دیدبان شمارہ ہشتم

گم ہوتا کردار

منزہ احتشام گوندل

بدن پر چادر لپیٹ کر کھڑکی کے پردے ہٹاتے ہوئے اس نے سوچا۔

بس اتنی سی بات تھی۔

دوہرے شیشے کی چوڑی کھڑکی کے آ گے نہایت دبیز ریشمی پردے لگائے گئے تھے۔سامنے اونچی عمارتیں تھیں اور نیچے چوڑی سڑک پر گاڑیاں نہایت چھوٹی لگ رہی تھیں۔ آ ہستگی سے اس نے گردن موڑ کر اپنے کندھے کے اوپر سے اسے دیکھا،وہ ٹراؤزر پہن کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔نہایت انہماک کے ساتھ سامنے کی دیوار پہ لگے ایل ای ڈی پر نظریں جمائے وہ سیگریٹ بھی سلگا چکا تھا۔اسے افسوس ہوا۔یہ تو رائیگانی ہے۔اس وقت اس کے دماغ میں کیا ہے؟

کیا وہ اسے سوچ رہا ہے؟۔یا ٹی وی پہ چھڑی بحث کے متعلق سوچ رہا ہے؟۔یا اس سیگریٹ سے لطف اندوز ہورہا ہے جو اس کے قدرے اوپر کو اٹھے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سلگ رہی ہے ،یا پھر الکوحل سے حظ کشید کررہا ہے جو قدرے نیچے اٹھے بائیں ہاتھ میں اس نے پکڑا ہوا ہے؟۔اور ان تمام چیزوں کے درمیان میں وہ کہاں ہے؟ ایک مکمل عورت۔۔۔۔

کیا میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتی؟۔میں اپنے ہونے کا جواز اس آ دمی کے دماغ میں موجودگی سے ہی کیوں مشروط کررہی ہوں؟۔کسی کیا مرد کے دماغ میں گھسے بغیر میں نہیں ہوں؟۔

میں موجود ہوں۔مکمل اور آ سودہ۔اس کھڑکی کے پاس کھڑی ایک لاتعلق عورت،جسے یہ ساری باتیں سوچنا زیب نہیں دیتا۔کہ وہ اپنا ہونا تلاشتی ہوئی خود سے ہی بیگانہ ہوجائے۔

وہ آ سودہ نہیں تھی۔اس ملاقات نے اس کا جی اچاٹ کردیا تھا۔وہ تعلق جو ایک گہری رومانوی محبت سے شروع ہوا تھا اچانک یوں منہ کے بل آگرے گا وہ اس کا گماں بھی نہیں رکھتی تھی۔بیزاری کچھ اور بڑھی تو وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ آئی۔سیگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوئے وہ اسے آہستگی سے اپنے ساتھ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

میرا خیال ہے میں شام کو چلی جاؤں۔

کیا یہ اطلاع ہے یا اجازت؟ وہ بولا

اطلاع ۔۔۔ وہ بے نیازی سے بولی۔وہ چپ رہا جیسے اس ردعمل کے لیے پہلے سے تیار بیٹھا ہو۔بیک وقت اسے وہ بیزار کن اور پیارا لگا۔ آ گے بڑھ کر اس نے اس کا ماتھا چوم لیا۔

وہ اس آ دمی سے محبت کرسکتی تھی اگر یہ ملاقات کی افتاد درمیان میں نہ پڑتی۔لمحاتی بہجت نے دیرپا تخیل کو ضرب لگائی تھی۔وہ سوچنے لگی اس تازہ وادرات سے کیا نتیجہ نکالے۔

کیا وہ خود سے شرمندہ ہے؟

ہاں وہ خود سے شرمندہ ہے۔

کیا جہاں پہلے محبت تھی وہاں اب محبت ہے؟

نہیں جہاں پہلے محبت تھی وہاں اب پچھتاوا اور دکھ ہے۔

کیا یہ سب جو ہوا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟

ہونا چاہیے تھا۔یہ سب ہونے کے بعد وہ بہت سے سوالوں کے جواب جان گئی تھی۔یہ نہ ہوتا تو وہ کبھی نہ جان پاتی کہ آ دمی سب کچھ ہونے کے باوجود کھوکھلے کیسے ہوتے ہیں۔وہ اب اپنی ٹانگیں اٹھا کے اس کی گود میں رکھ چکا تھا۔وہ ایسا ہوتے دیکھتی رہی۔لایعنیت اب ساتویں آ سمان کو چھونے لگی تھی۔مگر اس لایعنیت کے ساتھ ایک عجیب سی محبت اس کے اندر جنم لے رہی تھی۔اس کے بدن کے ساتھ آ شنائی اور جڑت کا بے پناہ احساس،تناقصات کے ساتھ تضادات کی کیمسٹری اسے عجیب احساسات سے بوجھل کیے ہوئے تھی۔تبھی اچانک اسے انکشاف ہوا کہ وہ اپنے اندر اپنے من میں کتنی گہری اور بھری ہوئی ہے اور یہ خوبصورت آ دمی اندر سے کتنا خالی ہے۔

وہ اب کسی ماڈل کے جسم پہ تبصرے کررہا تھا۔وہ خاموشی سے سنتی رہی۔زرعی سماج نے عورت کو ذاتی ملکیت بنایا تھا اور صنعتی انقلاب نے عورت کو نمائش کی شئے بنا دیا ہے۔

دیکھیں مرد کیسے رعونت کے ساتھ جم کے بیٹھا ہے اور عورت اس کے آ گے ناچ ناچ کے ہلکان ہورہی ہے۔وہ بولی

اعضا کی شاعری صرف عورت کرسکتی ہے۔وہ اس کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔وہ مسکرا دی،یہ کتنی کمزور سی دلیل تھی۔کتھک رقص میں اس نے کئی مردوں کی مہارت دیکھی تھی،عورت سے کئی گنا نازک نرت اور بھاؤ بتاسکتے ہیں۔

ایک بار پھر کھڑکی کے پاس کھڑے ہوکے اس نے باہر بے تحاشا پھیلے شہر کو دیکھا۔ایک کبوتر خلا میں اڑان بھررہا تھا۔کھڑکی کے سامنے بہت بلند سرکاری عمارت سمیت ہر شئے گہری لایعنیت سے بھر گئی۔زندگی ایک دم بے معنی ہوگئی تھی۔

وہ ایک ایسی مچھلی تھی جسے زیست کے لیے سمندر درکار ہوتا ہے۔بے کنار اور گہرا سمندر،جس کے اندر بے تحاشا اسرار ہوتے ہیں۔جو مہربان اور غیر مشروط ہے۔ایک طاقتور اور بے پناہ مظہر جو کسی خاص سانچے اور شکل و صورت کی شرط کے بغیر اپنا دامن پھیلائے ہوئے ہے۔اس نے دراز قد آ دمی کی استخوانی ٹانگوں کا بوجھ دھکیل کر اپنی گود سے ہٹانا چاہا کہ اتنے میں اس کے فون کی گھنٹی بجی اور وہ خود ہی اٹھ گیا۔

________________________

ہمارے سماج میں عورت تین بٹا تین میں منقسم ہے۔

پہلی مثلث بیٹی،بہن اور ماں کی ہے۔دوسری مثلث بیوی،داشتہ اور طوائف کی ہے۔داشتہ کو آ ج کے معزز الفاظ میں گرل فرینڈ کہا جاتا ہے۔ایک چوتھا کردار بھی ہے جو محبوبہ کہلاتا ہے۔مگر یہ محبوبہ بھی اب داشتہ ہی کی دوسری شکل بن چکی ہے۔گویا اس مثلث کے تیسرے کونے سے ایک اور مثلث کا ظہور ہوتا ہے۔داشتہ کا تصور سرمایہ دار طبقے کی دین ہے۔یہ کاروباری لوگ دولت کو بیوی سے منسوب کرتے ہیں اور اسے لکشمی جی کا درجہ دے کر اسے ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر بیوی کو ان کی وجہ سے کوئی ملال ہوا تو ان پہ مہربان لکشمی ان سے روٹھ جائے گی۔دوسری طرف سرمایے کے سبب تازہ ترین جسموں کی کھیپ بھی دستیاب رہتی ہے۔شادی کو تازہ رکھنے کے لیے یہ لوگ محفوظ تجربے کرتے رہتے ہیں۔جن میں سب سے بہترین چیز محبوبہ المعروف داشتہ یا گرل فرینڈ ہے۔جسم کی اہمیت اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔

تو کیا کوئی چوتھا کونا بھی ہے جہاں میں فٹ ہوسکوں۔وہ پھر خود احتسابی کی کیفیت میں چلی گئی۔اگر کرہ ارض کی کروڑوں عورتوں میں سے صرف اس ایک عورت کو یہ تخصیص دے دی جائے کہ وہ مؤخر الذکر مثلث میں سے کسی ایک میں بھی نہیں آ تی تو کسی کا کیا بگڑے گا۔اچانک اسے اپنی رانوں کے درمیان چپچپاہٹ کا احساس ہوا،اجنبی بدبودار مادا جو اس کا ذاتی نہیں تھا۔جس پہ اس کا کوئی حق بھی نہیں۔تو یہ سب کیا ہے؟

کیا یہ سب اس لیے ہے کہ اس کے پاس چوتھے کونے کا کردار نہیں؟۔کیا وہ ایک خلا میں معلق ہے۔وہ ان احتیاطوں سے کیوں نا آ شنا ہے جو ہر داشتہ یا محبوبہ کو پتا ہوتی ہیں۔کیا وہ یہاں بیوی بن کر آ ئی ہے؟۔بیوی کا تو اس چپچپے مادے پہ حق ہوتا ہے۔داشتہ پیسہ وصول کرتی ہے۔مگر وہ کس کردار میں فٹ ہے۔کہیں بھی نہیں۔وہ بیوی ہے نہ محبوبہ،نہ دوست اور نہ داشتہ۔

کردار گم ہوگیا تھا۔

وہ user ہے۔اس نے خود سے کہا۔اس نے اس آ دمی کو استعمال کیا ہے۔

نہیں وہ abuser ہے۔اس آ دمی نے اسے استعمال کیا ہے۔

وہ فاعل ہے۔اپنی مرضی اور خواہش سے آ ئی ہے۔

نہیں وہ مفعول ہے۔اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

وہ بیوی ہے اس لیے یہ چپچپاہٹ اس کے بدن میں تحلیل ہورہی ہے۔

نہیں وہ بیوی نہیں،اسے اس مادے کو اپنے بدن سے کسی بھی صورت باہر نکالنا ہے۔

وہ گرل فرینڈ ہے۔

نہیں وہ گرل فرینڈ کبھی بھی نہیں ہوسکتی کہ اس کی کوئی قیمت لگا ہی نہیں سکتا۔

کردار گم ہوگیا تھا۔

اس کا جی چاہا ان سارےدوستوں کو کسی چوک میں ننگا کرکے جھانبڑ رسید کرے جو اس کے کردار کی گم شدگی کی وجہ بنے۔مگر اس سے کچھ ہونے والا نہیں تھا۔

کیونکہ گم شدہ کردار کو اب واپس لانا ممکن نہیں تھا۔

منزہ احتشام گوندل

منزہ احتشام گوندل شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں

۔ڈاکٹریٹ ترقی پسند تنقید پرکر رہی ہیں۔ انہیں جدید انسانی رویوں اور انسانی نفسیات کے ساتھ گہری دلچسپی ہے۔دو کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں "منزہ نظمیں"نظموں کا اور "آ ئینہ گر"افسانوی مجموعہ ہے۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form