گُم شدہ پینٹنگ

March 29, 2020
دیدبان شمارہ 11 نظمیں نظمیں

دیدبان شمارہ 11

نظم : گُم شدہ پینٹنگ

شاعر: تنویر قاضی

باقی جسم درختوں کی اوٹ میں تھا

گھوڑے کی پنڈلیاں اور پاؤں نظرآتے تھے

سوار کے ہاتھ باگ پر

عیاں نہ تھے

اور پیر رکاب میں تھے

نظر آتےتھے

ندی بہتی تھی

اُس کو کسی نے اوک میں پانی پلایا

اور وہ وہیں کا ہو کر رہ گیا

اب کے حائل پردوں میں جو ناگہاں در آیا

وہ تیرِ اجل تھا

سوار ڈھیر ہو گیا

صراحی اور پانی پیتے ہاتھ

سورج کے ساتھ

غروب ہو چکے تھے

خیمے میں صرف خوابوں کی جگہ تھی

چہرہ ، آنکھیں اور نیم خوابی

باہر انتظار کرتے تھے

عورت اور گھوڑا

گلے لگ کر بین کرتے تھے

پینٹنگ جنگل میں رستہ کھو چکی تھی

tanveerqaazzii

تنویر قاضی

تنویرقاضی کی پیدائش  11 ستمبر  1955کو ننکانہ صاحب میں ہوئی- تعلیم  ۔۔۔  ایم ۔ اے  ۔،۔ پنجابی ، ڈپلومہ ( انسیٹیوٹ آف بینکرز ین پاکستان)کرنے   کے بعد بینکر کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھا تے ہوئے شاعری سے  بھی ناتہ نہیں توڑا .اس طرح ان کا شعری مجموعہ "جادو سبز ھواؤں کا 1998 میں آیا .ان کی پہلی  غزل "  پاکستانی ادب . کراچی  ، 1974 ..بیسویں صدی  ۔۔ دیلی انڈیا  ۔۔۔ 1974 اور پہلی  نظم ۔۔  وارث شاہ  ۔ملتان۔ (1974)میں شائع ہوئی 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form