دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز

August 25, 2016
شمارہ - ٢، اردو ڈائسپورا قاری کی آراء

دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعیم بیگ

لاہور پاکستان مورخہ 12 اگست 2016 ء

زمیں کے ٹوٹے ہوئے آخری کنارے تک

میں اُس کے ساتھ چلوں گا نئے ستارے تک

(بیرم غوری)

سوشل میڈیا،فیس

بک اور انٹرنیٹ کی دنیا بھی عجیب و غریب اورمحیرالعقول ہے ، معاشرتی شعورمیں جہاں وقت کے نئے تقاضوں نے نِت نئے ابواب لکھے، وہیں انسانی نفسیات میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ سوشل انیمل ہونے کے ناتے کراس بارڈر، ہرنسل ورنگ کے انسان پھولوں کی کلیاں اٹھائے امن و محبت کی نئی تہذیبی و تمدنی آشنائی کا سبب بنے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں سانجھے کا سودا ہوا۔ اطلاعات لمحہ بہ لمحہ ترسیل ہوئیں ۔ عالمگیری سطح پر نئے فکری افق دریافت ہوئے ، موضوعات پُر اثر اور متنوع ہوئے۔ سیٹلائٹ نے زمینی اور کائناتی مخفی گوشوں کو یک جا کر دیا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے دنیا بھر میں امن و محبت کے پیغام کو جس تیزی کے ساتھ مہمیز دی وہ ناقابلِ تسخیر نئے عالمی معاشرے کی ابتداءثابت ہوا۔

ایسے میں ادب ا ور نئے نظریات کی جو فلسفیانہ تشریحات بیسویں صدی میں یورپ سے اٹھیں وہ لمحوں میں تقسیم ہوتی تیسری دنیا کے مملکتوں کے باسیوں تک آن پہنچیں۔ اردو برصغیر کی ایک مکمل تہذیب ہونے کے سبب اپنے اندر اس قدر وسعت اور جہان آباد رکھتی ہے کہ اس نے جہاں عالمی ادبی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے اندر سمویا، وہیں فکری سطح پر اِن سرگوشیوں کو بھی جگہ دی جو ادب میں فنِ لطیف کا درجہ رکھتی تھیں۔ یوں اردو ادب میں نئی نسل نے ترقی پسندی کے رحجانات سے آگے بڑھ کر جدید رحجانات سے مزیں امکانات کا جائزہ لیا ، اور اپنی تخلیقات مین نئے تجربات سے قاری کو آشنا کیا ۔ایسے میں ایک مثبت کام یہ ہوا کہ انٹرنیٹ پر اردو ادب کے بلاگز اور ادبی فورمز نے ان نوجوانوں کو پرنٹ میڈیا سے ہٹ کر نئی دنیا آباد کرتے ہوئے نئی پہچان دی۔

اردو زبان اپنے مزاج میں جہاں فارسی ، عربی اور ہندی کے حسین امتزاج کا مُرقّع ہے، وہیں اسکی نشونما میں ترقی پسندی اور جدیدیت نے نئے خون کو انجیکٹ کیا، نئے امکانات کا دریچہ وا کیا،رجعت پسندی کو بزورِ قلم پرے دھکیلتےہوئے دیگر عالمی زبانوں کے ادب کی آمد کو اپنی ارتقائی جسامت کا جزولاینفک بنایا۔ ایسےمیں اکیسویں صدی کےابتداء ہی سے پرنٹ میڈیا میں اردوادبی جرائد اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ تاہم انٹرنیٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا ہی واحد سہارا بنا۔ اس سے پہلے آن لائن کئی ایک بلاگ وجود میں آئے جس میں’ ریختہ‘ سرِ فہرست ہے تاہم اب چند برسوں سے فیس بک پر کچھ ادبی فورمز کے سجے چمنستان میں یہ خود رُو بلاگز اردو ادب کی خدمت میں درپیش مسائل کا ادراک تو رکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ صرف نئے لکھنے والوں کی بے جاءحوصلہ افزائی میں یک طرفہ کردار ادا کرنے لگے۔جس سے نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت خودنمائی کا شکار اور تنقید سے بالاتر ہوکر جمالیاتی اور ادبی لطافت سے قدرے دور ہو گئی۔ چنانچہ ان ادبی جرائد و فورمز اور بیسیوں آن لائن بلاگز کی کہکشاں میں ابھرتے ہوئے عالمی ادبی و ثقافتی رحجانات اپنی نئی دنیا بسانے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اپنی تعبیر کی تلاش میں رہے۔

ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ” دیدبان “ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی جانے والی تین معروف ادیبائیں ڈاکٹر نسترن فتیحی(علی گڑھ-انڈیا)، سبین علی ( جدہ - سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی ( نیوزی لینڈ ) راقم کی دلی مبارک باد کی مستحق ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے راستے نہ صرف نئے ادباء  شعرا کو جگہ دی بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب ، اردو ادب اور تنقید میں پہلے ہی کافی کام عالمی قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’ دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔ ۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے ( انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ ایکو فیمینزم ‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’ کتن والی ‘ جیسے معرکة الآراءافسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہے لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔

گواب تک ’ دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ ( جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعیم بیگ

لاہور پاکستان

نعیم بیگ

افسانہ نگار ، ناول نگار نعیم بیگ کا تعلق پاکستان کے ادبی مرکز لاہور سے ہے۔ آپ بنیادی طور بینکار ی اور انجینئرنگ مینجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اپنے پروفیشنل سفر میں وہ جزوقتی لکھاری کی حیثیت سے ہمہ وقت مختلف اخبارات اور جریدوں میں اردو اور انگریزی کے مضامین لکھتے رہے۔’ ٹرپنگ سول‘اور ’کوگن پلان‘ ان کے  دو ناول انگریزی میں آ چکے ہیں ۔ اردو زبان میں بھی ان کے دو افسانوی مجموعے ’ یو۔ڈیم۔سالا‘اور ’ پیچھا کرتی آوازیں‘ اور ایک ناول ’ ڈئیوس،علی اور دِیا‘  منظر عام پر آچکے ہیں . نعیم بیگ ایک فعال ادیب ہیں جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں  میں بیک وقت  لکھ رہے ہیں .آپ کئی ایک ملکی ادبی اداروں اور عالمی رائٹرز گلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form