اداریہ - ' شمارہ - ٣‘ سبین علی

March 16, 2016
شمارہ - ٣، ماحولیاتی تنقید اداریہ

دیدبان شمارہ سوم 

اداریہ 

از سبین علی 

دیدبان کا تیسرا شمارہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے_  پہلے دو شماروں پر 'دیدبان' کی  جس طرح پزیرائی و حوصلہ افزائی کی گئی اس نے برقی ادبی جریدوں میں ایک نئی سمت متعین کرنے کا کام سر انجام دیا ہے-   اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سائیبر دور میں برقی کتب و جرائد مطبوعہ جرائد سے کہیں زیادہ وسیع حلقے تک پہنچ رکھتے ہیں   لیکن  کتاب کی اپنی الگ اہمیت کے پیش نظر  دیدبان میں شامل  منتخب تخلیقات کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ اس جریدے کو ان حلقوں تک پہنچائے گا جو تخلیقات کو کتابی شکل میں پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں-دیدبان کا تیسرا شمارہ ماحولیات پر خاص نمبر ہے-  ایکو کریٹیسزم یا ماحولیاتی تنقید اردو ادب میں ایک نیا رجحان ہے-  پچھلی صدی میں جہاں رومانوی تحریک ،ترقی پسندی  جدیدیت مابعد جدیدیت  اور پوسٹ کالونیل جیسی کئی تحریکیں یکے بعد دیگرے وجود میں آتی رہیں وہیں بیسویں صدی کے اختتام اور  اکیسویں صدی میں صنعتی ترقی، بڑھتی ہوئی آبادی،  جنگوں اور قدرتی وسائل کے ضیاع کے باعث انسان پر جو دباؤ پڑا اسے ادب کا حصہ بھی بنایا جانے گیا-  قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کی اس بڑے پیمانے پر تباہی ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی _ انسان نے  قلیل مدتی مفادات کے لیے ناقابل تجدید معدنی ذخائر کا نہ صرف بے دریغ استعمال کیا ہے بلکہ دریاؤں بڑی جھیلوں سمندروں پہاڑوں اور زمین کی فطری تزئین و ڈھانچے  کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے - بسا اوقات فطرت ان عوامل کو دھیرے دھیرے سہتی رہتی ہے جیسے سمندروں اور دریاؤں کا آلودگی ختم کرنے کا قدرے سست مگر خودکار  نظام ہے-  لیکن  کئی بار  فطرت قدرتی ماحول میں تبدیلی پر  بہت سخت ردعمل کا اظہار کرتی ہے- ارل سی کا خشک ہو جانا( جوکہ انسانی تاریخ کا بدترین ماحولیاتی سانحہ مانا جاتا ہے)  بیسویں صدی کے اختتام پر ماحولیات کے حوالے سے دنیا بھر کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا

  شاعر و ادیب اپنے معاشرے کے تئیں حساس ترین افراد ہوتے ہیں- ماحول اور قدرتی وسائل کی اس تباہی نے مصنفین و شعراء کو اس جانب راغب کیا کہ ان مسائل کو ادب کا حصہ بنایا جائے-  یوں بیسویں صدی کے اختتام تک ماحولیاتی ادب و تنقید اپنے خدوخال وضع کر چکے تھے- ماحولیاتی ادب انسان اور غیر انسانی ماحول کو زیر بحث لاتا ہے جس میں بڑھتی ہوئی آلودگی، پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال، شہری آبادیوں کا پھیلاؤ، ماحولیاتی انصاف ، جانوروں اور پودوں  کی کئی پر انواع  کا بقا کے خطرے سے دوچار ہو جانا اور بے لگام صنعتی و تجارتی ترقی کی چھتری تلے زمین کی تباہ شدہ فطرت و ماحول کے مسائل شامل ہیں- ماحولیاتی تنقید یا ایکو کریٹیسزم کا لفظ پہلی بار ۱۹۷۴ء میں ولیم ریوکرٹ کے مضمون Echology and literature میں ملتا ہے- اس کے بعد ماحولیات و ادب کے تعلق کے حوالے سے متفرق مضامین تو گاہے گاہے لکھے جاتے رہے  لیکن ایکو کریٹیسزم  کی پہلی باقاعدہ لہر ۱۹۹۶ء  میں دیکھنے میں آئی-  دوسری لہر  ۲۰۰۰ء کے درمیان میں اٹھی اور دنیائے ادب کو ایک نئے تنقیدی رجحان سے روشناس کرا گئی- ماحولیاتی ادب کے حوالے سے دنیا کے کئی معروف ادیبوں اور ناولوں کے نام لیے جا سکتے ہیں-   اس عرصے میں مرتب ہونے والا بہت سا ادب  ماحولیاتی تباہی کا نیا بیانیہ بنا The invincible (1973), Nahuin (1976) ,The Issa vally (1981), The man who planted trees (1985), Golden UFO Indian poems (1992),Seven trees against the dying light (2007)جیسی کئی کتب ایکو کریٹیسزم کی پہلی و دوسری لہر کا نمایاں حصہ بن کر سامنے آئیں جاپانی ادیب  ہاروکی موراکامی جو انسان اور مشینوں کے بیچ فاصلہ کم کرنے کے خواہاں ،پھولوں پتوں اور جانوروں کی بات کرتے ہیں، ان کے کردار  راکٹ نہیں بننا چاہتے بلکہ وہ درخت بننا چاہتے ہیں جن کی شاخوں پر محبت کے پھول کھلتے ہیں- وہ جدید ترین اور  ترقی یافتہ قصبے میں چڑیا گھر کی بندش اور ہاتھی کی گمشدگی پر پریشان ہیں-  ہاروکی موراکامی کی تخلیقات  ماحولیاتی ادب کا بڑا نام ہیںاردو ادب کا  جائزہ لیں تو انتظار حسین کے افسانوں مضامین اور اخباری کالمز میں ماحولیاتی ادب کی بہت زیادہ جھلک ملتی ہے. پاک و ہند  کے ایٹمی دھماکوں کے بعد لکھا گیا مور نامہ ہو یا لاہور کینال کے گرد لگے درختوں کو کاٹنے کی مخالف مہم وہ ہر موقع پر فطری ماحول کے تحفظ کے لیے قلم اٹھاتے رہے-  بجلی کے تاروں پر بیٹھی شاما چڑیا، نیل کنٹھ ،دھوبن چڑیا،  مور بندر  اساطیر کے علاوہ ان کے متون میں ماحول اور فطرت کی بھی عکاسی کرتے ہیں اردو ادب میں ماحولیاتی ادب و تنقید کی پہلی اور اہم لہر رواں سال ہی دیکھنے میں آئی. انتظار حسین کے علاوہ بھی کئی اردو ادیبوں نے ماحول و جنگلی حیات کی تباہی کے پس منظر میں افسانے و نظمیں لکھیں جن میں شاہد جمیل احمد ، محمد حمید شاہد ،زاہدہ حنا، نسترن فتیحی، سبین علی، غزال ضیغم،  انجم قدوائی، توصیف احمد ملک ، سلمی جیلانی، عذرا نقوی اور  دیگر کئی نام شامل ہیں _ ماحولیاتی تنقید کے حوالے سے اردو کے تنقیدی دبستان میں  اسی سال منظر عام پر آنے والی کتاب 'ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ' ماحولیاتی ادب کی موجودہ لہر میں اپنی طرز کی پہلی اور  رجحان ساز کتاب بن کر سامنے آئی ہے

 دیدبان کے ماحولیاتی ادب پر خاص نمبر نکالنے کا مقصد یہ تھا کہ نہ صرف ادباء مصنفین و شعراء میں اس موضوع کی مناسبت سے لکھنے کی تحریک پیدا کی جائے بلکہ ایکو کریٹیسزم کی ذیل میں تنقید مضامین و مقالہ جات بھی ایک جگہ جمع کیے جا سکیں- اگرچہ اس شمارے میں شامل تمام افسانے و مضامین اس ذیل میں نہیں ہیں لیکن دیدبان نے ایک محرک کا کردار ادا کرنے کی کوشش ضرور کی ہےہماری یہ کاوش عام قارئین سے لے کر ارباب اختیار و اہل قلم میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کی سعی بھی ہے-  یہ کاوش کس حس تک کامیاب رہی آپ کی آراء کا انتظار رہے گا_ آخر میں ان تمام مصنفین، ناقدین و شعراء کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جن کی تخلیقات  سے یہ شمارہ سجا ہے اور ان قارئین کا بھی جو دیدبان کی ویب سائیٹ مسلسل دیکھتے اور اپنی آراء سے آگاہ کرتے رہتے ہیں  

سبین علی

سبین علی

Sabeen Ali is a short story writer, poet, literary critic, and one of the editors of Deedbaan online literary magazine. She is from Lahore Pakistan, currently living in Jeddah, Saudi Arabia.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form