گُلرنگ دیدبان 

    گُلِ رُخ کاظمی

 

آہ!!!دن تو روز ایک سے ہوتے ہیں لیکن آج سورج بھرپور مصروفیت سمیٹے گھر کی دہلیز پہ طلوع ہوا۔کئی مہینوں سے نسترن کو ٹال رہی تھی کہ اس اتوار کو ضرورکچھ نہ کچھ لکھ کے بھیجوںگی لیکن شب و روز کی مصروفیت نے آخر کار ڈیڈلائن پہ لاکھڑا کیا اور نسترن کی پیار بھری دھمکی ،”پیر سے پہلے پہلے لکھ دینا ،پھر مجھے دیدبان کی اشاعت کے لئے تاریخ کا اعلان کرنا ہے“۔سچ کہوں میں لکھنے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں تھی ،اس کی سب سے بڑی وجہ میری اپنی ذات تھی جو اِن دنوں بہت کہر آلود سی ہے،حواس پہ دھند سی چھائی ہوئی ہے۔ایسے لمحوں میں جب کہ میں خود سے بھی نہیں ملتی ، لکھنے کا حکم ملے اور حکم بھی وہاں سے جن کو انکار کرنا میں، گناہِ عظیم سمجھتی ہوں۔دیدبان سے میرے رشتے کو سمجھنے کے لئے مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔آنکھ کھولنے سے قبل ہی ہم رشتوں سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں،اور کئی رشتے ہم خود بناتے ہیں،کچھ ہمیں ٹھوکر مار کے چلے جاتے ہیں،کچھ کو ہم دل میں بٹھالیتے ہیں ،جن سے زندگی کا احساس ملتا ہے۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ جب میری ذات کا ہر دروازہ مجھ پہ بند تھا،کہیں سے روشنی کی کوئی کرن نہیں آتی تھی ایسے میں سلمی ،نسترن اور سبین نے دریچے پہ دستک دی تومیںنے باہر جھانکا۔ان تین ناموں کا ےکجا ہو جانا ہی کہکشاں ہے تو میں روشنی کا راستہ کیسے روکتی۔

اظہار کرنا میرے لئے کبھی بھی مشکل نہیںرہا،اس کے لئے کسی نظم و ضبط کی ظرورت نہیں ،ہم جن تجربات سے گزرتے ہیں ان کا اظہار بھی کرتے ہیں۔لوگوں سے ملنا،ان کو کتابوں کی طرح پڑھنا شائد ہم میں سے کئی لوگوں کی عادت ہو،لیکن میری ضرورت ہے۔مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ میرے اردگرد چلتے پھرتے لوگ نہیں ہیں کتابیں ہیں اور میں ان کو مفت میں پڑھ سکتی ہوں۔بحرِ زیست میں میرے جیسی اور لہریں بھی ہوں گی،کئی لہروں نے کنارے پہ آ کے دم توڑ دیا ہو گا اور کئی خاموش، اپنے اندر طوفان لیے پرسکون!گزشتہ سالوں میں کھونے کی اتنی عادی ہو گئی ہوں کہ اپنی ہی ذات کے درمیان فاصلے حائل کر کے فرار ہونا چاہالیکن بھاگ کے بھی کہاں جایا جاتا ہے۔

یہ ذکر ہے پچھلے برس کی ایک ملاقات کا ، جب میں اپنی تنہائی دور کرنے کے لئے فیس بک استعمال کرتی تھی،مجھے لگتا تھا کہ دنیا ابھی انسانوں سے خالی نہیں ہوئی لیکن میں غلط تھی دنیا میں جانور تو کثرت سے پائے جاتے ہیں اور انسانوں کی نسل ناپید ہو رہی ہے(معذرت کے ساتھ)۔ ایک رات فیسبک پہ چلتے چلتے سبین علی کی دیوار پہ رک گئی، وہاں ایک نظم نے مجھے روک لیا۔

سب قیمتی متاع حیات

بے مول دستیاب ہیں

جیسے

دھوپ بارش

جنگلی پھولوں کی ڈال

تجسس ہوا! کون ہے یہ؟یہ نام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اور نہ پڑھا، مزید جاننے کا شوق بڑھ رہا تھا ،بچپن سے ہی درد،میر،غالب،اقبال،عصمت ،امرتا کو پڑھا تھا ،ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس لئے کبھی نئے شعراءکو پڑھنے کا اتفاق زیادہ نہیں ہوا۔ میں بے لاگ تبصرہ اور تنقید کی عادی ہوں، تصنع اور بناوٹ سے کوسوں دور ہُوں، اس لیے آن لائن بلاگز پر میری آرا اکثر اوقات قابلِ قبول نہیں ہوتیں کہ وہ جھوٹی تعریف کے لبادے میں لپیٹ کر خوبصورت پیکنگ میں پیش نہیں کی جاتیں اور محض میری اپنی ایماندارنہ رائے پر مبنی ہوتی ہیں۔خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔بات لمبی ہو جائے گی۔

چیڑ کے جنگل اور کتابوں کی خوشبو،کتن والی،چیونٹیاں،جامن کاپیڑِ،کیا خزاں کی اداسی بھی خریدنا پڑے گی،سمندر کا غنائیہ سبین کی فکری اور شعری اڑان کا بھرپور ثبوت ہے جس کو پڑھتے ہوئے میں کئی احساسات سے گزری۔کئی بار خیال گزرا کہ یہ تو میرے دل کی آواز ہے، کئی بار تو یہ گمان گزرا کہ سبین لکھنے سے پہلے ضرور ان جگہوںپہ جا چکی ہیں۔ سبین کو اردو کے علاوہ پنجابی پہ بھی عبور حاصل ہے کلاسیکل پنجابی شاعری کا شمار عظیم شاعری میں ہوتا ہے اور بلاشبہ سبین اس میدان میں بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔بالآخر میں نے سبین کو دوستی کا پیغام بھیجا ، سبین جی نے میرے پیغام کو فوراقبول کر لیا اور پھر مجھ غریب کو اتنی محبت دی کہ فیس بک چھوڑنے کے بعد بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب سبین نے میرا حال احوال نہ پوچھا ہو۔بات ابھی شروع ہوئی ہے۔سبین اکیلے مجھ سے ملنے نہیں آئی تھی ،اس کے ہمراہ نسترن اور سلمی بھی تھیں۔میری خوش نصیبی!!بھلا ہو ٹیکنالوجی کا جو میلوں دور پردیسیوں کو اپنوں سے ملا دیتی ہے۔ایک دن فون اٹھایا اور سبین کا نمبر ملا دیا۔آپ سے شروع ہونے والی بات تم پہ ختم ہوئی،نہ جانے ہم کتنی دیر تک باتیں کرتے رہے اور فون بند ہونے سے پہلے سبین نے کہا گُل، تم لکھتی کیوں نہیں؟چند لمحوں کی خاموشی کے بعدمیں نے دھیمی سی آواز میں کہا جب اپنے الگ ہو جائیں،دل کے مکیں گھر چھوڑ کے چلے جائیںتو بصارتیں اندھی اور لفظ خاموش ہو جاتے ہیں، میں لکھنا نہیں جانتی صرف پڑھنا آتا ہے۔اچھا سنو! میں فون بند کرتی ہوں گُل تم سے میری جو بھی باتیں ہوئی ہیں ان کو ایک کاغذپہ لکھو تو!۔

سبین دیکھ نہیں پائی کہ اس وقت میرے چہرے کے کیا تاثرات تھے ایسے جیسے کسی بچے کو زبردستی سکول بھیجا جا رہا ہو۔بہرحال میں نے وعدہ کیا ضرور لکھوں گی۔اگلے دن پھر فون کی گھنٹی بجی،سبین نے مجھے سلمی اور نسترن سے متعارف کروایا۔فن اور فنکار،زہریلے بادل،گوادر کے مچھیرے پڑھتے ہوئے مجھے سلمی کو جاننے کا موقع ملا،دوستوں میں ایک اور نام کا اضافہ لیکن یہ سلسلہ تھما نہیں۔ایک دن دفتر سے واپس آتے ہوئے میں نے اپنا لیٹر باکس کھولا،وہاں ڈاک کا ایک بھاری بھرکم پیکٹ موجود تھا،میں نے دیکھا تو بھیجنے والے کا نام نسترن فتیحی درج تھا۔اُف،کیا ہو گا اِس میں ؟ گھر داخل ہونے کے فورا بعد میں نے تجسس سے پیکٹ کھولا،دیکھا تو اندر ”دیدبان“ پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔کتنے لمحے کتاب ہاتھوں میں لئے بیٹھی رہی صرف ایک خیال کہ میں اس قابل کہاں کہ مجھے ےاد رکھا جائے،آنکھوں کو ہاتھ لگا کے دیکھا تو وہ نم تھیں۔میں جو لکھنا پڑھنا چھوڑ چکی تھی اور اکیلے زندگی گزارنے کی عادی ہو رہی تھی کئی ہاتھوں نے بڑھ کے تھام لیا۔دیدبان ہاتھوں میں لئے میں بے چینی سے نسترن کے بیدار ہونے کا انتظار کرتی رہی۔کینیڈا اور انڈیا کے درمیان وقت کے وقفے پہ پہلی بار الجھن سی محسوس ہوئی۔جیسے ہی نسترن کو آن لائن دیکھا، سلام کے بعد میں سارے الفاظ بھول گئی کہ شکریہ ادا کرنے کے لئے کیا کہتے ہیں وہ تو بھلا ہو نسترن جی کا جنہوں نے میری عزت رکھ لی۔دیدبان کے بعد اگلا تحفہ نسترن کا ناول ”لفٹ“ تھا۔اردو ادب کے قارئین کے لئے ”لفٹ“ ایک نعمت سے کم نہیں،یہ محض ناول نہیں بلکہ ایک عہد کی داستان ہے،ایک کلچر کی تصویر ہے۔نسترن کا طرزاسلوب بےحد شگفتہ ہے اور قاری کہیں بھی بور نہیں ہوتااور سب سے بڑھ کے یہ کہ وہ سچ کے اظہار میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتیں۔صرف ایک خرابی ہے کہ مجھے نسترن کے ناول دیر سے ملتے ہیں۔

سلمی کے ساتھ میرا تعلق ایسا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ہمیشہ اپنا لیپ ٹاپ پاس رکھتی ہیں اور میں جو بھی الٹا سیدھا لکھتی ہوں اس کو ٹائپ کر کے کہتی ہیں یہ لو تمہاری نظم!!!شاعری اظہار ہے آگہی کا اب اس کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہواور کوئی بھی کلام جذبے اور تخیل سے عاری ہو کے شاعری نہیں کہلاتا،لفظ ان جذبوں کے نمائندہ ہوتے ہیںچاہے وہ کسی بھی زبان میں بولے یا لکھے جائیں۔سلمی،سبین اور نسترن جب اپنے باہر کی دنیا کو الفاظ کی شکل دیتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کے فطرت اور کردار متحد ہو کے ہمارے اردگرد چل رہے ہیں ،ان میں معنویت ہوتی ہے اور دھیمے پن کی آنچ جو روح کو اپنی تمازت سے زندگی بخشتی ہے۔یہ خواتین نہ صرف قابل احترام ہیںبلکہ ادب کی دنیا میں پوری شان سے سر اٹھا کے چل رہی ہیں۔

میری سہیلیوں کو میرا سلام اور دعائیں کہ انہوں نے مجھے نہ صرف جینا سکھایا بلکہ ہاتھ پکڑ کے لکھنا بھی سکھایا۔یہاں زےادتی ہو گی اگر میں لکھنے کے اس سفر میںنیئر حیات قاسمی صاحب کا تذکرہ نہ کروں۔یہ رشتے بھی درختوں کی طرح ہوتے ہیںجیسے جڑیں پھل اور شاخوں کو مضبوطی سے باندھے رکھتے ہیں ویسے ہی قاسمی صاحب نے مجھے میری ذات سے منسلک کیا۔اس چھوٹے سے سفر کی منزل دور ضرور ہے لیکن مستحکم قدموں پہ ہے۔

آج اگر میں گلرنگ ہوں

تو یہ سب رنگ عطا ہیں

اس یقین کے جو تم نے مجھ پہ تب کیا جب میںپتھروں میںراستے تلاش رہی تھی

اور میری مفلوج آواز اپنی ہی قبر میں گونجتی رہتی تھی

گُلِ رُخ کاظمی

گُلِ رُخ کاظمی، بائیو لوجیکل سائینسز میں یونیورسٹی آف پنجاب، لاہور، پاکستان سے ماسٹرز ہیں۔ اِس وقت ایڈمونٹن، کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہاں کے معروف ادارے "ایم ڈبلیو ایس ایس اے" میں ملازمت کے ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں اور ادارے کے میگزین کی ایڈیٹر بھی۔ اِس کے علاوہ ایک مقامی فٹنس سینٹر کی فرینچائز میں بطور "فٹنس انسٹرکٹر" بھی ذمہ داری سرانجام دے رہی ہیں۔ انگریزی اور اُردو زبان پر عبور رکھتی ہیں اور سوشل میڈیا پر مختلف بلاگز میں وقتاً فوقتاً اِن کی تحریریں، آرا اور تبصرے شائع ہوتے رہتے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form