غزل.....................حمیدہ شاہین..

May 4, 2020
دیدبان شمارہ 11غزل

دیدبان شمارہ 11

غزل.....................حمیدہ شاہین..

...........................................................

میرے جوتے مِرے اپنے ہی لہو سے تَر ہیں

چار سُو گنگ دریچے ہیں ، مقفّل در ہیں

اِک روایت میں کہا تھا تِری بستی نے مجھے

بے خطر آ کہ یہاں سب تِرے اپنے گھر ہیں

ہم یہاں کیوں ہیں ، اُسی شخص نے پوچھا ہم سے

جس کو معلوم تھا ، ہم اس کے بھروسے پر ہیں

جا بنا لے مِری چُنری سے تُو دستار نئی

یہ بلائیں مجھے کافی ہیں جو میرے سر ہیں

جن کے ہاتھوں میں لکیریں نہیں رکھّی جاتیں

ہم سے ڈر شہرِ ستم , ہم وہی مٹھّی بھر ہیں

کن تماشوں میں لگے ہیں یہ ترے شہر کے لوگ

خود بنے ہیں کہ بنائے ہوئے بازی گر ہیں

سُورۃ النّاس کے ہالے میں کھڑی ہوں گُم صُم

اور تا حدِّ نظر شور مچاتے شَر ہیں

اپنے شانوں پہ ٹِکی چھت کو بتاؤں کیسے

میری درزوں میں چھپے نم سے مجھے کیا ڈر ہیں

لوگ چھتنار ہوا کرتے تھے ، لیکن اب تو

چند بے سایہ شجر پیکرِ کرّ و فر ہیں

شیر کی چال شکاری کو بتا دیتی ہے

غار کی گود میں پلتے ہوئے بچّے نر ہیں

.........................................

حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین ایک معروف پاکستانی شاعرہ ہیں . جن کا تعلق سرگودھا سے ہے اور سکونت لاہور میں ہے .حمیدہ شاہین  ابتدا سے  ہی اپنی ذہانت اور لگن کا ثبوت دیتی رہی ہیں اور    ایم اے ، بی ایڈ، مڈل و میٹرک میں ٹیلنٹ سکالر شپ ہم نصابی سرگرمیوں میں سو سے زیادہ انعامات ، ۴ گولڈ میڈل ، ایک سلور میڈل اور متعدد ٹرافیاں حاصل کیا . زمانہ طالب علمی میں سیکرٹری بزمِ ادب گورنمنٹ کالج سرگودھا صدر بزمِ ادب گورنمنٹ کالج سرگودھا اور سیکرٹری مجلسِ خواتین پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طور پہ کام کیا.ان کی تصنیفات میں غزل اور نظم کے متعدد شعری مجموعے "دستک" ’’ زندہ ہوں‘‘ "دشت وجود "اورایک ناول "میری آپی" بھی شامل ہے.

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form