دیدبان شمارہ12

غزل ۔۔۔۔۔۔۔صابر ظفر  

کاش    سفر  تمام     ہو  ،  آخری   باب  کی طرف

اور  وہاں  پتا   چلے ،   اصل ہے   خواب کی طرف

دھول میں اٹ  گئے ورق ،  بھول گئے سبھی سبق

دھیان  دیا  نہیں    گیا  ،  کوئ  نصاب  کی طرف

سب ہیں بنے ہوے خیال ، سب ہیں بنے ہوے سوال

ایسا نہیں کوئ  کہ جو    آے     جواب  کی طرف

سب سے ہوے ہیں بے نیاز،سب سے ہوے ہیں پاک باز  

کر کے گناہ  ، آے ہیں  ، جو  بھی  ثواب  کی طرف

خود سے رجوع کرتے کیا  ، بات شروع  کرتے  کیا

اپنی طرف نہیں تھے ہم  ،  ہم  تھے جناب کی طرف

ایسا ہو ہم سفر  کوئ      ،    ایسا ہو راہ بر کوئ

لمحہ بہ لمحہ گامزن   ، جو ہو   غیاب کی  طرف

وہ تھی لہو میں تر ڈگر   ،   جانا پڑا ہمیں  جدھر

یعنی چلی یہ زندگی  ،  ایک   عذاب   کی  طرف

لطف تھا   اس خرام میں،   تیغ  گئ  نیام  میں

دیکھی  گئ  برہنگی   ،   ایک  حجاب  کی طرف

اپنا سفر  تمام  تر  ،     ہوتا    رہا  ہے  عمر   بھر

آب سے آگ کی طرف  ،   آگ سے آب  کی  طرف

ایک طرف ہے بے ثبات ، ایک طرف ہے بس حیات

چھوڑو یہ فیس بک  ظفر  ،  آو  کتاب  کی طرف

صابر ظفر

 مظفر احمد ( صابر ظفر ) ایک ممتاز غزل گو شاعر اور مقبول گیت نگار ہیں آپ کی غزلیہ شاعری کے اب تک 40 مجموعے شائع ھو چکے ہیں آپ کی اہم تخلیقات میں ابتدا ۔ دھواں اور پھول ۔ عشق میں روگ ہزار ۔ دکھوں کی چادر ۔ بارہ دری میں شام ۔بے آہٹ چلی آتی ہے موت ۔سانول موڑ مہاراں اور سر - بازار می رقصم ۔شامل ہیں آپ نے ایک ہزار سے ذیادہ گیت ۔ریڈیو ۔ پاکستان ٹیلی ویزن ۔دیگر چینلز اور ملکی اور غیر ملکی فلموں کے لئے لکھے ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form