غوغا خان کا دستر خوان

August 1, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبنثری نظمشاعری

دیدبان شمارہ ہشتم

غوغا خان کا دسترخوان

-- تبسّم فاطمہ

جب تم فاختاہیں اڑا رہے تھے غوغا خان

آسمان کی لا متناہی وسعتوں کے درمیان

اس پار ایک جنگ بھی ہو رہی تھی

تمہاری نظر فاختاؤں پر تھی

اور کچھ لوگ اس جنگ میں مارے جا رہے تھے

جب تم تیتر اور بٹیر سے کھیل رہے تھے

مرغابی اور بطخ کا شکار کر رہے تھے

کچھ لوگ تھے جنکے سر

جنگوں میں ،نیزے پر اچھالے جا رہے تھے /

جب شہر لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے تھے

تم ایک بوسیدہ کھنڈر کی چھت پر چڑھ کر پتنگ اڑا رہے تھے /

جب نیے موسم کا سورج آگ کی بارش کر رہا تھا

غوغا خان ،

تم انواع و اقسام کے کھانوں سے اپنا دسترخوان سجا رہے تھے

کچھ لوگ تھے

جو اپنی وراثت اور قدیم نشانیوں کو بچانے کی جگت کر رہے تھے /

جب تم اپنی انگلیاں چاٹ رہے تھے

تمہیں قید کرنے کا غیبی فرمان جاری ہو چکا تھا

غوغا خان ، کہیں بھی تمھارے غایب ہونے کا ماتم نہیں کیا گیا

یہ اطلا ع کافی ہے کہ متعدد جگہوں پر

تمہارے نہ ہونے کا جشن منایا گیا

تمہاری گمشدگی پر تاریخ کی کتابوں کا مختصر تبصرہ تھا

کہ دسترخوان سے اٹھے

پھر کسی نے تم کو نہیں دیکھا

پہلے کبھی کبھی تم بادلوں کے درمیاں نظر آتے تھے

اب وہاں بھی دکھایی نہیں دیتے

تبسم فاطمہ

تبسّم فاطمہ

نام : تبسّم فاطمہ پیدائش : تین جولائی وطن : آرہ ،بہار تعلیم : علم نفسیات   میں ایم .اے ،صحافت میں ڈپلوما ، انعام وا عزاز :دلی اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کے انعامات .ہیومن  رائٹس دلی کی طرف سے خصوصی انعام تبسّم فاطمہ کی پیدائش بہار میں ہوئی .تعلیم بہار میں حاصل کی .شادی کے بعد دلی میں سکونت  اختیار کر لی .اب تک اردو اور ہندی میں انکی کئی  کتابیں منظر عام  پر آ چکی ہیں .لیکن جزیرہ نہیں ،سیاہ لباس ،تاروں کی آخری منزل افسانوی مجموعے ہیں .ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے ، میں پناہ تلاش کرتی ہوں شعری  مجموعے شایع  ہو کر مقبول ہو چکے ہیں ،جرم ( ہندی افسانوی  مجموعہ .اردو سے ہندی ، اور ہندی سے اردو میں اب تک وہ بیس سے زاید  کتابوں کا ترجمہ کر چکی ہیں .الیکٹرانک میڈیا کے لئے انہوں نے پچاس سے زیادہ ڈوکیو منٹری فلمیں بنایی ہیں .پچیس سے زیادہ سیریل بنا چکی ہیں .ادب سے وابستہ ہستیوں پر بھی انہوں نے ٥٢ سے زیادہ مختصر فلمیں بنائی  ہیں . .وہ مختلف رسائل میں کالم بھی لکھتی رہتی ہیں .پاکستان کے روزانہ جناح اور دینک بھاسکر میں انکے کالم کو پسند کیا  گیا .پچھلے چار برسوں سے وہ روزنامہ انقلاب میں بھی کالم لکھ رہی ہیں .تبسم کے یہاں  ’نہیں‘ ان کے فکری نظام کا کلیدی لفظ ہے۔ شعور کے ایک مرحلے میں ہر نہیں، ہاں سے بڑی ہوتی ہے۔ تبسم فاطمہ کی تخلیقات  شعور کے اسی مرحلے کی تخلیق ہیں۔ انہوں نے اپنے ارد گرد کی بے کس مظلوم استحصال زدہ اور نفسیاتی طور پر کچلی ہوئی عورتوں کو اپنی تحریروں  میں کسی نہ کسی طرح باغی بننے کی ترغیب دی ہے۔ ان کی آئیڈیل عورت ٹپیکل سچویشن میں رہتے ہوئے بھی بالآخر زمانے کی ستم رانیوں سے ٹکراتی ہے اور اپنا حساب خود ہی بے باق کرتی ہے۔ 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form