افسانوں کی سائنس او ر زیب اذکار حُسین

April 30, 2020
دیدبان شمارہ 11تبصرہ تبصرہ

دیدبان شمارہ ١١

”افسانوں کی سائنس او ر زیب اذکار حُسین“

تحریر: آصف علی آصف

صحافت، ادب اور تدریس کے آفاق پر درخشاں ستارے زیب اذکار حُسین کی افسانہ نگاری کے بارے میں معروف صحافی، مُحقّق، دانشور اور مزاح نگار مُحمد اِسلام نے کیا خوب کہا ہے۔

"انہوں نے اپنے افسانوں میں اتنے تجربات کئے جتنے کوئی سائنسدان اپنی لیب میں کرتا ہے۔آپ یوں سمجھ لیں کہ وہ افسانوں کا سائنسدان ہے اور اپنی افسانوی لیب میں نت نئے تجربات کر کے مُسرت حاصل کرتا ہے۔"

زیب اذکار حسین کے طرزِ تحریر کی صنف کا تعیّن اور اُس پر تبصرہ کرنے سے پیشتر میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ قاری یا طالبِ علم

کیلئے مُختلف اسالیب کا مُختصراً تعارف کردیا جائے جو بیسویں صدی عیسویں میں فکشن کے میدان میں تشکیل پا کر رائج ہوتے چلے گئے۔

ا) جدیدیتی ادب

(Modernist Literature)

ادب کے اُفق پر جدیدیتی تحریروں کا آغاز پہلی جنگِ عظیم (1914 - 1918)کے دوران انگریزی ادب میں ہُواجو دوسری جنگِ عظیم کے اضتتام تک(1945)تک جاری رہا۔اِس طرزِ تحریر میں مندرجہ ذیل تین نئی تیکنیک کا اِستعمال کیا گیا جس کی بناء پر اِسے روایتی طرزِ تحریر سے ممتاز قرار دیا جانے لگا۔

۔ شعور کا بہاؤیا وجدانی بہاؤ یا اِلہامی

(Stream of Consciousness)

بغیر توقّف کے رواں تحریر۔دریا کے بہاؤ کی مانند۔وجدانی تحریر۔بھرے ہوئے د ل ودماغ کا چھلک جانا۔

۔خودکلامی

(Interior Monologue)

مُصنّف اپنے آپ سے کلام کرتے ہوئے تحریر لکھتا ہے۔شدید احساسِ اجنبیت وتنہائی۔داخلیت کی انتہائی صورت۔

۔آزاد تلازمہءِ خیالات

(ٖFree Association of Thoughts)

جنگی تبا ہ کا ری پر مایوسی۔تحریر میں مرکزیت کا کھو جانا۔ہر وجود کا سوالیہ نشان بن جانا۔

ب) مابعدجدیدیتی ادب

(Postmodernist Literature)

اِس طرزِ تحریر کی ابتد ا جنگِ عظیم دوم کے بعد ہوئی اور اب تک جاری ہے۔یہاں آکر جدیدیتی طرزِ تحریر اُداسی و مایوسی اپنی انتہا کو چُھونے کے بعد قہقہوں اور طنز میں بدل گئی ہے۔ اِس کی اب تک کوئی واضح تعریف مُرتّب نہیں کی گئی۔اِسے مزید تجربات کو سمونے کیلئے کُھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔اِس طرزِ تحریر میں مندرجہ ذیل کئی نئی تیکنیک کا اِستعمال کیا گیا جس کی بناء پر اِسے روایتی اور جدیدیتی طرزِ تحریر سے ممتاز قرار دیا جاتا ہے۔

۔گہرا طنز و مزاح اور ہمہ تماشیت

(Irony, Playfulness, Black Humor)

اِس میں طنزو مزاح اپنی انتہا میں مزاق اور تماشوں کے اظہار تک چلا جاتا ہے۔بشعرِ غالب

بازیچہءِ اطفال ہے دُنیامِرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مِرے آگے

۔مابین تحاریر

(Intertextuality)

ایک تحریر میں مُصنّف اپنی یا غیر کی تحریر کو موضوع بناتا ہے۔کسی تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے افسانہ یا ناول بُننا۔

۔اصنا ف کی یکجائی

(Pastiche)

مُختلف اصنافِ تحریر کو یکجا کردینا۔مثلاً ایک ناول میں نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کو شامل کرنا۔

۔میٹا فِکشن

(Metafiction)

فِکشن کا مزاق اُڑاتے ہُوئے فِکشن لکھنا۔کسی صنف یا طرزِ تحریر کا مزاق اُڑاتے ہوئے اُسی صنف یا طرزِ تحریر میں لکھنا۔

۔غیرحقیقی وقتی بہاؤ

(Temporal Distortion)

واقعات کو وقت کی ترتیب کے بجائے غیر ترتیب انداز میں رقم کرنا۔

۔جادوئی حقیقیت

(Magical Realism)

خواب اور حقیقت کی درمیانی فصیل پر آکر لکھنا۔

۔زائد حقیقیت

(Hyperreality/Technoculture)

انفارمیشن کے دور میں آکر ٹھوس اشیاء کے بجائے ڈیجیٹل اشیاء پر اِنحصار کے غیر حقیقی اظہارئے۔

۔پیرانوئیا (Paranoia)

انتشار میں نظم و ضبط کی پرچھائیوں کا اظہار۔

۔میکسیملزم (Maximalism)

حد درجہ طویل تحریر

۔مینیملزم (Minimalism)

حد درجہ مُختصر تحریر

۔ مرکزیت سے عاری پارے (Fragmentation)

ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تحریر جو کسی بڑے مشترک خیال سے ہم ربط ہوں۔

ج) خُودکار تحریر (Automatic Writing)

روایتی، جدیدیتی اور مابعد جدیدیتی اسالیب کے علاوہ خُودکار تحریر کا اسلوب بھی پایا جاتا ہے۔دُنیا میں کُچھ لوگوں نے یہ دعوٰی کیا ہے کہ اُن کی تحریریں اِس حد تک اُنکی ہیں کہ اُنکے محض ہاتھ استعمال ہوئے ہیں اور کسی نادیدہ غیر انسانی قوّت نے مُصنّف کے ہاتھوں کو جُنبش دے دے کر صفحہ قرطاس پرکُچھ رقم کر ڈالا ہے۔ یعنی دورانِ تحریر مُصنّف اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتا۔میں اِس مظہر کی توجیہہ یُوں کرتا ہوں کہ غالباً یہ مُصنّف کے لاشعور یا تحت الشعورکی رَو ہیں جو اُس کے شعور کو پھلانگتی ہوئی بلاواسطہ کاغذ پر اپنے نقوش ثبت کرجاتی ہیں۔چلیں معاملے کو مزید آسان کئے دیتا ہوں۔جس طرح کُچھ لوگ نیند میں چلنے (Sleep-walking) کے عادی ہوتے ہیں اسی طرح شاید کُچھ مُصنّف غنودگی کی کیفیت میں تحریر کرجاتے ہیں۔چلیں اِسے Sleep-writing کہے دیتے ہیں۔اِس صنف کی تحریر انتہائی علامتی ہوتی ہیں جو قاری کیلئے قابلِ تفہیم ہونا تو درکنار، خود مُصنّف کی تفہیم سے بھی اکثر بالاتر رہتی ہے۔اِسی بنا پر اِس صنفِ تحریر کو قبولیت و مقبولیت حاصِل نہیں ہوسکی کیونکہ فی زمانہ ہمارے پاس ایسا کوئی کوئی آلہ یا تیکنک نہیں جو اِس صنف کی تحریروں کی پرکھ کر کے انہیں decode کر سکے۔

د) زیب اذکار حُسین کا نثری اسلوب میری نظر میں

زیب اذکار کے افسانوں اور ناولوں کا اسلوب جدیدیتی اور مابعد جدیدیتی اسالیب کا ایک امتزاج ہے جبکہ اُن کے کُچھ افسانے خودکار تحریر کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔اگر اُن کی نثر کو کپڑے (fabric) سے تشبیہہ دُوں تو سمجھ لیں اُس پر رنگ وروغن جدیدیتی ہے، نقوش (printing) مابعد جدیدیتی ہیں اور جہاں کہیں کہیں دھاگے اُدھڑے ہوئے نظر آئیں تو یہ خودکارتحریر کا مظہر ہے۔مزید یہ کہ اُن کے اِس fiction fabric کے دھاگوں کی بُنت اور رُوئی کے خواص کا تجزیہ کیا تو اُن کی تجربیت (Experimentalism) میں کارفرما جو تکنیکیں نظر آئیں جو اُنہیں دیگر مُصنّفوں سے مُنفرد کرتی ہیں، اُن کا تفصیلی ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔

۔ عام فکشن میں کرداروں کو لفظوں سے بیان کیا جاتا ہے جبکہ زیب اذکارکے ہاں لفظوں کو ہی کرداروں میں ملبوس کر کے پیش کیا جاتا ہے۔یہ اُن کے علم اللسانیات (Linguistics)کی وہبی یا اکتسابی بصیرت کی دلیل ہے۔

۔عام فکشن میں کرداروں کو اُنکی نفسیات کے ساتھ لے کر لکھا جاتا ہے جبکہ زیب اذکاراپنی غالب تجریدیت کی بناء پر نفسیاتی کیفیات کو کرداروں میں مُجسّم کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

۔عام فکشن میں مُصنّف جسموں کی حرکات وسکنات کو دلچسپ بیانئے کے ذریعے بیان کرتا ہے جبکہ زیب اذکار کے ہاں خیالات کی حرکات و سکنات کے دلچسپ بیانئے ملتے ہیں۔

۔ عام اندازِ تحریر میں مُصنّف یا تواپنے خالص خارجی یا ظاہری مُشاہدات کا بیان کرتا ہے یا اُنکو اپنے ذہنی یا جذبات کی عینک سے دکھاتا ہے۔زیب اذکار اپنے داخلی یا باطنی،ذہنی، خیالی، جذباتی مُشاہدات کو ضبطِ تحریر میں لے آتے ہیں۔یہ مراقباتی عمل کی دین ہے کیونکہ باہر کی دُنیا کا مشاہدہ تو آنکھیں کرتی ہیں جبکہ داخلی دُنا کا مشاہدہ رُوح کرتی ہے۔

۔ عام تحریروں میں لکھاری قارئین سے مُخاطب ہوتا ہے جبکہ موصوف کی اکثرتحریریں کاغذ کے آئینے میں خودکلامی کا عکس ہوتی ہیں۔

۔عام فکشن میں کرداروں کے درمیان مکالمے کو بیان کیا جاتا ہے جبکہ موصوف اپنے ذہن کے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کے درمیان مکالموں کو صفحہءِ قرطاس پر رقم کرجاتے ہیں۔

۔عام فکشن میں کرداروں کے مابین واقعات کو لکھا جاتا ہے جبکہ موصوف اپنے نفس، ضمیر اور انا کے مابین واقعات کا بیان کرتے دکھائے دیتے ہیں۔

۔عام فکشن سے قار ی انسانی سوچ کے معاشرے پر اثرات کا ادراک کرتا ہے جبکہ زیب صاحب کے فکشن معاشرے کے انسانی سوچ پر اثرات کی سیر کراتے ہیں۔

۔عام فکشن میں لفظوں /جملوں کے مابین" شعوری/منطقی معنوی ربط" ہوتا ہے جبکہ زیب اذکار کی اکثر تحریروں لفظوں /جملوں کے مابین" تحت الشعوری یا غیر منطقی ربط" پایاجاتا ہے۔

۔عام فکشن خالص نثری اسلوب میں لکھا جاتا ہے جبکہ زیب اذکار کے فکشن میں نثری و نظمیہ اسلوب کا امتزاج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

۔ عام افسانوں میں اِبتدا اور دورانئے تک سسپنس ہوتا ہے جبکہ اختتام پُر انکشاف۔زیب صاحب کے افسانوں میں اِبتدا تا اِنتہا سسپنس برقرار ہی رہتا ہے۔

۔عام فکشن میں اُلجھنوں کا اظہار سُلجھے پیرائے میں کیا جاتا ہے۔موصوف کے فکشن میں اُلجھنوں کا بیان اُلجھے پیرائے ہی میں ملتا ہے تا کہ قاری تک مُصنّف کی کیفیت بھی مُنتقل ہو جائے۔

۔ عام طور پر کلاسیکی اسلوب proper plotting کے تحت لکھا جاتا ہے جبکہ زیب اذکار کی تحریریں no-plotting سے صورت پاتی ہیں۔اَسے "شعوری بہاؤ"Stream of Consciousness کہا جاتا ہے۔

۔ عام تحریریں غیر الہامی ہوتی ہیں جبکہ موصوف کی تحریریں الہامی ہوتی ہیں جو کہیں کہیں اپنی شدّت میں جاکر" خودکار تحریر"

بن جاتی ہیں۔

۔ عام فکشن میں توازن کی جمالیات کا رنگ ہوتا ہے جبکہ موصوف کی تحریریں انتشاری جمالیات کی آئینہ دار ہیں۔

ہم ایک علمی دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں کسی قوم کے ترقّی پسند ہونے کی پیمائش اُس مُلک میں موجود ہر شعبہءِ زندگی میں تخلیق کاروں کی تعداد اور پھر اِس طبقے میں موجود رُجحان سازی (Paradigm Shifting) کا پوٹینشل رکھنے والے تخلیق کار وں کی تعداد سے کی جاتی ہے۔ایسے میں نہایت لازمی ہو چکا ہے کہ ہمارے مُلک کے ادب اور فنون کا اپنابیانیہ (Narrative) تشکیل پائے جسے فخر کے ساتھ دُنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔زیب اذکار کے فکشنز میں تجربیت کے وفور سے جدّتِ موضوع اور نُدرتِ اسلوب کا فوّارہ پھوٹ کر فضاء میں بلند ہوتا ہے جس کو دیکھ کر یہ اُمیدچمکتی دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے مُلک کے اُردو فکشن میں مزیدرُجحان ساز مُصنّفوں کو ڈھونڈنے اور اُنکو نکھارنے میں زیب اذکار حسین ایک سرچنگ ٹارچ کی حیثیت رکھتے ہیں۔گو کہ پیشہ ورانہ طور پر صحافی ہونے کی مصروفیات کے باعث اُنکے افسانوں کے طباعت شُدہ مجموعوں کی تعداد ایک سے آگے نہ بڑھ سکی۔اُنکا پہلا افسانوں کا مجموعہ "دُور ازکار افسانے" 2008 میں شائع ہو ا جو اُنکی قومی اور بین الاقوامی شناخت بنا۔ اب اُن کایہ اعلان بے حد خوش آئند ہے کہ عنقریب اُن کے دو ناول اور افسانوں کے مجموعے قارئین کے ہاتھوں میں ہوں گے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ اُنکی آنے والی کتابیں ہمارے مُلک کے اردو فکشن کے بیانئے کی تشکیل میں پیش رفتی کا باعث ثابت ہوں گی۔

آصف علی آصف

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form