دانیال طریر مرحوم کا غیر مطبوعہ کلام

غزل

دانیال طریر

روگ بروگ پرایا سارا مجھ میں پھیل گیا

ابو کا سرمایا سارا مجھ میں پھیل گیا

دھوپ ترے تن میں اتری تو اور چمک اٹھی

لیکن اس کا سایا سارا مجھ میں پھیل گیا

جو بھی گرد اڑائی ساری مجھ میں آن پڑی

جو بھی رنگ جمایا سارا مجھ میں پھیل گیا

جتنے سانپ پٹار میں رکھے ڈس کر مجھے گئے

جتنا زہر بنایا سارا مجھ میں پھیل گیا

دھجی دھجی جسم اٹھاتا رہتا ہوں اپنا

جو بارود بچھایا سارا مجھ میں پھیل گیا

ایک پتنگ اڑائی تھی جو سانس میں الجھ گئی

جب مانجھا سلجھایا سارا مجھ میں پھیل گیا

تجھ سے عشق ہوا تھا مجھ کو تجھے بتانا تھا

تجھ سے راز چھپایا سارا مجھ میں پھیل گیا

تھوڑا فلک کو چھو کے گیا تو زرد ہوا بے درد

باقی غم ہم سایہ سارا مجھ میں پھیل گیا

پھول اگانے کی خواہش میں اپنی کیاری تک

تو جو کیچڑ لایا سارا مجھ میں پھیل گیا

دھواں بنا کر گہرا کالا دیکھا دنیا کو

’پھیل‘ جو یہ فرمایا سارا مجھ میں پھیل گیا

انشاء جی نے نظم لکھی تھی ’مایا‘ والی نظم

اس کا ’مایا‘ ’مایا‘ سارا مجھ میں پھیل گیا

برگد کے نیچے بیٹھا ابجد تک بھول گئی

ڈھیر بھبھوت رمایا سارا مجھ میں پھیل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ آرٹسٹ تمثیل حفصہ

دانیال طریر

دانیال طریر

( 24 فروری 1980ء تا 31 جولائی 2015ء )

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر دانیال طریر 24 فروری 1980ء کو کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ھوئے ۔ آپ کا اصل نام مسعود دانیال ھے ۔ والد کا نام سعید گوھر جو کہ خود ایک ادبی شخصیت تھے ۔ اردو زبان و ادب میں ایم۔اے کرنے کے بعد دانیال طریر شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گیا ۔وہ جامعہ بلوچستان (کوئٹہ)کے شعبہ اردو میں تنقید کی تدریس پر مامور تھا ۔فروغ ِ علم و ادب کے لیے اس نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی ۔وہ علمی و ادبی محفلوں کی جان تھا ،

دانیال طریر نے نظم اور غزل دونوں صنف میں اپنے آپ کو منوایا ھے اس کے علاوہ تنقید پر بھی ان کی کتاب منظر عام پر آ چکی ھے ۔ اس نے کچھ عرصہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے مقبول ترین کتابی سلسلے ’’مہر نامہ ‘‘کے اعزازی مدیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ان کی جو کتب شائع ھو چکی ھیں ان کے نام یہ ھیں۔

کتابیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1. آدھی آتما (شاعری)

2. بلوچستانی شعریات کی تلاش (تنقید و تحقیق)

3. معنی فانی (نظمیں)

4. معاصر تھیوری اور تعین قدر (تنقید و تحقیق)

5. خواب کمخواب (غزلیں)

6. خدا مری نظم کیوں پڑھے گا (طویل نظم)

7. جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب (تنقید و تحقیق)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

31 جولائی 2015ء کو یہ خوبصورت شاعر کینسر سے اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا۔

آخر جسم بھی دیواروں کو سونپ گئے

دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form