دیدبان شمارہ ١٢

اداریہ ادب ما بعد کورونا نمبر

سلمیٰ جیلانی

 ادب کے ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا کے   بہترین  ادب اور شاعری نے دکھ اور تکلیف کے بطن سے جنم لیا چونکہ دیدبان کا بارہواں آن لائن شمارہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران ترتیب دیا گیا اور اس میں شامل بیشتر تخلیقات اسی دور کے محسوسات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں اس لئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دور میں جب قاری  اس وباء کی ہولناک اور صبر آزما کیفیت کی کھوج میں نکلے تو یہ ادبی فن پارے اسے روشنی اور امید کا پیغام دیتے دکھائی دیں گے - اس شمارے کی ورق گردانی سے پہلے چند الفاظ دیدبان کے قاری کے ذوق مطالعہ کی نذر کروں گی

اکیسویں صدی جب اپنے انسویں سال کے اختتام کو پہنچی تو تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کی دہرایا اور ایک عجیب و غریب فلو نما وباء جسے کویڈ-١٩ کا نام دیا گیا نے پہلے چین کے شہر ہوان اور پھر آناً  فانا ً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا - کورونا وائرس نے ہر شعبہ حیات کو بری طرح متاثر کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سماجی تعلقات اور ادب آداب کے پیمانے بدل کر رہ گئے بغلگیر ہونا اور مصافحہ کرنا اب بیماری پھیلانے کا سبب بن گئے - لوگ ایک دوسرے کے سائے سے ڈرنے لگے - شروع میں تو کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اس آفت سے کیسے نمٹا جائے - دنیا کے مہذب ترین معاشروں میں بھی خود غرضی اور گھبراہٹ کے مظاہرے دیکھنے میں آئے جنھیں دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو بس میں سوار ہونے کے لئے بھی قطار بناتے ہیں آج ایک ٹوائلٹ پیپر اور دیگر ضروریات زندگی خریدنے میں ایسے ہاتھا پائی کرتے پائے جائیں گے - نفسیات دانوں نے تجزیہ کیا کہ چونکہ دنیا ان غیر معمولی حالات پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اس کے نتیجے میں  نفسا نفسی اور بے یقینی کی فضاء میں یہ سب کچھ غیر متوقع نہیں -

تاریخ اور کلاسیکی ادب کے بوسیدہ اوراق پلٹے گئے تو معلوم ہوا کہ  قدیم تہذیبوں اور معاشروں  پر اس سے بھی  زیادہ صبر آزماء وقت گزرا - تاریخ نے بتایا  ماضی میں کس طرح وبائی امراض سے پہنچنے والے معاشی اور سماجی نقصانات کو برداشت کیا - مشہور محقق اور تاریخ دان تھسیدیڈز  Thucydides نے چار سو تیس قبل مسیح میں اپنے کتاب the history of Peloponnesian war میں طا عون کی وباء کے پھیلاؤ کی وجوہات کا جس عمیق گہرائی سے تجزیہ کیا وہ آج کے دور کی وباء کے پھیلنے اور کثیر پیمانے پر آبادیوں پر مرتب ہونے والے نقصانات کا بھی بالکل اسی طرح احاطہ کرتے ہیں - یہی نہیں اس نے انسانی رویوں کو بھی بہت تفصیل سے بیان کیا - وہ کہتا ہے وبائی بیماریاں دراصل کسی بھی معاشرے اور فرد  کی اخلاقی صحت کو جانچنے کا نہایت مناسب پیمانہ فراہم کرتی ہیں جو عام حالات میں بظاہر مہذب لبادہ اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں جب وباء کی صورت میں  سخت مشکل صورتحال  سے دوچار ہوتے ہیں تو اخلاقی طور پر کمزور افراد اور معاشرے تہذیب کا چولا اتار کر لاقانونیت اور افرا تفری کا شکار ہو جاتے ہیں -

ہزاروں سال پہلے Thucydides کا کیا ہوا تجزیہ آج کے حالات میں پوری طرح صادق آتا ہے - یہ سب پڑھ کر تسلی ہو جاتی ہے کہ آج  امریکا اور آسٹریلیا کی سپر مارکیٹس میں لوگوں کو معمولی اشیائے ضرورت کے لئے جھگڑتے ہوئے دیکھا وہ ہزاروں سال پہلے بھی ہوتا رہا ہے -

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ضمن میں جب افراد ہی نہیں بڑی بڑی حکومتیں انتہائی گھبراہٹ اور عجلت میں دکھائی دیں - انڈیا جو دنیا کی  بڑی معیشت ہے جب لاک ڈاون کا اعلان ہوا تو شہروں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور اور روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے چھوٹے کاروباری افراد کو چند گھنٹوں کے اندر واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جانے پر مجبور کیا گیا ایسے میں بے رحمی اور ظلم کے کئی بہت بھیانک مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے  مایوسی اور ناامیدی کے ایسے سیاہ دور میں جہاں دور دور تک روشنی کی کرن دکھائی نہ دیتی ہو سماجی مبصرین کے مطابق  تاریخ کے اعداد و شمار سے ایک قدم آگے بڑھ کر ادب اور فنون لطیفہ نے احساس کی سطح پر  زیادہ گہرائی میں جا کر شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے -

تاریخ اگر ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس دور میں کتنے افراد اور کون کون سے معاشرے وباؤں کے نتیجے میں تباہ ہوئے ان اعداد و شمار سے پرے ادب و شاعری ہمیں اخلاق اور فکر کی  سطح پر چھوتی ہے کہ ان بحرانوں نے افراد اور خاندانوں کی زندگی کو کس طرح متاثر کیا - اس ضمن میں

ہومر کی مشہور طویل رزمیہ نظم الیاد Iliad  کی مثال سب سے آگے ہے جو  ہر وبائی دور میں ہمت و حوصلے کے کئی اخلاقی سبق سکھاتی ہے -ہزاروں سال پہلے جب طا عون کی وباء نے Akhils اکھیلس اور Agamemnon اگیمومنں کے درمیان معرکے کے دوران  یونانی فوجیوں کو سخت متاثر کیا اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے - اس نظم کے ذریعے معافی مانگنے کی اہمیت اور خاندانی روایت کی پاسداری کے علاوہ عام فوجیوں کی تکلیف کے احساس کو جس طرح ابھارا گیا وہ آج کے وباء سے متاثر معاشرے کو بھی اسی طرح  صبر و برداشت کا پیغام بھی دیتی ہے -

اس کے علاوہ بھی زمانہ قدیم میں طاؤ ن کی وباء سے متعلق کئی لازوال کہانیاں لکھی گئیں  اس روایت کو ماضی قریب کے نامور ادیبوں اور شاعروں نے برقرار رکھتے ہوئے مزید ایسے ناول اور کہانیاں لکھیں جن سے بکھری ہوئی انسانیت کے حوصلے مجتمع کرنے میں راہنمائی ملتی ہے -

البرٹ کامیو کا ناول پلیگ (١٩٤٧)  فرانسیسی استبداد کے خلاف الجیریا کے نہتے عوام کی مزاحمت  کو موضوع بناتے ہوئے لکھا گیا اس ناول میں نازی ازم سے لے کر کالونیل استعمار کو طا عو ن کے استعارے سے تعبیر کیا گیا ہے - البرٹ کامیو نے وباء کے استعارے کو وجودی بحران اور انسانی روح کے ٹوٹنے اوربکھرنے کو جس کامیابی سے استعمال کیا وہ قابل ذکر ہے -

ایک اور مثال کولمبیا کے نام ور ادیب گبریل گارسیا کے ناول ان دی ٹائم آف کالرا In the time of Cholera (١٩٨٥) میں ہیضہ کی وباء سے متاثر معاشرے  میں موجود ایک اور نئی جہت سے  روشناس کرایا جو روح کی گہرائی کو چھوتی ہے -

آج کے انسان نے اب تک وباؤں کو تاریخی ناولوں ، کہانیوں او رنظموں کی شکل میں ہی دیکھا تھا - اب جبکہ دنیا کو کورونا وائرس کی حقیقی وباء کا سامنا ہے جو اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ ابھی بھی موجود ہے - نانیوں دادیوں سے سنے گئے انیس سو بیس کے زمانے کے اسپینش فلو اور طاعو ن کی وباء کے ہولناک قصے جب وہ اپنے محبوب دوستوں اور رشتہ داروں کو کھو بیٹھی تھیں اس کربناک کیفیت کا ادراک ان حالات میں بخوبی کیا جا سکتا ہے -

دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ دور کے ادیب شاعر مصور اور فن کار  کس طرح ان کیفیات کو اپنی تخلیقات میں سمو کر ذریعہ اظہار بنا تے ہیں جو آج کے انسانوں کو مشکل حالات میں عزم و حوصلہ اور ضمیر کی بیداری میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں -

دیدبان کا تازہ شمارہ اپنے جلو میں کچھ ایسی ہی تخلیقات کے ساتھ  ترتیب دیا گیا ہے - گو وباء ابھی جاری ہے اور کوشش بھی اب یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ وباء کے بعد دنیا جس طرح تبدیل ہوئی یہ تخلیقات احساس کی سطح پر انسانی ضمیر کو جگانے میں  کس حد تک کامیاب ہوئی ہیں -

 اپنی اور ساتھی ایڈیٹرز سبین علی اور نسترن فتیحی کی جانب سے تمام  شرکاء بشمول ادیب ، مضمون نگار ، شاعر اور مصور کا خصوصی شکریہ جن کے قلمی و موقلمی تعاون نے دیدبان کے مابعد کورونا نمبر کی تکمیل کو ممکن بنایا - دیدبان کے سرورق کے مصور محترم چترا  پریتم  کا بے حد  شکریہ جنہوں نے اس شمارے کے لئے اپنی اعلیٰ مصوری کے فن پاروں کے عکس سے نوازا -

سلمیٰ جیلانی

بتاریخ ١٤ نومبر ٢٠٢٠

سلمیٰ جیلانی

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan. After completing her M.Com she worked as a lecturer for eight years in Karachi Commerce College. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form