اداریہ مابعد جدید ادب نمبر

May 25, 2020
دیدبان شمارہ 11اداریہاداریہ

اداریہ شمارہ ۱۱

مابعد جدید ادب نمبر

دیدبان کا گیارھواں شمارہ آپ کے سامنے ہے۔ اس شمارے کا موضوع مابعد جدید ادب رکھا گیا ہے۔

اردو ادب ہر دور میں بین الاقوامی ادب ، تحریکوں ، جنگوں بغاوتوں اور مسائل سے اثرات قبول کرتا رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے عروج کے بعد جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی فلسفے نے بھی اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کئے۔

دیدبان کے مابعد جدید ادب نمبر کا مقصد یہ تھا کہ قارئین کے لیے موجودہ دور میں لکھے جا رہے ادب میں سے مابعد جدید رجحان والا  ادب منتخب کر کے پیش کیا جائے تاکہ اس  فلسفے کے خدوخال عملی شکل میں واضح ہو سکیی۔ کیونکہ مابعد جدیدیت کی کوئی واضح تعریف متعین نہیں کی گئی ۔   شارحین کے نزدیک یہ تکثیریت کا فلسفہ ہے جو مرکزیت کے مقابلے میں ثقافتی و مقامی شراکت داری اور معنی کی تعبیر میں قاری کی شرکت پر اصرار کرتا ہے تو قارئین ان تحریروں کا مطالعہ کر کے اپنا مفہوم اخذ کرسکیں اور مابعد جدید ادب کو اپنی نظر سے پرکھ سکیں۔

تاریچ کبھی دائرے میں سفر کرتی ہے تو کبھی  خطوط میں ۔ مابعد جدیدیت میں  یہ رجحان غالب رہا ہے کہ تاریخ ہمیشہ آگے کی سمت سفر نہیں کرتی بلکہ اس میں عدم تسلسل ہوتا ہے۔  ابھی یہ شمارہ تیاری کے مراحل میں تھا کہ کرونا کی عالمگیر وبا پھوٹ پڑی۔ چند صدیوں بعد عالمگیر وباؤں کا پھوٹنا فطرت کے سیلف کنٹرول کا حصہ رہا ہے۔ مگر اس وبا کے پس منظر میں بڑے پیچیدہ سیاسی و اقتصادی معاملات بھی موجود ہیں۔ اسوقت جب دنیا نے ماڈرن اور پوسٹ ماڈرن دور کے دوران اتنی سائنسی  و

صنعتی ترقی کے علاوہ  سائبر ٹیکنالوجی اور وار ٹیکنالوجی میں بیش بہا کام ہوا  مگر عالمگیر وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں یہ انسان  بے بس نظر آیا ۔ یہاں تاریخ کا سفر لازما آگے کی سمت نہیں رہا۔بلکہ دنیا گلوبلائزیشن سے سمٹ کر سیلف ائسولیشن کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ گویا تاریخ ایک دائرے میں سفر کرتی  پھر سے انسان کو سماجی طور پر محدود کر دے گی۔ کچھ مفکر گلوبلائزیشن کو مابعد جدیدیت کا دوسرا رخ قرار دیتے رہے ہیں۔۔اس پس منظر میں دیکھیں تو دریدا جیسے مفکر کی رد تشکیلیت خود مابعد جدید نظریات پر بھی لاگو کی جا سکتی ہے۔   دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے لے کر پسماندہ ترین اقوام تک سب کرونا وائرس سے ایک ہی طرح متاثر ہوئے۔ ایٹمی روایتی و کیمائی اسلحے کے انبار انسان کے کسی کام نہیں آ رہے کہ اس جنگ میں اس کا مقابلہ محض ایک سالمے آر این اے سے بنے وائرس سے ہے۔ عین ممکن ہے مابعد جدیدیت کے بعد مابعد کرونا  دور میں وائرس کا یہ عہد  کسی نئی فلسفیانہ تحریک کا پیش خیمہ بن جائے۔

 مابعد جدیدیت نے جس طرح بہترین شے  کا تصور تبدیل  کیا  اسی طرح بین الاقوامی اور مقامی ادب بھی مختلف رجحانات سے متاثر ہوتا  بہترین ادب کا تصور تبدیل کرتا رہتا ہے اسی لیے کہا گیا کہ حاشیے پر رہ کر لکھا جانے والا ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ مرکزی دھارے میں موجود ادب ہے۔ بہترین کے تصور کی تبدیلی نے سماج میں بھی بڑی تبدیلیاں رائج کیں۔ لوگوں میں مقابلہ کی فضا بڑھی اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ نئی نسل کے لیے اس مقابلہ میں آگے نکلنے کی  تگ و دو بھی بڑھتی چلی گئی۔

مابعد جدیدیت مختلف علوم کی شیرازہ بندی کرتی ہے ثقافتی مباحث فلسفہ  فںون لطیفہ جن میں  جامد و متحرک آرٹ فن تعمیر ادب تنقید سب شامل ہیں۔

دیدبان نے کوشش کی کہ ان تمام مباحث پر مواد کو شامل کیا جائے۔

دیدبان  کے حالیہ شمارے میں موصول ہونی والی تحریروں میں سے چنیدہ تحریریں موضوع کی مناسبت سے شامل کی گئی ہیں ۔ مابعد جدید مباحث پر تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی قارئین کے افکار کی مہمیز کے لیے موجود ہیں۔

فںون لطیفہ کی آبیاری میں دیدبان نے ادب کے ساتھ مصوری کو بھی اُتنی  ہی اہمیت دی یے۔ حالیہ شمارے کے مصور اسرار فاروقی ہیں انکے فن پاروں میں پیلٹ نائف کا کام بہت عمدہ ملتا ہے ۔ ان کے سٹی سکیپ میں  شوخ رنگوں میں مقامی ثقافتوں کو خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔  مقامی ثقافت جو کہ مابعد جدیدیت کا ایک رنگ ہے اپنی تماتر خوبصورتی کے ساتھ ان کے کام میں موجود ہے۔

دیدبان ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور بڈنگ ٹیلنٹ کے عںوان سے اس نے کم سن مصوروں و مصنفوں کی تخلیقات کو ایک الگ حصے کے طور پر شائع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی ادب سے تراجم کے علاؤہ اردو و  علاقائی ادب سے دیگر زبانوں میں تراجم کو بھی نمایاں شامل کیا جا رہا ہے۔  انگریزی زبان میں لکھے مضامین و تخلیقات بھی جریدے کا حصہ بنتے رہیں گے ۔

اگلے شمارے کا موضوع

کرونا اور اس کے سماجی اثرات پر ترتیب دیا جائے گا۔ اس حوالے سے اپنی تحریریں دیدبان کو ارسال کی جا سکتی ہیں۔

سبین علی

سبین علی

Sabeen Ali is a short story writer, poet, literary critic, and one of the editors of Deedbaan online literary magazine. She is from Lahore Pakistan, currently living in Jeddah, Saudi Arabia.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form