شمارہ ۔۹

دو گز زمین

عمارہ جہاں

بس ہچکولے کھاتی آگے بڑھ رہی تھی ۔سڑک کا کچا پن روانی میں آڑے آرہا تھا ۔اس کی نیم مردہ آنکھیں خشک تھیں۔ وہ رو رو کر آنسوؤں کو بہا چکا تھا۔ اب کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ دکھتے سر کو بہ مشکل گھما کر اس نے ساتھ والی سیٹ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر دوپٹہ پڑا ہوا تھا۔ وہ چند لمحے دیکھتا رہا ،دیکھتا رہا،،،،، اور پھر اس کا زہن کئی ماہ پیچھے کی جانب ہمکنے لگا۔ اسے یاد تھا گاؤں میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ باپ کی وفات کے بعد ماں کے ساتھ دوسروں کی زمینوں پر کام کرتے ہوئے ان کا گزارا اچھا خاصا ہو رہا تھا ۔پھر ایک دن ماں کھانستے ہوئے خون تھوکنے لگی ۔وہ کھانس کھانس کر نڈھال تھی۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ معمول بن گیا ایک ہفتے میں ماں بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ۔ماتھا یوں تپتا ،جیسے گرم گرم انگاروں سے سینکا گیا ہو۔ ماں بستر سے لگ گئی تھی۔ گاؤں کے حکیم کے ٹوٹکوں اور ڈسپنسری کے دواؤں سے کچھ نہ ہوا تو ایک دن اس نے ماں کو اٹھا لیا ۔جمع نقدی جیب میں رکھی اور شہر جانے والی بسس میں بیٹھ گیا ۔ماں برابر کھانسے جا رہی تھی۔ شہر جا کر بس سٹاپ سے اتر کر وہ ماں کو بہ مشکل تھامے پریشان نگاہوں سے لوگوں کا ہجوم دیکھ رہا تھا تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا ایک بچہ رونے لگا تو اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا ۔بچہ کسی بات پر جھنجلایا ہوا لگ رہا تھا اور منہ پھاڑ کر رو رہا تھا ۔اس کی ماں اسے ٹافی کا لالچ دے کر چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے ایک نظر برابر والی سیٹ پر ڈالی۔ دبلا پتلا سا وجود چادر سے ڈھکا ہوا تھا ۔چہرہ بھی مکمل ڈھانپاگیا، جس سے ایک نظر دیکھنے والے کو یوں لگتا تھا کہ کوئی تھکا ہارا مسافر بس میں بیٹھتے ہی سوگیا ہے ۔خیالات کی پرواز پھر بلند ہوئی آنکھوں کے پردے پر پھر سے ماضی لہرایا۔

بس سٹاپ میں اسے اپنے بچپن کا دوست ملا تھا جو شہر میں ایک سیٹھ کی کوٹھی پر صفائی ستھرائی کا کام کرتا تھا ۔دوست کو جب اس کے حالات کا پتا چلا تو وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔دوست کے ساتھ سیٹھ کی کوٹھی پر وہ آ تو گیا تھا، لیکن دوست پر بوجھ بننے کا سوچ کر ہچکچا رہا تھا۔ اس کی ہچکچاہٹ دیکھ کر دوست نے اپنی بیگم صاحبہ سے بات کر لی اور اس کی پوری کہانی رو رو کر سنائی۔ بیگم صاحبہ اس کے آنسو دیکھ کر پسیج گئی اور اسے بھی کوٹھی میں ملازم رکھا گیا۔

آہ۔۔!وہ دو ماہ ۔۔۔

اس کے دل سے آہ نکلی۔ وہ مالی کی معاونت کرتا تھا ۔جس کے بدلے میں اسے اور اس کی ماں کو کوٹھی کے پچھلی طرف رہنے کے لئے ایک کمرہ دیا گیا۔ دو وقت کی روٹی دی جاتی لیکن روٹی کے پیسے بھی تنخواہ سے کاٹ لئے جاتے ۔ماں کا علاج اس نے اپنی جمع شدہ نقدی سے کرانا شروع کیا ۔ہسپتال میں مختلف ٹیسٹ کئے گئے ۔اور جب چیک اپ کا مرحلہ آیا تو اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے۔مہینے کے آخری دن چل رہے تھے۔ وہ تنخواہ کی امید پر دن گن کر گزارتا رہا ۔تیس دن پورے ہو گئے تو اس کے ہاتھ پر سات ہزار رکھے گئے ۔

"تمہیں میں نے تمہارے دوست کے کہنے پر مالی کی مدد کے لئے رکھا ہے ،ورنہ تم تو پودوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔"

بیگم صاحبہ نے اسے دیکھ کر کہا تھا ،اور پھر اپنا پرس اٹھا کر باہر چلی گئیں۔

وہ دوست سے ادھار لے کر اور اپنی تنخواہ بھی ملا کر ماں جی کو ہسپتال لے گیا ۔ڈاکٹر نے ٹی بی بتایا تھا ۔ماں کی دوائیاں خرید کر اس نے جیب سے نکال کر گنے توتین سو پچاس رہ گئے تھے۔شہر آئے دوسرا مہینہ تھا،جب ماں نیم غنودگی کی حالت میں رہنے لگی۔ وہ مکمل ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی ۔

اور پھر ایک دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پلکیں آہستہ آہستہ نم ہونے لگیں۔اور ایک دن ماں مر گئی تھی۔ پورے دو گھنٹے وہ بے یقینی کی حالت میں ماں کا چہرہ دیکھتا رہا ،جیسے وہ ابھی اٹھے گی اور اس کا ماتھا چومیں گی۔ لیکن ماں نہیں اٹھیں۔سورج جب سر پر آرہا تھا تب اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے آنکھیں خشک کئے۔ اپنے دوست کی طرف دیکھا ،جو ایک کونے میں بیٹھا بہت غمزدہ تھا ۔دونوں کی نظریں ملیں۔ دوست اس کی آنکھیں پڑھ گیا۔

''کفن دفن کا انتظام کرتے ہیں۔"

وہ سر اثبات میں ہلا گیا ۔اس کا دوست باہر نکل گیا ۔

اسے یاد ہے وہ باہر سے دو تین گھنٹے بعد آیا تو نا امیدی میں پور پور ڈوبا ہوا تھا۔

''قبریں بہت مہنگی ہیں۔"

اس کی سوالیہ نظروں کا جواب زبان سے دیا گیا۔

"میرے پاس تین سو پچاس روپے ہیں۔"

"بیس ہزار ۔ ۔ ۔ "

''کیا؟"

اسے دھچکا لگا ۔

''ہاں بیس ہزار ،،،،کالونی کے قبرستان کے منتظمین زمین اور کھدائی کا ملا کر بیس ہزار مانگ رہے ہیں۔"

اس نے نفی میں سر ہلایا ۔کیا کریں ماں کی لاش دری پر اس طرح پڑی ہوئی تھی جیسے چپکادی گئی ہے ۔دونوں نے ایک نظر دیکھا۔

کھلا ہوا منہ ۔ ۔

ادھ کھلی آنکھیں۔

لاش ابھی تک یوں ہی پڑی ہوئی تھی۔

''اور کفن ؟؟"

بیٹے نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔

"تیار شدہ کفن کی قیمت دو ہزار ہے۔۔۔۔۔ لے آؤں؟"

دوست اٹھا ۔اس نے ایک نظر ماں کی طرف دیکھا ۔بے ساختہ لبوں سے نکلا۔

"اور قبر؟؟"

''میں بیگم صاحبہ سے بات کرتا ہوں، شاید وہ کچھ مدد کریں۔"

دوست باہر نکل گیا ۔پیچھے وہ پھر ماں کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا،جیسے ان کا لمس محسوس کرنا چاہتا ہو۔ اس کے اندر مزید سکت نہیں رہی تھی ۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ماں کی جگہ خود لیٹ جائے اور نکل جائے اس خود غرض دنیا سے ۔آنکھ کے کنارے بھیگنے لگے۔

آدھ گھنٹے بعد دوست آیا تو نظریں چرا رہا تھا۔

"بیگم صاحبہ کہ رہی ہے:

واپس گاؤں جاؤ ۔وہاں جا کر کفن دفن کر لینا۔ "

وہ چند لمحے رکا۔

'' اور شام کو یہاں پارٹی بھی ہے۔۔۔ بیگم صاحبہ کہ رہی ہے شام سے پہلے ،پہلے واپس جاؤ ۔"

"میں نے تین بجے والی بسس سے تمہارے ٹکٹ لئے ہیں ۔ایک تمہارا اور ۔ ۔ ۔ وہ رکا ۔ ۔ جھجکا۔ ۔ ۔ ہچکچایا۔ ۔ ایک ماں جی کا۔ ۔ "

اسےیاد تھا ،جب وہ ماں جی کو بازؤوں میں اٹھائے بس میں داخل ہو رہا تھا تو سورج غروب ہونے والا تھا۔

بچے کے رونے کی آوازیں پھر بلند ہوئیں ۔اس کے خیالات بکھر گئے ۔اس نے مڑ کر دیکھا ۔بچہ منہ پھاڑ کر رو رہا تھا۔اور ماں چپ کرانے کی کوشش میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔

اس نے ایک نظر ساتھ والی سیٹ پر ڈالی۔ ماں کی لاش پر چادر پڑی ہوئی تھی۔جب وہ ماں کو بازوؤں میں اٹھا کر بس میں سیٹ کی طرف لا رہا تھا تو سب کی آنکھوں میں اس کے لئے ستائش تھی ۔وہ سب اسے ایک بیمار کا خدمت گزار سمجھ رہے تھے۔۔ ۔ ۔ ۔

اس کا دل کرلا رہا تھا ۔ہر دفہ جب وہ برابر والی سیٹ پر نظر ڈالتا تو اکڑی ہوئی لاش چادر کے نیچے سے نظر آتی ۔ ایک ہاتھ سے چادر برابر کرتا اس کا دل دھاڑیں مار مار کر روتا تھا۔بس ہچکولے کھانے لگی۔ سڑک پر پھر شاید کوئی کھڈا آگیا تھا گاؤں جانے والا رستہ لمبا بھی تھا اور خراب بھی تھا۔جگہ جگہ کھڈے بنے ہوئے تھے۔بس ہچکولے کھاتے دھیرے دھیرے سے گزر رہی تھی کہ ایک دم جھٹکا کھا کر رکی اور ۔ ۔ ۔ ماں جی کی لاش اچھل کر آگے جا کر گر گئی ۔چادر منہ سے ہٹ گئی تھی ۔کھلا ہوا منہ، ،، جس میں سے باقی دو بچے ہوئے دانت نظر آرہے تھے۔ ادھ کھلی آنکھیں بے جان تھیں،،،، ان میں کوئی روشنی کوئی چمک نہیں تھی۔سوکھی چمڑی ،گال پچک گئے تھے ،چہرہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ۔

پیچھے والی سیٹ والا بچہ ایک دم چینخا ،،اور چینختا گیا۔نوجوان اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور ایک شور سا اٹھا ۔

"ارے یہ تو لاش ہے ۔"

"لاششششش"""

کئی چینخیں ایک ساتھ اٹھیں۔

آوازیں بڑھتی گئی ۔وہ ساکت ماں کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جو اب بلکل بے جان ھا اور بالکل پچک گیا تھا ۔کنڈیکٹر لوگوں کا شور سن کر پیچھے آگیا۔

"کیا ہوا ہے؟"

"اسے باہر نکالو یہ لاش لے کر گھوم رہا ہے ۔"

"ارے۔۔۔۔۔۔! باہر پھینک دو۔"

"ہم اس بس میں سفر نہیں کریں گے ۔"

ایک لڑکی چلائی ۔لوگ چلا رہے تھے ۔بچے کی رونے کی آواز بتدریج تیز ہو رہی تھی۔ کہ کنڈیکٹر نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا۔

" یہ لاش لے کر باہر نکلو اور کسی ایمبولنس میں جاؤ۔"

وہ چپ چاپ کھڑا رہا یوں جیسے گونگا ہو گیا ہو۔

"سنائی نہیں دے رہا ۔"

پیچھے کی سیٹوں سے ایک نوجوان چلایا۔

"نکلو۔"

کئی آوازیں ایک ساتھ گونجنے لگیں۔لوگ بار بار ایک ہی لفظ کہنے لگے ۔

"باہر نکلو،،،، نکلو۔"

اس کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی۔ وہ جلدی سے جھکا اور ماں کو اٹھا کر اپنے بازوؤں میں بھر لیا ،،جیسے کسی قیمتی متاع کو سب سے چھپانا چاہتا ہو۔ بس اسے سڑک پر اتار کر آگے روانہ ہو گئی تھی۔وہ ماں کو سینے سے لگائے سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔دورور تک کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔ شام ڈھلنے کو آرہی تھی ۔اچانک اس کے قدم سڑک کے بائیں طرف نیچے کی جانب اٹھنے لگے۔ جہاں ایک ڈھلوانی راستہ تھا۔ اس کے قدم تیز تیز نیچے بڑھتے جا رہے تھے۔ ڈھلوان کے اختتام پر آگے ایک بھپرتا ہوا دریا جا رہا تھا۔جو لہراتا بل کھاتا بنا رکے آگے بڑھ رہا تھا۔ زمین پر ہلکی ہلکی سیاہی پھیل گئی تھی۔ایک اور کالی اور اندھیری رات آنا ہی چاہتی تھی۔دریا کے بالکل کنارے کھڑے ہو کر اس نے آسمان کی طرف ایک شکوہ بھری نگاہ ڈالی۔اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور ماں کی ادھ کھلی آنکھ میں جا گرا۔اگلے لمحے اس نے دونوں بازوؤں دریا کے اوپر وا کردیے۔

ختم شد

عمارہ جہاں

عمارہ جہاں کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ عمارہ تھڑڈ ائیر کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے جنوری دو ہزار اٹھارہ سے لکھنا شروع کیا ہے ۔اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ میں انکی کہانیاں شائع ہو چکی ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form