دو نظمیں : جمیل الرحمن

March 25, 2021
دیدبان شمارہ ۱۳ مابعد کرونا ادب نظمیں

پرومیتھیوس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کسی پتھر کی طرح اپنے آپ سے بندھا ہوا ہوں

میں اپنی لکھی ہوئی نظموں کی آگ میں جلتا

اور ایک بچھڑی ہوئی محبت کی بانہوں میں راکھ ہو جاتا ہوں

میری نظمیں مجھ میں وہ پھول کھلانے سے قاصر ہیں

جن کے موسم مصلحت کیش ہوا کے قبضے میں ہیں

میں ایک برہنہ شاخ کی طرح

درختوں سے جھڑتے پتوں میں اپنا ستر ڈھونڈتا

اور باغ کی کسی روش پر دھول ہو جاتا ہوں

میں دھول اور راکھ کی وہ کتھا ہوں

جسے زندگی کی پیشانی پر

بھبھوت کی طرح مل دیا گیا ہے

میں اُن علامتوں کا نوحہ ہوں

جن کے سچ کو تسلیم نہیں کیا گیا

مگر جن کے جھوٹ کو بھی

بزم آرائی کی اجازت نہ مل سکی

وقت لوہے اور سیمنٹ کو پھلانگ کر سلیکون کی طرف نکل گیا

اور کاغذ کی لاش پر

کمپیوٹر کی سکرین کی کوری چادر آگری

جس پر بے حسی نے اپنے آپ کو از سرِ نو تحریر کیا

کوک اور کافی سے مہکتی راہداریوں میں

اسٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار

بلبلوں کی طرح ابھرتے اور پھوٹتے رہے

اور لوگوں نے نیون سائینوں کے تلے

ایک دوسرے کو پڑھنا چھوڑ دیا

میں موت اور زندگی کے درمیان

معلّق

اپنی نظموں کی آگ میں مسلسل جلتے ہوئے

اُس محبت کی بانہوں میں راکھ ہو رہا ہوں

جس کے قدموں کے نشان بھی اُس کی آہٹوں کی طرح کھو گئے ہیں

یہ نظمیں آتشِ رفتہ کا سراغ پا سکیں

نہ اُن آیتوں کی طرح دلوں پر منکشف ہوئیں

جنہیں نئے مکہ کے سرداروں نے جھٹلا دیا

اور انہی پتھروں سے ان کا استقبال کیا

جن سے یہ فرّاٹے بھرتی ابھری تھیں

کیا ہوا کے بازوﺅں سے اُن کی طاقت

اور مجھ پر برستے بادل کے پانی سے تاثیر چھن گئی ہے

یا میں وہ پرومیتھیوس ہوں

جسے آگ چرانے کے جرم میں

دل کی چٹان سے یونہی بندھا رہنا ہوگا؟!

جمیل الرحمن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک نئی عمر کی خواہش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برسوں کی آبلہ پائی کا بوجھ سنبھالے

میرے قدم کسی راستے میں جم نہیں سکے

سائینس نے میری کم وقعتی اور بے حیثیتیمیں

اپنے تیزناخن گاڑ دیے

فلسفہ مجھے کائینات کے مرکز سے بے دخل کرنےپر تلا رہا

ادب مجھے اُن راستوں میں لے گیا

جن میں دُور دُور تک گھاس اُگی ہوئی تھی

 

تکنیکی ارتقاءمجھے ایک خودکار مشین میںڈھالنا چاہتا ہے

مگر مجھے میری محبت کے وفور نے نڈھال

اوراپنے اندر نہاں دوسرے کی بے ثمر کھوجنے

شکستہ حال کر دیا ہے

اب میرے مشکیزے میں شراب کی ایک بوند

اور خرجین میں ستّو کی ایک پھانک تک باقینہیں

 

اُس نے مجھے اندھیرے میں چھوڑ دیا ہے

میرے پاس اپنی طرف لوٹنے کے سوا

اب اور کوئی راستہ نہیں

اُس صبح کی طرح

جو اپنی آنکھوں میں دھڑکتا ہوا دل

اور پیشانی پر نور لیے طلوع ہوتی ہے

معصوم قلقاریوں میں

ایک نئی نکور عمر کا آغاز کرنے کے لیے!             جمیل الرحمن

Jameel-ur-Rahman

Poet Jameel –ur –Rahman, born at Mohammad Nagar, Lahore, Pakistan on 22 January 1954. He started writing at the age of fifteen, and his very first GHAZAL was published at the age of 17 in, BEESWIN SADI, Delhi, which was a monthly Literary Journal. He has been very active in literary state of affairs since 1975, when literary magazine ‘Funoon’ published his five poems, one of them was considered as the best poem of the year by the Editor Saleem ur Rehaman.

So far his poems have published in almost all distinguished literary magazines of Pakistan and India ; including Funoon, Makalma, Irtekaz, Takhliq, Biyaz from Lahore and in number of literary magazines from India including Shab khoon , Zehan e Jadeed ، Asbaat،Shair and Istifsaar are some of renowned literary magazines.

Jameel ur Rehman is recognised as Poet & Literary Critic. His major areas of interest are Literature and journalism especially International literature and Urdu language, Science Badie & Communication (Rhetoric knowledge).

He migrated to West Germany in September 1977at the age of twenty three, then in October 1982, moved to Netherlands where he lived till October 2008 . Since October 2008 he finally settled in UK London.

Literary work (Poetry books):

1 - Poetry of resistance “Zameen jab ankh kholey gi” (when Earth will open its eye), 1996

2 - Poems, songs & madrigals “Lahoo ki boond boley gi”(The drop of blood will be spoken), 2004.

3. Poems, songs & madrigals “Ham pay Soraj kaheen dobta hi nahin (Sun doesn’t sets anywhere for us), 2007.

4. Poems, “ Khawab, Hawa aur Khushboo” (Dreams, breeze and fragrance ),2008.

5. Poems, “Carnival” , 2012.

6. Ghazals, “ Koey-e- Bazgasht” ,2012
7.Poems,Mural 2014
8.Poems,Khlazaad 2016
9.Poems of resistance,,Lahoo ki Lakeer Par 2017

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form