دیدبان شمارہ ١٢

غزل : نجمہ ثاقب

دیے کی لو اگر زخمی ہوئی ہے

ہوا بھی رات سے سہمی ہوئی ہے

گلی کے پار سناٹے کی بارش

گھروں نے خامشی پہنی ہوئی ہے

مرے گاؤں کے کچے راستے کی

اداسی دھول میں لپٹی ہوئی ہے

شجر پر کیا کوئی جادو ہوا ہے؟

کہ ڈالی بیل سے چمٹی ہوئی ہے

سرہانے رکھ کے چرخہ اور پونی

تھکی بڑھیا ذرا لیٹی ہوئی ہے

دریچہ کھول کے دیکھو ذرا سا

وبا دہلیز پر بیٹھی ہوئی ہے؟؟

نجمہ ثاقب


نجمہ ثاقب

نام۔۔۔۔نجمہ ثاقب

عمر۔۔۔۔۔۔45 سال

پیشہ۔۔۔۔۔۔لیکچرر

مقام۔۔۔۔۔۔۔۔کھاریاں۔پنجاب

دلچسپی کی اصناف۔۔۔۔۔شاعری۔افسانہ نویسی

تخلیقی سرمایہ ۔۔۔۔۔ایک افسانوی مجموعیہ (انتظار)

چند غزلیں اور نظمیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form