دیدبان شمارہ ١٢

افسانہ : نووا ہائیٹس

مصنف : عمار یاسر (کراچی ، پاکستان )

میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوں اور نیچے خالی سڑک کو دیکھ رہا ہوں. میرا اپارٹمنٹ شہر کے اُس حصے میں واقع ہے جہاں رات گئے تک رش لگا رہتا ہے. یہاں ایسے اپارٹمنٹس کثرت سے ہیں جو کمرشل ہیں. اکثر عمارات میں نیچے دو منزلوں تک یا تو شو رومز ہیں اور یا پھر دفاتر. باقی منزلوں میں کشادہ اپارٹمنٹس ہیں.

میرے اپارٹمنٹس کا نام نووا ہائیٹس ہے. میں پانچویں منزل پر رہتا ہوں. میرے فلیٹ میں تین کمرے, ایک ٹی وی لائونچ, کیچن اور ڈرائینگ روم ہیں. آج کل میں یہاں اکیلا رھ رہا ہوں. ایک خاموشی ہے جو کان کے پردے پھاڑ رہی ہے. ہر طرف چیزیں ترتیب سے پڑی ہیں. میرے کمرے کے بیڈ پر چڑھی سفید بیڈ شیٹ, سائڈ ٹیبلز پر سجے لیمپس. کمرے کی کھڑکی کی طرف چھوٹی ٹیبل اور تین کرسیاں. الماری کے قریب دیوار سے ٹیک لگائے میرا الیکٹریک گٹار.... سب کچھ ویسے کا ویسے ہی پڑا ہے. یہاں تک کہ سائڈ ٹیبل کے اوپر روزینہ کے ائیر رنگز اور ایک پازیب بھی یونہی پڑیں ہیں.... گویا وہ نہا کر باتھ روم سے نکلنے سے پہلے مجھے آواز دے گی,

"فراز...پلیز باہر جائو....مجھے چینج کرنا ہے...."

اور میں کہوں گا,

"روزینہ.... کیا ہے....تم اپنے کپڑے ساتھ کیوں نہیں لے کر جاتیں....؟"

وہ وہیں سے بولے گی,

"اففف ہو... تم سے تو بات کرنا عذاب ہے... یہ باتھ روم چھوٹا ہے..."

میں جھنجھلا کر کہوں گا,

"بھئی ساتھ چھوٹا سا ڈریسینگ بھی تو ہے...."

وہ اترا کر شوخی سے کہے گی,

"ہائے کاش تمہیں اپنا ڈریسِنگ روم دکھا سکتی.....تمہارے دو کیچن بن جائیں ...قسم سے.... اچھا اب جائو بھی......ائوووووو .... مجھے سردی لگ رہی ہے....بیمار پڑ گئی تو تم ہی پریشان ہو گے..."

اور میں غصے میں اپنی کتاب بیڈ پر پٹخ کر کیچن کا رخ کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں میم صاحبہ کو باتھ کے بعد کافی بھی سُڑکنی ہوگی. میرا المیہ یہ ہے کہ جب وہ دونوں سفید دودھیا ہاتھوں کے رومانوی حصار میں سیاہ کپ تھامتی ہے, تو اُس کے رنگین نیل پالش لگی انگلیاں کسی رنگین کہکشاں کا منظر پیش کرتی ہیں. میں اُس کے حسین چہرے اور اِس کہکشاں کو دیکھتا چلا جاتا ہوں....

اور جب واپس آتا ہوں تو کہتا ہوں...

ویسے روزی تم نے میرا بیڈ بڑا واہیات کیا ہوا ہے....یہ تمہاری گندی جرابیں, کُچیلے .... "

اور وہ غصے سے پھنکارے گی,

"مسٹر... تم تو ایسے کہہ رہے ہو ... جیسے میں پاگل ہوں اور اِس پاگل پن کے تم حصہ دار نہیں ہو.....

.....

مجھے یہ سب مناظر یاد آریے ہیں. صرف چھ ماہ پہلے ہی میرے گھر میں ایسی رونقیں, ایسی مسکراہٹیں اور قہقہے تواتر سے گونجا کرتی تھیں. میری آنکھیں وہ مناظر نہیں بھول سکتیں ..... کہ جیسے ٹی وی لائونچ میں ڈائینگ ٹیبل پر چند دن قبل کے ڈنر کے برتن بھی ایسے ہی ایستادہ ہیں جو روزینہ اور پیٹریشیاء نے مل کر واش کیئے تھے. فرقان اور ایلیکس کے خالی پیک ایسے ہی خاموش تماشائی کی صورت چُپ چاپ پڑے تھے. ابھی تک پیندے میں کچھ باقی ڈرِنک موجود تھا.

میرے اپارٹمنٹ کا تیسرا کمرا...جو میرا سٹڈی, میوزک اور کمپیوٹر روم ہے, کسی راز کی طرح سربستہ سا خاموش ہے. فرقان کا بُجھا سِگار یونہی بجھا بجھا سا پڑا ہے. اسی ایش ٹرے میں ایک سائڈ پر پیٹریشیا کی لیڈی سگریٹ کا بھرا کیس بھی چُپ پڑا ہوا ہے.

.......

وہ 3 مارچ کی سرد شام تھی. بادل خاموشی سے چاروں طرف سے چھائے ہوئے تھے. ایسے لگتا تھا گویا کہ ابھی بارش تھرتھرا امنڈ آئے گی. فضاء سرد تھی. مگر اندر لوگوں کے اپارٹمنٹ گرم تھے. ایک سکون, ایک راحت اور ایک اُمید افزاء سا ماحول تھا جو ہم سب کو لطف دے رہا تھا. کافی تھی, جام تھے اور سگریٹیں. روزینہ اور پیٹریشیا کھانا تیار کر رہی تھیں. پیٹریشیا پیزا بنانے میں ماہر تھی. دعوتوں میں اکثر وہ خوشی خوشی پیزا تیار کیا کرتی تھی. وہ دوستوں پر جان وارنے والوں میں سے تھی.

رات آٹھ بجے ڈنر کا اہتمام تمباکو نوشی اور ڈرنکس سے شروع ہوا کرتا تھا. ایک گھنٹے کی گپ شپ کے بعد کھانے کا دور چلتا جو دس بجے اختتام پذیر ہوا کرتا. گیارہ بجے سب فارغ ہو کر جانے لگتے تو میں کم وبیش روزینہ سے رات کو رکنے کا کہا کرتا. مگر وہ نہ مانتی, کہنے لگتی,

"نہیں ممّی نہیں مانیں گی.... ویسے بھی پہلے بتاتے تو شاید اجازت مل جاتی, اور میں پیڑیشیاء کو رکنے کا کہہ دیتی..."

میں اُداس لہجے میں کہتا,

"پیٹریشیا نہیں تو کیا ہوا...میں جو ہوں...."

وہ بولتی

"نہیں ....ٹھیک ہے مجھے ممّی نے کبھی منع نہیں کیا....مگر فراز....پیلز مجبور نہ کرو.... وہ بات نہ کہو, جو میں نہ پوری کر سکوں اور تم بھی اداس ہو اور میں بھی پریشان...پلیز..."

" او کے...جائو.... " میں نے افسردگی سے جوابا٘ کہتا.

وہ شوخی سے مجھے دھکا دے کر بولتی,

"اچھا اب اُداس نہ ہو .... یونیورسٹی سے فارغ ہو کر کل آئوں گی.... اگر تم گھر پر ہوئے"

"معلوم نہیں...کچھ اتہ پتہ نہیں.... آفس کے بعد شاید ایک دوست سے میٹنگ ہے, اگر فارغ ہوگیا تو فون کردوں گا.... ویسے کل نہ ہی آئو تو اچھا ہے...شام کو آئو گی تو دن ایک دم ختم ہو جائے گا اور تمہیں سورج ڈھلنے سے قبل جانا ہوگا. پھر فائدہ کیا." میں بے دلی اُسے اِس قسم کے فقرے کہتا. پھر خود ہی کہتا,

"اصل میں, ایک اکیلا میں ہی گھر سے دور ہوں.... تنہائی کاٹنے کو دوڑتی ہے... تم سب لوگ تو فیملی کے ساتھ ہو... ورنہ کبھی نہ کہتا...."

وہ بھی اُداسی بھرے لہجے سے بولتی,

پلیز...فراز..... ایسے نہ کہا کرو.... آئیندہ یوں نہ کہنا....."

......

مجھے یاد وہ دن جب مجھے روزینہ اور سب دوستوں سے ملے ہوئے دو ہفتے ہو گئے تھے. پیڑیشیا اور فرقان سے رابطہ ہو نہیں پارہا تھا ...ایلیکس ملک سے باہر تھا. ایک دو دفعہ فون ملا بھی تو خراب موسم کی وجہ سے رابطہ نہ ہو پایا. اور میں بے سروسامانی کی سی کیفیت میں تنہاء تھا. سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ نہیں تھا. اگرچہ فریج میں اتنا کھانا بچا پڑا تھا اور دیگر لوازمات بھی اتنی تعداد میں موجود تھے کہ اگلے دو تین ہفتے کی مجھے کوئی فکر نہیں تھی. سوائے ایک دو جوڑوں کے, ڈرائی کلینڈ ڈریسز بھی موجود تھے. مگر تنہائی تھی کہ کاٹنے کو دوڑتی تھی.

مجھے یاد ہے سوائے اس کے میں کیا کر سکتا تھا کہ یا تو ٹی وی دیکھوں, یا میوزک سنوں اور یا پھر کھڑکی سے نیچے خالی ماتم کرتی سڑک کو دیکھوں. کبھی کبھی پولیس کی گاڑیاں تیزی سے گزرتی ہیں تو شور سا اٹھتا یا پھر کوئی ایمبولینس...اور اُس کا سائرن..... توجہ ایک دم کھینچ لیتا تھا.

نووا ہائیٹس شہر کی نمایاں عمارات میں سے ایک ہے. مجھے یہاں شفٹ ہوئے کوئی تین سال ہوئے ہیں. ان تین سالوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہفتہ گزرا ہوگا جب ہم پانچوں دوست نہ ملیں ہوں. فرقان اور پیٹریشیا جلد شادی کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے. روزینہ کی پڑھائی مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے. ایلیکس اپنی دھن کا آدمی تھا. لمبے بالوں اور پرانی جینز پہنے یا تو وہ کتابیں پڑھتا رہتا تھا اور یا پھر جب میرے گھر آتا تو گٹار بجاتا رہتا. اُس سے بات کرنے اور گفتگو کرنے کا لطف آتا تھا. جب ہم دونوں بیٹھ جاتے تو باقی دوست دوسرے کمروں میں چلے جاتے....پھر وقفے وقفے سے آوازیں آتیں,

ہیلو ٹوِن فلاسفرز..... " اور ناجانے کیا کیا....

مگر اب یہ سب کچھ یاد کرتا ہوں تو ساری نشستیں, رونقیں اور محفلیں بہت دور دکھائی دیتی ہیں. اِن فاصلوں کی دوریوں کے احساس کو کم کرنے کی کوشِش بھی کی کہ ویڈیو کانفرنس سے بات چیت کر لی جائے. پر ہر کوئی مصروف بھی تھا, اور جلدی میں بھی تھا اور اُلجھا ہوا بھی. مگر اِس کے ساتھ ساتھ وقت اور کوئی نہ کوئی دوسری وجہ آڑے آجاتی.

....

ایک دن صبح صبح پیڑیشیا کا فون آیا تو اس نے بتایا وہ دوسرے شہر جا رہی ہے, اور واپسی کا کوئی پتا نہیں. وہ فرقان کے بارے میں بہت پریشان تھی. کہنے لگی وہ واپس کراچی چلا گیا ہے اور اُس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا. میں نے بھی فرقان کو بار بار فون ملایا, مگر اس کا فون یا تو بند ملتا یا پھر انگیج....

اِسی الجھن اور اُداسی میں, میں کھانا لیئے کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا ....اور باہر کی خاموشی کو دیکھ دیکھ کر بے دل سا ہو رہا تھا. اچانک روزینہ کا فون آیا کہ اس کی فیملی اسلام آباد جا رہی ہے. میں تو تڑپ سا گیا.

"کیا کہہ رہی ہو تم....کوئی خیال بھی ہے میرا....؟"

وہ بھی اُسی تڑپ سے بولی,

پاپا کہہ رہے ہیں...... میں کیا کروں....مجبور ہوں...."

"روزینہ.... میں اکیلا رھ جائوں گا.... فرقان کراچی چلا گیا ہے, پیٹریشیا دوسرے شہر, ایلیکس ناجانے کہاں گیا ہوا ہے.... اب تم بھی چلی جائو گی تو میں کیا کروں گا....؟"

وہ سوائے لمبا سانس لینے کے اور کچھ نہ کر سکی. اُس نے مجھ سے وعدہ کیا وہ مجھ سے رابطہ رکھے گی اور ہر روز ویڈیو کال کیا کرے گی. مگر میں جانتا تھا یہ سب چیزیں دوری کے احساس پر اُس جھوٹ کی مٹھاس سے زیادہ کی حثیت نہ رکھیں گی جو ایک شوگر کے مریض کو شوگر فری کہہ کر دی جاتی ہے.

....

اخبارات اور ٹی وی چینلز سے کوئی اچھی خبریں نہیں آرہی تھیں حکومت جلد ہی عوام کو سختی سے گھروں میں رہنے کی نئی ہدایات شدت سے دے چکی تھی. ہر روز چار پانچ سو افراد کا کرونا وائرس سے مر جانا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی. روزینہ کے والد پاکستان کی ایمبیسی میں اعلی عہدے پر تعینات تھے. اُنہیں خبر تھی کہ اطالوی حکومت کب سخت اقدامات کرنے والی ہے اور انہیں پاکستان سے بھی آنے والی بُری خبروں کا علم تھا.

میں اٹلی پڑھنے کے لیئے آیا تھا, مگر یہی کا ہو کے رھ گیا. تعلیم کے بعد اچھی جاب مل گئی اور پھر انکل افضال میرے والد کے پرانے کلاس فیلو نکل آئے اور یوں اُن کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا. وہیں روزینہ سے دوستی ہوئی, پھر محبت... اب ہم دونوں کا شادی کا ارادہ تھا. اُس کے گھر والوں کو بھی اعتراض نہ تھا. مگر اب اِس ہولناک بیماری نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لِیا تھا.

میں ایک ایسے ملک میں رھ رہا تھا, جہاں موت نے حکومت شروع کردی تھی. ہر روز مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی. سٹے ایٹ ہوم..... نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا تھا. لوگ گھروں میں یوں قید ہوگئے تھے جیسے یہ کوئی عالمی جنگ ہو. دنیا نے سونامی اور 2005 کے زلزلوں کی تباہی دیکھی تھی, جو ہارڈ ڈسٹرکشن تھی, مگر اب یہ سافٹ ڈسٹرکشن ایک نیا عفریت بن چکی تھی. ایک ایسا ان دیکھا دشمن جس پر پوری دنیا بظاہر متحد نظر آتی تھی. یہ دشمن دوست کے ہاتھ پر تھا, گاڑی کے دروازے پر, گھر کے لاک پر, فائل پر, محبوب کے ہونٹوں پر..... ناجانے کہاں کہاں یہ ان دیکھا دشمن چھپا بیٹھا تھا.

پوری دنیا کے ملکوں کی پولیس اور فوج جدید اسلحے کے ساتھ سڑکوں اور محلوں میں لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر رہی تھی. عوام کے کسی ردِعمل سے نمٹنے کے لیئے اسلحہ تانے یہ اہلکار کرونا وائرس کو اپنا نشانہ نہیں بنا سکتے تھے. اِن کو تباہ و برباد صرف عقل و شعور سے کیا جا سکتا تھا.... صفائی اور صرف صفائی. صرف ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنے علم اور تجربے سے اس ان دیکھے دھشت گرد کے گِرد گھیرا تنگ کر سکتا تھا. یہ دشمن گولی سے نہیں علم سے ہی فنا ہو سکتا تھا.

....

وہ ایک اداس دن تھا جب مجھے فرقان کی موت کی خبر ملی. اُس کا موبائل فون اُس کے والد نے اُٹھایا اور اور بڑی استقامت سے مجھے بتایا کہ پچھلی اتوار کو اُس کا اِنتقال ہوگیا. میرا دل بُجھتا چلا گیا.... مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں پیٹریشیا کو کیسے اطلاع دوں... میری زبان گنگ ہوتی چلی گئی. مگر یہ اطلاع اُسے دینا ضروری تھی. میں نے اُسے فون کیا تو وہ بمشکل ہی میرا فون سن پا رہی تھی. اس پر کرونا بیماری کی شدید سٹیج تھی. جب وہ مجھ سے بات کر رہی تھی تو اُس کا سانس طویل سے طویل ہوتا جاتا تھا. ڈاکٹر اُسے بار بار روک رہے رھے. مگر اُس کا ایک ہی سوال تھا...صرف ایک.. کہ فرقان کہاں ہے....؟ لیکن میں اُس کی خراب طبعیت کی بنا پر اُسے فرقان کی موت کی خبر نہ بتا پایا. ڈاکٹرز نے اُس کا فون سختی سے بند کرا دیا.

میں جان چکا تھا کہ پیٹریشیا اب نہیں بچے گی. اُس کی سانسیں ختم ہو.رہی تھیں....اُس کی آواز چغلی کھا رہی تھی کہ وہ صرف چند دن کی مہمان ہے...

.....

اب میرے لیئے روزینہ اور ایلکیس اہم تھے. ایلیکس کا تو کہیں معلوم نہیں تھا. اس کے دوستوں کو فون کیئے تو اتنا معلوم ہو سکا کہ وہ اسپین چلا گیا تھا ...اور آگے اُس کا کہیں کوئی پتہ نہیں تھا ...

.....

وہ سرد شام میں کبھی نہیں بھول سکتا ....جب مجھے روزینہ کی موت کی خبر ملی. مجھے یوں لگا جیسے اُس سرد شام کو سورج آسمان میں نہیں بلکہ میرے سینے میں غروب ہو رہا ہے, جیسے روزینہ کے نازک سینے میں اٹکی, پھنسی اور گھٹی سانسیں میرے سینے میں اتر گئی ہوں, جیسے روزینہ کی سانسیں نہ ڈوبی ہوں بلکہ میرا دم گھٹ گیا ہو ... آہ.... میری روزی....اوہ خدا.... میرا دل پھٹ رہا تھا.....وہ روزی جس کو دیکھے بنا میرا دن نہ گزرتا تھا, وہ مجھے کبھی نہ دکھائی دے گی, وہ اُس کے مرمریں ہاتھ اب کبھی میرے ہاتھوں میں کلیاں نہ بن کر مہکیں گے, وہ اُس کے باریک سُرخ ہونٹ اب کبھی میری آنکھوں کو خیرہ نہ کر پائیں گے.... اوہ خدا..... وہ اُس کا نازک پیکر اب کبھی میرے پہلو میں نہ اُتر سکے گا....

شاید میں کھڑکی سے چھلانگ لگا چکا ہوتا اگر ساتھ والی بزرگ خاتون اور اُس کا جوان بیٹا میری چیخیں سن کر دروازہ توڑ کر اندر نا آجاتے اور مجھے آکے تھام نہ لیتے.

مجھے ہسپتال کے ڈپریشن سے متعلق وارڈ میں داخل کرا دیا گیا. میں آخری سانس تک کی جدائی کا احساس کرتے ہی چیخنے لگتا تھا.... مجھے شدید ہیجانی دورے پڑتے تھے... میں چیختا چلاتا ....میں ایک ایک کا نام لے کر پُکارتا ..... مگر جواب نہ پا کر کانپنے لگتا اور تشنج کا شکار ہونے لگتا .... یوں لگتا لاکھوں کروڑوں کرونا کے جراثیم مجھ پر صرف اِس لیئے حملہ آور وہ رہے ہیں کہ روزینہ سمیت اپنے پیاروں کی جدائی پر کیوں آہ و بکاہ کر رہا ہوں ....

چہروں پر ماسک پہنے ڈاکٹر, نرسیں مجھے سکون آور ادویات دے کر خود اپنے اپنے پیاروں کو یاد کرکے روتے جو اِس وباء میں اُن سے جدا ہو۔ چکے تھے ..

ایک جوان نرس جو اپنا محبوب کرونا وائرس سے کھو چکی تھی, مجھے پہروں دلاسا دیا کرتی تھی. اُس کی نیلی آنکھیں افسردہ رہتیں.... اُس کا وجود ایک بیوہ کے وجود کی طرح پھوڑا بن چکا تھا.

ناجانے کیوں وہ مجھے بے حد افسردہ اور مایوس نگاہوں سے دیکھ کر مضطرب سی ہو جایا کرتی تھی جب جب میں "روزی روزی" کہہ کرچیختا تھا.... شاید وہ بھی میری طرح جدائی سہہ سہہ کر خالی ہو چکی تھی....

....

اور آج صبح جب میں اسی ہسپتال روٹین کے چیک اپ کے لیئے گیا تو واپسی پر میرے پوچھنے پہ مجھے ایک میل نرس نے بتایا کہ چند روز قبل اُس نیلی آنکھوں والی نرس نے ہسپتال کی تیسری منزل سے کود کر خود کشی کرلی تھی.

شدید اُداسی میں جب میں اپنے فلیٹ پہنچا تو گہرے سیاہ بادلوں میں ڈوبتے سورج کو دیکھ کر مجھے یوں لگا.... گویا .... یہ دنیا....کسی سیاہ مکروہ سرنگ میں داخل ہو چکی ہے.... جس کے آخری حصے کے روشن دھانے پر میری روزینہ کھڑی ہے اور مجھے ہاتھ کے اشارے سے دوسرے کمرے میں جانے کو کہہ رہی ہے تا کہ وہ مقدس زندگی کا پیراہن پہن سکے اور میں اُس کے لیئے آبِ حیات سے کافی بنا سکوں ..... اور جیسے اُس نے آج میری طرف شب بسر کرنے کا فیصلہ کر لِیا ہو....

.....

عمّاریاسر

من موجی

27 مارچ, 2020

عمّار یاسر

یرا نام عمّاریاسر ہے. زندگی گزارنے کے لیئے جو پیشہ حادثاتی طور پر میں نے چنا وہ وکالت ہے. چونکہ میں بچپن ہی سے لکھنے لکھانے کا شوقین رہا ہوں, سو وکالت کا پیشہ میرے لیئے یوں موزوں ہو گیا کہ یہاں بھی کیسوں کی ڈرافٹنگ کے لیئے لکھنا لکھانا ہی ہوتا ہے. ایک سائل کو سن کر اُس کی بپتا کو تحریر کرنا اور پھر بسا اوقات تحریری دلائل تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں. تاہم عدالتی ماحول سے زہن مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی مجھے ابھی تک فیس وصول کرنے کا گُر آیا ہے.

میرے خاندان کے بیشتر لوگ لکھنے سے متعلق رہے ہیں. میرے نانا مولانا فضللِ قدیر ظفر ندوی ایک ادیب بھی تھے اور بے شمار مذہبی مضامین کے مصنف بھی. قرآن پاک کی تفسیر پر لاتعداد مضامین تحریر کیئے. میرے ماموں ظفیر ندوی "ویت نام جل رہا ہے" جیسی شہرہ آفاق کتاب کے مصنف تھے. مشہور فلم "زرقا" کا بنیادی سکرپٹ ان کا ہی تحریر کردہ تھا. یہ کہانی چرائی گئی اور مرحوم ریاض شاہد کے ساتھ ماموں کی مقدمہ بازی چلتی رہی, جو بلا آخر ایک باہمی معاہدے سے انجام کو پہنچی.

چونکہ ہمارے گھر میں تمام اخبارات آیا کرتے تھے, تو اخبارات کو پڑھنے کا رجحان اتنا شدید تھا گویا اگر اخبار صبح نہ پڑھا گیا تو دن شروع نہ ہوگا. ہم کزن بچوں کے صفحات کو کہانیاں بھیجا کرتے تھے. جس کی کہانی شائع ہوتی وہ اِتراتا پھرتا اور دوسروں کو بھرم دکھاتا. میری پہلی نظم ایک مرغی پر تھی, جو میں نے پالی ہوئی تھی اور جس کی موت کا مجھے شدید صدمہ تھا. یہ پہلی جدائی تھی... پہلے وصال کا دکھ.. پہلا درد....

وقت گذرتا رہا اور میں لکھتا رہا, کبھی سیاسی و سماجی مضامین, کبھی کہانیاں اور افسانے, تو کبھی نظمیں اور غزلیں. اب حال یہ ہے کہ کوئی دن نہیں گذرتا جو بنا کچھ کہے یا لکھے گذرے.

میں 2003 میں لاھور سے پیشہ ورانہ معاملات کے لیئے کراچی شفٹ ہو گیا. ان دنوں بھی کراچی شورش کا شکار تھا. چونکہ میرا تعلق ترقی پسند سیاست سے رہا ہے, اور سوچ کے اعتبار سے اب بھی ترقی پسند ہوں, تو زندگی بِتانے کے لیئے مجھے اپنے خیالات کو حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تقاضوں کے کوزوں میں بند کرنا پڑا. یوں ایک عرصہ لکھتا لکھاتا تو رہا مگر کہیں خود کو پبلیزائز نہیں کیا. اِس امر نے ایک احساسِ محرومی پیدا کیا, یوں لگا گویا سب سے کٹ گیا ہوں. لاھور کی فضائوں اور دوستوں سے کٹا ہی تھا, مگر ادب سے بظاہر دوری نے ایک ٹیس سی پیدا کر دی.

آخر اس درد کو کہیں سے تو سکون ملنا تھا...اور پھر میں نے فیس بک پر اپنا ادبی پیج "من موجی" کے نام سے شروع کیا.

یوں محرومی کا احساس جانا رہا. اسی دوران کچھ دوستوں نے حلقہء اربابِ ذوق کے اجلاس میں شرکت کی دعوت تھی, تو گویا زندگی میں رونق آگئی. ہفتہ وار اجلاسوں میں بے شمار ادب نوازوں سے ملاقات رہی اور واقفیت بھی ہوئی. جناب زیب ازکار صاحب سے وہیں سے تعلق بنا. حلقہ کے اجلاس خود رو نشو نما کے لیئے رہنماء بن گئے. سب سے بڑھ کر مشہور و معروف نقاد, شاعر و ادیب جناب اکرم کنجاہی صاحب کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقعہ ملا. مشہور شاعر مرحوم شکیل وحید, جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے, سے بھی تعلق بنا.

میں سمجھتا ہوں ایک ادیب و شاعر کی روح کے لیئے لفظ پانی؛ اور کتاب خوراک ہے. میرا ماننا ہے یہ دنیا تب تک خوبصورت رہے گی جب تک لفظ کی حرمت قائم رہے گی.

عمّاریاسر

20 اکتوبر, 2020

------

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form