غزل

حضرت بشیر احمدشاہؒراہی ؔ

اشک اِتنے بہے روشنی بہہ گئی دیکھا حدِ نظر تک دھواں دوستو

اجنبی منزلیں بے خبر راستے ، مجھ کو آواز دو ہو کہاں دوستو

بعد مدت کے زنداں کا در جو کُھلاکوئی اپنا نہ تھا سب پرائے ملے

کیا بتائیں گُلستاں کا کیا حال تھا سُوکھے پیڑوں کے تھے بس نشاں دوستو

ہر قدم پہ تھی تصویرِ دارو رسن ، ہر نظر بھڑکتا سا ماحول تھا

آگ ایسی لگی چمن در چمن ، پُھول کلیاں تھیں آتش فشاں دوستو

کس کو ڈھونڈیں کوئی نقشِ پا ہی نہیں کس کو پُوچھیں کوئی رہنما ہی نہیں

سب دیئے بجھ گئے تیرگی چھا گئی آ بھی جاؤ میرے مہرباں دوستو

کس کو داتا کہیں کس کے در پہ جھکیں کس کو اپنا کہیں کوئی اپنا نہیں

کون کسی کا بنا ہے یہاں دوستو ، کون کسی کا ہوا ہے یہاں دوستو

یہ تو مانا کہ دامن میں کچھ بھی نہ تھا ، تم جو آئے تو فصلِ بہار آگئی

مسکراتے ہی سارا چمن لُٹ گیا یوں بھی آئی ہے اب کے خزاں دوستو

میں ہوں راہی ؔ یہاں میرا کوئی نہیں ،تم کہاں ہو نگاہیں پریشاں ہیں

کون تسکین دے، کس کو تسکین دے،زندگی بن گئی داستاں دوستو

حضرت بشیر احمد شاہ راہی

حضرت بشیر احمد شاہ راہی ۶۲۹۱ میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قیام کیا۔ بعد میں بورے والا آئے اور آخر عمر میں لاہور میں قیام کیا۔ آپ کا سلسلہ طریقت حضرت سخی لال شہباز قلندر ؒ سے ملتا ہے۔ ٓپ کے مرشد پاک کا نام حضرت مستان شاہ ؒ ہے۔ آپ کا انتقال ۳ رمضان ۹۸۹۱ میں لاہور میں ہوا اور اچھرہ لاہور کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ جہاں ہر سال اپریل کے پہلے ہفتے میں عرس منایا جاتا ہے۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form