلطی کررہے ہو “۔۔

کیا میں یہ غلط کہہ رہاہوں کے میں ایک میمنا
تھا اور اب بھیڑیا بن چکا ہوں؟”نہیںتم درست ہو تم واقعی ہی ایک بھیڑیے بن چکے ہو جسے
میں بخوبی دیکھ سکتا ہوں“لیکن تمھاری ےہ بھیڑیا بن کر انصاف کرنے والی بات ےکسر غلط
ہے۔۔۔

ٹھہرو درویش ،ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی
، تم نے مجھ سے وعدہ کر رکھاہے کہ یہاں قیام و طعام کے عوض تم مجھے میرے خوابوں کی
تعبیر بیان کرو گے “ہاںمجھے یاد ہے ،میں نے ضرور کہا تھا ، مگر میں تمہارے لئے اس سے
بھی بڑھ کر کچھ کرنا چاہتا ہوں، میں تمہارا ہاتھ دیکھنا چاہتا ہوں “

میں اس کی جانب واپس مڑا اور اس کی انگاروں
کی سی جلتی ہوئی آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا۔غیر یقینی کے عالم میں فطرتی طور پر اس
نے جھر جھری سی لی۔اس کے باوجود جب میں نے اس کا دائیاں ہاتھ تجزیے کے لئے تھاماا ور
اس کی ہتھیلی دیکھی ، اس نے مجھے دور نہیں کیا، بلکہ مجھے اس امر کی اجازت دی۔میں نے
اس کی ہاتھ کی لکیروں کا جائزہ لینا شروع کیا،جو کہ گہری تھیں ، ان میں شگاف پڑے ہوئے
تھے ،اور ان میںناہموار راستے تھے۔اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کے گردہالے کے رنگ نمایاں
ہونا شروع ہوئے جن میں بھورا اور ایک نیلا رنگ تھا جو کہ اتنا پیلا تھا کہ سرمئی معلوم
ہوتاتھا، عیاں تھے۔اس کی روحانی طاقت اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھی اوروہ کناروں سے باریک
تھی ۔

اور یوں اس کے اندر اتنی سکت بھی باقی نہیں
رہی تھی کہ اپنے آپ کو بیرونی دنیا کی برائیوں اور قباحتوں سے محفوظ رکھ سکے ۔۔اس نے
اپنی روحانی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اسے اپنی جسمانی قوت کودوگنا کردی جسے وہ وافر
مقدار میں استعمال کرچکا تھا۔ کہیں ےہ انسان مر چکا تھا، وہ اندر سے ایک مرجھائے ہوئے
پودے کی مانند تھا۔

اسی لمحے میں نے ایک منظردیکھناشروع کیاجس
کے باعث میرے دل کی دھڑکن کی رفتار یکدم تیز ہونا شروع ہوئی ۔پہلے مجھے کچھ مدہم سا
نظارہ دکھائی دینے لگا جیسے کہ وہ کئی پرودں میں مخفی تھا، پھر وہ بتدریج واضح ہونا
شروع ہوگیا۔

”وہ ایک نوجوان عورت تھی، جس کے بال سرخی
مائل بھورے تھے۔اس کے پاو


ںبرہنہ تھے۔ جن پر پختہ قلمکاری واضح نظر آرہی تھی
اور اس نے شانوں پر کشیدہ کاری والی اوڑھنی لے رکھی تھی“

”ہاں!تم اپنی ایک محبوب ہستی کھو چکے ہو“میں
نے کہا اور اس کے بائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔

”اس کے پستان دودھ آجانے کی وجہ سے خوب بڑے
ہیں۔ جب کہ پیٹ بہت پھولا ھوا، جیسے ابھی ابھی شق ہو جائےگا۔وہ ایک آگ بگولہ جھونپڑی
میں پھنس سی گئی ہے۔گھر کے گرد و پیش میں جنگجو سپاہی گھوم رہے ہیں۔جو گھوڑوں پر سوار
ھیں جن کی کاٹھیاں چاندی کے ورق سے آراستہ ہیں۔ گوشت اور بھوسہ جلنے کی قبیح بدبو ہر
طرف پھیل چکی ہے۔ منگول گھڑسواروں کی ناکیں چپٹی اور چوڑی ، گردنیں چھوٹی اور موٹی
موٹی ھیں، جب کہ دل پتھر کی طرح سخت۔ ےہ چنگیز خان کی فوج کے جری سپاہی ہیں۔“

”آپ نے ایک نہیں دو لوگوں کو کھویا ہے، ،
میں نے اپنی تصحیح کرتے ھوے کہا۔

 کیا تمھاری بیوی حاملہ تھی؟

اسکی پلکیں نیچے جھک گئیں،اس کی نظریں اپنے
چمڑے کے جوتوں پر مرکوز ہو گئیں اور اپنے لب بھینچ لیے،

اسی اثناءاس کے چہرے پر بے شمار لکیریں
بن گئیں جو کئی انجانے راستوں پر محیط تھیں۔چند ہی گھڑیوں میں وہ اپنی عمر سے دوگنا
دکھائی دینے لگا تھا۔

میں جانتا ہوں کہ میں تمہیں تسلی نہیں دے
سکتا ہوں تاہم ایک بات تمہارے علم میں ضرور ہونی چاہیے ۔ میں نے کہا ۔ تمہاری بیوی
آگ میں جھلس کر جاں بحق نہیں ہوئی تھی ، بلکہ اس کے سر پر لکڑی کاتختہ گرا تھا جس کے
باعث اس کی ہلاکت ہوئی تھی ۔

تم جب ہی اسے یاد کرتے ہو ،تمہیں یوں لگتا
ہے کہ وہ مرنے سے قبل شدید تکلیف میں تھی ، حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ در حقیقت وہ
اتنی تکلیف سے جاں بحق نہیں ہوئی تھی ۔

سرائے کے مالک نے ایک انجانے بوجھ تلے آگیا
تھا جسے صرف وہ ہی سمجھ سکتا تھا اور پیشانی پر بے شمار لکیریں آگئیں۔اس کی آواز مزید
غصیلی ہو گئی اور اس نے دریافت کیا ”تم یہ سب کس طرح جانتے ہو ؟“

میں اس کے اس سوال کو نظر انداز کیا۔”تم
اس وقت سے اپنے آپ کو لعن طعن کا نشانہ بناتے آئے ہو،کہ تم اس کی تدفین کا فریضہ مناسب
طریقے سے سر انجام نہیں دے سکے تھے ۔تم آج بھی اسے خوابوں دیکھتے ہو ،میں اس گڑھے سے
باہر رینگتا ہوا دیکھتے ہوجس میں وہ دفن ہو گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ تمہارا دماغ تمہارے
ے ساتھ کھیل کھیلتاہے۔ ۔ درحقیقت تمہاری بیوی اور تمہارا بیٹا دونوںبالکل ٹھیک ہیںاور
دونوں روشنی کے بیضوں کی مانندلا محدود سفرپر رواں دواں ہیں۔

میں نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا
کہ ” آج بھی تم چاہو نہ تو اپنے خالق کے میمنے بن سکتے ہو ،جس حالت میں اس نے تمہیں
اس دنیا میں بھیجاتھا “۔یہ سننے کے بعد اس نے اپنا ہاتھ ایک دم سے پیچھے کیا جیسے وہ
تپتے توے سے چھو گیاہو۔

”درویش ایک بات کان کھول کے سن لو،میں تمہیں
پسند نہیں کرتا ۔ میں تمہیں یہاں ایک رات قیام کی اجازت دے رہاہوں ، لیکن دھیان رہے
صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جانا، میں دوبارہ تمہاری صور ت نہیں دیکھنا چاہتا“

ہمیشہ سے اسی طرح تو ہوتا آیاہے ، جتنا
آپ سچ بولو گے ، اتنا ہی لوگ آپ سے نفرت کریں گے۔ اور ہاں جتنا آپ محبت کا تذکرہ کریں
، اتنی ہی نفرت کا نشانہ بنیں گے ۔

 

 

شاگرد

بغداد اپریل 1242

میں نے منصف کو درسگاہ کے بیرونی راستے تک جانے میں مدد دی اور خوداس مرکزی کمرے میں برتن جمع کرنے چل نکلا ۔مجھے یہ دیکھ کر نہایت تعجب ہوا کہ جس حا لت میں اس آوارہ درویش اوربابازمان کو چھوڑ گیا تھا وہ دونوں اسی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں ، مجھے امید تھی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک نے کچھ نہیں کہا ہو گا۔اپنی آنکھ کے کنارے سے میں نے دیکھنے کی کوشش کی کہ آیا یہ ممکن ہے کہ دو شخص بناءکچھ کہے سنے ایک دوسرے سے گفتگو کر سکتے ہیں ۔مجھے اس دوریش کے متعلق بہت تجسس محسو س ہورہاتھا ، اسی لئے میں جتنی دیر تک وہاںرکنے کا بہانے کر سکتا تھا میں نے کیا۔اس لئے میں نے مختلف کاموں کواپنا ہتھیار بنایا ، جیسا کہ میں نے وہاں پڑے کشن درست کرنا شروع کردے ، اس کے علاوہ کمرے کی صاف ستھرائی کی اور قالین پر پڑے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جمع کرنا شروع کردیے ۔حتیٰ کے ایک وقت آ گیا جب میرے پاس وہاں رکنے کا کوئی بہانہ باقی موجود نہیںتھا ۔اسی لئے میں بے دلی سے/ غمگین ہوتے ہوئے باورچی خانے چلا گیا ۔ادھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے ،مجھے دیکھتے ہی باورچی نے اپنے کاموں کی بوجھاڑ شروع کردی ”میز کو صاف کرو، فرش کی بھی صفائی کرو ، برتن بھی دھو دینا ، چولہے پر سے بھی گند اٹھا لینا ،گرل کے اردگرد دیواروں کو صاف کرلینا ۔آخر میں اس نے یہ بھی کہا کہ جب تم یہ سب کام کر لو تو مہربانی کرکے چوہوں کا پنجرہ / چوہوں کو قابو کرنے والا صاف کرنا نہ بھولنا۔مجھے اس درسگاہ میں آئے ہوئے تقریباً چھے ماہ ہوچکے ہیںاور تب سے یہ باورچی مجھ پر یونہی ظلم کرتا آرہاتھا ۔ وہ شخص مجھ سے پورا دن کتوں کی طرح کام کرواتا اور کہتا ہے کہ یہ میری روحانی تربیت کا حصہ ہے ۔ بھلا گندی پیالیاں صاف کرنا روحانیت کا حصہ کسی طرح گردانا جا سکتا ہے ؟

اس کے پاس کہنے کو چند چیدہ چیدہ الفا ظ تھے جنہیں وہ اکثر کہا کرتا تھا جیسے ” صفائی رکھنا عبادت ہے اور عبادت کرنا صفائی ہے “

ایک دن میں نے کہنے کی جسارت کر ہی لی کہ ”اگر یہ درست ہوتا تو آج بغداد شہر کی تمام گھریلو خواتین روحا نی قائد ہوتیں “

یہ سن کی انہوں نے میرے سر پر لکڑی کاچمچہ دے مارا اور مجھ پراتنی زور سے چلایا جتنی زور سے چلا سکتاتھا۔بیٹا اس طرح کی زبان درازی تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی ۔اگر تم ایک اچھے درویش بننا چاہتے ہو تو یہ یاد رکھو کہ اتنے خاموش ہو جاؤ جتنا ایک لکڑی کا چمچ ہوتا ہے ۔ایک شاگرد میں بغاوت کے جذبات پائے جانا کوئی اچھا عمل نہیں ہے ”کم بولو ، تاکہ تم جلدی سیکھ جاو“

میں اسے نفرت کرتا تھا، مگر اس سے زیادہ میں اس سے ڈرتا تھا۔میںنے اس کے احکامات کا کبھی انکار نہیں کیا تھا ، تاہم اس شام میں نے یہ کرنے کی ہمت کر ہی لی ۔جیسے ہی میں وہ اس کمرے سے باہر گیا میں فوراً مرکزی کمرے میں جا پہنچا تاکہ ان دونوں کی مزید بات چیت سن سکوں ۔مجھے اس درویش کے متعلق تجس محسوس ہورہا تھا، وہ کون تھا ، وہ کہاں سے آیا تھا ، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس درسگاہ میں اس جیسا کوئی نہ تھا ۔

اس کی آنکھیں غضیلی، آپ سے باہر اورخوفناک دکھائی دیتی تھیں ، یہاں تک کہ جب وہ اپنا سرانکساری میں بھی جھکاتا تب بھی وہ اسی طرح کا معلوم ہوتا تھا۔وہ کچھ غیر معمولی انسان تھا ، جس کے متعلق کچھ انکشاف کرنا بھی بہت مشکل تھا ،وہ کسی کو ڈرا دینے کے لئے کافی تھا۔میں نے جاسوسی کے سے اندازمیں دروازے کے سوراخ میں سے جھانکا ۔پہلی مرتبہ دیکھنے سے تو مجھے کچھ دکھائی نہیںدیا،لیکن جلد ہی میری آنکھیوں۔۔ اور میں ان کے چہرے دیکھ سکتا تھا۔

میں نے اس وقت استاد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”شمس مجھے یہ بتاؤ کہ آخر وہ کیا چیز تھی جو تم جیسے شخص کوبغداد کھینچ لائی ۔ کیا تم نے یہ جگہ خواب میں دیکھی تھی ۔

درویش نے اپنا سر ہلایا ،یہ خواب نہیں تھا جو مجھے اس جگہ کھینچ لایا ہے ، بلکہ یہ میرا کشف تھا جو مجھے اس جگہ کھینچ لایا ہے ۔مجھے خواب نظر نہیں آتے ۔

”خواب تو سب کو ہی نظر آتے ہیں ، بابا زمان نے مہربان انداز میں سوال کیا۔”مجھے یوں معلوم ہوتا کہ تم اپنے خواب بھول جاتے ہو، اسی لئے تمہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ تم خواب نہیں دیکھ پاتے ہو۔

لیکن مجھے خواب نظر نہیں آتے ہیں ، درویش نے اپنی بات زور دیتے ہوئے کہی ۔ جب میںچھوٹا تھا تب مجھے فرشے دکھائی دیتے تھے ، مجھے کائنات کی پراسراس چیزیں اپنی آنکھوںکے سامنے دکھائی دیتی تھیں ۔جب میں نے یہ سب کچھ اپنے گھر والوں کو بتایا تو وہ میری باتوں سے ناراض ہو گئے اور مجھے کہنے لگے کہ میں خواب دیکھنا بند کردوں۔جب میں نے یہ راز اپنے دوستوں کو بتایا تو ان کا ردعمل بھی یہی تھا۔ان کے مطابق میں ایک مایوس شخص ہوںجو کہ خواب دیکھنے کا عادی ہوں۔جب میں یہ سب کچھ اپنے اساتذہ کرام کو بتایا تو ان کا ردعمل بھی کچھ مختلف نہیں تھا ۔

تب مجھے یہ معلوم ہوا کہ جب لوگ کچھ غیر معمولی چیزیں دیکھتے ہیں تو وہ اسے خواب کا نام دیتے ہیں۔پھر کچھ یوں کہ ان باتوں کے باعث مجھے دنیا اور اس کی چیزوں سے نفرت ہو گئی “

یہ کہتے ہوئے درویش رکا جیسے اس نے کوئی اچکانک غیر معمولی آوا ز سن لی تھی ۔

اس وقت یہ ایک عجیب تری واقعہ رونما ہوا ،وہ کھڑا ہوا اور اپنی ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ میں چل پڑا ،اور وہ آہستگی سے دروازے کی طرف چلتا ہوا آیا۔اس وقت وہ میری سید ھ میں ہی دیکھ رہا تھا۔

اسے دیکھ کہ یوں لگ رہا تھا کہ گویا اسے معلوم تھا کہ اس وقت کوئی اس کی جانب جاسوسی کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔

اس انوکھے انسان کو دیکھتے ہوئے مجھے احساس ہواجیسے کہ وہ لکڑی کے دوروازے کے پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔میرا دل اس وقت برے طریقے سے دہل رہا تھا۔میں اس وقت باورچی کھانے کی جانب بھاگنا چاہتا تھا ، لیکن اس وقت میری ٹانگیں ،میرے ہاتھ پاو¿ں اور پورا جسم پتھر کا بن گیا تھا، میں اپنے جسم کو حرکت ہی نہ دے پایا۔اس لکڑی کے دروازے کے پار شمس کی آنکھیں مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں۔میں اس وقت ڈرا ہوا تھا، پھر بھی مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ توانائی کی وافر مقدار میرے جسم میں گردش کررہی ہے۔اتنے میں وہ دروازے کے قریب پہنچ گیا اور اپنا ہاتھ دروازے کی کنڈی پر رکھ دیا۔وہ اس بات کے قریب تھاکہ دروازہ کھولے اور مجھے دبوچ لے تاہم ناجانے اس وقت ایسا کیا ہوا کہ وہ اس نے ایسا نہیں کیا۔آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اسے یہ کرنے سے روک دیا۔میں اتنے قریب سے اس کا چہرہ بھی دیکھ نہیں پا رہا تھا اور میں یہ نہیں جاناتا تھا کہ آکر کیا چیز تھی تھی جس نے اسے یہ کرنے سے روکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔

ہم نے اس مشکل اور طویل لمحے کے ختم ہونے کا انتظارکیا۔

اس کے بعد اس نے اپنی جگہ واپسی کا رخ کیا اور وہ بابا زمان کے پاس اپنی داستان سنانے دوبارہ چل دیا ۔

”جب میں تھوڑا بڑا ہوا میں نے خدا سے دعا مانگی کہ میرے خالق مجھے سے خواب دیکھنے کی صلاحیت چھین لے۔۔۔۔

وہ میری بات سے متفق ہوگیا،اس نے میری یہ صلاحیت چھین لی اور اسی لئے مجھے اب خواب دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

شمس تبریزی اس وقت اس کھڑکی کے دہانے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی اور کچھ کہنے سے قبل اس نے اس نظارے کو کچھ سوچتے ہوئے دیکھا ۔

اگرچہ اس نے مجھ سے خواب دیکھنے کی صلاحیت چین لی ہے تاہم اس کے بدلے اس نے مجھے یہ اعزاز بخشا ہے کہ میں خوابوں کی تعبیر بیان کرسکتا ہوں۔میں اب ایک خواب کی تعبیر بیان کرنے والا گردانا جاسکتا ہوں“

مجھے اس وقت بابا زمان سے یہ امید تھی کہ وہ اس بد عقل کی بات کا اعتبار نہ کریں اور اسے اس طرح ماریں جس طرح مجھے ہر وقت مارتے ہیں۔

لیکن میری خواہشات کے برعکس بابا زمان نے نہایت ادب سے اس سے درہافت کیا کہ تم مجھے ایک معز ز اور غیر معمولی انسان دکھائی دیتے ہو ۔مجھے بتاو¿ اس ضمن میں میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟

درحقیقت میں یہ نہیں جانتا ، بلکہ میں آپ سے یہ امید رکھ رہاہوں کہ آپ مجھے بتائیں ۔

تمہارا کیا مطلن ہے ؟استاد نے دریافت کیا ،اس وقت استاد کی آواز قدرے سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی ۔

تقریباً چالیس سالوں سے ، میں ایک آوارہ درویش ہوں ،میں قدرت کی کئی چیزوں کے متعلق مہارت رکھتا ہوں تاہم اس معاشرے کے طور طریقے میرے لئے ابھی بھی اجنبی ہیں۔ضرورت پڑنے پر میں ایک جنگلی جانور کی طرح لڑ بھی سکتا ہوں، لیکن میں اپنے آپ کو زیادہ دیر تک تکلیف میں نہیں رکھ سکتاہوں۔

میں آسمان پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کا نام بتا سکتا ہوں ، میں جگلوں میں موجود درختوں کے نام بیان کرسکتاہوں۔میں ہر طرح کے انسانوں کی کھلی کتاب کی مانند پڑھ سکتا ہوں ، جنہیں خدا تعالیٰ نے اپنے عکس کے طور پر پیدا کیا ہے ۔شمس رکا اور بابا زمان کا انتظار کرنے لگا ، جو چراغکوروشن کررہے تھے۔

´خدا کی ذات کسی مندر ، گرجا گھر یا صومعے تک محدود نہیں بلکہ تم اس کی نشانیاں کائنات کی ہر شے اور ہر شخص میں دیکھ سکتے ہو۔تاہم اس کے باوجود تمہاری پیاس پھر بھی برقرار رہے تو اسے اس انسان کے دل میں تلاش کرو جو اس کی پاک ذات کوسچے دل سے چاہتا ہو۔

اس دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو اسے دیکھنے کے بعد مر سکتا ہو ، بالک اسی طرح جیسے اسے دیکھنے کے بعد کوئی ابدی نیند نہ سویا ہو۔جو اسے جانچ لیتا ہے وہ ہمیشہ اس کی ذات کے ساتھ منسلک رہتا ہے ۔

اس مدھم اور ٹمٹماتی روشنی میں شمس تبریزی اور بھی زیادہ لمبے لگ رہے تھے ،ان کے بال بے ترتیبی سے ان کا کاندھوں پر گرے ہوئے تھے ۔

”لیکن علم و حکمت تو کسی پرانے گلدان کی تہہ میں موجود کھارے پانی کی مانند ہے حتیٰ کہ وہ کسی دوسری جگہ نہ بہہ جائے “

کئی سالوں سے میں اس کی ذات سے سے ایک ساتھی کی دعا مانگ رہا ہوں جس کو میں اپنے علم و حکمت بتاو¿ں جو میرے پاس موجود ہے ۔جن دنوںمیں سمر قند میں موجود تھا ، تب میں نے ایک ”کشف “ دیکھا تھا۔مجھے سمجھایاگیاتھا کہ میں بغداد جاں اور وہاں جا کراپنا ساتھی تلاش کروں۔

میں سمجھا تھا کہ آپ کو میرے ساتھ کا نام ضرور معلوم ہوگایا اس کے آس پاس اور مجھے بتاوں گا ، اگر تمہیں اب معلوم نہیں تو جب بھی ہوا تو بتانا“(need to read it)

باہر رات کا اندھیرا چھا چکا تھا ،چاند کی روشنی کھڑکی کے سوراخوں سے باہر آرہی تھی اور پورے کمرے میں پھیل چکی تھی ۔تب مجھے معلوم ہوا کہ کتنی دیر ہو چکی تھی ۔ یقینا باورچی مجھے تلاش کررہا ہوگا مگر مجھے اس کی بالکل بھی پرواہ نہیں تھی ۔پہلی مرتبہ مجھے قوانین توڑنے میں لطف آرہا تھا ۔

”میں نہیں جانتا کہ تم مجھ سے کس طرح کے جواب کی امید کر رہے ہو ؟“ استاد نے سرگوشی کی ۔”اگر میرے پاس کوئی اس اسی طرح کی معلومات کبھی بھی آئے تو میں تمہیں ضرور پہنچاوں گا ۔تب تک تمہیں یہاں رک کے انتظار کرنا پڑے گا۔اور ہمارا مہمان بن کر رہنا پڑے گا “

یہ سننے کے بعد وہ بابا زمان کے سامنے شکریے کے طور پر جھک گیا اوران کے ہاتھ چومے ۔اس وقت بابازمان نے ان سے ایک عجیب وغریب سوال کیا کہ ”تم نے کہا کہ تم اپنی تمام تر حکمت کسی دوسرے کو دینے جارہے ہو ، تم ایک سچ اپنے ہاتھ میں محفوظ رکھنا چاہتے ہو ، جیسے کہ یہ کوئی قیمتی موتی ہے اور کسی اور کو اس کی پیشکش کرنا چاہتے ہو۔ تاہم روحانی رو سے کسی کو اپنی علم و حکمت دینا کسی انسان کے لئے چھوٹا کام نہیں ہے ۔ تم اس کے بدلے کیا دینا چاہتے ہو؟تم جانتے ہو کہ تم خدا کا غیض وغضب اپنی جانب مول لے رہے ہو؟

استاد کے سوال کے جواب میں اس درویش نے جوجواب دیا ، اسے میں تب تک یاد رکھوں گاجب تک میری سانسیں چلتی رہیں گی ۔اس نے اپنی بھنویں اٹھائیں ، اور مضبوطی سے کہا ”میں اپنا سر پیش کرنے کا خواہاں ہوں“

اس کا جواب سن کے میںکانپ اٹھا ، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ریڑھ ی ہڈی کی طرف سے مجھے (kindly complete this)

جب میں نے اپنی نظریں اس سوراخ کی جانب متوجہ کی تومیں نے محسوس کیا کہ استادبھی اسی طرح ڈر سے کانپ اٹھا ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ ہم آج کیلئے خاطر خواہ بات کر چکے ہیں ۔بابا زمان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ، تم ضرورتھک چکے ہو گے ۔مجھے شاگرد کو طلب کرنے دو تاکہ وہ آپ کو سونے کی جگہ مہیا کرسکے اور صاف بستر دے سکے اور آپ کو دودھ کا گلاس دے سکے “

اب شمس تبریزی دروازے کی جانب مڑ چکے تھے ۔میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ مجھے ہی گھور رہا تھا۔نہ صرف دیکھ رہا رہا تھا بلکہ مجھے تو یوں بھی محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ مجھے دروازے پار اتنے غور سے ت رہا ہے کہ گویا وہ میری روح کی اچھی اور بری چیزیں تلاش کرنے کی کوشش کررہاتھا، وہ راز میرے اندر سے تلاش کررہا تھا جوکہ مجھ پر بھی عیاں نہیں تھے ،شایدوہ کالے جادو کا علم جانتا تھا ۔ یا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ ہاروت اور ماروت سے تربیت یافتہ ہو ، وہی دو فرشتے جو بابل (قدیم عراق) میں اللہ کے حکم سے موجود تھے ۔ وہی جن سے دور رہنے کا حکم ہمیں قرآن دیتا ہے ، یاپھر اس کے پاس ملکوتی قوت ہے جس کے ذریعے وہ دروازے پار دیکھ سکتا ہے ۔ہر صورت میں وہ مجھے ڈرانے کا سبب بن رہاتھا ۔

شاگرد کو بلانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ،اس نے کہا۔ جب وہ ان الفا ظ کی ادائیگی کررہاتھا تھا تو اس کی آواز قدرے اونچی ہو گئی ۔۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کہ وہ بہت پاس ہے اور ہمیں قریب سے سن رہا ہے ۔

وہ جگہ چھوڑتے ہوئے میں نے اس قدر اونچی چیخ ماری کے شاید قبر کے اندر موجود مردے بھی خوف و ہراس سے اٹھ بیٹھتے ۔

اس کے بعد میں تیزی سے باغ کی جانب بھاگا اوراندھیرے میں کوئی محفوظ مقام تلاش کیا۔تاہم اس جگہ میرے لئے نا خوشگوار چیز انتظار کر رہی تھی ۔تو تم یہاں ہوں چھوٹے بدمعاش! وہ میرے پیچھے صفائی ستھرائی کرنے والا جھاڑو لے کر بھاگا۔تم اب ایک بہت بڑی مشکل میں پھنس چکے ہو۔

میں جھاڑو سے بچتے ہوئے دوسری طرف بھاگا۔

ادھر آؤ ، ورنہ میں تمہاری ہڈیا ں / ٹانگیں توڑ دوں گا ۔پکوان میرے پیچھے بھاگتے ہوئے چلایا،

لیکن میںنے ہار نہیں مانی ، اور میں باغ کی جانب اتنی تیزی سے بھاگا جتنا میں بھاگ سکتا تھا۔اس وقت شمس تبریزی کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ٹمٹمانا شروع ہو گیا۔میںبل کھاتی ہوئی پگڈنڈی کے ساتھ تیز ی سے بھاگتا رہا جو کہ درسگاہ کو مرکزی سڑک سے جوڑتی تھی اور بھاگتا بھاگتامیں بہت دور چلا گیا۔میں اتنا ڈرا ہوا تھا کہ میں اپنے آپ کو بھاگنے سے روک نہیں سکتاتھا ۔میرا دل دہلنے لگ گیا ،میرا گلہ خشک ہو گیا ،میں اس وقت تک بھاگتا رہا جب تک میر ی ٹانگوں (گھٹنوں) نے جواب نہیں دے دیا ،اور میرے اندربھاگنے کی سکت ختم ہو گئی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


DEATH METAPHORS IN THE POETRY OF GHALIB

Ali R Fatihi

fatihi.ar@gmail.com

 

 

Introduction:

Inthis paper, attempts have been made to investigate and explore the conceptualizationof death euphemism in the ghazals of Mirza Ghalib as exemplified in variouseuphemistic metaphors using the Conceptual Metaphor Theory initiated by Lakoffand Johnson (1980, 2003). Based on  aconsiderable number of  euphemisticexpressions in  the poetry of MirzaGhalib, it has been found, that in his ghazals, Ghalib uses  strikingly complex conceptual metaphors to mitigate and diminish  the effect of death, originating from blendingprimary metaphors with cultural and poetic assumptions.  

Thedeath metaphors observed in the poetry of Ghalib share the common humanexperience of avoiding mentioning death by means of using identical euphemisticconceptual metaphors; however, death metaphors in Ghalib differ as regards theemphasis, details and range of the complex metaphor. For him expressionsrelated to death is a source of enjoyment. In one of his letters in 1860 to hisfriend Ghalib makes use of death expressions in the most hilarious stylereferring to a well-known courtesan of his times who had fallen for Ghalib’spoetry and, perhaps, also for the poet. Ghalib writes:

Mughal bachchey bhiajab hote hain. Jis pe martey hain, us hi ko maar rakhtey hain Ek badisitam-pesh domni ko mainey bhi maar rakhkha hai.

(TheseMughal children are strange. The one whom they die for, they end up killing. Itoo have killed a cruel courtesan.)

Theidea expressed in the letter (. Jis pe martey hain, us hi ko maar rakhteyhain) is beautifully captured in  some of his couplets quoted below;

Muhabbat men nahin hai farq jine aur marne ka

Usi ko dekh kar jite hain jis kafir pe dam nikle

His philosophy of life and death is displayed in many couplets suchas:

Rau mein hai raksh-e-umr, kahaan dekhiye thamey

Nae haath baag par hai, na paa hai rakaab mein

The stallion of my life is in a race, let’s see where it stops   /

Neither are my hands on the reins, nor my feet in the stirrup

Jala hai jism jahaan dil bhi jal gaya ho ga

Kured-te ho jo ab raakh, justjoo kya hai

Rahi na taaqat-e-guftaar aur agar ho bhi

Toh kis ummeed pe kahiye ki aarzoo kya hai?

Wherethe body has burned, even the heart would have

Insearch of what are you now raking the ashes ?

Thestrength in my speech is no longer there and even if it is

Withwhat expectation shall I express my desire ?

Rahiye ab aissee jagah chalkar jahaaN koee na ho/

Ham-ssukhan* koee na ho aur ham-zubaaN koee na ho/

Be-dar-o-deewaar ssaa ek ghar banaayaa chaahiye/

Koee hamssaayaa na ho aur paasbaaN* koee na ho/

Padiye gar beemaar, to koee na ho teemaardaar/

Aur agar marjaaiye to nauaa-khwaaN* koee na ho/

                                *******

KyooN gardish-e-mudaam* sse ghabraa na jaaye dil/

inssaan hooN piyaalaa-o-ssaaghar naheeN hooN maiN/

*******

yaarab zamaanaa mujhko mitaataa hai kiss liye/

lauh-e-jahaaN  peharf-e-mukarrar naheeN hooN maiN/

      A weaker individual might have gone outof his mind.

The great thing aboutGhalib is the fortitude and temperamental forbearance with which he faced hisimmense misfortune.

Zindagee apnee jab iss shakl sse guzaree, Ghalib/

Ham bhee kyaa yaad kareN ge ki Khuda rakhte the !

Evidence based on data analysis supports theview about the universality of euphemistic conceptual metaphors in the languageof Ghalib.

There is always a feeling of discomfort atmentioning harmful and embarrassing words to which society is often sensitive(Crystal, 2003, p. 173); therefore, language has its own ways of avoiding suchtaboos. The process of substitution where the offensive or unacceptable wordsare substituted by more appropriate ones has come to be known as euphemism‘. Inits modern sense, euphemism refers to "the use of a mild or vague orperiphrastic expression as a substitute for blunt precision or disagreeableuse" (Fowler, 1957, quoted in Holder 1987, p. vii). In this vein,euphemisms can be seen as ―roundabout, toning down expressions" (Algeo andPyles, 2004, p. 235), a substitution process which causes replacements such asthe following: casket (coffin), fall asleep (die), push up the daisies (bedead), the ultimate sacrifice (be killed), under the weather (ill), and manyothers. Euphemism is considered a linguistically universal trait. Almost alllanguages have euphemistic expressions, particularly employed to avoidvulgarisms (Mashak, 2012, p. 202). However, it is a matter of convention whichtypes of words and expressions should be avoided. According to Trudgill (1986,p. 30), English-speaking communities use strongest euphemism to avoid explicitmentioning of sex and excretion, while in Norway the mention of the devilrepresents the target of euphemism. Compared with Roman Catholic culture inwhich euphemism mostly relates to religion, euphemism in traditional Africa,according to Mbaya (2002, p. 224), relates to words for sex, parts of the body,death, marriage, kinship relations, certain birds‘ and animals‘ names. Deathand dying are among the most commonly referenced semantic fields in linguisticdiscussions of euphemism (Hughes, 2000, p. 43-43; Mey, 2001, p. 33-34). Thereare various reasons why people want to keep away from touching upon the topicof death, probably the most cited one is that of relevance to fear, a deeplyseated human instinct; people are afraid for losing their loved ones and itsconsequences. They are afraid of what would happen after death, mysterious lifeand hidden destiny, evil spirits, which strikes fear into their hearts (Allanand Burridge, 2006, p. 222). The most common human strategy to cope with thisfear of death is by making no mention of it or replacing it by otherexpressions. Although some people do not openly express their fear of death,they try to protect themselves by making some gestures such as a finger-crossor a charm or wood knock (Allan and Burridge, 2006, p. 203), and may try to useeuphemistic metaphorical expressions to hide the unpleasant things and to healtheir wounds (Fan, 2006).

TheConceptual Metaphor Theory (CMT) as set forth by Lakoff and Johnson (1980;2003) provides a very useful tool for analyzing such a linguistic phenomenon.The main point of the theory is that our conceptual system is based on a groupof mental metaphorical images that determine our way of thinking and influenceour experience of the world. This section explains the main tenets of thetheory and how it relates to euphemism.

First of all, Lakoff and Johnson see metaphor as acentral component in our thought and language. While for most people it ismerely "a device of the poetic imagination and rhetorical flourish—amatter of extraordinary rather than ordinary language…as characteristic oflanguage alone, a matter of words rather than thought or action" (2003, p.4), for Lakoff and Johnson it is prevalent in everyday life and is not merely alinguistic device; it is key to thought and action. Conceptual system plays akey role in defining our everyday realities and our concepts are based on metaphors,hence "what we experience, and what we do every day is very much a matterof metaphor" (p. 4). Lakoff and Johnson elaborate on what it means for aconcept to be metaphorical and they illustrate their point, giving manyexamples. To mention only one, they tackle the concept ARGUMENT and theconceptual metaphor ARGUMENT IS WAR. The metaphor is demonstrated in daily lifein such expressions as: your claims are "indefensible"; he"attacked every weak point" in my argument; his criticisms were"right on target"; I "demolished" his argument; I've never"won" an argument with him; you disagree? Okay, "shoot!";if you use that "strategy", he'll "wipe you out". He"shot down" all of my arguments. Those expressions are not merelywords of language; they actually represent realities of life that are witnessedin terms of the facts that we 'win or lose arguments', we see the person we arearguing with as an opponent, we attack our challenger'spositions  and wedefend our own, we  gain and lose ground, etc. (p. 5). According to thistheory there are two domains for conceptual metaphors. The source domain, theone from which we draw the metaphorical expressions; for example, with theexpression LOVE IS JOURNEY, JOURNEY is the source domain, (which is one domain ofexperience), while LOVE is the target domain that we try to unravel. Theprocess of mapping across those conceptual domains puts the two elementstogether (LOVE and JOURNEY) so that one can see the common ground,similarities, resemblances and parallels that may exist between the source andthe target. Metaphor as asserted by Lakoff and Johnson is primarily based onthis mapping and language is only secondary. From this standpoint, metaphor isdefined as a cross-domain mapping in the conceptual system‖ (Lakoff 2003, p.203). As Fernandez explains (2006, p. 101-130), the mapping process that occurswith metaphors such as TO DIE IS TO SLEEP involves mapping our perception ofsleep onto our perception of death and fulfils a euphemistic role where thesource domain mitigates the target domain. To illustrate this point, it can besaid that in the euphemistic mechanism, the euphemistic expression (source)replaces (mapped onto) the taboo expressions (target) and, in the process, thepositive aspects of the target domain are highlighted while the negativeaspects are hidden (Fan, 2006, p. 72).

Lakoffand Johnson admit the possibility of highlighting and hiding, suggesting thatmetaphors provide a coherent structure, highlighting some things and hidingothers. The avoidance of mentioning the negative aspect of death createsmultiple conceptual metaphors in both English and Urdu; this study exploresdeath metaphors in the Urdu poetry of Mirza Ghalib and compares how death iseuphemistically represented in his Ghazals. The euphemistic metaphors oftreating death in  Ghalib seem to reflectshared generic metaphors and yet different specifics of emphasis and attributesthat belong to Indo Iranian culture.  For Urdu and Persian speakers,the language of Ghalib’s verse is a miracle of music and meaning. Theout-and-in structure of the shers of Ghalib’s preferred ghazal formseems to pierce the mysteries of  deathand existence, each new excursion of thought returning by a new path to theroot rhyme established in the opening verse by the qafiya (a continuouslyrhyming syllable) and the radif (a word or phrase repeated at the end of eachcouplet without any change whatsoever).

The euphemistic similarities and differencesbetween  the language used in the poetryof Ghalib and English in terms of conceptual metaphors normally take us intodiscussing what has been referred to in the cognitive literature as

v  primary and

v  complex metaphors.

Cognitive literature differentiates between twotypes of conceptual metaphors: primary metaphors and complex metaphors (seeGrady, 1997a, 1997b; Gibbs, Lima, & Francozo, 2004; Kovecses, 2005; Lakoff& Johnson, 1999, 2003). While primary metaphors are based on our commonbodily experience and are more likely to be universal, complex metaphors blendprimary metaphors and cultural convictions and assumptions together and, hence,are culture-specific. Complex metaphors differ from one culture to anothersince cultural information may differ from one ambience to another (Lakoff& Johnson, 2003, p. 257; see also Yu, 2008 for discussion on metaphors,body and culture). Grady (1997b, p. 288) asserts that primary metaphors ―havethe widest cross-linguistic distribution. Since they arise directly fromexperience – and in many cases, from the bodily experience of the world sharedby all humans – they are more likely to be universal than the more complexmetaphors which are combinations of them.

Lakoff and Johnson (1999, p. 54) illustrate what is meant by primarymetaphor by explaining that a dimensional metaphor such as MORE IS UP isembodied in three ways. First in terms of our embodied functioning in theworld, we witness many cases in which we systematically see MORE is associatedwith UP. Second, the body‘s sensorimotor system constitutes the source domainfrom which the metaphor is drawn. Finally, the correspondence between thesource and target domains of the metaphor is established in the body via neuralconnections. Other primary metaphors based on bodily experience includePURPOSES ARE DESTINATIONS and ACTIONS ARE MOTIONS, which are likely to beuniversal since we, as humans, have almost the same bodily and mental structureand we live in similar environments (Lakoff & Johnson, 2003, p. 257).

As mentioned above, complex metaphors blend primarymetaphors and cultural assumptions. Lakoff and Johnson (1999, p. 60–61) explainthat a complex metaphor such as A PURPOSEFUL LIFE IS A JOURNEY is made up ofthe cultural convictions PEOPLE SHOULD HAVE PURPOSES IN LIFE and PEOPLE SHOULDACT SO AS TO ACHIEVE THEIR PURPOSES added to the body-based primary metaphorsPURPOSES ARE DESTINATIONS and ACTIONS ARE MOTIONS. The distinction betweenprimary metaphors and complex metaphors is utilized in this study to explainvarious aspects of the convergence and divergence of some metaphoricalstructures in the data. It is worth noting here that all the primary metaphorsreferred to in the data analysis section (section 3) are based on Grady (1997a) unless cited otherwise.

The current study is worth attempting since, to myknowledge, no work has been done on comparing English and  the euphemistic expressions used in thelanguage of the poetry of Mirza Ghalib within the Conceptual Metaphor Theory.Literature on either conceptual metaphor Mirza Ghalib death metaphors andEnglish death euphemism is much and varied but linking both is not attested.Previous work has only focused on euphemistic strategies and the linguisticaspects of euphemism and hedging but failed to address the conceptual aspectsof euphemistic metaphors of death, particularly in the poetry of Mirza Ghalib.The current work also introduces fresh data from poetry of Mirza Ghalib thathas never been dealt with in previous works on the topic. In addition, Englishand  the language of  the poetry of Mirza Ghalib are two languagesthat belong to two different language families and two different culturalaffiliations, so it is worthwhile investigating how both languages conceptuallyflesh out the euphemism of death.

Data and Methods

The study is based on a pool of data collected fromthe  poetry of Mirza Ghalib. The primarysource for English is A Dictionary of Euphemisms (3rd Edition). This is acomprehensive work that draws on a number of dictionaries, books, quotationsfrom various people, and live interviews and encounters with common people andfamous writers. This work includes many euphemistic expressions elicited fromvarious sources, which makes it an encyclopedic book, fit for our purposes ofdetecting the overall euphemistic conceptual image. This work consists of anumber of euphemisms that have been used in famous books and newspapers.

The data from the language of Mirza Ghalibis fromthe Diwan-e Ghalib that, despite being written in the nineteenthcentury, still vividly offer euphemistic expressions that are commonly andwidely used in Modern Standard Urdu till now; euphemistic expressions in thosesources that are no longer used are excluded from the data.  As mentioned above, the euphemisms elicitedfrom this work of Mirza Ghalib are still in currency and common inStandard Urdu. For example some of the Urdu euphemistic expression of death arelisted below:

خالق حقیقی سے جا ملنا , قضاء , اجل , مرگ ,وفات , دم احتضار , نزع , جاں کنی , نزاع , سکرات موت , سپرد خاک ہونا , رحلت ,دنیا فانی سے کوچ کرنا , آخری سفر پر روانہ ہو جانا , آخری قیام گاہ کو جانا ,اختتام حیات , فناء

It is also used in death euphemisms, since Standardliterary Urdu often resorts to standard expressions, such as the ones used inthe data, rather than to colloquialisms. The main reason the researchercollected data from the sources above is that their encyclopedic nature fitsthe purpose of the study, which is to capture the overall metaphoricalconceptualization image of death euphemism in both English and the languageused in the poetry of Ghalib. Reading the generic nature of conceptualmetaphors requires reliance on panoramic works. Given the qualitativeorientation of this work and its conceptual nature, the methodology employed isbased on the descriptive-comparative method and content analysis. Data for thisstudy was collected from the above sources, where a complete survey was madefor each of these works focusing only on what relates to death euphemism; atotal of 84 euphemistic expressions were collected  from the poetry of Mirza Ghalib andthematically classified into topics that represent generic conceptualmetaphors. The data elicited is dealt with within the framework of ConceptualMetaphor Theory as set forth by Lakoff and Johnson (1980, 2003) whichmethodologically provides a useful tool that analyzes the metaphoricalstructure of different domains of knowledge and explain how the mapping processunfolds for the euphemistic expressions (cf. introduction part). Although anearlier work has been done on death and life domains in English (Lakoff andTurner, 1989), this study takes a fresh look at death in the poetry of MirzaGhalib with particular emphasis on euphemistic terms.

Data Analysis:

Based on the data collected, the following sectionanalyzes the conceptual metaphors that represent death euphemism in the poetryof Mirza Ghalib. It is strikingly amazing to see that the metaphors of deathused in the poetry of Mirza ghalib almost reflect identical metaphors to avoidthe term death. The following metaphors have been detected and will beanalyzed:

v  DEATH IS A BETTERLOCATION,

v  DEATH IS LIFE,

v  DEATH IS ASUMMONER,

v  DEATH IS PAYING ADEBT,

v  DEATH IS THEFINAL DESTINATION,

v  DEATH IS AJOURNEY OF DEPARTURE,

v  DEATH IS LOSS,

v  DEATH ISREGROUPING AND JOINING,

v  DEATH ISSURRENDER AND SUBMISSION, and

v  DEATH IS SLEEP.

DEATH IS A BETTER LOCATION:

The euphemistic substitutes for death in both  languages conceptualize death as a "BETTER LOCATION", that is death  is represented as a ‘place’ in which someone is 'better' than he/she  currently is. In English, death is depicted as a "better country",  "better state", and "better world". It is actually a move  to a "happy dispatch", a "happy release" where you can  occupy a "happier seat"; it is even "happy hunting  grounds". English euphemistically delineates death as some sort of  "exchange", where you "exchange this life for a better"  and "take refuge in a better world". In that 'better' existence,  "troubles in this world are over" and it is "peace at  last" and you are "relieved of your sufferings". In Urdu, a  dead person is also envisaged as existing in a "better" situation  in terms of being favored by Allah (God), as we see in the euphemistic  metaphor " Allah ne bula liya" (TH) (Lit. Allah favored him). The  meaning of "betterness" is sometimes embodied in the sense of  Allah's "selecting" the dead person to be to near to Him, and this  meaning is repeated over and over, as in: " Allah ki ghar  chalagaya" (YA) (Lit. Allah selected him to be near to Him.); In Hindi  there are expressions like  "  Svarg sidharna" (YA) (Lit. To move to paradise); " دار فانی سے رخصت  /  کوچ کرنا daar-e-faanii se ruxSat / kuuchkarnaaرحلت کرنا /وفات پانا reHlat  karnaa / wafaat paanaa 
 سمت  ملک ارم جانا samt-e-mulk-e-iram  jaanaa / سمت باغ ارم جانا samt-e-baaGh-e-iram jaanaa (Lit. Allah has  selected for him to move from the abode of perishing to the abode of the  pious).

Death in Urdu  is, then, a  transition to a "better" state. The euphemistic effect generated by  the conceptual metaphor here is based on replacing the target domain, the  hateful word of death, by a source domain expression representing a  "better state" condition, or, to use Lakoff's and Johnson's terms,  the source domain, (better state), is mapped onto the target domain (death).  The euphemistic mitigating effect, therefore, is generated by mapping the  source domain onto the target domain. The observed similarities that we see  here emanate from the primary metaphor STATES ARE LOCATIONS shared by both  languages and are reported in the cognitive literature to have universal  application where we see the state of death is reinterpreted in spatial  embodiments: ―"better world", "better country",  "happy hunting grounds";   Urdu has the expressions given above.The complex metaphor in this  section blends the bodily primary metaphor with the subjective experience of  each culture. However, the differences lie in the specifics of the source  domain of complex metaphor DEATH IS A BETTER LOCATION. While Urdu and  English generically euphemize death conceptually in terms of being a  "BETTER LOCATION", the emphasis for the Urdu specific metaphor lies  in being close to Allah, while the English metaphor focuses on a better state  in terms of being more peaceful, relief of suffering, and reposing.

Ho Chuki'N Ghalib Balaye'N  Sub Tamam,
 Aik Marag-e-naghani Aur Hay.
 
 
Translation.
 
 I have seen almost all the possible Troubles in my life,
 The last one that I have to face is the Death.

In this couplet Ghalib has  romanticised death. But tradition forbids  us from talking ill of the dead. Even if you didn't like somebody when he was  alive, your take on him is supposed to take a turn for the better once he is  dead. Like the scared water of the Ganges, death washes away all traces of  the sins a man might have committed in life. This plays on the mind of  anybody who sits down to write an obituary. No harsh words need to be said,  no skeletons need to be dug from cupboards. The metaphor  DEATH IS BETTER LOCATION is beautifully  depicted in the couplet below;

غم ہستی  کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج
 شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
 gham-e-hasti kaa 'asad' kis se ho juz marg ilaaj
 sham;a har rang meiN jalti hai seher hote tak
 
The sorrow of existence 'Asad', what is its cure but death
 The lamp burns in every color, until the morning comes

Morning (or more precisely, dawn) is often a  metaphor in poetry for birth or the start of a new life or a new social  order. Now in parallel, almost contrariwise, at least in South Asia, a  burning lamp or a flame is a metaphor for the soul or life-force. Thus the  familiar trope in Bollywood movies to show death or the passing away of the  soul from the body is to show the extinguishing of a flame. So here is the  rub. A lamp usually burns in the night. With the coming of dawn the lamp's  inevitable fate is to be extinguished. Thus here morning takes away rather  than gives life. Couple this now with the usual importance given, in the  Ghazal universe to the night as the realm of all poetry, of colorful  assemblies, of wine drinking and romance, or life itself. In the world of the  classical Ghazal, the poet comes alive during the night, whether because he  exults in shab-e-visaal (the night of union with the beloved, usually  singular!) or pines in shabaan-e-hijraN (nights of separation from the  beloved, usually plural!).

Thus perhaps it is not surprising that we find in  Ghalib a beautiful inversion of the dawn = birth metaphor to a dawn = death  metaphor. Metaphor (Istara) in general is a vital part of the Ghazal, and  metaphor creation is considered even one notch superior to ma;anii afiirnii  (meaning creation).

It is to be  noted that the verse follows a well-established pattern wherein the first  line offers a general proposition and the second line offers a poetic  "proof" for the "theorem." The first line is a  more-or-less straightforward proposition: life is suffering, and there is no  cure for it except death. To live is to suffer. So far so good. Poetically  said, but not quite sublime. ـIt  is the second line that takes the verse to Ghalibian levels. Here the lamp is  a metaphor for the human body, while its flame is the spark of life. But  Ghalib emphasizes not only the light given by the flame (the light of life)  but also the heat (burning, jalnaa). Not only is the flame life of the lamp,  as the soul is the life of the body, the flame also burns (jalnaa), its  essence is burning as the soul also suffers, its essence is suffering (what  is a flame if we take away the burning, what is life if we take away  suffering?). Here Ghalib deploys the double meaning of the verb  "jalnaa", to burn or to suffer. Further, not only does the lamp  burn, but as all the commentators note, it is powerless to extinguish  itself. Only the coming of morning will extinguish the lamp and relieve it of  its burning/suffering. But that relief is the relief of death, for then the  flame is extinguished and life is no more. So death extinguishes all the  types of burning/suffering that life brings as morning extinguishes every  colored flame of the lamp. It is worth mentioning here that  Frances Pritchett's commentary on the verse  as well as of other commentators she has collected cast enough light on the  death metaphors used by Mirza Ghalib in this couplet.
 Of course as Pritchett notes in passing, from the point of view of Sufism or  Vedanta death is only another beginning, the start of another journey. For  one who is aware of divinity, of the oneness of being (wahdat al-vujood), of  the True nature of Reality, death is a continuation of life by other means,  as it were. This is where Ghalib takes us in his Farsi verse:

نشاط ھستی حق دارد از مرگ ایمنم غالب

چراغم چوں گل آشامد نسیم صبح گاھان را
 nishaat-e-hasti-e-haq daarad az marg aimaanam Ghalib
 chiragham chuN gul aashaamad naseem-(e)-subaH gaahaan raa
 
I exult in the existence of God/Ultimate Reality, from death I am safe  Ghalib
 My lamp, like a flower/rose drinks off the morning breeze

Before we compare it with the Urdu verse, a couple  of small semantic points are to be mentioned: I haven't been able to find out  if gaahaan (گاھان  ) is used as a free morpheme, mostly Steingass uses it in combination with  some other word to mean at such and such time (andar-gāhān, Intermediate  times) or na-gahaan meaning unexpectedly or untimely. So perhaps naseem-e-subaH  gaahaan should be read as one phrase (morning time breeze). Secondly I am  not sure why Ghalib uses the verb aashaamidan (unless aashaamad  is not the third person singular of this verb) here. A lamp drinking or  sipping the breeze seems funny (unless the breeze is like oil that the lamp  drinks to burn). In any case back to the main theme. We know that the morning  breeze is the death of the lamp, but it enlivens the flower. Ghalib's lamp  (the lamp of life of a Sufi or of one immersed in the existence of  God/Brahman) unlike the regular lamp (the lamp of life of an ordinary person  who considers death to be the end of life) described in the Urdu verse, is  not extinguished by the morning breeze, rather it is enlivened by it. And why  is that? Of course, the first line offers the clue. Because he is immersed in  the existence of God or the Ultimate Reality. This verse follows a logical  structure quite similar to the Urdu verse. Once again, the first line offers  a proposition. Now instead of being told that suffering in life ends only  with death, Ghalib tells us he is secure from death because he knows the  secret of existence. Once again, the first line itself though poetic is not  particularly thought provoking. As Pritchett might note, like a good Ghazal  verse, we have to wait not only till the second line of the verse but till  the last part of the second line (the part about the morning breeze) to get  the full impact of the metaphor. And once again, as with the Urdu verse, the  second line takes the verse to a new level. It offers "proof" or  example of the proposition stated in the first line.

Of course in both verses, as always we need to  distinguish Ghalib, the historical personality, from "Asad" or  "Ghalib" of the poem. The question of whether, in real life Ghalib  would have been as sanguine about death, or as immersed in the Oneness of  Being, is in some ways a moot point. We cannot expect the classical Ghazal to  be personal in the same way as say the Romantic poets off the 19th century.  "The poet in the poem" in the case of the Ghazal is a vexed issue.  ( S.R. Faruqi's essay) on this theme. Finally, in one sense the  Farsi verse is also a response to the Urdu verse. It is true that life's  suffering ends only in death, but one need not be afraid of death, if only  one knows the secret of the Ultimate Reality.

DEATH  IS LIFE                      

The  collected data also reveals that death is euphemistically expressed as being  "LIFE". This is attested in English via the euphemistic expressions  "life assurance", "life cover", "life office",  "life policy". Death is generally associated with going below  earth, being buried and consumed by worms; however, the euphemistic touch  refers to life in "up" terms. It is not strange to see death as  movement towards an "up" position where heaven is associated with  the heavenly kingdom of God. This metaphor is detected in English, where  death is rendered as a "higher state (of existence)" and  "upstairs"; experiencing death is to "remain above ground"  and to be in a heavenly world where you can be "in heaven",  "in Abraham's bosom" and "in the arms of Jesus". As for  thae language of the poetry of Mirza Ghalib, death is sometimes seen as a  form of life; those who fall martyrs are never to be called 'dead'. Moreover,  a dead person is envisaged as having gone "up", as reflected by the  euphemistic expression "inteqal" (TH) (Lit. transfer from one life  to another).

The  new state of death is living in a new location, which is seen as another form  of life. This is in tandem with the primary metaphor STATES ARE LOCATION. The  euphemistic effect is brought about by considering ‘death’ to be another  location where life is resumed. English seems to delineate more attributes  and specifics of life so that guarding against death is sketched in reverse  terms as "life assurance", "life cover", "life  office", "life policy". The euphemistic significance of death  is not regarded as being earthly life but as an "up" life.  Ghalib makes use of this philosophy of life  in some of his couplets;

Sab  kahan kuch lala-o-gul men numayan ho gain

Khak  men kya suraten hongi ki pinhan ho gain

Translation

Not  all, only a few have become evident as tulips and roses

What  images may lie in the dirt that remain hidden from us?

Before  getting into the meaning let me highlight two Interrogative Pronouns that  play a role in adding multi valence of meaning to this couplet   کیا kya and   کہاںkahan. Both these Interrogative  Pronouns carry within themselves nuances of inquiry and exclamation. Try  reading sab kahan twice, once with the emphasis on sab and once on kahan  consequently two meanings emerge out of the couplet. The examination of the  couplet at a very macro level prompts us to ask questions

·          What are these ‘faces’ Ghalib is talking about.

Broadly  it could have two readings – a more mundane one, where one is talking of dead  people, people who are buried under the dust, some are remembered even after  death, some are completely forgotten; and a more abstract one, where the  faces refer to the various aspects of the Universe itself. The second reading  therefore refers to the countless possibilities that the Universe offers,  some have become evident taking on a beauteous façade, while some remain  hidden. Time to get more micro into it and explore the nuances. And here, I  choose to quote Farouqui:

“Ghalib, saying   kya suraten has created possibilities upon possibilities.   For example, consider these:

·          what faces will there be? (inquiry, reflection)

·          what (wonderful) faces there will be (for which  beautiful flowers are the return) (wonder)

·          what faces there will be! (praise)

·          what faces will there be? (which ones? of which  people?) (reflection)

·          well, what faces will there be? (of what kind will  they be?) (ignorance)

·          no telling what kind of faces there will be, for  they've become hidden (thought)

… But putting the two lines together creates even  richer possibilities:

·          Where did they all become manifest? Only some  faces were able to become manifest in the form of tulips and roses.

·          Only some are tulips and roses-- among them, all  faces could hardly have   kahan   become manifest!

·          What faces there will be that became hidden in the  dust!

·          What faces there will be in the dust, that became  hidden!”

The  six variations of the second line as mentioned by Farouqui are a little  difficult to comprehend in one go. The trick lies in reading the verse with  different emphasis on the words to reveal the nuances of the wonderfully  multivalent word “ kya”. And as I mentioned before, even then, they will  alternately blur and focus making you head spin!

English  represents going up through different angles, "upstairs"  "above ground", and portrays in more detail who the deceased will  be up with: "in Abraham's bosom", "in the arms of Jesus".  Urdu only refers to the deceased person as living in a higher type of life,  and the "up" concept is embodied merely via the verb "انتقال" "transfer" without offering further detail.  Although the description of the other life in the is illustrated more often  elsewhere in the Islamic religious writings, death euphemistic expressions  focus on life as euphemism for death only in general terms. The difference  between the two languages, therefore, seems to lie in the metaphoric range,  i.e. the detailed versus scanty delineation of the specifics of the complex  metaphor.

DEATH  IS FINAL DESTINATION

This  metaphor involves mapping the perception of "final destination"  onto that of "death", thus fulfilling the euphemistic function. The  metaphor here is in tandem with the primary metaphors CHANGE IS MOTION and  CHANGE OF STATE IS A CHANGE OF LOCATION. The change from life to death is  seen as a journey into final destination; it is a move from the life of here  and now to the hereafter. English encompasses a number of metaphors about  death being replaced by the "end". Somebody on the verge of death  is said to be "at the last day" , "at his last" ; to die  is to "breathe one's last", to reach "last resting  place", and to experience the very "last" thing, e.g.  "last round-up" "last trump" "the last call",  " the last debt", "last journey", "last  voyage". To die is to "cease breathing", "bring one's  heart to its final", "come to a sticky end", to  "finish", to "cease to be", to "pause", to  "expire", "fade away"; death is "the end" and  "the end of the road". A dead person is euphemistically said to be  "written out of the script", "off the voting list", and  "off-line". The euphemistic metaphor "end" is also rich  in Urdu. It encompasses so many expressions; someone who died is said to have  " قضا" (Lit. ended), (Lit.  finished);  or (he has completed his  appointed lifetime), Death is sometimes seen as a point in time that  everybody must get to, hence the euphemistic term " وقت ہو جانا" (appointed time). Urdu sometimes  refers to the failure of the body organs at the final stage of life to avoid  mentioning death, as illustrated by ―آنکھیں  بند ہونا  (He has (Lit. His eyes have closed). A few  other euphemistic expressions in Urdu endorse this philosophy of life and  death. The are قضاء , اجل ,  مرگ , وفات , دم احتضار , نزع , جاں کنی , نزاع , سکرات موت , سپرد خاک ہونا ,  رحلت

As  we see for this metaphor, the cultural influence on the primary mapping is  quite clear. While emphasis is laid equitably in both languages on the idea  of 'lastness', English particularly focuses on death as being the  "last" thing and as being removal from a "list". Urdu on  the other hand, focuses on the entity being expired. Ghalib has made use of this  metaphoric expression in the couplet below;

Ho  Chuki'N Ghalib Balaye'N Sub Tamam,

Aik  Marag-e-naghani Aur Hay.

Translation.

I  have seen almost all the possible Troubles in my life,

The  last one that I have to face is the Death.

DEATH  IS SURRENDER AND SUBMISSION

Death  is euphemized in both languages as an inevitable event to which one has to  surrender. This concept is common in English euphemistic expressions; a dying  person is euphemistically said to "give up the ghost", "yield  up the ghost" (RN),"resign his spirit", "give up his  life", to be "beyond help"; death is also seen in terms of  hanging up one's living items: hanging up "hat",  "dinner-pail", "mug", "spoon"; and laying down  one's utensils and tools: "lay down one's knife and fork" (RN),  "lay down one's pen" (RN),"lay down shovel and hoe" (RN).  The idea of giving up and surrendering is observed in the ghazal  of Ghalib   below:

Israt  e qatra hai darya men fina ho jana

Dard  ka had se guzarna hai dawa ho jana

             

English Translation

The  drop dies in the river of its joy

pain  goes so far it cures itself

Since  surrender is a type of giving something up and what is given up is no less  than one‘s soul‘ whose residing seat is the body, this calls up the primary  metaphor of BODY IS A CONTAINER. Differential metaphorical range between  English and Urdu  manifests itself also  in the metaphor DEATH IS SURRENDER. Surrender is more elaborated in English  than Urdu ; while it is generically expressed in  Urdu as being surrender to Allah or His  fate, it is asserted in English more exhaustively, enumerating the worldly  things given up at the event of death. Death is euphemized in both languages  as an inevitable event to which one has to surrender. The notion of surrender  is beautifully displayed in the couplet cited above.

Israt  e qatra hai darya men fina ho jana

Dard  ka had se guzarna hai dawa ho jana

DEATH  IS SLEEP:

The  complex metaphor here is guided by the primary metaphor INACTIVITY IS SLEEP  which is motivated by the correlation between stillness and slumber. Death  effect is mitigated by replacing it by sleep; so, we find in our data that in  English the event of death is alleviated by being replaced by expressions  such as "sleep", "sleep in Ghalib

koii ummiid bar  nahii.n aatii

koii suurat  nazar nahii.n aatii

maut kaa ek din  mu'ayyaa.N hai

nii.nd kyo.n  raat bhar nahii.n aatii

 

aage aatii thii  haal-e-dil pe ha.Nsii

ab kisii baat  par nahii.n aatii

 

jaanataa huu.N  savaab-e-taa'at-o-zahad

par tabiiyat  idhar nahii.n aatii

 

hai kuchh aisii  hii baat jo chup huu.N

varna kyaa baat  kar nahii.n aatii

 

kyo.n na  chiiKhuu.N ki yaad karate hai.n

merii aavaaz  gar nahii.n aatii

 

daaG-e-dilagarnazar  nahii.n aata

buu bhii ai  chaaraagar nahii.n aatii

 

ham vahaa.N  hai.n jahaa.N se ham ko bhii

kuchh hamaarii  Khabar nahii.n aatii

 

marate hai.n  aarazuu me.n marane kii

maut aatii hai  par nahii.n aatii

 

kaabaa kis  muu.Nh se jaaoge 'Ghalib'

sharm tumako  magar nahii.naatii

 

 

English  Translation.

 

 

I am left with  no hope at all,

No possibility  to reach my goal,

 

The Day of my death  is fixed,

I am so very  anxious that I can not sleep all night.

 

Though I know  the reward of obedience and worship,

But I have no  tendency for it.

 

I am silent for  a certain reason,

Otherwise I can  convince you with my words,

 

Why I shouldn’t  cry,

For when I  don’t, she asks about me,

 

My heart is  burning, though you cannot see the spot,

But O my  doctor, can’t you smell my heart burn?

 

I have reached  to a certain state,

From where even  I cannot find myself.

 

I am dying  (Waiting anxiously) for my death,

I don’t know  where the hell my death has gone.

 

With what face  you will go to Ka’ba, O! Ghalib,

You should be  ashamed of yourself while thinking to go there.

This  euphemistic metaphor is attested in Urdu with the use of the    expression " abadi nind sona"  (sleep), which is illustrated by the two common expressions " nind  sona" (Lit. sleep in peace), and "abadi nind sona" (Lit. He  slept his last).  Ghalib has made use  of sleep image  in the ghazal cited  above. The sleep image is more  loud  and detailed in the couplet below:

maut  kaa ek din mu'ayyaa.N hai

nii.nd  kyo.n raat bhar nahii.n aatii

The  Day of my death is fixed,

I  am so very anxious that I can not sleep all night.

marate  hai.n aarazuu me.n marane kii

maut  aatii hai par nahii.n aatii

I  am dying (Waiting anxiously) for my death,

I  don’t know where the hell my death has gone.

DEATH  IS A JOURNEY OF DEPARTURE

The current corpus clearly shows that death is  sometimes delineated in English and Urdu as a journey of departure. In  English, someone who dies is said to "leave", "depart",  "depart this life", "leave the building", "leave the  land of the living", "quit", "quit cold", "quit  the scene", "quit breathing", "take leave of life",  have the "last journey", and the "last voyage"; a dead  person is euphemistically declared to be "no more", "no longer  with us". Urdu also euphemizes death as being a journey of departure; a  dying person is someone who moves away from the worldly life. There are  number of euphemistic expressions in urdu which capture the sense of journey;  خالق حقیقی سے جا ملنا،  آخری سفر پر روانہ ہو جانا،    اختتام،   دنیا فانی سے کوچ کرنا، آخری قیام گاہ کو جانا، دنیا سے رخصت ہونا، دار  فانی سے رخصت ہونا، رحلت کرنا، کوچ کرنا، وفات پانا، سمت باغ ارم جانا، سمت ملک  ارم جانا،  ملک عدم کا رخ کرنا،              

(daar-e-faanii se ruxSat,  / kuuch karnaa,  reHlat karnaa, / wafaat paanaa,  samt-e-mulk-e-iramjaanaa , /  samt-e-baaGh-e-iramjaanaa mulk-e-3adam kaa rux karnaa Etc.)  

The complex metaphor here seems to be motivated by  the primary metaphor CHANGE IS MOTION and CHANGE OF STATE IS A CHANGE OF  LOCATION. Moving from life to death is seen as an inevitable journey that  everyone has to undertake, which softens the horrifying effect of mentioning  death. We also see here a difference in focus for the complex metaphors DEATH  IS A JOURNEY OF DEPARTURE based on cultural assumptions; while English  focuses on the "leaving" event, Urdu lays special emphasis on  "sabiil" (Lit. way) and catching up with one‘s predecessors  "man γabar" (predecessors).

DEATH  IS LOSS OF IDENTITY

In the poetry of Ghalib, death is softened as  being a game; death effect is mitigated, being looked upon as a game lost, a  natural result of practising sports in real life. A dead person is someone  who is "knocked out"; "struck out", "takes the last  count". A dead person is "out of the game" (or  "running"); "his race is run" (or" ran the good  race"); "take the last (or long) count"; "throw in the  sponge", "throw sixes", "throw up the cards"; death  itself is the "end of the ball game". In Ghalib  death is also a game lost to fate; someone  who died is depicted as being hunted in a hunting sport:

The loss metaphor in this section is induced by  the primary metaphor LIFE IS HEAT IN THE BODY; DEATH IS LOSS OF IT (see  further discussion in Özcaliskan, 2003, p. 297). Losing one‘s game is losing  the heat in your body and this reflects the act of perishing. We can see here  also the role of culture in terms of range and focus. The complex metaphor of  DEATH IS LOSS is pictured in English in imagery of sports and games such as  boxing and wrestling: "knocked out", "struck out",  "takes the last count"; running: "out of the running";"his  race is run". Moreover, the metaphorical image reflects the signs of  loss: "throw in the sponge", "throw sixes", "throw  up the cards"; no such particularities do we find in the Urdu  euphemistic metaphor of loss, where the focus on loss is reflected only in  terms of being hunted or caught. What then makes the Urdu poet Mirza Galib  unique in his poetic representations of death? Certainly, his trademark  childlike fairy-tale manner of exploring death in its many forms demonstrates  a rare fearlessness in the face of the end, ‘but it is also the volume of  poetry Mirza Galib wrote about death that is startling. The metaphors for  death in his poetic catalogue are innumerable. For example in the couplet  below he makes use of the DEATH IS LOSS metaphor.

dayam para hua tere dar par nahi hun  main

khak aisi zindagi pe k paththar nahi  hun main

kyun gardish-e-mudam se ghabra na  jaye dil

insan hun, pyala-o-sagar nahi hun  main

yarab! zamana mujh ko mitata hai kis  liye

lauh-e-jahan pe harf-e-mukarrar nahi  hun main

had chahiye saza mein uqubat k waste  

akhir gunahgar hun, kafir nahi hun  main

kis waste aziz nahi jante mujhe

lal-o-zumarud-o-zar-o-gauhar nahi hun main

rakhte ho tum qadam meri ankhon se

kyun daregrutbe mein mahr-o-mah se  kamtar nahi hun main

karte ho mujhko mana-e-qadambos kis  liye

kya asman k bhi barabar nahi hun  main

‘ghalib’ wazifakhwar ho, do shah ko  duawo

din gaye ki kahte the “naukar nahi  hun main”

English  Translation:

I  am not eternally placed at your door, woe to such a life that I am not a  stone, Why shouldn’t the heart become worried of perpetual rotations, I am a  human being, not a cup or glass Oh Lord, why does the world attempt to erase  me, on the Tablet of the world, I am not a twice written word. There should  be a limit to the penalty for punishing; after all, I am a sinner, not a  disbeliever.

Mirza  Galib adorned death in elaborate disguises, and delivered it to his readers  as the ultimate gift of emancipation from the horrors of existence.

3.8  DEATH IS REGROUPING AND JOINING

This conceptual metaphor is common in English and  Urdu. In English, the experience of somebody's death is delineated in light  of being "gathered to his fathers", "gathered to his  ancestors"; "gathered to God", "gathered to Jesus";  to die is to be "with your Maker" (RN), "with God" (RN),  "with Jesus", "with the Lord" (RN). The coronation of the  experience of death is to "meet your Maker", "meet the  Prophet" (RN) "join the (great) majority" (RN), and finally to  be "in the arms of Jesus"(RN). Urdu has a number of metaphorical  expressions that embrace the same concept of REGROUPING AND JOINING. InUrdu,  a dead person is someone who "laqiya rabbah" (YA) (Lit. met his  Lord), "?afDaa ?ilaa rabbih" (YA)(Lit. went off to his Lord),  "?inSarafa ?ilaa jiwaarai rabbih" (YA) (Lit. went off to be near to  his Lord); "inqaTa؟a  ?ilaa jiwaarai mawlaah" (YA) (Lit. went off to the neighborhood of his  Lord); "laħiqa bil-laTiifi l-Xabiir" (YA) (Lit. joined the Subtly  Kind and the All-Aware). The complex metaphor as reflected in the expressions  above is motivated by the primary metaphor CHANGE OF STATE IS A CHANGE OF  LOCATION. Changing from life into death is seen as a move to a new location  where being separated from life company is changed into another location  where you can be in new company. However, in terms of the complex metaphor  shared by both languages we can also detect some differences in metaphoric  range. Reference to "REGROUPING AND JOINING" to avoid uttering  death is multiple in English; a dead person may come together with: "God",  "his Maker", "Lord", "his fathers", "his  ancestors", "Jesus", "the Prophet", "the  (great) majority". Joining  (visal)  in  Urdu is only to Allah, whose  attributes are multiple in the  Urdu data  for this conceptual metaphor: rab, mawlaa (Lord), This is in accord with the  Islamic monotheistic dogma.

3.9.  Summary and Conclusion

This study has investigated conceptual euphemistic  metaphors of death in the poety of Mirza Ghalib. It has been observed that  these conceptual metaphors used by Mirza Ghalib almost match with Islamic  Philosophy.. In his use of death metapho, the target domain (death) is  euphemized in terms of being BETTER LOCATION, LIFE, SUMMONER, PAYING A DEBT,  THE FINAL DESTINATION, JOURNEY OF DEPARTURE", LOSS, REGROUPING AND  JOINING, SURRENDER AND SUBMISSION, and SLEEP However, the difference in metaphorization  of death euphemism in the poety of Ghalib does not lie in the generic-level  primary conceptual metaphors but in the emphasis, details and range of the  specific-level complex metaphors. Although the conceptual component of the  metaphor is almost the same, i.e. referring to a particular concept, the  difference lies in the specifics, i.e., the attributes of the metaphorical  image and its cultural connotations as reflected by the focus of the complex  metaphor and its range. This implies that the difference seems to lie in how  language and culture shape the metaphor rather than its generic orientation.

The above result is in agreement with Kovecses'  (2005) view that metaphors tend to be universal and near-universal at generic  level; emphasis and attributes in our data are referred to in Kovecses (2005)  as specific-level metaphors which show differences cross-linguistically and  cross-culturally. Evidence from the above comparative analysis data suggests  that the English and Urdu share the generic (primary) euphemistic conceptual  metaphors in mapping the source domain (euphemistic metaphors) onto the  target domain (death), which is a natural result given the embodied nature of  the primary mappings (Grady 1997a; Lakoff and Johnson, 1999); the only  metaphorical difference lies in the specifics of cultural differences as well  as the differences emanating from differential emphasis laid on certain  aspects of the metaphorical image. The data also substantiates Grady‘s claim  (1997a) about the universality of primary metaphors for all human languages.  As we see from the analysis above only a small group of primary metaphors  (STATES ARE LOCATIONS, CHANGE OF STATE IS CHANGE OF LOCATION, CHANGE IS  MOTION, EVENTS ARE ACTIONS, LIFE IS HEAT IN THE BODY, DEATH IS LOSS OF IT,  BODY IS A CONTAINER, and INACTIVITY IS SLEEP) are the raw material for the  complex metaphors detailed in the study.

Based on the discussion above, this work leads us  to conclude that the metaphorical difference between the language of Ghalib and  English as regards death euphemism does not reside in the body-based primary  conceptual orientation, but in the specific metaphorical emphasis and detail  realizations of the complex metaphors which , being blends of primary  mappings and cultural connotations, are expected to show variation. The fact  that the two languages share common conceptual metaphors in euphemizing death  indicates that fear of death is not only deeply instilled in the human  nature, but ways of avoiding its mention seem to be also universal. We, as  humans, try every possible way to mitigate the experience of death.

 

 

 

 

 

 

 

علی رفاد فتیحی

پروفیسر شعبۂ لسانیات ،علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ انڈیا 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form