اگلے جنم مجھے بٹیا نہ کیجو

March 15, 2021
دیدبان شمارہ ۱۳ مابعد کرونا ادبافسانہ


اگلے جنم مجھے بٹیا نہ کیجو

……

افسانہ : نصرت شمسی

عمر کے تیس پڑاؤ میں نے اس دہلیز پر گزارے ہیں۔عمر کی تیس بہاریں میں نے اس چوکھٹ پر بیٹھ کر دیکھی ہیں اور پچھلے پانچ سالوں سے مجھے اس شہزادے کا انتظار ہے جو میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔جب میں آنکھیں بند کرتی ہوں تووہ اپنا طلسماتی وجود لیے آن کی آن میں میرے تخلیات کے کینوس پر چھا جاتا ہے اور مند مند مسکراہٹوں سے مجھے الگ الگ زاویوں سے دیکھتا رہتا ہے۔جیسے ہی میں اس کوپکڑنے کے لیے آنکھیں کھولتی ہوں جھٹ سے نہ جانے کہاں غائب ہوجاتا ہے اور پھر میں اس بھیڑ میں اسے تلاش کرتے کرتے تھک جاتی ہوں۔ عجیب طلسماتی وجود ہے اس کا،جب بھی آتا ہے مجھے اس طرح اپنے سحر میں گرفتار کرلیتا ہے کہ پھر میں خود سے ہی بیگانہ ہوجاتی ہوں۔ابتداء میں تو وہ مجھے اجنبی اجنبی لگابھی کرتا تھا مگر اب تو اس کی شبیہ میرے تخیلات میں اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اس کا ہرہر نقش مجھے ازبر ہوگیاہے اور اب مجھے ذرا بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتابلکہ اب تو میں اس کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتی ہوں اپنا سکھ دکھ اسے بتاتی ہوں،اس کے ساتھ ہنستی بولتی ہوں،روتی ہوں،روٹھتی ہوں اور کبھی کبھی مناتی ہوں یہ رشتہ روزبروز مضبوط سے مضبوط ترہوتا جارہا تھااور اب تومجھے یقین ہوچلا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور مجھ سے ملنے آئے گا۔میں نے آخراسے پوجاہے،راتوں کو جاگ جاگ کر اسے مانگا ہے،ہر رات میں اس کے ساتھ ایک لمبا سفر طے کرتی ہوں جس میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں،دکھ سکھ ساجھا ہوتا ہے اور کچھ گلے شکوے مگر وہ ہے کہاں؟اب یہ سوال سورج کی روشنی میں مجھے ستائے رکھتا تھااور نگاہ جیسے ہر شخص کی پہرے دار بن گئی تھی۔جب بھی نظر اٹھتی تھی ایک نئی نئی امید کے ساتھ اور جب بھی جھکتی تھی ناامید ی کے ساتھ مگر پھر بھی یقین تھا دل کو ایک نہ ایک دن وہ مجھے ملے گا ضرور!

پھر ایک دن اچانک ہی وہ مجھے مل گیا۔بالکل وہی ……ہاں وہی نقوش…… وہی چال ڈھال،وہی خدوخال……ایک نظر دیکھ کر ہی میں پہچان گئی کہ اسے تو میں جانتی ہوں ……یہ تو وہی ہے جس کو میں پچھلے پانچ سالوں سے تلاش کررہی ہوں،جو پچھلے پانچ سالوں سے میرے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں ہے،رشتہ مضبوط تو ہے مگر…… اتنا ہی اجنبی بھی کہ میں تو اس کا نام تک نہیں جانتی۔ میں برابر اسے دیکھے جارہی تھی اور وہ مجھے۔ اس کی آنکھوں میں بھی اجنبیت،پرایاپن کہاں تھا۔وہ ویسے ہی مسکرارہا تھاجیسے روز میرے خیالات میں کھڑا مسکراتاہے۔

”ہیلو!آئی ایم بابر،بابر……نام ہے میرا……بابر……اور یہ میرا کارڈ ہے……“

اس نے مجھے اس طرح تکتے ہوئے بے ساختہ کہااور اپنا کارڈ میرے ہاتھ پر رکھ کر چلاگیااور میں دور تک اس کے نقش پا دیکھتی رہی۔ہوش آیا تو تب…… جب میری شاپنگ کا  بل  میرے ہاتھ میں دے کر کوئی مجھے ہلا رہاتھا۔

”میڈم آپ کا بل……“

”اوہ……ہاں ……وہ کتنے ہوئے؟“

میں نے جلدی سے پرس کی زپ کھولی اور پانچ سو کا نوٹ دیا……میرے ہاتھ میں ابھی تک اس کا کارڈ تھا۔جسے میں نے اپنے پرس میں ڈال لیا……اگر چہ اس سانحے کو ابھی تک کسی نے بھی محسوس نہیں کیا تھا مگر پھر بھی مجھے لگ رہا تھاکہ سارا مال(Mall)مجھ دیکھ رہا ہے اور ایک ساتھ کئی لوگوں نے میری چوری پکڑلی ہو……پھر میں سامان لے کر باہر آئی اورٹیکسی کے ذریعہ گھرآگئی……مگر میری حالت ابھی تک ٹھیک نہیں تھی۔ جو دیکھا تھا اسے دل قبول نہیں کررہا تھااور آنکھیں اپنے صادق ہونے کا یقین بار بار دے رہی تھیں۔سارا وقت مجھ پر عجیب سی وحشت سواررہی۔ دل چاہ رہاتھا کہ جلدی سے اپنے بستر پر پہنچ جاؤں اور اپنے تخیلاتی ساتھی کے ساتھ چند ساعتیں جی لوں …… اس سے پوچھوں کہ وہ اچانک یوں کہاں سے آگیا؟اور اب تک کہاں تھا……؟ اور یہ کیسا تعلق اس نے مجھ سے جوڑرکھا ہے”صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں“کے مصداق……

پھر میں نے گھنٹوں اس سے باتیں کیں ……مگر وہ تو خاموش تھا بس مسکرائے جارہا  تھا۔کبھی میرے زیادہ روٹھ جانے پر میری کالی ریشمی زلفوں کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹتا اور پھر ایک جھٹکے سے چھوڑدیتا۔”کیوں چھیڑ رہے ہو مجھے؟“

”یوں ……ہی……بس میرا دل……کیونکہ تم صرف میری ہو……“

”اچھا……!“میں ہنسی۔

”مگر کیسے؟“

[3/5, 8:43 PM] Nusrat Sham.c: پھر میں نے گھنٹوں اس سے باتیں کیں ……مگر وہ تو خاموش تھا بس مسکرائے جارہا  تھا۔کبھی میرے زیادہ روٹھ جانے پر میری کالی ریشمی زلفوں کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹتا اور پھر ایک جھٹکے سے چھوڑدیتا۔”کیوں چھیڑ رہے ہو مجھے؟“

”یوں ……ہی……بس میرا دل……کیونکہ تم صرف میری ہو……“

”اچھا……!“میں ہنسی۔

”مگر کیسے؟“

”وہ ایسے کہ پچھلے پانچ سالوں سے میں تمہیں تلاش کر رہا ہوں اور…… تم بھی تو اتنے برسوں سے میری پرستش کررہی ہو……کیا تمہیں میرا انتظار نہیں ……“

”ہاں ……“

میں نے نگاہیں جھکالیں۔

”دیکھو ……میری محبت، بغیر ملے ہی میں پانچ سالوں سے تمہارے ساتھ ہوں اور اس غائبانہ ملاقات نے ہمارا رشتہ کتنا مضبوط کردیا ہے……“

”مگر……!“

میں کچھ کہنا چاہتی تھی۔

”بس!اگر مگرکچھ نہیں میرا انتظار کرنا۔میں اب بہت قریب ہوں تمہارے۔“

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی وہ نہ جانے کس طاقت کے ساتھ تھا کہ پلک جھپکتے ہی پھر ہوگیا۔اس کو دیکھنے کے بعد میری بے چینیاں اور بڑھ گئی تھیں اب دل ہر وقت اسے ہی ایک نظر دیکھ لینے کا تمنائی رہنے لگا تھااور گھر سے نکلنے کے بہانے تلاش کرتا رہتا تھا۔جہاں کسی نے بازار جانے کی بات کہی اور میں جھٹ سے تیار ہوجاتی۔ بازار جانے کا تو ایک بہانہ تھا اصل مقصد تو اس کی تلاش تھی……مگر پھر وہ مجھے نہ ملااور پھر میں تھک کر ایک دن شب تنہائی میں اس سے شکوہ کربیٹھی۔

”کہاں چلے گئے ہو تم……؟َ“

جیسے ہی وہ میرے سامنے آیا میں نے اس سے شکوہ کردیا۔

تب وہ کتنی زور سے ہنساتھا۔

”ارے اپنے دل کے آئینہ میں جھانک کر نہیں دیکھا میں تو وہیں ہوں ……“

”مگر وہ……“میں کچھ کہتی اس سے قبل وہ اوجھل ہوگیا اور میرا سوال میرے ہونٹوں پر ہی دم توڑگیااور پھر چند لمحوں بعدمیں اس کے ساتھ خوش آئند تصور سجانے لگتی پھر ایک دن میں کتابیں لینے گھر سے نکلی اور اتفاق سے اسی مال میں پہنچ گئی جہاں وہ پہلی بار مجھ سے ملا تھا۔میں اپنی پسندیدہ کتابیں تلاش کررہی تھی کہ وہاں ایک کتاب لیے چلا آیا……

”ہیلو……آئی ایم بابر……“اس نے اپنی گہری براؤن آنکھوں سے میری آنکھوں میں جھانکا……

میں تو اسے دیکھ کر حیران ہی رہ گئی……

”آپ ……“بس اتنا ہی نکلا تھا میرے منھ سے۔

”جی ……میڈم……!میں ……کیا آپ مجھے تلاش کررہی تھیں۔“اس نے پھر میری آنکھوں کے ذریعہ میرے دل کا بھید جاننا چاہا……

”مگر ……میں نے تو اپنا کارڈ آپ کو دیا تھا……اس پر میرا نمبر بھی ہے۔“

”جی ……میں۔“

میں اتنی حیران تھی کہ کچھ کہہ ہی نہیں پارہی تھی اور ادھر دل تھا کہ سینے سے نکلنے کو بے تاب و بے قرار ہوا جارہا تھا……سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کروں تو کیا کروں ……

”بہت مس کیا مجھے؟“

اس نے یقینا میرے دل کا حال میرے چہرے سے پڑھ لیا ہوگا۔

”میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا۔“

”آپ کا نام کیا ہے؟“

”جی……وہ……میرا نام……“

”چل زیب بہت دیر ہوگئی۔“اس سے پہلے کہ میں اسے اپنا نام بتانے کے بارے میں سوچتی……میری چچازاد بہن نے میرا نام لے کر میرا ہاتھ گھسیٹ لیااور میں حیران حیران نظروں سے اسے تکتی رہی اور طلعت مجھے گھسیٹتی ہوئی آگے بڑھتی چلی گئی۔

”زیب……!“

اس نے میرا نام اتنی زور سے دہرایا تھا کہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا تھا۔

”اچھا اور بہت پیارا نام ہے۔“

اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اور میں آگے بڑھ گئی۔اس ملاقات نے اسے مجھ سے اورقریب کردیاتھااور پھر اس رات شب تنہائی میں میری اس سے نہ جانے کتنی باتیں ہوئیں۔وہی پہلے جیسی کیفیات دوبارہ مجھے پریشان کرنے لگیں۔ دل تھا کہ بس ہر وقت نہ جانے کہاں رہتا تھااور دماغ……؟دماغ تو سارے شہر کی خاک چھانتا پھررہا تھا۔بس ایک میرا جسم تھا جو گھر میں قید تھااور خود کو چھپائے ہوئے تھا۔

یہ عجیب سلسلہ تھا ملاقاتوں کا یہ عجیب رشتہ تھا جو اس کے ملنے سے پہلے ہی میری روح اس سے جوڑ چکی تھی……اور اب اس کی تلاش کے بعد جیسے خود میری ذات نے میری سوچوں پر مہر لگادی تھی کہ بس اب تیری تلاش پوری ہوئی اب تجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں وہ ایک دن آئے گا اور تجھے اپنے ساتھ اپنی دنیا میں لے جائے گا……جہاں اس کی چاہت کے دیے ہوں گے اور تیری محبت کی خوشبو،مہک اٹھے گی یہ سرزمیں، جھوم اٹھے گایہ آسمان ……ہر طرف خوشحالی،شادابی رقص کرے گی……بس تھوڑا صبر رکھ……

ایک دن اچانک ہی میرے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔

”ہیلو……“میں نے فون اٹینڈ کیا۔

”ہیلو……آئی ایم بابر خان۔زیب کیا آپ نے مجھے یاد کیا تھا؟“

میں نے اچھل کر فون کو بستر پر پھینک دیااور حیرانی سے اس سے آتی آواز کو سننے لگی۔میں نے پھر فون کان پر لگایا…… میں تو اس وقت تھرتھر کانپ رہی تھی۔ڈر تھا کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہوگا……؟ چند لمحوں بعد آواز آنا ختم ہوگئی……میں نے فون بند کرکے الماری میں رکھ دیا ……دوسرے دن جب فون آن کیا تو پتہ چلا کہ بابر کے چھ sms اور چار مس کا ل تھیں۔ ابھی میں دیکھ ہی رہی تھی کہ پھر فون بج اٹھا……میں نے ڈرتے ڈرتے اسے ریسو کیا اور کواڑ کی آڑ میں کھڑے ہوکر اپنے کان پر لگایا……

”زیب میں بابر……“

آواز میں اتنا اپنا پن تھا کہ میں چاہ کر بھی فون کان سے نہ ہٹا سکی مگر کچھ بولنے کی ہمت اب بھی مجھ میں نہیں تھی۔

”زیب……!میرا مقصد آپ کو پریشان کرنابالکل نہیں ہے……بلکہ میں تو آپ کو حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہ اور یہ فیصلہ کوئی چھ مہینے پرانا نہیں ہے بلکہ پچھلے پانچ سال پرانا ہے۔پچھلے پانچ سالوں سے میں آپ کو تلاش کررہا ہوں کیسے؟ یہ مجھے نہیں پتہ …… مگر اچانک ہی ایک تصور میرے ذہن میں بیٹھ گیا اور پھر وہ رفتہ رفتہ روز روز کی تخیلاتی ملاقاتوں سے مجھے اپنا اپنا سا لگنے لگامگر مجھے لگتا تھا کہ یہ سب میرا وہم ہے صرف میرا وہم اس دنیا میں اس شکل کی کوئی لڑکی نہیں ہوگی مگر اس دن ……آپ کو مول میں دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ میرے ذہن کے کینوس پر جو تصویر ابھری تھی وہ اس طرح چلتی پھرتی میرے سامنے کیسے آگئی……اور پھر اس دن مجھے یقین ہوگیا کہ ہم دونوں کو خدا نے ایک دوسرے کے لیے بنایا ہے……میرا یقین ہے کہ جب خدا نے آپ کو بغیر دیکھے مجھ سے ملادیا تھا تو یقیناآپ بھی مجھ سے مل چکی ہوں گی اور اس کا جواب آپ کی فیس ریڈنگ نے مجھے اس دن مول میں دے دیا تھا۔پتہ ہے زیب جب آپ نے میرے تصور میں ڈیرا جمایا تھا تب میں بالکل تہی دست تھا،بس صرف تعلیم تھی جس سے میں اس وقت تازہ تازہ فری ہوا تھا مگر آپ نے روزمجھ سے ملاقاتیں کرکے مجھے کہاں سے کہاں پہنچادیااور آج میں اس خواب کو پورا کرنے کی خواہش میں الحمدللہ بہت اونچے مقام پر ہوں …… زیب……زیب……!“

و

[3/5, 8:45 PM] Nusrat Sham.c: میرے تصور میں ڈیرا جمایا تھا تب میں بالکل تہی دست تھا،بس صرف تعلیم تھی جس سے میں اس وقت تازہ تازہ فری ہوا تھا مگر آپ نے روزمجھ سے ملاقاتیں کرکے مجھے کہاں سے کہاں پہنچادیااور آج میں اس خواب کو پورا کرنے کی خواہش میں الحمدللہ بہت اونچے مقام پر ہوں …… زیب……زیب……!“

وہ مجھ سے نہ جانے کیا کیا کہتا جارہا تھامگر……! میں نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیااور فون بند کردیا۔کتنی بے تکلفی سے وہ مجھ سے باتیں کررہا تھا۔ایسے جیسے صدیوں سے مجھے جانتا ہو برسوں میرے ساتھ رہا ہواور میرا اس کا کوئی اجنبیت کا رشتہ ہو ہی نہیں۔

”کیا اس طرح بھی تعلقات بنتے ہیں ……؟“

میں نے خود سے سوال کیا۔

”زیب……کسی کے بنے ہوں یا نہ بنے ہوں تیرے جوڑ کواوپر والے نے  اسی طرح لکھے ہیں۔“اور میں نے مسکراکر آنکھیں بند کرلیں۔

پھر یہ سلسلہ چل نکلاکوئی ملاقات میری بابر سے نہ ہوئی تھی میں تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ رہتا کہاں ہے،کیا کرتا ہے؟مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں تھا،یہ معاملات تو وقت خود طے کرادیتا ہے۔بس وہ مجھے مل جائے میری یہی دعا تھی۔بابر کے فون اکثر آتے تھے مگر میں نے کبھی اس کی بات کا جواب نہیں دیا،ہاں صرف سنا ضرور تھااور وہ نہ جانے کیا کیا کہتا رہتا تھا۔میں نے تو کبھیsmsتک نہیں کیے۔نہ کوئی ملاقات کی،نہ کبھی اس نے اوچھی حرکت کی مجھ سے خواہش ظاہر کی۔وہ بہت پاکیزہ تھا سوچ و قول کا۔اسے بھی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن ہم ضرور ملیں گے اورملتے تو ہم دونوں روز ہی تھے……پچھلے سات سالوں سے مل رہے تھے۔پھر……؟

میرے گھر کا ماحول نہایت صاف ستھرا اور حق پرست تھا۔مذہب کو ہم لوگوں نے اپنی شان سمجھ کر اپنایا ہوا تھا۔اس کی ایک ایک بات کو میرے بھائی ٹھونک بجاکر دیکھتے تھے مبادا کوئی غلطی ہوجائے ……کہیں ہم انجانے میں ہی سہی اللہ کو ناراض کربیٹھیں اس لیے اللہ اور محمدؐکے نام کے علاوہ تیسرا کوئی نام مشکل اوقات میں سنا ہی نہیں۔ہمیشہ ہم سب نے اپنا سر اسی دربار میں جھکایا۔پابندی سے پنچگانہ نمازادا ہوتی، سنتوں کا خیال رکھاجاتا، بچوں کی تربیت کے معاملے میں لوگ ہماری اور ہمارے خاندان کی مثال دیا کرتے تھے،ہر بات کے فیصلے سے پہلے بھائی جان یہ کہتے تھے کہ دیکھو اس بابت ہمارے نبی اور قرآن کیا کہنا ہے۔ وہی بات کرو جو قرآن کہتا ہے۔اتنے پاکیزہ ماحول میں کیا کوئی کسی کے ساتھ حق تلفی کرسکتا ہے……مگر……!

وہ پندرہ دسمبرکی شام تھی جب میں آنگن میں بیٹھی تھی مجھے سردیوں میں بھی کچھ دیر باہر بیٹھنا اچھا لگا کرتا تھا……میں تنہا تھی……نہیں ……تنہانھیں تھی بابر میرے ساتھ تھے اس مارچ میں پورے آٹھ سال ہونے والے تھے۔جس میں سے تین سال ہماری ملاقات حقیقی کے تھے اور پانچ سال غائبانہ ملاقات کے۔

”زیب……!“

بھائی جان اچانک میرا نام لے کر دہاڑے۔

”زیب کہاں ہے تو……؟“

”جی بھائی جان……!میں یہاں ……“

بھائی جان کی نکلنے والی غیر معمولی آواز نے سب کو ایک ساتھ آنگن میں جمع کرلیا……

”کیا ہوا ہے……؟“

امی نے آگے بڑھ کر بھائی جان کی قہر آلود نگاہوں کو دیکھا۔

”کیا ہوا……ہے……؟“

بھائی جان نے حقارت آمیزلہجے میں میری طرف دیکھا۔

”پوچھیے اپنی اس ناز ونعم میں پلی بیٹی سے۔جو دن بھر گھر میں رہتی ہے مگرگل……“

”اف……!اب سارا ماجرا میری سمجھ میں آگیا۔آج کسی نہ کسی طرح بھائی جان کو بابر کے بارے میں پتہ چل گیا ہے مگر ان کا لہجہ اتنا توہین آمیز کیوں ہے۔؟“

میرے سینے میں ایک عجیب قسم کا درد اٹھا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے دبالیامگر اس وقت میری طرف دیکھنے والا تھا ہی کون……؟

”کیا کیا ہے اس نے؟“

امی نے بھائی جان کا گریبان پکڑ کرانھیں ہلاڈالا۔

”بتاؤ……؟“

تینوں بھابیاں میری طرف نہ جانے کیسی کیسی نظروں سے دیکھ رہی تھیں اور حیران بھی تھیں۔

”یاور! بتاؤ مجھے، کیا کیا ہے اس نے……؟“

امی نے دوبارہ بھائی جان کو جھنجھوڑا۔

”عشق……“

ایسا لگا جیسے چاروں طرف شعلے بلند ہوگئے ہوں،بم پھٹنے لگے ہوں اور…… میرا وجود اس میں جلنے لگا ہو۔

”عشق کیا ہے ہماری بہن نے بلکہ کر رہی ہے۔ عشق کررہی ہے۔ یہ……ہم سب کی ناک کے نیچے کیا کیا گل کھلاتی رہی اور ہم میں کسی کو بھنک تک نہ لگی……تین سال ہوگئے……امی تین سال……“

بھائی جان نے میری طرف جن نظروں سے دیکھااس پل میرا دل چاہا میں زمیں میں دھنس جاؤں۔ان کی نظریں کہہ رہی تھیں۔

”زینب تو نے عشق نہیں کیا دھندا کیا ہے۔محبت کا بازار گرم کیاہے۔تو اب اس گھر میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔“

”مگر …… یہ میں اور بابر دونوں جانتے تھے ہم نے صرف محبت کی ہے پاکیزہ محبت جس میں روحانی محبت کے سوا اور کچھ بھی نہیں بلکہ گونگی محبت کی ہے میں نے اس سے……“

امی نے بھائی جان کی بات سنتے ہی میرے گلابی گلابی رخسار پر طمانچے مارنے شروع کردیے اور بھابھیوں نے اپنے کان بند کرلیے۔ایسا لگا وہاں ان کی بیٹی،بہن نہیں کوئی بازارو عورت کھڑی تھی۔جس کاجرم ناقابل تلافی تھااور بدقسمتی سے وہ اس گھر سے جڑی ہوئی ہو……کئی چانٹے مارنے کے بعد امی میری برابر والی چارپائی پر ڈھے سی گئیں۔ماحول پل کے پل میں ماتم جیسا ہوگیا۔جیسے وہاں سے ابھی ابھی کوئی جنازہ نکلاہو۔

”چل اندر……“

بھائی جان نے میری کلائی پکڑکر مجھے اس طرح گھسیٹا کہ میں گرتے گرتے بچی۔

”بتا کیا کیا ہے تو نے؟اس ……اس……“

”بھائی جان……کچھ نہیں ……کچھ بھی تو نہیں میں تو……“

”سچ سچ بتا……نہیں تو گلا دبادوں گا……“

وہ شاید میرا گلا دبابھی دیتے اگر چھوٹی بھابھی آگے نہ آگئی ہوتیں ……

[3/5, 8:47 PM] Nusrat Sham.c: ”مگر یہ آج……سب ہوا کیا……؟“

بڑی بھابھی نے اصل بات جاننے کے لیے بھائی جان کو کرسی پر بٹھایا اور جلدی سے پانی کا گلاس پیش کیا۔

”ارے آج میں سپر مارکیٹ چلاگیاتھا۔کچھ کام تھا۔وہیں سامنے ہی نیا مول بنا ہے،سوچا چلو دیکھ ہی لوں ……وہاں میرے ایک دوست کا بھی جیولری کارنر ہے۔اس سے باتیں کررہا تھا کہ ایک لڑکا دوکان پر آیااور کچھ خرید کر چلاگیا……اس کے جانے کے بعد اس نے مجھ سے کہا۔

”یاور تمہیں پتہ ہے یہ کون تھا؟“

میں نے حیرانی سے منع کیا تو بولا۔

”کمال ہے……جبکہ تمہاری بہن اسے اچھی طرح جانتی ہے اور اکثر دونوں اس مال میں ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ہاں خود کو الگ الگ مصروف رکھتے ہیں مگر جب جب تمہاری بہن یہاں آتی ہے یہ لڑکا بھی آتا ہے اور اکثر یہ لیڈیز چیزیں بھی خرید کر لے جاتا ہے جیسے آج لے کر گیا ہے۔“

میں کس طرح مال سے یہاں تک پہنچا ہوں یہ آپ میں سے کوئی نہیں جان سکتااور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔یہ لڑکی……انہوں نے پھر اپنی خون برساتی آنکھوں سے دیکھا۔

”بھائی……جان……یہ سب جھوٹ ہے۔خدا گواہ ہے یہ سب جھوٹ ہے۔سچ کیا ہے میں آپ کو بتاتی ہوں۔“

”چپ……“

بھائی جان اتنی زور سے مجھ پر دہاڑے اور انہوں نے قریب رکھاشانی کا لکڑی کا بیٹ مجھے مارنے کے لیے اٹھالیاکہ میں سہم کر ایک کونے میں سماگئی۔بس وہ دن اس گھر میں میری بہن ہونے کا،بیٹی ہونے کا،لاڈلی ہونے کا آخری دن تھا۔اس دن کے بعد میں نہ لاڈلی بیٹی رہی نہ بہن رہی،رہی تو صرف ایک ناسور،ایک بدنامی،ایک آوارہ لڑکی……جس سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتاتھا۔ بس قدرت کا ایک عطیہ تھا کہ اس گھر کے لوگوں سے خونی رشتہ تھاجو ایسے حالات میں وہ سب مجھے چھت مہیا کرائے ہوئے تھے ورنہ اور کوئی دوسری وجہ نہیں تھی۔

رات تک یہ بات تینوں بھائیوں کو پتہ چل گئی اور ہر ایک کی نگاہ میں میرے لیے وہی جذبات تھے،جو دوپہر سے بھائی جان کی آنکھیں بتارہی تھیں۔سب سر جوڑے نہ جانے کن کن مشوروں میں لگ گئے تھے۔دروازے پر تالا تھااور میرا موبائل ضبط کیا جاچکاتھا۔میرا کمرہ بدل دیا گیا اور مجھے ایک بند کمرے میں رہنے کی ہدایت دی گئی،جس کی ہر دیوار اونچی تھی اور جس کی واحد کھڑکی گھر کے آنگن میں کھلتی تھی،جبکہ میرا اپنا کمرہ جس میں،میں نے بابر کے ساتھ سات سال نومہینے گزارے تھے۔اس کی ایک کھڑکی گلی میں کھلتی تھی مگر بابر توآج تک بھی وہاں نظر نہیں آیا تھا،کیونکہ وہ آوارہ قسم کی لڑکانھیں تھا……اگلے دن مجھے پتہ چلا کہ بابر کا فون آیا تھا……جسے بھائی جان نے سنا اور فون پر دہاڑ کر اس سے کہا تھا کہ اگر آئندہ اس نے اس نمبر پرفون کیایا زیب سے کسی طرح کا تعلق رکھاتو اسے گولی ماردی جائے گی۔

میرے خواب میری پلکوں سے چھین لیے گئے تھے وہ بھی اس طرح کہ ان خوابوں کے ساتھ میں نے اپنی ایک ایک پلک بھی گنوادی تھی،کیسے نہ جاتی میری پلک…… ان کے باریک ریشموں میں تومیرے خواب قید تھے……پھر بھلا خواب جاتے پلک نہ جاتی یہ ناممکن تھا……اور میری پلکیں نہ جانے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ پھر میری آنکھ کبھی بند نہ ہوئی۔

گھر والوں کی نفرت کے سوا اب میرے مقدر میں کچھ بھی نہیں تھا……وہ ماں جس نے نوماہ مجھے اپنے بطن میں رکھا زمانے کے سرد وگرم سے بچایا،مجھے ارمانوں سے اپنی گود میں جھلایا……وہ اب میری صورت تک دیکھنا گوارہ نہ کرتی۔

بابر برابر مجھ سے بات کرنے کی کوشش کررہے تھے مگر بار بار فون پر بھائی جان ہی ملتے……جو اسے بہت صلواتیں سنادیتے اور پھر مجھ پر برس پڑتے وہ صرف مجھ سے ایک بار بات کرنا چاہتا تھا۔کئی بار بھائی جان سے کہہ چکا تھاکہ میں نے آج تک زیب کو چھوا تک نہیں ہے،پھر آپ سب مجھے اور اسے اس طرح ذلیل کیوں کررہے ہیں،میں اسے شرعاًطور پر اپنانا چاہتا ہوں اور یہ جائزبات ہے اس میں کچھ ناجائز نہیں ……میں اپنے بڑوں کوآپ کے یہاں رشتہ لے کر بھیج دوں اگر آپ ہاں کردیں تو……کیونکہ اگر آپ کی اجازت کے بغیر میں انھیں بھیجوں گا توآپ انھیں رسوا کردیں گے اور میں ایک خاندانی شریف لڑکا ہوں کوئی سڑک چھاپ مجنوں نہیں مگر بھائی جان نے کبھی اس کی کسی بات پر غور نہیں کیاہمیشہ اسے سڑک چھاپ عاشق کے نام سے ہی پکارا……جس کو سن کر مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں نے گناہ عظیم کردیا ہو۔

میں تو ایک کمرہ میں قید کردی گئی تھی۔گھر کی کسی بات میں اب میرا عمل دخل نہیں تھامیرے پیارے پھول سے بھتیجے اب میرے پاس پھٹکتے بھی نہیں تھے۔وہ بھابھیاں جو گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کر مجھ سے نہ جانے کون کون سی باتیں کیاکرتی تھیں اور کون کون سے بیوٹی ٹپس لیاکرتی تھیں وہ اب مجھ سے ٹانکا بھی توڑنا گوارہ نہ کرتی تھیں۔میں تو جیسے ہر ایک سے بولنے کو ترس سی گئی تھی،امی کہنے کو اتنا دل چاہتا تھا مگر جیتے جی میری ماں نے مجھ سے یہ حق چھین لیا تھا۔دل چاہتا تھااس محفل میں شریک ہونے کو جورات کو کھانے کے بعد اکثر ہمارے یہاں جماکرتی تھی،جس میں اکثر موڈ ہوجانے پر ادبی رنگ بھی چھاجاتا تھااور اکثر بھائی مجھ سے نعت،غزل کی فرمائش کیا کرتے تھے،کیونکہ اللہ نے مجھے آواز بھی بہت خوبصورت اورمترنم دی تھی۔اکثر میرا دل چاہتا تھا کہ اپنے گھر کے پیارے پیارے بچوں کو سینے سے لگاکر بہت پیار کروں،آنگن میں رکھے چڑیوں کے پنجرے کے پاس بیٹھ کر انھیں دانہ کھلاؤں ……آسمان دیکھوں ……مگر اب مجھ سے یہ سب چھین لیاگیاتھا صرف اس وجہ سے کہ بابر مجھ سے نکاح کرنا چاہتے تھے اور میں انھیں جانتی تھی……کیا میری اتنی بڑی خطا تھی یا یہ سزا مجھے یوں دی جارہی تھی کہ آج بھی کسی لڑکی کو اپنے حق کا استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے یا اس لیے کہ میں بیٹی تھی جو ہمیشہ دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی بسر کرتی ہے اس کی اپنی نہ کوئی زندگی ہے،نہ خواہشات،نہ احساسات اور نہ کوئی پسند……وہ اس گائے کی طرح ہی آج بھی کھونٹے سے بندھی ہے جس کے مالک کوخیال آتا ہے تو وہ ضرورت پوری کرادیتا ہے اور اگر کسی ادا پر پیار آتا ہے تو اس کے قریب جاکر اس کی پشت پر ایک پیار بھرا ہاتھ پھیردیتا ہے لیکن اگر وہ کبھی مالک کے خلاف یا اپنی مرضی کا ایک لمحہ بھی جینا چاہتی ہے تو اس مالک کی ایک زوردار لات اسے احساس دلادیتی ہے کہ تو مالک کے کھونٹے سے بندھی ایک بے بس لاچار گائے ہے اور کچھ نہیں۔

میں اس دکھ کو سہہ کر جینا چاہتی تھی مگر میرے گھر والوں نے میرا ساتھ نہیں دیا،شاید یہ جان بوجھ کر وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کررہے تھے کہیں نہ کہیں ان سب کی یہ خواہش سی ہونے لگی تھی کہ اب بس زیب کی سانس آنا بیکار ہے اسے یہیں تھاما جائے ……مگر……!

ایک دن طلعت میری کزن میرے پاس آئی ……مجھ سے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ……میں نے حیرانی سے اس کا منھ تکاکہ وہ یہاں تک آئی کیسے……اور اب تک کہاں تھی……؟تب اس نے بتایا کہ

”بھائی جان نے سخت ہدایات دے رکھی ہیں کہ تجھ سے نہ ملاجائے……اور آج میں تائی امی سے بڑی منت کرکے تجھ سے ملنے آئی ہوں،زیب بابر کا حال بہت برا ہے،وہ تجھ سے بات کرنا چاہتا ہے……ابھی اس کا فون آتا ہی ہوگا۔“

اس نے اپنا فون میری طرف بڑھایا تبھی فون کی صرف لائٹ جلی گھنٹی نہیں بجی،کیونکہ یہ خطرہ وہ مول نہیں لے سکتی تھی۔

”زیب تو بات کر میں یہیں ہوں ……“

میری آنکھیں جھرجھر ساون کی اس رات کی طرح برسنے لگیں جس کو دیکھ کر صبح کے آثار نظر ہی نہیں آتے،جولگاتارمینھ برساتی رہتی ہے بس نوحہ خواں رہتی ہے۔

”زیب……!یہ سب کیا ہورہا ہے۔ میں نے بھائی جان سے بار بار کوشش کی کہ ہمارا نکاح کرادیں مگر……زیب……دیکھوہارنامت میں نے یہ فون تمہیں اس لیے کیاہے…… ہم توروحانی طور پر سالوں پہلے ہی مل چکے تھے……یہ نکاح تودنیا میں رشتہ بناکر جینے کا ایک ذریعہ ہے۔ورنہ ہمارے روحانی ملن کوکوئی کیا روک سکے گا۔زیب……!!دیکھوخود کو ہلاک مت کرنا۔بس اتنا یاد رکھنازیب زندہ ہے تو بابر زندہ ہے اگر تم مجھے زندہ سلامت دیکھنا چاہتی ہوتواپنا خیال رکھناحالات کچھ بھی ہوں بابرتمہارا تھاتمہاراہے اورتمہارارہے گا……مجھے اب دنیا میں کسی شادی نام کے بندھن نام کی ضرورت نہیں ہے بس ہم روز اسی طرح ملیں گے جس طرح ملاکرتے تھے۔ روحوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے اگر محبت اس طاقت کوحاصل کرلے تو پھر اسے کسی رشتے کی ضرورت ہی

[3/5, 8:49 PM] Nusrat Sham.c: نہیں پڑتی۔زیب میں صرف تمہیں تصور اورتخیل میں پاکر ہی خوش رہوں گااور تم بھی……ہاں میں کوشش برابرکررہاہوں مگر……“

میں نے فون کٹ کردیا کیونکہ وہ مجھے جینے کے ہنرسکھارہااور میں ……!میں نے طلعت سے کہہ دیا تھا کہ اب اس طرح بابر کی بات آئندہ مجھ سے مت کرانا جب اللہ کا ہی حکم نہیں ہے تویہ ذرائع کیا……؟کہیں ایسا نہ ہوکہ تم سے بھی یہ فون چھن  جائے۔

بھلے ہی بابر نے مجھے حوصلہ دیاتھا……نہیں یہ باتیں کرکے خود اپنے حوصلوں کو مضبوط بنارہاتھا۔وہ خود کمزورہورہاتھا،ہاررہاتھامیری تلاش اسے دیوانہ بنائے دے رہی تھی مگر میں کیا کرسکتی تھی۔وہ مجھ سے باوفا تھابس یہی بات میرے لیے باعث سکون اور حیات جاوداں تھی……ورنہ کہیں کوئی مرداس دور میں ایسی پاکیزہ محبت کرپاتا ہے؟آج کل توعشق بڑے سستے،مدے داموں میں گلی گلی نکڑ نکڑبک رہاہے۔ محبت کے دعوے کرکے گھر بسانے والے چند دنوں میں ہی طلاق کے کاغذات لیے پھرتے نظر آتے ہیں اور مرد تو ایسی محبتوں کو وقت کی پرچھائیں سمجھ کر آگے بڑھ کر کسی اور کے ساتھ زندگی گزار بھی لیتے ہیں ہاں لڑکیاں اکثر بے وفائیاں سہتی سہتی مرجاتی ہیں مگروہ…… مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔اس نے مجھے اس حد تک چاہا کہ اب اسے دنیا میں میرے روحانی تعلق کے علاوہ اور کچھ چاہیے ہی نہیں یہ میرے لیے کیا کم خوش نصیبی کی بات تھی……مرد کی ذات اور باوفا زمانہ دانتوں تلے انگلیاں دبالیتاہے اور وہ…… بابر جو اس طرح مجھ سے جڑا کہ پھر جدا ہی نہ ہوسکا ……بس یہی بات میرے لیے بہت تھی۔میں نے اس محبت کوپالیاتھاجس کی تلاش میں دنیابھٹکتی پھررہی ہے مگر سچائی دھوکے بازی کی گرد میں دب گئی ہے اور جس کی تلاش فی الحال ممکن نہیں ……مگر میرے پاس وہ محبت تھی اور یہ دنیا مجھے اسے حاصل نہیں ہونے دے رہی تھی……

”نہ ہونے دو……مجھے کچھ چاہیے بھی نہیں ……“

میں نے اپنے قیمتی آنسوؤں کوصاف کیا جوصرف بابر کی یاد میں اکثر بہا کرتے تھے اور میرے لیے بہت قیمتی بھی تھے اور باعث فخر بھی۔

رفتہ رفتہ گھر کا نظام معمول پر آتاجارہا تھا۔وہی حق پرستی کی باتیں،ہر بات میں چھان پھٹک کہ کسی کے ساتھ حق تلفی نہ ہوجائے،صدقہ،زکوٰۃ،خیرات،دینی مسئلے مسائل،وہی انصاف پسندی،وہی ماحول گھر میں دوبارہ آنے لگابچے بھی ہنسنے مسکرانے لگے،دیورانیاں بھی آپس میں مل مل کر ادھر ادھر آنے جانے لگیں۔امی بھی اپنے پرانے مشاغل میں مصروف ہوگئیں۔بھائی بھی اپنے اپنے کاروباری مسائل حل کرتے رہے مگر بس ایک میں تھی……جس کی زندگی تھمی جارہی تھی جس کے وجود کی نہ کسی کو فکرتھی اور نہ کچھ اور۔

میں اگر کبھی کمرے سے نکل کردالان میں قدم رکھ بھی دیتی تو کوئی میری طرف توجہ ہی نہیں دیتااور اس طرح میں اپنے آپ میں اتنی شرمندہ ہوجاتی کہ بس……مگر کچھ دنوں سے ایک نئی آہٹ مجھے سنائی دے رہی تھی کہ بھائی جان میرا نکاح کرانا چاہتے ہیں۔اس خبر نے مجھے حیران بھی کیا اور حد درجہ پریشان بھی، تووہ سب میرے اس بوجھ کواس خوبصورتی سے اتارنا چاہتے تھے مگریہ مجھے گوارہ نہیں تھا۔اس طرح ذلیل وخوار زندگی گزارکرمیں اس دہلیز سے رخصت بھی ہوجاؤں وہ بھی کسی اور کے ساتھ کبھی نہیں۔ہاں اگر میرے ساتھ یہ رویہ نہ رکھا ہوتا اور مجھے سمجھا ہوتا اور مجھے سمجھایا ہوتا اسی رشتے سے اپنایا ہوتا جومیراحق تھاتو شاید میں راضی ہوجاتی مگر اب اس طرح ہرگز نہیں۔میں چاہے کتنی بھی بدنصیب لڑکی تھی،بیٹی تھی مگر مجھ سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا چاہے میری ماں اپنی جان کی دہائی ہی کیوں نہ دیں مگر میں نکاح کے لیے کبھی ہاں نہیں کروں گی۔ میں نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرلیا تھا۔

پھر کیا ہوا مجھے پتہ نہیں مگر ایک دن چھوٹے بھیا میرے پاس پھر گرجتے برستے آئے اور میرے بال پکڑکر ایک زوردار تھپڑ میرے منھ پر مارا ……اور بولے۔

”سن……ابھی بابر کا فون آنے والا ہے……اگر تونے اس سے یہ نہیں کہا کہ تونے کبھی اس سے پیار کیا ہی نہیں تو دیکھ لینا……میں اسی لمحے اس چاقو کو اپنی گردن میں گھونپ لوں گااور مرجاؤں گااگر تجھے اپنے بھائی کاذرابھی خیال ہے تو فیصلہ کرلے……ورنہ جوتیرے جی میں آئے کرنا……مگریہ یاد رکھ کہ میرے مرنے کے بعد بھی بھائی جان کبھی بابر سے تیرا نکاح نہیں کریں گے……نا لائق لڑکی……!“

میرے دماغ کی تمام رگیں جیسے پھٹنے لگیں ……میرے بال ان کی جنونی مٹھی میں قید تھے اور تمام اہل کرم مجھے اس طرح اذیت میں دیکھ رہے تھے جس میں اورکوئی شامل تھا یا نہیں مگر میری ماں بھی شامل تھی،جس کی آنکھوں میں اس وقت میرے لیے صرف نفرت ہی نفرت تھی اور یہ پیغام بھی کہ کاش……!وہ مجھے زہر دے کر مارسکتیں اگراسلام نے انھیں اس کی اجازت دی ہوتی۔

چھوٹے بھیا نے چند منٹ کے بعد میرے بال چھوڑدیے ……اور میں اپنے بیڈ پر جاگری۔یہ اچانک کیا ہواتھا کہ قیامت کیوں آئی تھی مجھے اس کی کچھ خبر نہیں تھی اور نہ میں سننا چاہتی تھی۔میری روح جو چھالوں سے بھری پڑی تھی۔ میرا دل جو ان اپنوں کے نشتروں سے بھرا پڑاتھااور ہر طرف سے لال فوارہ پھوٹ رہاتھا۔میرا ذہن جو بیمار تھا،کمزور تھا،وہ یہ سب اب سننا بھی نہیں چاہتا تھا۔میں بس اب خدا کے حضور تھی اور کہیں کچھ نہیں۔

”اب……کیا ہواہے؟“

امی نے آگے بڑھ کر چھوٹے بھیا کا پسینہ پونچھا اورمیرے ماتھے سے نکلتا ہواخون یوں ہی تکیہ میں جذب ہوتا رہا۔

”ہواکیا……؟آج میں اسے قتل ہی کرڈالتا۔پھر سے دوکان پر آگیا اوروہی پرانی رٹ……سالے کو کہیں سے پتہ چل گیا کہ زیب کا رشتہ ہونے جارہا ہے کہنے لگا کہ خدارا زیب کا رشتہ کرنے سے پہلے ایک بار اس کی مرضی ضرور معلوم کر لیجیے گاورنہ آپ اپنی بہن کوکھودیں گے۔بے ہودہ سوچ رہا تھا کہ اس طرح وہ اس ……“

انہوں نے جملہ ادھورا چھوڑدیا۔ انھیں امی کی کوئی تربیت یاد آگئی تھی جس میں گالی دینے کی ممانعت تھی ورنہ نہ جانے ان کا اس وقت کیا دل چاہ رہا تھااور میری طرف کھاجانے والی نظروں سے دیکھا۔

”ایک ہنگامہ کھڑا کردیا اس بیہودہ لڑکے نے۔بہت مارنا چاہتا تھا میں دل چاہ رہا تھا کہ اس کی جان لے لوں مگر بس……!نہ جانے کون سی طاقت نے ہاتھ روک دیا۔ کہہ دیا میں نے اس سے یہ سب تیری سازش ہے۔ زیب تجھے نہیں چاہتی۔میں اس کے منھ سے کہلوادوں گا……تب تو ہماری زندگی سے چلا جائے گا……“

”تب……اس نے……ہاں کی کہ اگر زیب ایک بار کہہ دے کہ اس سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ پھر کبھی پریشان نہیں کرے گااور آج میں یہ طے کرکے آیا ہوں کہ اگر زیب کی زبان سے ہاں نہ نکلی تو میں اپنی جان دے دوں گا۔ذلیل کرکے رکھ دیا ان دونوں نے۔یا تو آج وہ نہیں یا میں نہیں۔اب فیصلہ اس کے ہاتھ ہے۔“

وہ شعلے برساتے مجھے جلاتے ہوئے آئے تھے اور بھسم کرکے چلے گئے۔ اب میرے سامنے امی تھیں۔جو نہ جانے کن نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔میرے قریب آئیں اور بولیں۔

”اس گھر کی بیٹی نے تو مجھے سکون لینے نہ دیامگر اس گھر سے میرے بیٹے کو مت چھین۔کیسی بہن ہے تو! اپنے بھائی کو مرا دیکھ سکے گی۔“

میری ویران آنکھوں نے جو خون بہہ جانے اور روحانی جسمانی کمزوری بڑھ جانے سے بند ہوئی جارہی تھیں امی کو دیکھا۔دل چاہا ایک بار ان کے سینے میں منھ چھپاکر اتنا روؤں اتنی زور سے دہاڑیں ماروں کہ میرے اندر کا ساراکرب بہہ جائے مگر میں چاہ کر بھی ایسا نہ کرسکی۔ خون اب ماتھے سے بہہ بہہ کر میرے گلے پر آچکاتھا مگر مجھے اس چوٹ نے اتنی تکلیف نہیں دی تھی جتنی تکلیف ان سب اپنوں نے دی تھی۔جو درد ان سب نے مل کرمجھے دیاتھا۔ وہ اس چوٹ سے کہیں زیادہ تھا۔

امی اپنی چاہت بتاکر جاچکی تھیں۔اب میرے سامنے چھوٹے بھیا کی بیوی تھیں میری پیاری بھابھی۔چھوٹی بھابھی،جن کا دلہناپا میں نے اس طرح کرایا تھا کہ ابتدائی آٹھ دن انہوں نے میرے ارمانوں کے ہاتھوں پر اپنے پیر رکھے تھے تب انھیں چپل نظر آتے تھے۔ جن کے بناؤسنگھار کے لیے میں ہر وقت تیار رہتی تھی اور جن کی تنہائی میں نے اپنی کمپنی دے کر دور کی تھی کیونکہ قدرت نے انھیں اولاد کی نعمت بہت دیر سے دی تھی اور جب دی تھی تو پورے نو ماہ انھیں بستر پر گزارنے پڑے تھے ایسے میں بھیا کے حکم کے ساتھ ساتھ امی کی سخت ہدایات تھیں کہ انھیں ایک پل کو بھی تنہا نہ چھوڑا جائے اور میں نے اکیلی لڑکی ہونے کے باوجود ان پر ہزاروں مرتبہ اپنے پروگرام قربان کیے تھے کہ چلو یہ پروگرام تو پھر بھی اٹینڈ کیے جاسکتے ہیں مگر اس وقت انھیں میری سب سے زیادہ

[3/5, 8:50 PM] Nusrat Sham.c: ضرورت تھی۔وہی بھابھی جنہوں نے اس دن کے بعد سے میری شکل دیکھی تھی۔جنہیں میری ماتھے کی چوٹ نظر آرہی تھی نہ دل کی،بس آج اپنے شوہر کی زندگی خطرے میں دیکھ کر میرے آگے کھڑی تھیں۔

”زیب……!خدارا انکار کردینابابر کا فون آئے تو۔دیکھوتمہارے بھائی تمہیں بدنامی سے بچانا چاہتے ہیں۔تمہیں جوچاہیے لے لینامگربابر کوبھول جاؤ۔ تمہیں پتہ ہے نا تمہارے بھیا کا غصہ کتنا خراب ہے وہ سچ مچ خود کو ہلاک کرڈالیں گے۔پھر میرا کیا ہوگا؟اور ان بچوں کا……؟زیب……میری بہن……! انکار کردینا۔میں تمہارے بھیا سے بعد میں بات کرکے تم جو چاہوگی تمہیں دلوادوں گی مگر اس وقت ان کی جان تمہارے ہاتھ میں ہے۔کیا تم اپنے بھائی کے جنازے کولانگھ کر اپنی ڈولی سجاسکوگی۔“

وہ میرے سامنے رورہی تھیں۔مطلبی آنسومیں انھیں دیکھتی رہی پھر اپنے کمرے میں آگئی۔اپنی پناہ گاہ میں ……جس کی ایک ایک دیوار میری ماں تھی باقی تین دیواریں میرے تینوں بھائی اور کھڑکیاں میرے پیارے بھتیجے تھے۔جن سے لپٹ لپٹ کر میں روز روز آنسو بہایا کرتی تھی اور بابر مجھے سنبھال لیتے تھے اور میں ……

سب لوگ رات کا کھانا کھاچکے تھے تب میرے کمرے میں کھانے کی ٹرے آئی۔کون رکھ کر گیا تھا پتہ نہیں۔میں تو بس آنکھیں بند کرے اس مولا کو یاد کررہی تھی، جس کے ہاتھوں میں ہم سب کی ڈورہے۔کھانا تو کھانا ہی تھا۔اللہ کی اس نعمت سے میں کیوں محروم رہتی کہ اس نے تومجھے بہت نوازا تھا مگر یہ میرے اپنے تھے جو آج میرے دشمن بنے بیٹھے تھے۔

اسی لمحے اچانک پھر شور کی آوازآئی۔تینوں بھائی باہر گئے ہوئے تھے۔ چھوٹے بھیا پھربڑی تیزی سے میرے کمرے میں آئے۔ابھی میں نے بسم اللہ پڑھی ہی تھی کہ انہوں نے فون میرے آگے کردیا……اور چاقو اپنی گردن پر۔ فون سے بابر کی آوازآرہی تھی……جو برابر

”ہیلو زیب……“ کہہ رہے تھے۔

بھابھی تھر تھر کانپ رہی تھیں۔امی اپنا دل پکڑے مجھے گھوررہی تھیں۔موت کا سناٹا ہر طرف چھایا ہواتھا۔

”زیب!پلیز بھائی جان نے کہا ہے کہ اگر تم ایک بار ان کے سامنے فون پر اقرار کرلوگی کہ تم بھی میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو تووہ سب مان جائیں گے اور بھائی جان اس وقت میرے برابر بیٹھے ہوئے ہیں۔پلیز زیب خدا نے یہ موقع دیا ہے۔کچھ بولو……“

میرے دل نے ایک زور کا ٹھہاکا لگایا۔

”کتنے معصوم ہیں بابر آپ……! ان لوگوں کی چال کو سادگی سمجھ لیا۔یہ لوگ بہت شاطر ہیں۔ وہاں ایک بھائی آپ کو پھنسائے بیٹھا ہے اور یہاں دوسرا مرنے کی دہائی دے رہا ہے۔“

بابر نے کئی بار اپنی بات دہرائی مگر میں بھی چپ تھی،بالکل اسی طرح جس طرح کسی مجرم کو سزا سنائی جانے والی ہوکہ اب اس کی زندگی کا کیا فیصلہ ہوگا۔میں نے فون اپنے کان پر لگایا اور ”رانگ نمبر کہہ کر کاٹ دیا۔“میرے رانگ نمبر کہہ دینے سے لگا امی کا چہرہ کھل اٹھا، چھوٹے بھیا نے فوراًچاقو اپنی گردن سے ہٹاکر دور پھینک دیااور بھابھی نے آگے بڑھ کر شاید مجھے گلے لگانا چاہا تھا مگر میں نے خود کو دوڑکر باتھ روم میں بند کرلیا کیونکہ میں ان اپنوں کا سامنا نہیں کرناچاہتی تھی۔میرا یہ رویہ دیکھ کرکچھ لمحوں بعد سب میرے کمرے سے چلے گئے۔تب میں باہر آئی۔کھانے کی ٹرے اٹھاکر ٹیبل پر رکھدی اور پھوٹ پھوٹ کر رودی۔اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ پتہ نہیں۔

ہاں بس ایک دن طلعت پھر میرے پاس آئی اس کے پاس آج بابر کی تحریر تھی جسے دے کر وہ فوراًچلی گئی……شاید اب اس میں میرا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

میں نے خط کھولا۔بابر کی تحریر جسے آج میں پہلی بار دیکھ رہی تھی تین سال سے ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے مگر آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

”زیب……!

خدا تمہیں سلامت رکھے۔

معلوم ہے کہ اس دن تم نے فون پر جو کچھ کہا وہ تمہاری مجبوری تھی……زیب ……مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں،تم سلامت رہو بس یہی میرے لیے کافی ہے اورپھر تم تو اب بھی میرے پاس ہو،میری روح میں تحلیل ہو،میری سانسوں میں رچی بسی ہو میرے دل کی ہردھڑکن میں زندہ ہوتوپھر کیسی دوری۔کچھ نہیں زیب!اس طرح ہمت نہ ہارنا محبت کی توہین ہوگی۔اپنا خاص خیال رکھنا یہ سوچ کر تم زندہ ہوتومیں زندہ ہوں۔بس اس بات کو زندگی جینے کی وجہ بنالو کہ میں نے تمہیں بے حد چاہا ہے اور یہ چاہت خدا نے ڈالی ہے اس وقت جب میں تم سے اور تم مجھ سے ملی نہیں تھیں۔میں ہمیشہ تمہارا رہوں گا……!

                                  بابر

دو موتی میری ہیرے جیسی کٹورہ آنکھوں سے نکل کر کہاں گرے پتہ ہی نہیں چلا۔میں نے خط سنبھال کر اپنی ڈائری میں رکھ لیا کہ اب یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکاتھا مگر خدا نے ایک کرم ان دنوں مجھ پرکیاکہ میری طبیعت کچھ خراب رہنے لگی اور اس وجہ سے میرے آنے والے تمام رشتے لوٹادیے گئے۔ اچھاہوا کہ میرا فیصلہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلاورنہ اس بار تو شاید چھوٹے بھیا کو چاقو اپنے حلق کے پار کرنا ہی پڑجاتا۔

گھرکی بگڑی فضا پھر سے بدلنے لگی سب کچھ وہی ہونے لگا۔سب کچھ وہی جیسے میت کے گھر میں ہوتا ہے۔پہلے دن کچھ اوردوسرے اورتیسرے اور پھر مہینے بھر بعد کچھ اورسب مرنے والے کاذکر تک کرنا چھوڑدیتے ہیں اور مگن ہوجاتے ہیں اپنی د نیا میں۔میں بھی اس گھرمیں مرچکی تھی اور مجھے توکوئی اپنی یادوں میں بھی زندہ رکھنانھیں چاہتاتھاپھر بھلا میراذکر کیونکر……؟

رمضان آئے وہی عبادات کا اہتمام وہی سحری افطارکی بہاریں وہی صدقات وخیرات کادرکھل جانا۔سوال لیے لوگ آتے اور جھولیاں بھربھر دعائیں دے کر چلے جاتے پھلنے پھولنے کی،ہر جگہ ہمارے گھر کا ماحول اتناپاکیزہ مشہور تھاکہ لوگ اکثر مسائل کاحل پوچھنے آتے تھے کہ کیاکیاجائے۔

امی کی پاکیزہ عبادتیں مشہور تھیں،گھر میں ایکا اتفاق رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی،نبھاؤ،سب کچھ بہت مشہور تھا۔رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تھی کہ بھائی جان،چھوٹے بھیا اور بھیا میرے کمرے میں آئے ان کے ساتھ امی بھی تھیں۔میں نے حیرانی سے انھیں دیکھا۔ان کے ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھے۔

”زیب……!ابو کی جائدادکابٹوارہ ہوگیاہے اورہم کسی کاحق نہیں مارنا چاہتے۔ ہم حقوق العباد کاخاص خیال رکھتے ہیں۔ یہ تیرے حصے کی جائداد کے کاغذات ہیں۔ خدا ہمیں کسی پکڑ میں نہ پکڑے۔ہم نے انصاف سے کام کیا ہے امی گواہ ہیں۔“

انہوں نے کئی کاغذات میری طرف بڑھادیے۔جنہیں میں نے دیکھا ضرور مگرپکڑا نہیں۔میں ان انصاف پسند لوگوں کو دیکھ کر حیران تھی جو اپنے عدل و انصاف کے ثبوت دینے آئے تھے۔ سرخروئی چاہتے تھے۔انھیں اللہ کا قول یاد تھا کہ۔

”قیامت کے دن منصف کی سخت پکڑ ہوگی مگر کیا صرف جائیداد کے منصفوں کی؟کیا ان کے ضمیر مطمئن ہیں ……؟انہوں نے واقعی میرے ساتھ انصاف کیا ہے……؟ہاں زمانے کو پتہ ہے انصاف کیا ہے۔ باپ کی جائیداد کی رتی رتی کاحساب کیا ہے۔لوگ واہ وا کررہے ہیں کہ بہن کو اس کا پورا پورا حق دے دیا۔“

میری اس بے حسی نے انھیں مزید کچھ کہنے سے روکے رکھااور میرے اس بیگانہ رویہ نے ان کی ہمت توڑدی اور وہ کاغذات میرے آگے ڈال کر چلے گئے۔

اللہ کی رحمت میری طرف بڑھ رہی تھی۔مجھے اس کمرے میں بند ایک سال ہوگیا تھا۔میری طبیعت اب بخار کی شکل اختیار کرچکی تھی،جو ہر وقت مجھے رہنے لگا تھا۔ میری بیماری نے ایک دن مجھے ہاسپٹل پہنچادیاجہاں مجھے یہ خوش خبری ملی کہ مجھے ٹی بی ہوچکی ہے۔گھر والوں کے لیے یہ خبر خوشی کی تھی یا غم کی مجھے نہیں پتہ، مگر میرے لیے بہت دنوں بعد نوید مسرت آئی تھی۔اس کی رحمت کے آگے میرا سر جھک گیا۔ مجھے آزادی ملنے میں اب زیادہ دیر نہیں تھی۔اب

[3/5, 8:51 PM] Nusrat Sham.c: میرا ہر ماہ چیک اپ ہوا کرتا تھا۔ ڈاکٹر مجھے ایک ماہ کی دوائیں دے کر بھیج دیا کرتے اور سخت ہدایات بھی کہ ”دوائیں برابر کھانا ہیں۔“

بھیا بھی مجھ سے کئی بار کہہ چکے تھے دوا وقت پر کھالیا کرومگر میں ……!کاش میں خود کو ہلاک کرسکتی مگر میرااللہ کے آگے جھکا سر اس کی حکم عدولی نہیں کرسکتا تھا اس لیے کچھ اس طرف سوچا ہی نہیں۔ہاں روز رات کو بابر مجھ سے شکایت ضرور کرتے تھے کہ

”زیب دوائیں کھایاکروکھڑکی کے باہر پھینکا مت کرو……“

کیونکہ ڈاکٹر کے کہنے کی وجہ سے اب میں اپنے پرانے کمرے میں آگئی تھی۔ میرے لیے تازہ ہوا بہت ضروری تھی اور اس کمرے کی ایک کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی اور یہیں میں پہلی بارانھیں دیواروں اور چھت کے زیر سایہ اپنے تخیلات میں بابر سے ملی تھی۔مجھے اس سے ملے اب نو سال ہونے کو آئے تھے مگراس طویل عرصہ میں، میں بابر سے کچھ کہہ نہیں پاتی تھی۔مجھے ڈر لگتا تھا توصرف بابر سے کیونکہ میں نے ایک گولی بھی آج تک دوا کے نام پر نہیں کھائی تھی۔دوائیں آتی ضرور تھیں مگر میں انھیں باہر پھینک دیا کرتی تھی اور گھر والے مطمئن تھے کہ میرا علاج ہورہا ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے اب اپنے رب کے پاس جانے کی جلدی تھی،میں اس جسم کے بندھن سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔یہ جسم جس کو ان لوگوں نے اتنا بڑا مسئلہ بنالیا اور میرے روحانی پیار کو مارنا چاہا وہ تو ایک دن ایک پل بھی نہیں مرا……کیا سچی محبت مرسکتی ہے……؟نہیں محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے مر تو ہم جاتے ہیں۔اسے تو حیات جاوید حاصل ہے۔ فانی تو ہم ہیں۔اسے تو کائنات چلانی ہے اور ہم اس دنیاکی خاک میں مل کر مٹی ہوجاتے ہیں۔

اس دن کے بعدمجھے پتہ نہیں بابر کا کیا ہوا؟ وہ کیسا رہا……؟ہاں مجھ سے وہ روز اسی طرح ملنے آتا تھااور مجھے جینے کا ہنر سکھاکر چلا جاتا۔کہتا تھاہم اس کے یہاں ضرور مل جائیں گے۔توبابر!اب تمہارے بغیر میں جی ہی نہیں سکتی۔سب سمجھتے ہیں وہ جیت گئے مگر جیت تو اس پاکیزہ محبت کی ہوئی ہے جو ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔

میری سانس اکھڑرہی ہے۔لگتا ہے آج بابر سے ملنے کی ساعت قریب آتی جارہی ہے۔ آج میں اس ڈائری کا آخری ورق لکھ رہی ہوں ……کہ مجھے بابر کے پاس جانا ہے……میری آنکھیں بند ہورہی ہیں ……یہ کیا بابر!تم بھی آج میرے ساتھ آنکھیں بند کیے لیٹے ہو۔اچھا مجھے یقین ہوگیاتم بھی آج ہی مجھ سے ملنے جارہے ہو تو چلو……پھر اڑجائیں ……اللہ حافظ……!

زیب النساء

جنازے کی رخصتی کے بعد کمرے سے چھوٹے بھیا یہ ڈائری اٹھاکر لائے تھے اور پڑھ کر پھوٹ پھوٹ کررورہے تھے کہ۔

”زیب یہ تونے کیا کیا؟تو نے ایک بار کہا توہوتا۔ایک بار……اورآس باس بیٹھے لوگ انھیں تسلیاں دے رہے تھے۔

ززز

nusratshamsi123@gmail.com

نصرت شمسی

افسانہ نگار

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form