دوجی مِیرا

ہندی کہانی: سندیپ میل

اردو ترجمہ : عامر صدیقی



گاؤں کے گواڑ پر کھیلتےبچوں کو جب چودھری کے قدموں کی آہٹ کا احساس ہو جاتا، تو پل بھر میں ساراگواڑ خالیہو جاتا تھا۔ بچے کسی جادو کے زیرِ اثر غائب ہو جاتے اور کسی بچے کا چہرہ اگرچودھری کو دِکھائی دے گیا تو سمجھو اُسکی گھر میں خیر نہیں۔ ماں باپ سب کہیں گے کہتو گواڑ میں گیا ہی کیوں تھا؟

اب چودھری کل ہی صبحگواڑ سے نکلتے وقت ٹوک دے گا،’’تیرے چھورے آج کل خوب کھیل رہے ہیں!‘‘

پھر سارے گھر میںچودھری کے بارے میں بحث شروع ہو جائے گی۔

چودھری کا پورا نامکانارام چودھری تھا۔ گاؤں کے گواڑ کے مشرق میں، بالکل ملی ہوئی چودھری کی حویلی کےوسیع دروازے کے سامنے گواڑ بونا سا لگتا تھا۔ دروازے کے دونوں طرف دو چبوترے تھے،جن پر ہردم ایک حقّہ، سیمنٹ فیکٹری کی طرح دھواں اگلتا رہتا تھا۔ ان چبوتروں پربیٹھنے والے لوگ عموماً درمیانی عمر کے ہی ہوتے تھے۔بائیں چبوترے پر چودھری کی چارپائیلگی رہتی تھی، جس پر اونٹ کے بالوں کی بنی دری بچھی رہتی ۔ قد ساڑھے چار فٹ کاتھا۔ معمولی سی شکل و صورت اور ساٹھ کلو کے قریب وزن والے چودھری کی آواز بھیبالکل معمولی تھی۔ اسی چارپائی کے دائیں طرف ایک لکڑی کی کرسی رکھی رہتی تھی، جسپر چودھرائن براجمان ہوتی تھی۔ چودھرائن کے نام کا تو کسی کو پتہ نہیں تھا۔ لوگکہتے تھے کہ چودھری اسے پہاڑوں سے اٹھا کر لایا تھا، اس لئے گاؤں والے اس کو’’ڈونگری دادی‘‘ کہتے ہیں۔

گورا بدن، ساڑھے پانچفٹ کی لمبائی اور تیکھی آواز والی ڈونگری دادی سے چودھری بھی خوف کھاتا ہے۔ گاؤں میںجب بھی کوئی معاملہ الجھ جاتا ہے ،تو اس کا تصفیہ اسی چبوترے پر ہوتا ہے اور ہمیشہجج ڈونگری دادی ہی بنتی ہے۔ چودھرائن کے پاس اپنا چھوٹا حقّہ رہتا ہے ،جس کو منہلگانے کی اجازت چودھری کو بھی نہیں ہے۔ اس حقّے کے لئے ہنومان گڑھ سے خاص تمباکومنگوائی جاتی ہے۔

گردھاری کہتا ہے،’’ڈونگری دادی کے حقے سے چنبیلی کی خوشبو آتی ہے۔ اس کا کمال ہی کچھ اور ہے۔ اگر یہخوشبو ایک بار ناک سے ٹکرا جائے ،تو ناک سے زکام کی شکایت بھی چلی جاتی ہے۔‘‘

اسی لئے تو گردھاریچودھرائن سے چپک کر بیٹھتا ہے۔ وہ پانی لانے سے لے کر حقے کے لئے آگ لانے جیسےکاموں کا کسی کو موقع ہی نہیں دیتا۔ اب تو اسے یہ بھی پتہ چلنے لگا ہے کہ کبچودھرائن کو پیاس لگنے والی ہے اور کب حقے کی طلب۔ چودھری کو بھی گردھاری کی اس''خاص خوشبو'' کیلئے کی جانے والی خدمت گذاری پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ جانتا ہےکہ گردھاری کتنا ہی مرید ہو جائے، پر چودھری کی حد کو پار نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی،آج تک کسی گاؤں والے نے چودھری کے کہے کو پاٹنے کی سوچی بھی نہیں۔ ایک چودھرائن ہیہے جس کی زبان چودھری کے سامنے بھی چھری کی طرح کھچر کھچر چلتی ہے۔

گاؤں کے آدھے گواڑ پرچودھری کا غیر اعلانیہ قبضہ ہے، وہیں پر چودھری کا اونٹ بندھتا ہے اور وہیں پر پکاپ کھڑی ہوتی ہے۔ اونٹ رکھنا وہ آج بھی اپنی شان سمجھتا ہے، کہیں بھی جاتا ہے توسواری اونٹ ہی کی کرتا ہے۔ جب چوہدری اونٹ کی زین میں سفیدگدا ڈال کر روانہ ہوتاہے، تو چودھرائن حقّے سے سلام ٹھوک کر اسے رخصت کرتی ہے۔ کبھی کبھار ہونے والےچودھری کے سفر کے علاوہ، یہ اونٹ کسی بھی کام میں نہیں لیا جاتا ہے، اس وجہ سے’’بوچھاڑ ‘‘ہو گیا ہے۔ دن رات جگالی کرتے کرتے دانت گھس گئے ہیں۔ بغیر محنت کےکھانے کی وجہ سے گردھاری اونٹ کو ’’سیٹھ جی ‘‘ کہتا ہے۔

چودھرائن کے دو بیٹےاور ایک بیٹی ہے۔ بڑا والا بیٹا مہاویر، گاؤں میں کریانے کی دکان سنبھالتا ہے اورچھوٹا بیٹا بجرنگ’’ماڈرن پہلوانی ‘‘ کرتا ہے۔ یہ ماڈرن پہلوانی پرانے وقت کےاکھاڑے کی پہلوانی کی جدید شکل ہے۔ بجرنگ کسی بھی اکھاڑے میں نہیں جاتا ہے۔ اس نےاپنی حویلی کے ایک کمرے میں اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔ لوہے کی پلیٹوں سے یہیں پر دن بھرورزش کرتا رہتا ہے اور صبح شام دو کلو دودھ پیتا ہے۔ چودھرائن کا کہنا ہے کہ آج کےزمانے کے دس لونڈوں کو بجرنگ اکیلے پچھاڑ سکتا ہے۔ تاہم، آج تک بجرنگ نے کسی کوتھپڑ بھی نہیں مارا اور نہ ہی مارنے کا موقع ملا ،کیونکہ چودھری کے خوف سے گاؤںویسے ہی سہما ہوا رہتا ہے۔ بجرنگ جب بھی گاؤں کی کسی گلی سے گزرتا ہے، تو بچےپیچھے سے اسے چڑھاتے ہیں۔

’’جے بجرنگ بلی، ٹوٹےنہ مونگ پھلی ۔‘‘

’’بنے ہیں پہلوان، اٹھےنہ دو کلو سامان۔‘‘

ہاں، گاؤں کے بارے میںبتانا تو بھول ہی گیا۔ اس گاؤں کا نام امرنگر ہے۔لگ بھگ تین سو کے آس پاس گھر ہیں۔گاؤں میں تین کنویں ہیں، ایک دلتوں کے لئے، ایک برہمنوں کا اور ایک جاٹوں اورکھاتیوں کا۔ ایک ذات کے کنویں سے کوئی دوسری ذات کا پانی نہیں بھر سکتا۔ اگر کوئیپانی بھرتا ہوا پکڑا گیا، تو اسے چودھری کی عدالت میں حاضر ہونا ہوگا اور ججچودھرائن ایک طے شدہ سزا سنائے گی کہ گنہگار کو دو مہینے چودھری کے گھر میں بغیرتنخواہ کے کام کرنا پڑے گا۔

گردھاری بتاتا ہے،’’ساتبرس پہلے ایک دلت پکڑا گیا تھا ،جاٹوں کے کنویں سے پانی پیتے ہوئے۔ بارہ سال کابچہ تھا، اسکول سے آ رہا تھا۔ بدن جلانے والی دھوپ تھی۔ دلتوں کے کنویں کا پمپ چاردن سے خراب تھا۔ وہاں پانی نہ ہونے کی وجہ سے چپکے سے جاٹوں کے کنویں پر پورے پانچگھونٹ پانی پی لیا تھا۔ چودھری کا بڑا بیٹا مہاویر شہر سے پک اپ میں کھل چُوری لےکر آ رہا تھا، اس نے دیکھ لیا۔ اسی رات عدالت بیٹھی اور اسے دو مہینوں والی سزاملی۔ مسلسل دو مہینوں تک اسے چودھری کے گھر پر جھاڑو لگانی پڑی تھی۔ سارا گھر روہتکو ڈانٹتا تھا۔‘‘

روہت کے من کو اس گھرکے لوگوں کی یادوں میں سے، صرف میرا کی یادیں بے چین کرتی ہیں۔

ارے یار! آپ کو میرا کےبارے میں بتایا ہی نہیں ہے۔ چودھری کی بٹیا ہے۔ اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے ایک دمنک چڑھی۔ اس پر نہ کسی کا حکم چلتا ہے اور نہ کسی کی محبت۔ جو من میں آئے، وہی کرےگی۔

’’چودھری صاحب!‘‘

کچھ نہیں بولتے۔ اگرمیرا کو کسی نے ایک لفظ بھی کہہ دیا تو چودھرائن کھال کھینچ لے گی اور پھر اس کھالمیں کانٹوں والا بھوسا بھی بھر دے گی۔ ویسے بھی، چودھرائن کا تو نمبر ہی نہیں آتا،میرا خود ہی سامنے والے کا بھرتا بنا دے گی۔

’’عمر!‘‘

ہوگی تقریباً سولہ کےآس پاس۔

’’رنگ روپ پوچھ رہےہیں؟‘‘

اس کے بارے میں کچھ بولدیا تو قلم کی قسم آپ کے اس لکھاری کی یہ آخری کہانی ہوگی۔ خیر، جو بھی ہو، میراکی دنیا میں نہ چودھری کی سیاست تھی اور نہ ہی چودھرائن کا حقہ۔ انگریزی کیکتابیں، ہالی ووڈ کی فلمیں اور راک میوزک کے علاوہ اسے کسی سے کوئی لینا دینا نہیںتھا۔ جب میرا انگریزی میں بولتی تھی، تو گاؤں والوں کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتاتھا۔ اس گاؤں کی وہ پہلی لڑکی ہے جو شہر میں جا کر’’بی اے‘‘ کر رہی ہے۔ ویسے تو وہبی ایس سی کر رہی ہے ،لیکن گاؤں میں بارہویں کے بعد کی ساری تعلیم ’’بی اے‘‘ کےنام سے ہی جانی جاتی ہے اور اس سے آگے کوئی تعلیم نہیں ہوتی۔

جب پہلی بار میرا گاؤںسے جے پور پڑھائی کرنے جا رہی تھی، تو سارا گاؤں دیکھنے کے لئے آیا تھا۔ گواڑ میںتل رکھنے کو بھی جگہ نہیں تھی۔ چودھری نے سب کو دال باٹی چُورما کھلایا اورچودھرائن نے میرا کو مشورہ دیا،’’شہر جا کر تیرے باپ کے نام کا خیال رکھیو۔‘‘

میرا سوچ رہی تھی کہشہر میں اس کے باپ کو کوئی جانتا بھی ہے یا نہیں؟

جو بھی ہو، اس دن گاؤںمیں جشن کا ماحول تھا۔

آج تو غضب ہو گیابھائی۔ گردھاری شام کے وقت چودھرائن کے پاس بیٹھا چنبیلی کی خوشبو کا انتظار کررہا تھا۔ چودھرائن مسلسل حقّہ گڑگڑا رہی تھی، لیکن چنبیلی کی خوشبو غائب تھی۔گردھاری کو لگا کہ تمباکو بدل دی گئی ہے۔ اس نے حقے کی جانچ پڑتال کی تو تمباکو تووہی تھی۔ پھر چنبیلی کی خوشبو کیوں نہیں آ رہی؟ اس خوشبو کیلئے ہی تو وہ روزچبوترے پر آتا تھا۔ اس نے ماچس کی تیلی سے تین چار بار ناک صاف کی۔ لیکن آج کہیںچنبیلی کی خوشبو تھی ہی نہیں۔ تھک ہار کر وہ گھر آ گیا اور تقریباً ایک گھنٹے بعداس کی ناک سے پانی بہنے لگا۔ آج اسے زکام ہوگیا تھا۔

چودھری کی حویلی کادروازہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا۔ رات کو چودھری اپنی چارپائی آدھی دروازے میں اورآدھی گواڑ میں رکھ کر اس پر سوتا تھا۔ سارے گاؤں کی عورتیں بھور کو ہی پانی بھرنےکے لئے گواڑ سے گزرتیں، تو گھونگھٹ نکالتی تھیں۔ کئی بار نیند میں چودھری کی دھوتیکھل جاتی تھی اور گاؤں والے بغیر ٹکٹ کا رنگین سنیما دیکھتے تھے۔ ایک دن تو ساورملکے پوتے نے چودھری سے پوچھ بھی لیا تھا،’’دادا جی، آپ انڈروئیر کیوں نہیں پہنتے؟‘‘

چودھری کو انڈروئیر کامطلب سمجھ میں نہیں آیا اور جب میرا شہر سے آئی تو اس سے پوچھا۔ پہلے تو وہ خوبہنسی اور پھر بتایا کہ اس کا مطلب کچھا ہوتا ہے۔ گردھاری بتاتا ہے کہ اس کے بعدچودھری نے ساورمل کے پوتے کو ٹافی دینا بند کر دی۔ پتہ نہیں یہ بات گاؤں والوں کوکیسے معلوم ہوئی،اب سارا گاؤں پیٹھ پیچھے چودھری کوانڈروئیر کہتا ہے۔ آپکی اجازتہو تو یہ لکھاری بھی ، ایک گاؤں والا ہونے کی وجہ سے آگے کی کہانی میں چودھریکوانڈروئیر ہی کہے۔

تو صاحب، انڈروئیرکےچبوترے کی بیٹھک میں کئی دنوں سے گردھاری کا آنا بند ہو گیا ہے۔ اس کا زکام ٹھیکہی نہیں ہو رہا ہے۔ پہلے انگریزی ڈاکٹروں سے علاج کروایا۔ نہ جانے کتنی دوائیںنگلیں۔ دن میں تین بار ٹکیہ اور دو بار پینے کی دوا بھی لی۔ گردھاری نے زندگی میںپہلی بار انگریزی دوا لی تھی۔ بیماری ٹھیک ہونے کے بجائے بڑھنے لگی۔ جب رات کو وہپینے والی دوا لے کر سوتا تھا، توعجیب خواب آنے لگے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسےکوئی اسے تَیلی کی گھانی میں ڈال کر اس کا تیل نکال رہا ہے۔ لیکن تیل نکلتا ہینہیں تھا، جسم سے آگ نکلتی۔ پھر اس آگ سے ساری گھانی دُھو دُھوکر جلنے لگتی اوربیل رسی توڑ کر بھاگ جاتے۔ بیل بھی عجیب طرح کے تھے، ایکدم ہرے رنگ کے۔ دس پاؤںاور آٹھ سر۔ اچانک وہ اٹھتا اور نومبر کے مہینے میں ٹھنڈے پانی سے نہاتا۔ جب سر پرپانی ڈالتا ہے، تو جسم کی آگ اور تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آگ پانی کو جلاڈالے گی۔

انگریزی ادویات سے تنگآکر وہ اب مقامی ویدوں کو کھوجنے لگا۔ اس کام میں بھی اسے زیادہ مشقت نہیں کرنیپڑی، پہلے گاؤں والے کو آزمایا۔ بخار تو کم ہوا لیکن زکام نہیں گیا اور رات والےخواب زیادہ پریشان کرنے لگے۔ پاس کے قصبے کے وید کی دوا شروع کی۔ بیماری ہی عجیبتھی، رات والے خواب بند ہوئے تو ان کے ساتھ نیند بھی جاتی رہی۔ ان خوابوں کو پھربھی جیسے تیسے جھیل لیتا تھا، لیکن بغیر سوئے حالت خراب ہو گئی۔ دو تین راتیں توبیداری میں نکال دیں، لیکن اب صورتِ حال یہ ہو گئی کہ رات دن کا پتہ ہی نہیں چلتا۔

تمام دوائیں فیل ہوگئیں۔ آج صبح سے گردھاری کی طبیعت میں زیادہ گراوٹ آ گئی تھی۔ کس وید کے پاس جائے؟ایک ہی حل تھا۔ چنبیلی کی خوشبو کہیں سے مل جائے توزکام ٹھیک ہو سکتا ہے۔ یہ خیالذہن میں آتے ہی وہ مہاویر کی دکان میں گیا اور آدھا کلو والی چنبیلی کے تیل کیبوتل لے آیا۔ جب دکان سے گھر آ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اس میں خوشبو کیوں نہیںآ رہی ہے؟ کہیں جعلی تو نہیں دے دیا ہے؟ لیکن مہاویر پر اسے پورا بھروسہ تھا کہچیزوں کے دام دو روپے زیادہ ضرور لیتا ہے پر مال کھرا دیتا ہے۔ شاید بند بوتل سےخوشبو نہیں آتی ہو گی۔ گھر آکر تیل کی بوتل کا ڈھکنا کھولا۔

وہ سوچ رہا تھا کہڈھکنا کھولتے ہی پورے کمرے چنبیلی کی خوشبو پھیل جائے گی اور وہ خوشبو، ایکسپریسریل کی طرح اس کی ناک کی پٹریوں سے اندر چلی جائے گی، پھرزکام کا جڑ سے صفایا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نہ کمرے میں کسی قسم کی خوشبو پھیلی اور نہ ہی ناک کی پٹریوںپر ریل کا چھک پھک ہوا۔ آج تیل کو کیا ہو گیا؟ تیل کی ایک انگلی بھر کر اس نے اپنےناک پر لگائی، لیکن خوشبو نہیں تھی۔ اب کیا کرے؟ اس کا دل کیا کہ پوری بوتل کو گٹکجائے، شاید کچھ خوشبو تو ملے گی۔ جوں ہی تیل کی بوتل پینے کے لئے منہ کی طرف لےگیا تو خوشبو کی جگہ عجیب قسم کی بو آنے لگی۔

اب چنبیلی کی خوشبو ایکہی جگہ مل سکتی تھی، چودھرائن کے حقے میں۔

اسے آخری کوشش سمجھ کروہ انڈروئیر کی حویلی کی طرف چل پڑا۔ امید تو یہی تھی کہ بیماری ٹھیک ہو جائے گی۔آج چودھری کے چبوترے پر کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے سوچا کہ لوگ تو کھانا کھانےکیلئے گئے ہوئے ہوں گے اور چودھری کہیں باہر گیا ہوگا۔ دروازے کے اندر رکھے ہوئےحقے کو ایک بار اس نے نزدیک سے سونگھا، شاید اب چنبیلی والی خوشبو آ جائے۔ لیکنحقے سے سڑی ہوئی تمباکو کی بدبو آ رہی تھی۔ آج گردھاری کو صرف وہ خوشبو ہی بچاسکتی تھی۔ خوشبو کی چاہت میں حویلی کے اندر داخل ہوتے ہوئے گردھاری کے نتھنے باربارعجیب طرح سے پھول پچک رہے تھے۔ حویلی کے سامنے والے کمرے کے برابر میں چودھرائندھوپ میں بیٹھی پیروں پر سرسوں کے تیل کی مالش کر رہی تھی۔ نظر پڑتے ہی ایک بار تواس کے قدم ٹھٹکے اور وہ واپس مڑنے ہی والا تھا کہ چودھرائن نے آواز دے دی۔

’’آؤ گردھاری، آج تھوڑیطبیعت خراب تھی، بدن دُکھو ہو۔ سوچیوکے دھوپ میں بیٹھ کر تیل لگا لیو جاوے۔ کئیدنوں سے آئے نہیں، تیرا زکام ٹھیک ہوئی کے؟‘‘

وہ ٹھٹک کر کوئی جوابتلاش کر ہی رہا تھا کہ اچانک اس کی ناک سے چنبیلی کے تیل کی خوشبو ٹکرائی۔ اس کےبدن میں سرسراہٹ ہونے لگی۔ لیکن چودھرائن جو تیل لگا رہی تھی، وہ تو سرسوں کا تھا۔سرسوں کے تیل سے چنبیلی کی خوشبو، چودھرائن تیری مایا غضب ہے۔

’’کیا سوچو ہو بابو؟بیٹھ جاؤ، اتنے دنوں بعد آئے ہو۔‘‘ چودھرائن نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

شام کو گاؤں میں چنبیلیکی خوشبو کی طرح خبر پھیلی کہ گردھاری کا زکام ٹھیک ہوگیا ہے۔

صبح صبح گاؤں میں اخبارپڑھنے کا واحد اڈہ بھی انڈروئیر کا چبوترہ ہی تھا۔ تقریباً دو گھنٹے تک اخبار کامطالعہ ہوتا تھا اور لوگ اجتماعی طور پر خبروں پر تبصرے وتجزیے پیش کرتے تھے۔ ہرخبر پر رائے دینے کیلئے لوگوں کی اپنی اپنی مہارت تھی۔ بزرگ بھی مسلسل خبریں پڑھنےکے سبب کئی سیاستدانوں اور فلمی اداکاروں کے نام جاننے لگ گئے ہیں۔خبروں کے علاوہکچھ بزرگ ' 'تعزیتی پیغامات' 'بھی پڑھواکر سنتے ہیں۔ بھِینوارام نے تو ایک دن اپنےبیٹے کے سامنے خواہش ظاہر کی کہ اس کے مرنے پر مرتیوبھوج چاہے مت کرنا،پر اخبارمیں ' 'تعزیتی پیغام' 'ضرور شائع کروانا۔ اس نے اس بابت بیٹے کو دس ہزار ایڈوانسبھی دے دیے اور پانچ لوگوں کے سامنے ' 'تعزیتی پیغام' ' چھپوانے کی قسم بھیدلوائی۔ اب ہر روز ہونے والے اخباری مطالعے میں ' 'تعزیتی پیغامات' ' پڑھے جانے کےوقت وہ کہتا ہے،’’ویسے تو اپنے گاؤں کا، اخبار میں نام کبھی آیا نہیں ہے، پرمیرےمرنے پر ضرور آئے گا۔‘‘

اس کی اس بات پر مہاویرہمیشہ مذاق کرتا ہے،’’دادا، تو جلدی نپٹ جا، اخبار میں گاؤں کا نام تو آئے۔‘‘

اس اخباری مطالعے کےبھی کئی مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں سیاسی خبروں کا مطالعہ ہوتا ہے۔ دوسرے میں اپنےعلاقے کی خبروں کا اور پھر باری آتی ہے پریمی بگلوں سے متعلق خبروں کی۔ ان خبروںکے تجزیے میں ہر کوئی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اگر خبر پریمی لڑکی کے گھر سےبھاگنے کی ہو تو سب سے پہلے اس کی ذات کے بارے میں قیاس آرائیاں اور اٹکلیں کیجاتی ہیں۔ پھر ان دونوں کے خاندانوں کیلئے اپنے اپنے لامحدود خدشات کا اظہار کیاجاتا۔ اس بحث میں یکطرفہ باتیں کی جاتی ہیں اور زیادہ تر لوگ بیانات جاری کرتے ہیں۔

’’آج کل بھیا زمانہ ہیخراب آ گیا ہے۔ کسی کاوشواس کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔‘‘

’’چھورا ں کو دوش نہیںہے۔ چھوریاں کو رہن سہن ہی خراب ہو گیو۔‘‘

’’پڑھی لکھی چھوریاںجات دھرم ہی نہیں دیکھتی ہیں۔‘‘

’’پہلے تو بچپن میںشادی ہو جاتی تھی۔ آج کل تیس سال تک گھر والے شادی تو کرتے نہیں، چھوریاں بھاگیںگی نہیں تو کیا کریں گی۔‘‘

’’کچھ دنوں بعد شادیوادی کا جھنجھٹ ہی نہیں رہے گا۔ تمام بھاگ کے کر لیں گے۔‘‘

’’شہر میں رہنے والیچھوریوں کا تو پکا ہے کہ بھاگیں گی ہی۔۔۔‘‘

'' شہر' ' کا نام آتےہی سب کی ترچھی نظریں انڈروئیر پر آ ٹکتیں، کیونکہ اُسکی میرا بھی تو شہر میں پڑھرہی تھی۔ ایک بار تو انڈروئیر کے گھر پر کسی انگریزی بولنے والے چھورے کا فون بھیآ چکا ہے ۔‘‘کین آئی ٹاک ٹو میرا؟‘‘

فون چودھرائن نے ہیاٹھایا تھا۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ چودھرائن جب فون اٹھا کر دہاڑتی ہے، تو سامنےوالے کا گوبر نکل جاوے ہے۔ وہ اپنی دھاردار آواز میں کہتی ہے،’’کون بول ریا سے؟‘‘

اتنا سنتے ہی کئی توفون کاٹ دیتے ہیں۔ لیکن اس دن ’’کین آئی ٹاک ٹو میرا؟‘‘ سن کرچودھرائن کی بھیبولتی بند ہو گئی۔

وہ پریشانی کی حالت میںانڈروئیر سے بولی،’’میرا کے لکھن ٹھیک نے سے چودھری۔ کِن چھورے کا فون آیاسے۔’’ٹوک ‘‘ کر ریا سے میرا سوں۔‘‘

یہ سوال سننے کے بعد سےانڈروئیر نے روزانہ دو روٹی کم کھانا شروع کر دی۔ اب وہ پہلے کی طرح نہ تو ہنستاہے اور نہ ہی دہاڑتا ہے۔ چودھرائن کو بہلانے کے لئے اس نے پریقین انداز میں کہا،’’مالکن،ڈرنے کی کوئی بات نے سے۔ میرا چودھری کی جلمی ہے۔‘‘

اس پر یقینی پرچودھرائن اس کی طرف ایسے دیکھتی جیسے انڈروئیر کا جھوٹ پکڑا گیا ہو۔

گاؤں میں خبریں بہتتیزی سے پھیلتی ہیں۔ آپ دیوار کے پاس منہ کرکے ایک لفظ بھی بولیں، تو صبح تک پورےگاؤں میں بات اڑ جائے گی۔ لوگ دوسرے ہی دن کہنے لگے کہ ایک چھورا میرا کے ساتھ ''ٹوک '' کرتا ہے۔ کل اس نے چودھرائن کو بھی فون کر کے ’’ٹوک‘‘ کروانے کو کہا۔اس’’ٹوک‘‘ کا مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے معنی لگا رہا تھا،لیکن ہر ایک معنی میرا کے کردار پر ہی جا کر ٹکتا۔ پیٹھ پیچھے لوگ انڈروئیر کومورکھ بتاتے،’’ایک تو بیٹی کو اکیلے شہر بھیج دیا، دوسرا اس کی شادی بھی نہیں کررہا ہے۔ ایسے میں لوگ’’ٹوک‘‘ تو کریں گے ہی۔‘‘

میرا کالج میں ایک دممست تھی، شروع میں تو شہر کے ریتی رواجوں سے واقف نہیں ہونے کی وجہ سے کچھ دلبرداشتہ تھی، لیکن اب سب کچھ سمجھنے لگی تھی۔ اپنی مرضی کاپہننے اور بنداس رہنے کیوجہ سے وہ شہر کے لونڈوں کی توجہ کا مرکز بھی تھی۔ چہرے سے بے حد معصوم لگنے والیمیرا کے پیچھے کئی لڑکے وقت ضائع کرتے تھے۔ لیکن جب میرا کو معلوم ہوتا ہے کہپٹھّا اس کے پیچھے موٹر سائیکل کا پٹرول جلا رہا ہے، تو تڑاک سے ایسا جواب دیتی کہبہت نے تو لڑکیوں کے پیچھے گھومنے کی عادت تک ختم کر دی۔ جب وہ رات کو ہاسٹل کیسڑک پر اکیلی ٹہل رہی ہوتی تھی، تو اچانک پیچھے سے تیزی سے دوڑ تے ہوئے گھوڑے کےپیروں کی ٹپ ٹپ سنتی، پیچھے مڑ کر دیکھتی تو سنسان سڑک۔ تبھی سامنے سے دودھ کیدکان والا آواز دیتا،’’تیرا بنجارہ پیچھے سے نہیں، آگے سے آئے گا۔‘‘

’’تم نے ابھی تک دکانبند نہیں کی، روہت۔ جب تُو کہہ رہا ہے تو آئے گا میرا بنجارہ۔‘‘ کھلکھلاکر ہنستیہوئی میرا، دکان کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ جاتی۔



یہ وہی روہت تھا، جسےکبھی پانچ گھونٹ پانی، جاٹوں کے کنویں سے پینے کے عوض میں، دو مہینے چودھری کے گھرمیں بغیر تنخواہ کی مزدوری کی سزا ملی تھی۔ میرا کے ہاسٹل کے سامنے دودھ کی دکانکر رکھی ہے۔ ڈنر کے بعد اکثر میرا یہیں آکر روہت کے ساتھ گپیں ہانکتی ہے۔ کبھی گاؤںکی، تو کبھی اُس بنجارے کی باتیں کیا کرتے ہیں۔کیوں کہ یہ بات میرا کے گاؤں والوںکو معلوم نہیں ہے، ورنہ ’’ٹوک‘‘ کے ساتھ روہت کا نام ضرور شامل ہو جاتا۔ آج پھروہی پرانا راگ چھیڑ دیا روہت نے،’’میں تو بھول ہی گیا، تیرا بنجارہ دِکھنے میںکیسا ہے؟‘‘

یہ سوال آتے ہی میراپندرہ سال پیچھے چلی جاتی ہے، جب اس کے گاؤں میں ایک بنجارن میوہ بیچنے آتی تھیاور اس کے ساتھ ہوتا تھا ایک میرا کی ہی عمر کا اسکا بیٹا سلطان بنجارا۔ کیا سجدھج کے رہتا تھا سلطان۔ چوڑی دار پاجامہ، پٹھانی کرتا، جڑاؤ جوتی اور ہاتھ میںہوتا تھا گھوڑے کا چابک۔ بنجارن اور اس کا بیٹا، دونوں سفید گھوڑے پر آتے تھے،لیکن آگے سلطان بیٹھتا تھا۔ گاؤں میں گھسنے سے پہلے ہی گھوڑے کی ٹاپ گھس جاتی تھیاور میرا دوڑ کر دروازے پر آ جاتی۔ بنجارن تو گھر گھر میوے بیچنے چلی جاتی اورسلطان گاؤں کے گواڑ میں گھوڑے کو دانہ کھلاتا رہتا۔ سارے گاؤں کے بچے جمع ہو جاتے۔ہر بچہ سلطان اور اس کے گھوڑے کو دیکھتا رہتا۔ تبھی دروازے پر کھڑی میرا آوازدیتی،’’اے سلطان، مجھے گھوڑے پر بٹھائے گا کیا؟‘‘

’’تو گر جاوے تو ڈونگریدادی مارے۔‘‘

’’نہیں گروں گی رے اورلگام تو تیرے ہاتھ میں ہے ہی۔‘‘

’’میں آگے بیٹھوں گا،تو پیچھے بیٹھنا۔‘‘

’’گھوڑے پر تو میںاکیلی ہی بیٹھوں گی، تو لگام پکڑ کر نیچے چلنا۔‘‘

’’میرو گھوڑوں اور میںہی نیچے چالُوں۔‘‘

’’دونوں اوپر بیٹھجائیں گے تو گھوڑا بھاگے گا۔ مجھے ڈر لگے گا۔‘‘

’’تو کہتی تھی نہ کہ توڈرتی نہیں ہے۔‘‘

’’گھوڑا ہے تو داداگیریدکھا رہا ہے کیا سلطان؟ چل میں نہیں بیٹھوں گی۔‘‘

’’میرا، میں داداگیرینہیں، دونوں کے بیٹھے کی بات بولوں ہوں۔‘‘

’’بول دیا نہ کہ گھوڑےپر اکیلی ہی بیٹھوں گی، تو نیچے چلے گا۔‘‘

’’میں تھارو نوکر ہوںکے؟‘‘

’’نوکر نہیں رے سلطان،بھایلو (دوست) ہے۔‘‘

’’بھایلو‘‘نام آتے ہیسلطان ہلکا سا ہنستا اور لگام پکڑ کر گھوڑے کو کہتا،’’ چل جِلُو، میرا کو گھوماکرلاتے ہیں۔‘‘

سلطان نیچے لگام پکڑ کرچلتا اور میرا گھوڑے پر۔ کچھ دور تو گاؤں کے لڑکے پیچھے شور شرابہ کرتے آتے، لیکنتبھی میرا پیچھے مڑ کر زور سے ڈاٹتی اور لڑکوں کی ٹولی واپس بھاگ جاتی۔ ایک ریت کےٹیلے پر چڑھتے ہوئے سلطان تھک چکا تھا۔

’’میرا، میرے سے ابنہیں چلا جائے گا۔ کچھ دیر یہیں آرام کرتے ہیں۔‘‘

میرا بھی گھوڑے سے نیچےاتر جاتی ہے۔ چونکہ آس پاس کوئی درخت نہ ہونے کی وجہ سے سائے کے کوئی آثار ہی نہیںتھے۔لہذا اب دھوپ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟

’’مجھے بہت دھوپ لگ رہیسلطان۔‘‘ میرا کا چہرہ اداس ہو جاتا۔

’’یہاں پر تو چھاؤں ہےہی نہیں۔‘‘ سلطان بھی فکر مند ہو گیا۔

’’ایسی دھوپ میں تو میںمر جاؤں گی۔‘‘

’’میں کچھ کرتا ہوں۔ اےجِلُو، ادھر آ۔‘‘

جِلُو نام سنتے ہیگھوڑا سلطان کے پاس آ گیا۔ سلطان نے گھوڑے کا منہ جنوب میں کیا تو سورج گھوڑے کےبدن کے پیچھے آ گیا اور ٹیلے پر تین فٹ کا سایہ ہو گیا۔

’’اب اس چھاؤں میں بیٹھآرام سے۔‘‘ سلطان بڑا خوش ہوا۔

’’لیکن دھوپ تو تمہیںبھی لگ رہی ہے نا! تم بھی آ جاؤ۔‘‘ میرا نے نرمی سے کہا۔

پھر گھوڑا جگالی کرتارہا اور وہ دونوں تین فٹ کی جگہ میں بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رہے۔ واپس گھر آتے تومیرا کے گھر پر ہی سلطان کو کھانا کھلایا جاتا۔

میرا جب اتنی لمبیکہانی سنا رہی تھی تو روہت بڑے اطمینان سے سن رہا تھا۔ کئی بار سنی ہوئی اس کہانیکو وہ اسی توجہ سے سن رہا تھا، جیسے پہلی مرتبہ سن رہا ہو۔

’’لیکن تیرو سلطان تجھےپہچان پائے گا؟‘‘

’’بالکل پہچان لے گااور میرا سلطان ہے نا، اب بھی انتظار کر رہا ہوگا میرا۔ روہت، ہماری پریت سودانہیں تھی رے کہ اس ہاتھ دو، اس ہاتھ لو۔ ہم نے تو بچپن میں ایک گانا بھی بنایا تھااپنی محبت کے واسطے۔ اب بھی اس کے بول بنجارے کے کانوں میں پڑ گئے تو دوڑا چلا آئےگا۔ تم نے تو دیکھا ہے نا سلطان کو۔‘‘

’’میرا،سماج کی حقیقتکو سمجھو۔ وہ بنجارہ ہے اور تو چودھری کی بیٹی۔ سماج میں قطعی قبول نہیں کیا جائےگا یہ رشتہ۔ سوچو کہ کسی گاؤں والے نے دیکھ لیا کہ تم رات میں میری دکان میں اکیلےمیں مجھ سے باتیں کر رہی ہو، تو کیا کیا بیہودہ باتیں بنائیں گے گاؤں والے؟ اوربنجارے سے تیری شادی کی بات پر تو دونوں کو کاٹ دیں گے۔‘‘

’’روہت، مجھے گاؤں،سماج اور ایسے لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ بتا تو میرا ساتھ دے گا کہنہیں؟‘‘

’’میں تو ساتھ دوں گا،میرے ساتھ سے ہوگا کیا میرا؟‘‘

’’تیرے ساتھ سے میںمضبوط ہو جاؤں گی۔ تم نے سنا ہے نا کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھہوتا ہے؟‘‘

’’ ہاں، سنا ہے۔پر اسکا ہم دونوں سے کیا ناطہ؟‘‘

’’دیکھ روہت، یہ کہاوتدراصل یہ بتاتی ہے کہ ایک تو عورت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ عورت کیقربانی صرف مرد کی کامیابی میں ہی کام میں آتی ہے۔ اور تیسرا سب سے اہم سوال اٹھتاہے کہ عورت کیوں ہمیشہ مرد کے ساتھ مشروط ہے۔ ہمیں یہ کہاوت بدلنی ہے۔‘‘

’’میرا میں زیادہ پڑھالکھا تو نہیں ہوں ،لیکن تمہاری بات کو سمجھ ضرور رہا ہوں۔ لیکن کس طرح بدلیں گے؟‘‘

’’ہم نے صرف کتابیںپڑھی ہیں روہت، تم نے تو زندگی کو پڑھ لیا ہے۔ آج سے یہ کہاوت ایسے کہی جائے گی ۔ہرباغی عورت کا بھی کوئی پیاراسا دوست ہوتا ہے، جو اس کے دل کو گہرائی تک جانتاہے۔‘‘

’’اس میں نئی باتکیا؟‘‘

’’اس میں نئی بات یہ ہےکہ جسمانی تعلقات سے ہٹ کربھی مرد اور عورت کی دوستی ہو سکتی ہے، بالکل سچی۔ ہمارےسماج میں دوستی کا مطلب صرف دو جنوں کی یاری سے لگایا جاتا ہے۔‘‘

’’ارے! تمہیں پڑھنانہیں ہے کیا؟ گیارہ بج گئے ہیں۔ تم جاؤ پڑھو اور میں تمہارے بنجارے کوڈھونڈھ کرلاتا ہوں۔‘‘

’’روہت، یہ حکم دے رہےہو کیا؟‘‘

’’نہیں بابا، یہ ایکدوست کا مشورہ ہے۔ میرا کو کوئی حکم تھوڑا ہی دے سکتا ہے۔‘‘

روہت دکان بند کرنے لگجاتا ہے اور میرا ہاسٹل کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔ دھند میں نہائی سنسان سڑک پرجاتی میرا کو پیچھے سے دیکھتا ہوا روہت ،سوچتا ہے کہ یہ میرا بھی ایک جاگیردار کےگھر پیدا ہو گئی۔ وہ والی میراتو روحانیت کے لباس میں بغاوت کر ہی رہی تھی اوریہ۔۔۔ جو بھی ہو، ایسی میرا ہر دور اور ہر گھر میں پیدا ہونی چاہیے۔

انڈروئیر کے چبوترے پرروز نئے نئے چودھری آ رہے ہیں۔ کوئی دو سو بیگھہ کا جاگیردار تو کوئی علاقے کا بڑاٹھیکیدار۔ سفید دھوتی کرتہ اور سر پر پگڑیوں والوں کا تانتا سا لگا ہے۔ دراصل،اس’’ٹوک‘‘ والے فون کے آنے کے بعد سے ہی انڈروئیر نے میرا کی شادی کرنے کی بات سوچلی تھی۔ آس پاس کے رشتہ داروں میں جب اس بابت اطلاع دی گئی تو رشتے آنے شروع ہوگئے۔ کل بھوجاسرکا ایک چودھری آیا تھا۔ بڑے ٹھاٹ والا آدمی تھا۔ سو بیگھہ زمینتھی، دو کنویں تھے اور سیکر میں بھی مکان تھے۔ چھورا بھی خوب کما رہا تھا۔ سڑکوںکا ٹھیکہ لیتا ہے جی۔ ایک ٹھیکہ مطلب پیسوں کی پوٹلی۔دِکھنے میں بھی بڑا دھاکڑچھورا تھا۔ انڈروئیرکو تو سب چیزیں پسند تھیں، لیکن چودھرائن کو نہیں پسند آیا۔ جببھوجاسر کے چودھری سے بات چیت ہوئی تو انڈروئیر نے چودھرائن کو حویلی میں لے جاکررائے مشورہ کیا ۔

’’مالکن، تیرے جچ یوکےَ سودو؟‘‘

’’دیکھ چودھری، باقی توسب ٹھیک سے۔ لیکن چھورا نیں جچ یا۔‘‘

’’چھورا تو تنے دیکھیاہی نیں ہے۔ ایسا گبرو جوان ہے کہ آس پاس کے کِن چودھری کے ایسا جنوائی نیںآیاسے۔‘‘

’’چودھری، چھورا پڑھالکھا نہیں ہے۔ اپنی میرا کی جوڑی پڑھا تو چای۔‘‘

’’پڑھن لکھن سے کیاہوتا ہے؟ اِن چھورے کے نیچے کئی انجینئر کام کرتے ہیں۔ اور سب ساب کہتے ہیں۔‘‘

’’میرے تو چھورو نیں جچیو۔ اب تو جانے چودھری اور تیرا کام جاننے۔‘‘

اگرچہ انڈروئیرکو یہرشتہ بہت پسند آیا تھا، لیکن چودھرائن کی ضد کی وجہ سے منع کرنا پڑا۔ آج والےچودھری ہریندر سنگھ کے ساتھ سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے بات پکی کر دی تھی۔ یہ چودھریبھی کسی بھی معاملے میں کمزور نہیں ہے اور چھورا پرائیویٹ بی اے پاس ہے۔ انڈروئیرچودھرائن کو بتا رہا تھا کہ بڑا چنگا چھورا ہے۔ ہنگلش بھی بول لیتا ہے اورآسٹریلیا میں اپنا ہوٹل بنا رکھا ہے۔بی اے پاس کا نام سنتے ہی چودھرائن بھی گدگداگئی۔ ویسے جہیز کا معاملہ بھی صرف دس لاکھ پرطے ہو گیا تھا۔ اب اکلوتی بیٹی کے باپانڈروئیر کو دس لاکھ بہت زیادہ نہیں تھے۔

شام کو انڈروئیر کےچبوترے پر ویسے ہی مجمع لگا ہوا تھا۔ لوگوں کو جانکاری بھی ہو گئی تھی کہ میرا کارشتہ طے ہو گیا ہے۔ چودھرائن حقّہ گڑگڑا رہی تھی اور پاس میں بیٹھا گردھاری چنبیلیکی خوشبو لے رہا تھا اور انڈروئیر اپنے نئے سمدھی ہریندر سنگھ کی زمین جائداد کےبارے میں ہانک رہا تھا۔ چھورے کے بارے میں تو ایسا بتا رہا تھا کہ وہ ہندوستان کاسب سے کامیاب لونڈا ہو۔ جب ''آسٹریلیا' 'کی بات آئی تو سب نے تعجب سےپوچھا،’’چودھری صاحب، یہ پڑتا کہاں ہے؟‘‘

چودھری نے اپنی پتلیمونچھوں پر تاؤ دیا اور پھر بتانا شروع کیا،’’بہت دور پڑتا ہے۔ کانچ کی سڑکیں ہیںوہاں پر۔اپنے جنوائی نے جو ہوٹل بنا رکھا ہے، وہاں بڑے بڑے لوگ آتے ہیں جی اور ایکلاکھ کا روز کا گلّا اٹھتا ہے۔ سب ہنگلش بولتے ہیں۔ دال روٹی بھی ہنگلش میںمنگواتے ہیں۔‘‘

’’چودھری صاحب ، دالروٹی کو ہنگلش میں کیسے منگوا جاتا ہے؟‘‘ گردھاری کو بھی بے چینی ہوئی۔

’’ارے تو کیا جانے بڑیباتیں۔ جنوائی آئے تو اس سے پوچھا۔ اور جنوائی ہنگلش میں ہی پیسہ مانگتے ہیں توسارے گورے لوگوں کی پھٹ جاتی ہے۔ ایسی دھڑاکے کی زبان بولتے ہیں۔‘‘ آج چودھری کیآواز میں نئی طاقت آ گئی تھی۔

’’آپکی میرا تو راضی ہےکیا اس رشتے سے؟‘‘ گردھاری نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہو جیسے۔

’’تنے بھوت بات آویں رےگردھاری۔ میری میرا کی مرضی اپنے باپ سوں الگ نہیں ہو سکے۔ جیادا لپر لپر مت کیاکر۔‘‘ چودھری کو طیش آ گیا۔

’’چودھری، گرم مت ہوُو۔گردھاری تو بھولا بھنڈاری ہے۔ اس کے من میں کھوٹ نہیں ہے۔‘‘ چودھرائن نے بیچ بچاؤکرانے کی کوشش کی۔

چودھری کے چبوترے کیشام کی بیٹھک ختم ہوئی تو لوگ اپنے گھروں پر اس سوال کو ساتھ لے گئے،’’میرا توراضی ہے کیا اس رشتے سے؟‘‘

پھر کیا تھا، لوگوں نےاپنی اپنی سطح پر کہانیاں بنانی شروع کر دیں۔ گاؤں والوں کا میرا سے کوئی رابطہ توتھا نہیں، وہ نہیں جانتے تھے اس کی مرضی اور چاہتوں کے بارے میں ذرا بھی، پھر بھیکہانیوں میں اپنی مرضی کو میرا کی مرضی مان کر پلاٹ کو آگے بڑھاتے رہے۔ ابتدائیدور میں کئی کہانیاں بنی تھیں۔ پھر کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو لوگ جوڑنے لگے اورایک لمبی داستان بنانے کا کام چلا۔

پھاگن کا مہینہ تھا اورٹھاکر بنّی سنگھ کی ڈیوڑھی کے سامنے مجمع لگا تھا۔ لوگ چنگ بجا رہے تھے، کچھ شرابپی رہے تھے اور ٹھاکر اپنے دوچمچوں کے ساتھ چنگ کے رسِیوں کوواہ واہی دے رہا تھا۔ہر پھاگن میں ٹھاکر کے یہاں گلال اڑتا ہے۔ یوں تو ٹھاکر کے مالی حالات بہت برےہیں، لیکن دو سو بیگھہ زمین بچ گئی تھی سرکار کے پاس جانے سے۔ ضرورت کے مطابقفروخت کر لیتا ہے۔ اس ٹھاکر کے پاس دو ہی چیزیں بچی تھیں، ایک زمین اور دوجیٹھاکُریت۔ سال بھر ٹھاکر ٹکا نہیں خرچ کرتا ہے، بیڑی بھی مانگ کر پیتا ہے، لیکنپھاگن میں ہزاروں اڑانا اس کی لت ہے۔ شاید اسی کیلئے زمین فروخت کرتا ہوگا۔ پھاگگانے والے جب بھی گانا ختم کرکے بیڑی پینے کے لئے آرام کرتے، تبھی ٹھاکر اپنیبہادری کے کئی قصے سناتا۔ گردھاری جب بھی وہاں موجود ہوتا تو اسے ٹھاکر کے ان قصوںمیں بالکل بھی رغبت نہیں ہوتی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ٹھاکر کے قصوں کی کوئی زمیننہیں ہے۔ لیکن آج گھر سے چلتے وقت ہی اس کا دل ہوا تھا کہ کھل کر بولے گا اور سارےرَسِی سنیں گے مجھی سے ۔ پہلا پھاگنی گیت گا کر جب رسیا رکے تو گردھاری شروع ہوگیا،’’ٹھاکر سا، اب تو گاؤں میں کِن کایدو ہی نیں بچیوہے۔ بڑا خراب دن آئے گا گاؤںرا۔‘‘

’’کس کی بات کر ریا ہوگردھاری، ٹھاکر کی نیت خراب ہو سکتی ہے لیکن دن خراب نہیں ہیں۔ راج پاٹ سب چلےگئے، اب کیا دن خراب آئیں گے پگلے۔‘‘ بنّی سنگھ نے گہری سانس لی۔

سارے رسِی بیڑی کادھواں نکالکر گردھاری کی طرف ایک ٹک دیکھنے لگے۔ وہ سب جانتے تھے کہ وہ چودھری کےبارے میں بات کرے گا اور چودھری کے بارے میں تو صرف میرا کی ہی بات ہو سکتی ہے۔اسبحث کو کئی بار سننے کے بعد بھی لوگوں میں برابربے چینی بنی ہوئی تھی۔ آج وہ ٹھاکرکے منہ سے میرا کی کہانی سننا چاہ رہے تھے۔ گنیش نے ٹھاکر کو اکساتے ہوئےپوچھا،’’ٹھاکر سا، میرا کے بیاہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟‘‘

بنّی سنگھ نے پاس رکھیبوتل سے دو پیگ دیسی کے مارے اور ایک بیڑی سلگائی۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعدشروع ہوا،’’ایک میرا راجپوت کے گھر بھی جلمی تھی پہلے۔ پوری ذات پر کوئی کلنک ہےتو وہ عورت۔ کیا کمی تھی اُسکو؟‘‘

’’لیکن اس نے توبھگتیکی تھی۔‘‘ مجمع میں سے کسی نے کہا۔

’’بھگتی کرنے کیلئےیادَو ہی ملا تھا کیا؟ راجپوتوں میں دیوتاؤں کی کمی تھوڑی ہی ہے۔ ہمارے پرکھوں میںتو سب ' 'شہادت '' کو ہی گئے تھے، سب کے مندربنیں ہیں، ان میں سے ہی کسی کی بھگتیکر لیتی۔ ابھی راجپوت جات میں کوئی چھوری کو نام میرا نہیں رکھے۔ چودھری کی ہیغلطی تھی کہ یہ نام رکھا، اب بھگتو اپنی۔ سب سے بڑا خطرہ جات کو ہے۔‘‘

’’کس ذات کو خطرہ ہےٹھاکر سا؟‘‘ذات کا نام سنتے ہی سارے رسِیوں کے کان کھڑے ہو گئے۔

’’ٹھاکروں پر تو جتنےخطرے تھے سب آگئے۔ اب جاٹوں کی باری ہے۔ انہوں نے ہی میرا نام دھریا ہے۔ ایک آدمیپوری جات نے آسمان بھی لے جا سکتا ہے اور پاتال بھی۔‘‘ ٹھاکر آگے کے دونقلی دانتوںسے اصلی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔

’’بھلا ایک چودھری کیوجہ پورَو جاٹ سماج خترو کیوں اٹھاوے؟‘‘ نریش کو غصہ آ گیا۔

ٹھاکر نے دائیں ہاتھ سےنقلی دانتوں کوجگہ پر جمایا اور پھر ٹھاکُریت کی آن میں کہا،’’بیٹا، چودھری نےچھوری ہی جات کے کلنک لگان والی جلم دی۔ اب تو ایک ہی طریقہ ہے، یا تو چودھری جاتمیں رہے یا پھر جات رہے۔دیکھ لو تم لوگوں کو کون جیادا پیارو ہے۔‘‘

’’میرا نے اَیسو کے کامکر دیو کہ جاتی پرسنگٹ آئیگو؟‘‘ آج پہلی بار رفیق رزاق نے ٹھاکر کے سامنے بولنے کیہمت کی۔

’’پورے سماج کی ناککٹوا دی۔ شہر میں جاکرچھوروں کے ساتھ ' 'ٹوک '' کرتی ہے۔ نہ جات دیکھتی، نہدھرم۔‘‘ ٹھاکرکے بجائے جواب نریش نے دیا۔

’’اچھا، یو ’’ٹوک‘‘کانئی ہووے ہے؟‘‘ رفیق کو اس بابت کوئی معلومات نہیں تھی۔

’’رپھیکڑا، چھوراں کےسامنے کیوں اپنی مٹی پلیت کروا ریا ہے۔ تو کون سا جانتا نہیں۔ بِنا ' 'ٹوک '' ہیچار بچوں کا باپ بن گیا۔ تھوڑی تو شرم کر گدھا۔‘‘ ٹھاکر نے بولنے کی بجائے تقریباًدہاڑنا ٹھیک سمجھا۔

یہ سنتے ہی سارے لونڈےکھلکھلاکر ہنسنے لگے۔ بعضوں کو تو اپنے علم پر ناز سا ہونے لگا کہ انہیں انگریزیآتی ہے۔ وہ بھی ’’ٹوک‘‘ کا یہی معنی نکال رہے تھے۔ اب تو طے ہو گیا کہ’’ٹوک‘‘ کرنےسے بچے پیدا ہوتے ہیں، ٹھاکر بنّی سنگھ نے جو کہہ دیا۔ ٹھاکر بنّی سنگھ کے داداانگریزوں کے راج میں داروغہ تھے اور تبھی سے ان کے خاندان والے ہر انگریزی لفظ کامطلب بتادیتے ہیں۔ جب بچے امتحان کے لئے تیاری کرتے اور انہیں ’’ ٹو دی ہیڈماسٹر‘‘کا مطلب نہیں معلوم ہوتا تو ٹھاکر ہی بتاتا ۔

' 'سن ہیڈ ماسٹر کے بچے۔' '

اتنے میں ہی رادھے شیامپنڈت کا چھورا نین آتے دِکھا۔

’’یہ بتائے گا صحیح، جےپور ہی رہتا ہے آج کل۔ میرا کی ساری کہانی جانتا ہے۔‘‘ نریش نے پورے اعتماد کےساتھ کہا۔

’’آؤ بیٹا نین، جے پورسے کب آیا؟‘‘ ٹھاکر نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

’’پائے لاگوں بابا سا۔پرسوں ہی آیا تھا۔‘‘ نین نے موبائل میں ٹائم دیکھا تو رات کے قریب گیارہ بجے تھے۔

’’چودھری کی میری کیکہانی بتا رے۔۔۔‘‘ ٹھاکر نے نین کے سر پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیرا۔

’’جے پور میں میرا جسکالج میں پڑھتی ہے وہ ایک بدنام کالج ہے۔ ہر لڑکی کو کوئی پنگا رہتا ہے۔ رات کولڑکیاں سڑک پر لڑکوں کے ساتھ گھومتی ہیں۔ کئی بار تو بالکل اکیلے۔ ایسے میں میراکون سی دودھ کی دھلی ہے۔ میرا ایک دوست بتا رہا تھا کہ وہ رات کو چائے والے کے پاسبیٹھی رہتی ہے۔ آدھی رات تک۔ بھئی، ہمارے پنڈتوں میں تو ایسی لڑکی ہوتی تو ابھی تککریاکرم کر دیتے، لیکن اب جاٹوں کی ہی مت ماری گئی تو کیا کریں۔۔۔‘‘ نین نے نریشاور دیگر جاٹوں کے چھوروں کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھا۔

’’سسرے ۔۔۔، شہر میںچار پیسے کما لیا تو کون سا بِرلا بن گیا۔ تیرا خاندان تو اب بھی آٹا مانگ کرکھاتا ہے اور ہم جاٹ ہی آٹا ڈالتے ہیں۔ زیادہ ہسیار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اوقاتمیں ریا کر۔‘‘ نریش کو طیش آ گیا۔

’’دیکھو، بابا سا۔ آپکےکہنے پر میں نے سچ بتایا اور مجھے ہی سمجھا رہا ہے۔ ایک ٹھاکر کی ڈیوڑھی پر ایکپنڈت کا ایسااپمان تو کبھی نہیں ہوا ہوگا۔‘‘ نین سے ٹھاکر کو اکسایا۔

’’اے چھورے، جیادا بولےکی ضرورت نہیں ہے۔ سچ سب سے برداشت نہیں ہوتا۔ اِتو ہی جاٹ بنے ہے تو چودھری کوجات کو باہر کر دو۔اس بیچارے سمجھدار پنڈت پر کیوں ہیکڑی دکھا رِیا ہے۔ یاد رکھوکہ یا ٹھاکر کی محفل ہے، کوئی بھی زور سے نہیں بولے گا۔ اپنے گھر میں دینا گیان،یہاں نہیں ہو گا پنڈت کا اپمان۔‘‘ بنّی سنگھ کا زرد چہرہ لالی دکھا رہا تھا، جواندھیرے میں آگ کی روشنی سے بھی دِکھائی دے رہی تھی۔

’’سن ٹھاکر، بہت دیکھیہے تیری ہیکڑی۔ دو بیگھہ زمین بیچنے سے کوئی سیٹھ نہیں بنتا۔ پوّے کے بیس روپےمانگتا تھا تو۔‘‘ نریش بھی غصے میں کھڑا ہو گیا۔

’’ٹھہر، تنے میں آجساری اوقات دکھا دوں گا۔‘‘ بنّی سنگھ حویلی سے تلوار لانے دوڑا۔

’’آ جانا چودھریوں کیچوکڑی میں رانگڑا۔‘‘ نریش کے ساتھ بہت سے جاٹوں کے چھوروں نے نعرہ لگایا۔

خبر میرا تک بھی پہنچگئی تھی کہ روز اسکے بیاہ کیلئے چودھریوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔ کہیں نہ کہیںمعاملہ نبٹا ہی دیا جائے گا۔ لیکن جب آج چودھرائن نے سگائی کی بات پکی ہونے کی خبردی، تو میرا کے پیروں تلے کی زمین کھسک گئی۔ بہت غصے میں چودھرائن کو ڈانٹا،’’آپکو میری زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا؟‘‘

’’کس نے دیا کا مطلب؟تیرے ماں باپ ہیں تو تیرو بیاہ کرنوں فرض ہے۔‘‘ چودھرائن نے سمجھانے کے انداز میںکہا۔

’’اپنے بارے میں، میںخود فیصلہ کروں گی۔ مجھے نہیں کرنی ہے شادی۔‘‘

’’بیاہ توجگت کی رِیتہے بیٹا۔ آج نہیں تو کل کرنا پڑے گا۔‘‘

’’مجھے نہیں کرنا ہےاور میری شادی کے بارے میں آپ سوچنا بند کر دیجیے۔‘‘

’’تیرے باپ نے ہاں کرلی ہے، اب بیاہ توکرنا ہی پڑے گا۔ بیاہ میں ڈرن کی بات نیں ہے پگلی۔‘‘

’’باپ کی ہاں جائے بھاڑمیں۔ میں نے نہ بول دی ہے، یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘

’’تنے اِتی بڑی کری ہے،پیسا خرچ کیا ہے۔‘‘

’’کس نے آپ کو یہ سبکرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اس کی وصولی کرنا چاہتے ہو کیا؟‘‘

’’دیکھ بیٹی، اب بھیسوچ لے، چودھری کو موہ ہی دیکھیو ہے تنے، گسّو بھوت جورکو ہے۔‘‘

’’ہوگا تو، میں کیا کروں؟‘‘

’’اگلے ماہ سے پیسابھیج نوں بند ہے۔‘‘

’’مجھے اپنی محنت پرجینا آتا ہے۔ نہیں چاہئے آپکی دولت۔‘‘

اگرچہ جذبات میں آکرمیرا نے کہہ تو دیا تھا کہ اسے اپنی محنت پر جینا آتا ہے، لیکن ابھی تک تو کمانےکی سوچی بھی نہیں تھی۔ آج پہلی بار سوچنا پڑ رہا ہے۔ ویسے بھی ہاسٹل کی فیس تو ہرمہینے دینی پڑتی ہے۔

کس کو کہے؟

روہت کو!

اسے ہی کیوں؟

دوست ہے نا، اس لئے۔

انہی الجھنوں میں پھنسیمیرا ،رات کے ٹھیک گیارہ بجے اکیلی روہت کی دکان کی طرف جا رہی تھی۔ جیسے ہی وہدکان کے قریب پہنچنے والی تھی کہ پیچھے سے گھوڑے کے پیروں کی ٹپ ٹپ سنائی دی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو پھاگنی ہواکی سنسناہٹ تھی، نہ گھوڑا تھا اور نہ ہی بنجارہتھا۔

’’تیرا بنجارہ پیچھے سےنہیں، آگے سے آئے گا۔‘‘ روہت نے اپنے سدا بہار انداز میں کہا۔اور اسکے کان سننے کوبے چین تھے کہ ’’تو کہتا ہے تو میرا بنجارہ ضرور آئیگا۔‘‘

آج میرا نے یہ جوابنہیں دیا۔ وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی۔ روہت کوبے چینی تو اسکا جواب نہ ملنے کیوجہ سے ہی ہو گئی تھی، لیکن اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہا۔ سارا سامان دکانمیں جمایا اور پھر ایک کرسی لے کر میرا کے پاس بیٹھ گیا۔

’’کیا ہوا میرا، اتنیاداس کیوں ہو؟‘‘

’’تو کون ہوا میریاداسی کا سبب جاننے والا؟‘‘

’’میں تیرا دوست ہوں۔تیرے صدیوں کے پریم قصے تو روہت سنے، تیری زندگی کے تمام خواب بھی سنے۔ بس، اسےتیرے غم سننے کا حق نہیں ہے۔ ٹھیک ہے پھر۔‘‘

’’یار، میں بہت ٹینشنمیں ہوں۔‘‘

’’گھر والوں سے لڑائی ہوگئی نا؟ شادی کر رہے ہوں گے؟‘‘

’’تیرے کو کیسے پتہ چلاظالم کہ یہ سب ہوا ہے۔‘‘

’’اکثر لڑکیوں کے ساتھیہی ہوتا ہے۔ تیرے ساتھ بھی ہو گیا۔‘‘

’’تو پھر ایسی صورت میںلڑکیوں اکثر کرتیں کیا ہیں؟‘‘

’’مر جاتیں ہیں۔ یا توخود کشی کر لیتی ہیں یا اپنے خوابوں کو مار دیتی ہیں یا اپنے پریمی کے ساتھ بھاگجاتی ہیں، جسے وہ مناسب طریقے سے سمجھی تک نہیں ہوں یا پھر ۔۔۔‘‘

’’یا پھر ۔۔۔کوئی اوربھی رستہ ہے کیا؟ بولو روہت۔‘‘

’’ڈگر کٹھن ہے مگر، توکرے گی وہی۔‘‘

’’تو بھی آج کل باتوںکو گھوماکر کہتا ہے،سیدھے بتاؤ نا؟‘‘

’’نجات کی راہ ہے نا،اپنی مرضی کی زندگی اسی میں ہے۔‘‘

’’آزادی کہاں، سوائےمردوں کے چنگل سے باہرنکلنے کے۔‘‘

’’یہی میں کہہ رہا تھامیرا۔ لیکن اپنے بنجارے کا کیا کرے گی؟ وہ بھی تو مرد ہے اور تو چوبیس گھنٹے تواسی کی ادھیڑ بن میں رہتی ہے۔‘‘ روہت نے دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ مارا۔

’’تو کیا سوچتا ہے کہمیں نے اس بنجارے کی محبت میں پندرہ سال نکال دیے۔ وہ تو میرا شغل تھا، ایسا تھوڑاہی ہوتا ہے کہ غیر محسوس محبت پر زندگی قربان کی جائے۔ یہ تو صرف دل بہلانے کےبہانے ہوتے ہیں۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ تنہائی اپنے آپ، کئی بار انسان کا خونپینے لگ جاتی ہے، جب یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ اکیلی ہے، تبھی سے یہ عمل شروعہو جاتا ہے۔ اپنی اسی اداسی کو بھولنے کا ایک طریقہ تھا بنجارہ۔ ہوا یوں کہ اسبہانے، میں اپنے آپ کو بہت گہرائی تک چھونے لگی۔ یار، یہ اندر کا سفر ہی مجھے نجاتکی راہ دکھاگیا تھا۔ ویسے تو کہہ سکتا ہے کہ تو جس مرد کے خلاف لڑنا چاہتی ہے اسیکے ذریعے نجات کا راستہ تلاش رہی ہے۔ اگر تیرا بنجارہ واقعی محبوب ہوتا تو ابھی تککیوں نہیں آیا۔

سچ بھی ہے کہ بچپن کیدوستی صرف جذبات کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں، وہاں خیال اور منطق کی کوئی گنجائشنہیں ہوتی۔ یوں تو جذبات کی عمارت بہت مضبوط ہوتی ہے، لیکن زندگی کے بھونچالوں سےاتنی ہی تیزی سے منہدم بھی ہو جاتی ہے۔ وہ کوئی بنجارہ نہیں تھا جس کی تلاش میںسردیوں کی بہت سی راتیں ان تاریک سڑکوں پر بے وجہ ضائع کر دی جاتیں۔ اسے اپناآئیڈیل مرد بھی نہیں کہہ سکتی، ایسا کہہ سکتی ہوں کہ دنیا کوبہتربنانے کا ساتھی ہوسکتا ہے، اس لیے اس کی تخلیق میں نے اپنے دلائل کی چاک پر خیالات کی مٹی سے کیتھی۔ ہو تو یہ بھی سکتا ہے کہ کل کو میں ایک مرد بن جاؤں اور وہ مرد میرے خوابوںکے بنجارے جیسا مرد ہو۔ یہ ایک نفسیاتی کجی بھی ہے کہ انسان خواب میں خامیاں نہیںچھوڑتا اور اگر چھوٹ جائے تو ''ایڈٹ'' کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اچھا یہ بتاکہ میں جب مردوں کے خلاف بغاوت کر رہی ہوں تو تیرے خلاف بھی ہوئی نا، تو کیا سوچتاہے میرے بارے میں؟‘‘ کہتے ہوئے میرا نے ایک لمبی سانس لی۔

’’میں تو مرد ہوں ہینہیں۔‘‘

’’تو تو کیا ناکارہہے؟‘‘

’’پتہ نہیں! کبھی چیکنہیں کیا۔ ہاں، تیرے ساتھ رہنے سے کچھ گڑبڑ ضرور ہو گئی۔‘‘

’’مردانگی میں لوچا ہوگیا کیا؟‘‘

’’نہیں رے، میں آہستہآہستہ عورت ہوتا جا رہا ہوں۔‘‘

’’اپنے مرد کو مار کرعورت ہونے کا عمل ہی، ایک مرد کا انسان بننے کا عمل ہے۔‘‘

’’چلو، میں جانوروں سےانسان تو ہو رہا ہوں۔‘‘

’’ابھی بڑا بحران آنےوالا ہے یار۔ امتحان کی گھڑیاں نزدیک آ گئی ہیں۔ شادی طے، پڑھنے کی ممانعت اورپیسہ بند۔‘‘

’’نجات کی حقیقی سیڑھیتو اب شروع ہوئی ہے۔ اقتصادی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونا، نجات کے لئے ضروریہوتا ہے۔ اور وہ۔۔۔ کیا نام تھا اس کا۔۔۔ تو روز بولتی ہے نا۔۔۔ ارے ۔۔۔ ہاں کارلمارکس۔۔۔ اس نے کیا کہا تھا۔‘‘

’’بند کر مارکس کے بچے۔ہاسٹل بل کی سوچ۔‘‘

’’کتنا لگتا ہے؟ دوہزار ہی لگتا ہے نا، لے جانا میرے سے۔‘‘

’’ابے ٹاٹا، برلا کےمنیم، میں آزادی کی لڑائی لڑ رہی ہوں۔ تو دو ہزار دے کر پھر سے غلام بنانا چاہتاہے۔‘‘

’’میں تو تیرا دوست ہوںنا ،میرے سے لینے میں کیا ہرج، جب کمانے لگو تو چکا دینا۔‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے لیکندنیا کے سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ،گھر پونجی کا معاملہ ہو تو سارے مردوں کےساتھ عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔‘‘

میرا نے جے پور آکراپنی تعلیم کے ساتھ ادب اور دیگر نظریاتی کتابوں کو بھی پڑھنا شروع کر دیا تھا۔دراصل، اسے اپنے استاد مسٹر باسو سے اس طرح کی کتابوں کی تحریک ملی۔ بہت زیادہ تونہیں لیکن کام بھر کی سب کتابیں پڑھ ڈالی تھیں۔ ان کتابوں سے اپنے تبدیل ہوتےخیالوں کا ایک منظم خاکہ بنانے اور ان کو محدودکرنے میں سہولت ہوئی۔ اسی سلسلے میںوہ جو بھی پڑھتی اس پربحث روہت سے ضرور کرتی۔ یوں روہت کو کچھ مصنفین اور دانشوروںکے نام یاد ہو گئے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا کہ وہ کوئی بات کہتا اور میراہنستی،’’تیری بات، فوگو سے ٹکرا گئی۔ اس نے بھی یہی بات کہی ہے، تھوڑی سی زبانتبدیل ضرور ہوئی ہے۔‘‘

’’فوگو کون تھا؟ میں نےتو اس کا نام بھی نہیں سنا۔ میری بات اس سے ٹکرا گئی، اس میں میری کیا غلطی ہے۔‘‘روہت حیرت ظاہر کرتا۔

اور ایسے ہی فوگوسمیتمارکس، امبیڈکر کا نام بھی روہت کو معلوم ہو گیا تھا۔ اس نے ان کی کوئی کتاب نہیںپڑھی ،پھر بھی وہ مانتا تھا کہ ان لوگوں نے بات تو ٹھیک ہی کہی ہے۔ میرا کوکالج کیزندگی میں کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کلاس میں جاتی اور اپنی مستی میں کچھ کتابیںپڑھتی رہتی اور اسی وجہ سے کالج میں اس کا کوئی دوست نہیں بن پایا۔ سب اسے گنوارلڑکی سمجھتے تھے۔ کتنا تضاد ہے کہ کُول رہنے اورماڈرن ہونے کے باوجود، شہر والےگاؤں کی سمجھتے تھے اور گاؤں والے شہر کی۔ اس نے خود کبھی اس بارے میں کچھ طے نہیںکیا۔ کلاس میں اپنی عادات کے مطابق اسٹوڈنٹس کے گروپ تھے، لیکن میرا کسی میں بھینہیں تھی۔

میرا کی عادتیں تو کسیسے میل ہی نہیں کھاتیں۔ اپنی رو م میٹ نکیتاسے بھی میرا کاعجیب سا رشتہ تھا۔ دونوںبہت پیاری دوست تھیں اور اتنی ہی پیاری دشمن۔ ان دو انتہاؤں کی وجہ کیا تھی، معلومنہیں۔ کئی بار تو دونوں ایک ہی بیڈ پر سوتیں اور دوسرابیڈ کمرے سے باہر نکالدیتیں۔ دو چار دن گزر جاتے کہ بلا وجہ ہی باہر رکھا ہوابیڈ اندر آ جاتا اور کمرےکی تمام چیزوں کا بٹوارا ہو جاتا۔سرحدیں بھی طے ہوتیں۔ کمرہ ماپا جاتا اور پھر عیندرمیان میں چاک سے لائن بنائی جاتی ۔ کوئی بھی ایک دوسرے کی سر حد کو نہیںپھلانگتا۔

کمرے کو بھی معلوم نہیںچلتا کہ کب درمیان کی دیوار گرا دی گئی اور بیڈ کو آرام فرمانے کے لئے باہر پہنچادیا گیا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ دونوں ہی سست تھیں، سو کمرے کی صفائی کے بارےمیں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جھاڑو کو دشمن مان رکھا تھا۔ ان سب کےباوجود وہ ایک دوجے کی زندگی کیلئے کوئی جذبات نہیں رکھتیں تھیں۔روم سے باہر ملتیںتو ایسا لگتا کہ آپس میں جان پہچان بھر ہے۔ لہذا میرا کی کہانی میں نکیتا کوئی جگہنہیں بنا پائی۔ نہ کبھی اس نے آپکے اس لکھاری سے شکایت کی کہ میرا میری روم میٹہے، تو مجھے بھی کہانی میں رکھو۔

راجپوتوں اور جاٹوں کےدرمیان دنگل تو مچنا ہی تھا، نریش نے ٹھاکر بنّی سنگھ کو ٹکا سا جواب دے دیا تھا۔ہولی کے رنگوں کے بجائے گاؤں اب رنجش کے رنگوں میں رنگ گیا تھا۔ دونوں طرف تیاریاںہونے لگیں۔ جودھپور، بیکانیر سے لے کر جے پور تک کے، بنّی سنگھ کے رشتہ داروں کےرشتہ داروں کے رشتہ دار تک آ گئے تھے۔ ٹھاکر کی عزت کا سوال تھا۔ راجپوتوں کیڈیوڑھی میں شراب کے پیالوں کا دور چل رہا تھا۔ زنگ آلود تلواروں کودھار دی جا رہیتھی اور ان سب کے لئے بنّی سنگھ نے چار بیگھہ اور بیچ دی تھی۔

ایک طرف اینٹوں کےچولہے پر بکرا قربا ن کر پک ہو رہا تھا۔دوسری جانب بنّی سنگھ بھی سج دھج کے تیارہو گیا تھا، جیسا کہ رَن میں شہادت کو جاتے ہیں۔ باقی سارا گاؤں سہما ہوا تھا۔ لوگگھروں میں دو چار دن کا کھانا ایک ساتھ بنا کر دبکے ہوئے تھے۔ اَسی برس کا ٹھاکرکُشال سنگھ راجپوتوں کی بہادری کے قصے سنا رہا تھا۔

اُدھر بھی ایسا ہی حالتھا۔ اگرچہ جاٹوں کے اکھاڑے میں گاؤں کے باہر سے کوئی نہیں آیا تھا، لیکن گنتیکرنے پر گاؤں کے ہی کل ایک سو بیس آدمی ہو رہے تھے۔ اگرچہ ٹھاکر بنّی سنگھ سےنمٹنا ایک چنوتی تھا ،لیکن پہلے انڈروئیر سے بھی نمٹنا تھا۔

’’چودھری جات میں ریہسییا اپن رہے گا۔ دونیوں ساتھ نہیں رہے گا۔‘‘ نریش جاٹوں کے پورے جماوڑے سے خطاب کررہا تھا۔

’’بھئی، دونوں ہی رہجاوو۔‘‘ گردھاری نے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’نہ جی۔ آج پھیسلوکرنو ہی پڑے گا۔‘‘ ہٹھ تھا نریش کا بھی۔

’’پہلے ٹھاکر بڑو دشمنہے، چودھری نے بعد میں سُلٹا دینگا۔‘‘ سانورمل نے کہا۔

’’آ بات ٹھیک لاگی منَےبھی۔‘‘ گردھاری بیچ بچاؤ کرنا چاہتا تھا۔

’’تنے تو ساری بات ٹھیکلاگے ہیں۔ ڈونگری دادی کے چپک کر بیٹھو ہو نہ۔‘‘ نریش نے طعنہ مارا۔

اتنا سنتے ہی گردھاریکو غصہ آگیا اور وہ اٹھ کر جماوڑے سے باہر چلا گیا۔ بھیڑ میں لوگ اپنی بغل والے سےکھسر پھسر کرنے لگے۔ چاندنی رات میں حقوں سے نکلنے والا دھواں، لوگوں کے سر پربادلوں کی طرح منڈلا رہا تھا۔ عین درمیان میں آگ جل رہی تھی اور اس کے ارد گرد کچھپاورفل چودھری بیٹھے تھے۔ آہستہ آہستہ سارا مجمع چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تبدیلہوگیا اور ا س گھمبیرسوال پر بحث ہونے لگی کہ پہلے چودھری کو نپٹایاجائے کہ ٹھاکرکو۔ کوئی چودھری کو پہلے نپٹانے کے حق میں تھا تو کوئی ٹھاکر کو۔ ہر کسی کے اپنےاپنے دلائل تھے، لیکن اس پر رائے مشترکہ تھی کہ دونوں کو نپٹانا ہے۔

حقوں میں مسلسل تمباکوبھری جا رہی تھی۔ رات کے تقریباً دو بج گئے تھے، لیکن کوئی ایک رائے نہیں بن پائی۔اصل میں اس سماج کے لوگوں میں کبھی ایک رائے بنتی ہی نہیں ہے، سب اپنی اپنی پر ڈٹےرہتے ہیں۔ فتوی ہی حتمی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ قریب آٹھ چودھریوں میں سے کوئی بھیکھڑا ہو کر فتوی جاری کر دیتا ہے، تب کسی کی بولنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ سبھی قبول کرلیتے ہیں اور اپنے دلائل کو زندہ ہی دفنا دیتے ہیں۔

آج بھی انتظار کیا جارہا تھا کہ کب ان چودھریوں میں سے کوئی منہ کھولے اور کب آخری فیصلہ ہو ،پر منہکسی کا کھل ہی نہیں رہا تھا۔ ہر کسی کا چودھری کانارام سے اپنا رشتہ تھا، وہ پہلےبول کر دشمنی مول لینا نہیں چاہ رہے تھے۔ نریش نے اپنے گھر سے چائے، چینی اور دودھبھی منگوا لیا تھا۔ چائے کا دور بھی شروع ہو گیا۔ نریش زیادہ جوش و خروش اس لئےدکھا رہا تھا ،کیونکہ وہ اپنا مستقبل چودھری بننے میں دیکھ رہا تھا۔ یہ موقع تھا۔وہ چُوکنا نہیں چاہتا تھا۔

اگرچہ بات انڈروئیر تکبھی پہنچ گئی تھی۔ وہ مسلسل دو دنوں سے پی رہا ہے، کسی سے بھی بات نہیں کرتا۔چودھرائن کی طبیعت تو میرا سے شادی والی بات کرتے ہی ناساز ہو گئی تھی۔کھاٹ ہی پکڑلی تھی۔ گردھاری خدمت میں لگا رہتا ہے۔ آج رات کی سبھا میں چودھرائن نے ہی بھیجاتھا اسکو کہ کسی طرح بھی کرکے چودھری کو ذات میں رکھواؤ، لیکن وہاں سے بھی ناامیدیہی ہاتھ لگی۔ گردھاری مایوس ہوکر جب انڈروئیر کی حویلی کی طرف آ رہا تھا، تو اس کادل کیا کہ پھانسی کر لے۔ ایک بار تو ارادہ بھی بنا لیا تھا ،لیکن پھر سوچا کہچودھرائن کو مشکل میں اکیلے چھوڑنا بے وفائی ہے۔ سو، اس وقت کیلئے ارادہ ختم دیا۔تذبذب تو یہ تھا اسکو کہ چودھرائن کہے گی کہ گردھار ی تیرے پر ہی وشواس ہو، اب توکشتی ڈوبے گی۔ وہ گردن جھکائے انڈروئیر کی حویلی میں داخل ہوا اور پھر مشکل سے، دلپر ہاتھ رکھ کر چودھرائن کی کوٹھری میں داخل ہوا۔

’’اے۔۔ہو ۔۔ دو دن میںہی چودھرائن کی صورت ہی بدل گئی۔ وہ رونق تو گزرے زمانے کی بات ہو گئی اب۔‘‘گردھاری یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے کانوں میں چودھرائن کی دردبھری دہاڑ پڑی۔

’’گردھاری، اونٹ پر زینمانڈ، جے پور چالسیاں۔‘‘

گردھاری اچانک جے پورجانے کی منصوبہ بندی کے بارے میں زیادہ تو نہیں سمجھ پایا ،لیکن اس نے یہ انداز ہضرور لگا لیا تھا کہ میرا سے ملنے جانا ہے اور اب یا تو اونٹ ٹیلا پارکرے گا یاپھر گھٹنے ٹیک دے گا۔ چودھرائن کا حکم بھلا کبھی گردھاری نے ٹالا ہے۔ فوری طوراونٹ پرزین باندھ کر چلنے کو تیار کر دیا۔ چودھرائن نے انڈروئیر کو کچھ بھی کہنےکی ضرورت نہیں سمجھی اور جا کر اونٹ پر سوار ہو گئی۔ اشارے کے مطابق گردھاری رسیپکڑ کر آگے روانہ ہو گیا۔ رات کے اس پہر عموماً گاؤں میں خاموشی ہوتی ہے ،لیکن ٹھاکراور جاٹوں کی جنگی تیاریوں کی وجہ سے لوگ سونے کے بجائے گھروں میں دبکے پڑے تھے۔گردھاری کے دل میں ایک تشویش تھی، سوچ رہا تھا کہ گاؤں کی بساوٹ سے باہر نکل کرپوچھوں گا، لیکن اتنا صبر نہیں کر پایا اور پوچھ ہی ڈالا،’’ چودھرائن جے پور کورستو جانو ہوکے؟‘‘

’’نہیں جانوں۔ لوگا ںسوں پوچھتا پوچھتا ہی پُوگ جاواں گا۔‘‘ چودھرائن کو پورا یقین تھا۔

جب چودھرائن نے کہہ دیاکہ لوگوں سے راستہ پوچھ کر جے پور پہنچ جائیں گے، تو گردھاری کو ماننا ہی تھا۔لیکن جب چودھرائن نے جواب دیا،تب وہ نریش کے گھر کے برابر ہی سے گزر رہے تھے۔ وہچائے کے لئے دودھ لینے کے لئے آیا تھا اور چودھرائن کی آواز بھلا کوئی نہ پہچانے۔اس کے گھر کے برابر ہی سے رستہ جاتا ہے، گردھاری اور چودھرائن کے بیچ جب یہ گفتگوہو رہی تھی، تب نریش برتن سے دودھ کا کٹورا بھر کر بوتل میں ڈال رہا تھا۔ چودھرائنکی آواز سنتے ہی اس کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹاکھنّن سے۔

’’چھریرے ۔۔۔‘‘ نریش کیماں بلی کے بھروسے فوری طور پرکھاٹ سے اتری۔

’’میں ہوں ۔۔۔‘‘ نریشنے دبی آواز میں کہا۔

یہ سن کر اس کی ماں توخاموش ہو گئی اور وہ دبے پاؤں دوڑ کر چھت پر چڑھا۔ اسے چاندنی رات میں جاتا ہواایک اونٹ دیکھا، جس پر شاید کوئی عورت بیٹھی تھی اور نیچے ایک مرد رسی پکڑے چلرہاتھا۔ یہ دیکھتے ہی اس نے درست اندازہ لگا لیا تھا ،کیونکہ گاؤں میں چودھرائن کےعلاوہ کوئی عورت اونٹ پر چڑھتی ہی نہیں ہے اور چودھرائن کے ساتھ چودھری نیچے رسیپکڑ کر چلتا نہیں ہے۔ ظاہر طور پر گردھاری ہوگا، اتنا سوچتے ہی نریش کے قدموں کےپنکھ لگ گئے اور پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب جاٹوں کی اس سبھا میں پہنچ گیا، جہاں پرآج کچھ فیصلے ہونے تھے۔

’’اب بتاؤ، ڈونگری دادیاونٹ پر چڑھی گاؤں سوں باہر گئی ہے۔ ساتھ میں گردھاری بھی ہے۔‘‘ نریش نے پورا دملگا کر چلاتے ہوئے خبر اچھالی۔

اتنی دھماکے دار خبرسنتے ہی سب کے چہرے کھلکھلاکر ہنسنے لگے۔ مختلف دھڑوں میں بیٹھے لوگ دوڑ کر نریشکے ارد گرد جمع ہو گئے۔ اپنے ارد گرد جاٹوں کا اتنا بڑاجھنڈ اپنی طرف تاکتے ہوئےدیکھ کر نریش کو ایک بارگی چودھری بننے کا احساس ہو گیا۔ یہ احساس ہوتے ہی اسے لگاکہ وہ زمین سے پانچ انچ اٹھ گیا ہے اور سینہ بھی سرک رہا ہے۔ چھوٹی سی مونچھیں بھیاچانک بڑھتی ہوئی لگیں۔ آہستہ آہستہ سارا چودھری پنا اس جسم میں اترنے لگا اور وہہر انگ میں اسکی سرسراہٹ محسوس کرنے لگا۔ بولنے سے ٹھیک پہلے اسے لگا کہ اس کیآواز بہت بھاری ہو گئی ہے، تو زور لگانا پڑا،’’اِتّی رات کو ڈونگری دادی اِک پرائےمرد کے ساتھ جا رہی ہے۔ سماج کی ناک چودھری پوری کوٹیگو۔‘‘

’’اب کے پھیسلو کرنو ںہے پنچوں۔‘‘ بھیڑ نے ایک آواز میں بڑے چودھریوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

ان سات چودھریوں نےخاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کوئی بھی پہلے بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہاتھا۔ آنکھوں کے اشاروں سے الگ جاکر رائے مشورہ کرنے کو کہا کسی ایک چودھری نے۔ساتوں فوری طور پر اس بھیڑ سے تقریباً اسی فٹ دور جا چکے تھے۔ اب بھیڑ کو تسلی ہوگئی تھی کہ جب یہ خفیہ اجلاس کرنے گئے ہیں، تو کچھ فیصلہ ضرور ہوگا اور یہ تو یقینتھا ہی کہ کچھ بھی ہو، فیصلہ ذات کے مفاد میں ہوگا۔ کافی دیر تک انتظار کرنے کےبعداجلاس کا دور ختم ہوا اور ساتوں چودھری بھیڑ کی طرف آئے اور ایک چودھری نےکہا،’’دیکھو ذات بھائیوں، بات یاسے کہ چودھری نے جاتی سُوں باہرکرنو ہی پڑسی۔بنّےٹھاکرنے بھی سلجھانا پڑے گا۔ باری باری سوں سارے کام نپٹانے ہیں۔ اب پہلو کام ہےکہ چودھرائن کی خبر کرنی کہ وہ رات کوکہاں گئی ہے۔ پنچوں نے طے کیا ہے کہ سارےبھائی چودھرائن کے پیچھے چالینگے اور دیکھیں گے کہ وہ کہاں گئی ہے۔‘‘

’’پنچوں کو حکم ،سرماتھے۔‘‘ ساری بھیڑ نے ایک آواز میں کہا۔

حکم پنچوں کا تھا اورباقی تیاری نریش کو کرنی ہے تھی ،کیونکہ مستقبل میں وہ بھی پنچ بننے والا ہے اورپھر حکم بھی جاری کرے گا۔ اس وقت شاید کوئی دوسرا اس جیسا جوان تیاریوں میں لگاہوگا، یہی چکر چلے گا، جب تک ذات رہے گی۔ پوری رات نہ سونے کے با وجود بھی بھیڑ کےچہرے پر کسی قسم کی تھکاوٹ کا احساس نہیں تھا، وہ پوری تھکاوٹ ذہن میں چھپا کر ذاتکو بچانے کے لیے تیار تھے۔ گاؤں میں کل پانچ ٹریکٹر تھے اور ان میں سے ایکانڈروئیر کے پاس تھا۔ لہذا تین ٹریکٹر کے پیچھے ٹرالیاں جوڑی گئیں، لوگوں نے انمیں لاٹھیاں بھی بھر لیں اور پھر سوارہو چلے۔ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ چودھرائنگئی کس طرف ہے۔ اسے گاؤں کے باہر نکلتے ہوئے نریش نے ضرور دیکھا تھا۔ ابھی قافلےکی قیادت بھی وہی کر رہا ہے۔ آگے والی ٹرالی میں نریش زور سے جے بول رہاتھا،’’بولو بجرنگ بلی کی۔‘‘

’’جے ہو۔‘‘ ہم آواز ہوکر سارے لوگ بولے۔

چودھرائن نے گاؤں سےنکلتے ہی گردھاری کو اونٹ روکنے کا حکم دیا۔ اس نے حکم کی فوری طور پالناکی۔ دوسراحکم آیا کہ وہ بھی اونٹ پر چودھرائن کے ساتھ بیٹھ جائے ،کیونکہ تھکا ہوا تھا اورسفر تو اتنا لمبا تھا کہ دونوں کو کلومیٹروں کا بھی کوئی حساب معلوم نہیں تھا۔گردھاری کو تھوڑی سی ہچکچاہٹ ہوئی۔

’’کِن دقت نہیں ہے۔ میںتو پیدل ہی چالُوں ہُوں۔‘‘

’’ارے باؤلے، اِتی دورپیدل چلے گا تو جان نکل جائیگی۔ آ، بیٹھ جا۔‘‘ چودھرائن نے بڑے پیار سے کہا۔

گردھاری کیلئے چودھرائنکا یہ حکم ٹالنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے اونٹ کو بٹھایا اور چودھرائن کے آگے بیٹھگیا۔ یوں تو گردھاری نے کئی بار اونٹ کی سواری کی ہے، لیکن آج کچھ الگ ہی محسوسہورہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ صحرائی جہاز پر نہیں، ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہے۔ چونکہجے پور کا راستہ نہیں جانتے تھے اور سڑک پر اونٹ آہستہ بھی چل رہا تھا۔ گردھاری کوسیکر تک کا راستہ معلوم تھا اور سڑک پر کسی کے دیکھنے کا ڈر بھی اسے ستا رہا تھا۔سو، بیکانیر سے جے پور جانے والی مرکزی سڑک کو چھوڑ کر انہوں نے کچے راستے ہی جانامناسب سمجھا۔ کچے راستے بھی سیکر تک تین جاتے تھے۔ انہوں نے سب سے سیدھا راستہ چنا،جس پر گاڑیوں کا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ پیچھے سے آ نے والی بھیڑ ویسے تو ان سے دوگھنٹے کی تاخیر سے چلی تھی، لیکن ٹرالی سے چلنے کی وجہ سے انہیں پکڑ سکتی تھی۔ایکدم غصے سے بھری بھیڑ اس ویرانے میں ،ممکن ہے کہ دونوں کو مار دیتی، قیدی بنا لیتییا پھر انڈروئیر کے خلاف گواہی دلوا لیتی، لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ انہوں نےسیکر جانے کا راستہ تو کچا چنا، لیکن دوراہا چن لیا۔

چودھرائن اور گردھاریکو یہ جانکاری تو نہیں تھی کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے ،لیکن ان کے ذہن میں ایکڈر ضرور تھا۔ تو خاموشی سے ہی سواری کر رہے تھے۔ کبھی کچھ اشاروں سے باتیں ہوجاتیں، تو کبھی پھسپھساہٹ سے کام نکالا جاتا۔

ادھر ٹھاکر کی ڈیوڑھیمیں ویسے ہی محفل جمی ہوئی تھی۔ جنگ کی لگ بھگ تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ یہ طے کرناتھا کہ جنگ کا آغاز کس طرح، کہاں اور کب کیا جائے۔ ان تین سوالوں پر کوئی ایک رائےنہیں بن رہی تھی۔ شیخاوتوں کا کہنا تھا کہ جاٹوں کو گھر میں گھس کر ماریں گے۔راٹھورو ں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم بزدل نہیں ہیں، دشمن کو للکاریں گےاور جنگ میدان میں ہوگی۔ ان دونوں کے علاوہ کچھ مڑتِیا راجپوتوں کا خیال تھا کہجیسے موقع ملے، ویسے ہی مارو۔ اسی سوال پر رات بھرسے بحث چل رہی تھی۔ کئی بار تووہ آپس میں ہی الجھ جاتے اور تلواریں تن جاتی۔ پھر کوئی انہیں یاد دلاتا کہ آج جنگراجپوتوں کی آپسی نہیں، جاٹوں سے ہے۔

کچھ دیر معاملہ ٹھنڈا رہتااور پھر ویسے ہی مونچھیں مروڑی جاتیں۔ بہت سے راٹھور زیادہ پینے کی وجہ سے لڑھکگئے تھے۔ کسی کے منہ میں کتا پیشاب رہا تھا ،تو کوئی گوبر میں لوٹ پوٹ رہا تھا۔ ہرکوئی اپنا راگ الاپ رہا تھا۔ درمیان میں کچھ شیخاوتوں اور راٹھوروں کے بیچ رشتو ںکی بات پکی ہو رہی تھی۔ اگرچہ جو رشتوں کی بات کر رہے تھے وہ بالکل نوجوان تھے اورانکی اولاد بھی نہیں تھی، لیکن اولاد ہونے سے پہلے ہی رشتہ طے کر رہے تھے۔ کچھ نےتو ایک دوسرے کو سمدھی کہنا بھی شروع کر دیا تھا۔

بکرا پک چکا تھا۔جو ہوشمیں تھے ، انہوں نے تو بوٹیاں کھا ماری، کچھ کے سالن حصے میں آیا اور کچھ مدہوشراٹھور ہانڈی چاٹ رہے تھے۔ تقریباً چار بجے کے آس پاس سارا مجمع لڑھک چکا تھا۔

سورج نکلنے سے اجالا ہوگیا تھا۔ سارے راجپوت ریت پر سوئے ہوئے تھے۔ آس پاس کہیں کہیں ہڈیاں بکھری ہوئیتھیں،جن کو کھانے کے لئے کتوں کی ایک پوری ٹیم تعینات تھی۔ کچھ کوے بھی منڈرارہےتھے کہ انہیں بھی کچھ نصیب ہو جائے۔ کسی کا پاجامہ گوبر میں بھیگ گیا تھا، تو کسیکی دھوتی کافی حد تک کھل چکی تھی۔ بس، اب کی بارکروٹ لی نہیں کہ نروکا اور شیخاوت،سب ننگے۔ پاس سے گزرتی ایک پِنہاری گھونگھٹ اٹھا کر اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔

تبھی کسی نے یہ خبرٹھاکروں کی حویلی میں پہنچائی کہ ٹھاکر جنگ میں جانے کی بجائے ڈیوڑھی میں لوٹ رہےہیں۔ مونچھیں تو سب کی ریت اور گوبر سے سنی ہوئی ہیں۔ یہ سنتے ہی بنّی سنگھ کیٹھکرائن آئی اور اسے جھنجھوڑا۔ ٹھاکر بمشکل ہوش میں آ پایا۔ آتے اس نے جو نظارہدیکھا تو خاموشی سے اٹھ کر حویلی کے اندر بھاگا۔ آہستہ آہستہ تمام ٹھاکر اٹھ کراندر گئے اور نہا کر پھر اسی رنگت میں آ گئے۔ بوتلیں آگئی، محفل سج گئی اور وہیبحث شروع۔ جنگ کہاں، کب اور کیسے کی جائے۔ کچھ بیداری اورکچھ مدہوشی کی ملی جلیکیفیت میں بھی لوگ اپنی اپنی ضد پر ڈٹے ہوئے تھے۔ سارے لوگ تین گروپوں میں تقسیمہو گئے۔ ایک میں شیخاوت تھے جو اسی گاؤں کے تھے اور ان میں کچھ آس پاس کے گاؤںوالے بھی تھے۔ دوسرے گروہ میں راٹھور تھے ،جو بیکانیر اور جودھپور سے آئے ہوئے تھےاور تیسری میں میڑتا کے میڑتیا راجپوت تھے۔ نروکا غیر جاندار تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ سارے لوگ جو بھی طے کریں گے، وہ اس کو ماننے کو تیار ہیں۔

بنّی سنگھ نے مداخلتکرتے ہوئے کہا،’’یہ راڑ شیخاوتوں کی ہے۔ گھروں میں گھس کر ماریں گے۔‘‘

’’خالی شیخاوتوں کینہیں ہے راڑ اب۔ ساری راجپوت ذات کی راڑ ہے۔ میدان میں بلا کر لڑیں گے۔‘‘ راٹھوروںمیں سے رائے سنگھ بولا۔

پھر ویسی ہی تکرار شروعہو گئی۔ کوئی بھی رائے نہ بننے کی وجہ سے بنّی سنگھ کے رشتہ داروں کے رشتہ داراپنے گھر لوٹ چکے تھے۔ انڈروئیر گھر میں اکیلا شراب پی رہا تھا۔ چودھرائن اورگردھاری راستہ بھٹک گئے۔ جے پور پہنچے ہی نہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ میراسے ملنے نہیں، مٹرگشتی کرنے گئے تھے۔ جاٹوں کا قافلہ ضرور جے پور پہنچ گیا تھا اورجب وہ میرا کے ہاسٹل میں گئے، تو گارڈ نے چائے والے کو پوچھنے کو کہا۔ ساری بھیڑنے روہت کو گھیر لیا۔ اس نے بتایا،’’کل رات کو میرا جے پور چھوڑ کر چلی گئی۔ یہاںآئی تھی۔ اسے فرانسیسی حکومت نے اسکالر شپ دی ہے۔ وہ جاتے ہوئی، وہی پرانا گانا گارہی تھی۔‘‘

سانجھی سجنا پریت ہے۔

تو نہ تھانیدار ۔۔

دھوڑاں ماتھے ثبوت ہیں۔

ملنے کے نشان۔

نا تو سمجھیو مویہ کو۔

نہ مے سمجھی تویہ ۔۔

نہ تن دیوں، نہ مندیوں۔

مرجی اپن ا یتھی ہویہ۔۔

سانجھی سجنا پریت ہے۔

تو نہ تھانیدار ۔۔

آپ کو کہیں کوئی میراملے تو اس لکھاری کا ' 'سلام' ' کہنا۔

***




سندیپ میل۔پیدائش: پندرہ مئی۱۹۸۸ ؁ء، پوشانی، سیکر،راجستھان۔زبان:ہندی، راجستھانی۔تعلیم: ایم اے (سیاست)، ایم فل، پی ایچ ڈی(جاری)، میدان: کہانی نویسی، مضامین، بچوں کا ادب۔تصنیف و تالیف:کہانی کے مجموعے ’’کوکلا شاستر‘‘،’’دوجی میرا‘‘، سیاسی مضامین کا تالیفی مجموعہ ’’انا سے اروِند تک‘‘، بچوں کی کہانیوں پر بھی ایک مجموعے ’’ قصوں کا خزانہ‘‘کی اشاعت

عامر صدیقی

عامر صدیقی ،افسانہ نگار / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر ۔ پیدائش 20 نومبر 1971 بمقام سکھر ، سندھ ۔تعلییمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز 1992 میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے "وی ون" سےکیا ۔ ہندوپاک کے سبھی رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں ۔ علاوہ ازیں دیگرتراجم و مرتبہ کاموں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے :1- فرار (ہندی ناولٹ)۔۔۔رنجن گوسوامی / 2 - ناٹ ایکیول ٹو لو(ہندی تجرباتی ناول) ۔۔۔ سورج پرکاش /3-دوڑ (ہندی ناولٹ)۔۔۔ ممتا کالیا / 4 - سترہ رانڈے روڈ (ہندی ناول) ۔۔۔ رویندر کالیا / 5 -آخری گیت اور دیگر افسانے ۔۔۔ نینا پال / 6 - دیوی نانگرانی کی منتخب غزلیں ۔۔۔ انتخاب/ اسکرپٹ کی تبدیلی/ 7 - لالٹین ۔۔۔ رام پرکاش اننت / 8 - دیس بیرانا(ہندی ناول) ۔۔۔ سورج پرکاش / 9 - دوجی میرا (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) --- سندیپ میل / 10 - کوکلا شاستر (ہندی کہانیوں کا مجموعہ ) --- سندیپ میل / 10- پچاس کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) / 11- ساٹھ کی دہائی کی بہترین ہندی کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) / 12- موہن راکیش کی بہترین ہندی کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) /13- دس سندھی کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) /14- بہترین سندھی کہانیاں (انتخاب و ترجمہ) /15- ہند کہانی جلد ایک (انتخاب و ترجمہ) / 16- ہند کہانی جلد دوم (انتخاب و ترجمہ) /17 - عباس سارنگ کی مختصرسندھی کہانیاں ۔۔۔ ترجمہ: س ب کھوسو، (انتخاب و ترتیب) /18- قصہ کوتاہ(ہندی ناول) ۔۔۔اشوک اسفل / 19- گنگا میا (ہندی ناول)--- بھیرو پرساد گپتا / 20- پہچان (ہندی ناول)--- انور سہیل /21- سورج کا ساتواں گھوڑا(مختصرہندی ناول)--- دھرم ویر بھارتی / ذکیہ زبیری کی پسندیدہ کہانیاں(زیرترتیب ) /سورج پرکاش کی منتخب کہانیاں(زیرترتیب ) /انورسہیل کی نمائیندہ کہانیاں(زیرترتیب

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form