فرح خان کی غزل

March 16, 2018
" شمارہ -٧ "مزاحمتی ادب غزل

غزل 

 فرح خان

اک عشق تھا جو ہم سے دوبارہ نہیں ہوا

کیا کیا وگرنہ دل کو خسارہ نہیں ہوا

اک لفظ جس کے عجز میں اظہار دم بخود

اک نام میری آنکھ کا تارہ نہیں ہوا

وہ خواب بن کے آنکھ سے پھوٹا تو ہے مگر

اک اشک بن گیا ہے شرارہ نہیں ہوا

ہم کوزہ گر کے ہاتھ میں بھی جڑ نہیں سکے

اس بھر بھری سی خاک کا گارہ نہیں ہوا

خود اعتماد شخص تھا بے اعتماد بھی

اپنا نہ بن سکا تو ہمارا نہیں ہوا

شوریدگی کے عارضے تک آگیا فرح

اک بوجھ جو کہ دل سے اتارا نہیں ہوا۔

.......................................

فرح خان

میرا قلمی نام فرح خان ہے.. اور تعلیم ایم اے فلسفہ

ہے..پیدائش اور ابتدائی تعلیم لاہور (پاکستان) کی ہے.

.لکھنے کا شوق کم  عمری سےہی  تھا لیکن شاعری کی

باقاعدہ ابتدا   2013 میں ہوئ.زیادہ تر غزل میں

طبع آزمائی کی  نظمیں اور افسانے بھی لکھے لیکن

پسندیدہ صنف اظہار غزل ہی رہی.. بیشتر اردو غزل کہی

اور کچھ پنجابی میں بھی لکھا.  مختلف فورمز اور

ادبی پرچہ جات میں  کلام چھپتا رہا.. لیکن پسندیدہ اظہار کا فورم

فیس بک ہی تھا... غزل کی کتاب  زیرِ ترتیب ہے اور

انشا اللہ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہو گی

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form