دیدبان آٹھ کے سر ورق کے مصور

 مومن رحیم خان ایک تعارف

 تحریر : شائستہ مومن

 وہ حیرانی سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے کھڑا رہ گیا۔ رو بھی نہ پایا۔ رات بھر محنت سے جو پینٹنگ بنائی تھی اسے مبین العظیم نے سراہنے کے بجائے چھڑی سے اس کی ہتھیلی داغدار کیوں کی۔ اگلے دن ابا کے پاس شکایت پہنچی کہ آپ کا بیٹا بڑی بہن سے ڈرائنگ ہوم ورک کرواتا ہے۔ ابا مسکرا کر رہ گئے۔ عظیم صاحب کی غلط فہمی دور ہوئی تو وہ ان کا واحد چہیتا شاگرد بن گیا۔ پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی تو اسے تھی نہیں۔ بس سارا دن کھیل کود ، یا پھر مصوری۔ شوق کا یہ عالم تھا کہ بہنوں کے ساتھ کشیدہ کاری بھی کیا کرتا۔جیسے تیسے میٹرک پاس کیا تو بڑے بھائی ہاتھ پکڑ کر سینٹرل انسٹیٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کرافٹ یعنی آرٹس کونسل لے گئے۔ وہ جان چکے تھے کہ یہ اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔

 آرٹس کونسل میں بھی اس نے بہت کم مدت میں اساتذہ اور سینئر اسٹوڈنٹس پر اپنی دھاک بٹھا لی۔ وہ اس کی زندگی کا سنہرا دور تھا۔ لیکن ایک سال بعد ہی اسے آرٹس کونسل چھوڑ نے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ گھر کے مالی حالات فیس اور میٹیریل کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ مس مہر افروز کو پتہ چلا تو انہو ں نے پرنسپل راشد ارشد سے بات کی اور اس کی فیس معاف کر دی گئی۔میٹیریل کے اخراجات کے لئے کچھ سینئر دوستوں نے اسے السٹریشن کا کام دلوا دیا۔ یوں اٹھارہ سالہ مومن خان کی گاڑی آرٹ کی پٹری پر رواں ہو گئی۔یہ وہ دور تھا جب کراچی میں دو یا تین آرٹ گیلریز ہوا کرتی تھیں۔ پینٹنگز آرٹسٹ کا ذریعۂ معاش نہیں بن سکتی تھیں۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد آرٹسٹ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں یا پھر اخبار و رسائل کا رخ کرتے۔ مومن نے بھی یہی کیا۔ دوشیزہ ڈائجسٹ، اخبارِ خواتین، آنکھ مچولی، خواتین ڈائجسٹ اور پھر غازی میگزین۔ ریل ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن رکتی رہی لیکن منزل کہیں اور ہی تھی۔ 

مومن خان نے یونیسف کے لئے بھی کام کیا۔ لیکن قابل افسوس بات یہ کہ ہمارے یہاں السٹریٹر کو وہ عزت نہیں دی جاتی جو کہ ملنی چاہیے۔ السٹریشن وہ آرٹ فارم ہے جو براہِ راست عام لوگوں سے کلام کرتی ہے۔ یہ ذکر ہے آج کے مایا ناز ارٹسٹ مومن رحیم خان کاجن کے قابلِ ذکر کمرشل کاموں میں آنکھ مچولی میں بچوں کے لئے کیا جانے والا کام ہے۔ پاکستان میں بچوں کے لئے سب سے زیادہ کام مومن خان نے کیا لیکن افسوس کہ نہ اس کام کا ریکارڈ رکھا گیا نہ کوئی انعام یا ایوارڈ دیا گیا۔۲۰۰۷تک آرٹ کا منظرنامہ کافی بدل چکا تھا۔ پرائیویٹ سکٹر کی دلچسپی کے نتیجے میں ملک بھر میں سینکڑوں آرٹ گیلریز کھل چکی تھیں۔ لوگوں میں آرٹ کا شعور کافی حد تک بیدار ہو چکا تھا۔ برسوں سے دبی آرزو بیدار ہوئی اور مومن نے کینوس پر رنگ بکھیرنے شروع کر دیے۔ انہوں نے شمالی علاقوں اور افغانستان میں کھیلے جانے والے کھیل بزکشی کو اپنا موضوع بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا کام ملک اور بیرونِ ملک لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔

بقول مومن " میری پینٹنگ میں گھوڑے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی میرے کام میں صرف گھوڑے دیکھتا ہے تو غلط ہے۔ میں موومنٹ یعنی حرکت پینٹ کرتا ہوں۔ بے رنگ اور سخت پہاڑوں میں کھیلے جانے والے اس خشک اور صبر آزما کھیل کو میں نے اپنے رنگ دیے ہیں۔ میں رنگوں سے کھیلتے ہوئے کینوس پر زندگی سے بھرپور حرکت پیدا کرتا ہوں ، حرکت جو زندگی ہے۔ ا ور اس کام کے لئے یہی سبجیکٹ بہترین تھا۔"بزکشی کے علاوہ مومن کی ایک اور پہچان ان کا مخصوص چہرہ ہے۔ رنگوں سے آراستہ یہ چہرہ سخت نقوش لئے ہے۔ اس کی گہری اور چمک دار آنکھیں آپ سے مخاطب ہو جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ زندگی جتنی بھی مشکل ہو بحرحال رنگین اور متحرک ہے۔ یوں کہا جائے کئ مومن "زندگی" پینٹ کرتے ہیں تو بےجا نہ ہوگا۔

یوں تو انہوں نے ہر میڈیم میں کام کیا ہے لیکن پورٹریٹ واٹر کلر میڈیم میں بناتے ہیں جبکہ پینٹنگز کے لئے ایکریلک میں کام کرتے ہیں

گزشتہ دنوں مومن رحیم خان نے پاکستانی مصوروں کے واٹرکلر پورٹریٹ کا ایک نیا سلسلہ شروں کیا ہے۔ یہ کام وہ بغیر کسی مالی مفاد کے کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد پاکستانی آرٹ کی ایک نئی تاریخ رقم کرنا ہے۔ اس کام نے مومن کو ایک نئی پہچان دی ہے ۔ جلد ہی یہ کام کتابی شکل میں سامنے آئے گا جس میں پاکسٹان بھر کے مصور بلا امتیاز یکجا نظر آئیں گے۔ بلاشبہ یہ اپنی طرز کا انوکھا انتخاب ہوگا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیااور نہ دیکھا -

شائستہ مومن

..................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form