غزل ارشد مرشد

April 30, 2020
دیدبان شمارہ 11غزلشاعری

دیدبان شمارہ 11

غزل
لرزتے لب پر دعا ابھی ہے
تو اس کا مطلب خدا ابھی ہے

زمیں کی عریانی ڈھانپنے کو
فلک کی سر پہ ردا ابھی ہے

میں کھولوں آنکھیں کہ بند رکھوں
چلا گیا ہے وہ، یا ابھی ہے ؟

یہ بادبانوں کی سرسراہٹ
بتا رہی ہے ہوا ابھی ہے

بتا نیا کوٸی ورد مرشد
کہ" میں" کی دل میں بلا ابھی ہے
ارشد مرشد

ارشد مرشد

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form