حکایت : ندی اور ریت

October 12, 2016
شمارہ - ٢، اردو ڈائسپورا تراجم

 

 حکایت  : ندی اور ریت

اردو قالب: قیصر نذیر خاور

دور پہاڑوں پر بارش ہوئی اور ایک جھرنے کا پانی ندی کی شکل میں ترائی میں بہنے لگا ۔ ندی وادیوں ، گھاٹیوں ، میدانوں سے ہوتی بالآخر صحرا میں پہنچی ، جہاں ریت اس کے استقبال کے لئے ہر سو پھیلی ہوئی تھی ۔ ندی نے جس طرح پہاڑوں سے یہاں تک کا سفر ہر رکاوٹ کو عبور کرکے طے کیا تھا ، اس نے ریت کی رکاوٹ کو بھی سر کرنا چاہا لیکن اس نے محسوس کیا کہ جوں جوں وہ ریت میں آگے بڑھ رہی ہے ، اس کا پانی غائب ہوتا جا رہا ہے ۔ندی کو خود پر یقین تھا کہ اس کا نصب العین تو صحرا کو بھی پار کرکے ساگر تک پہنچنا ہے لیکن ریت اس کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے ، یہ اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔ ایسے میں اسے ریت  کی سرگوشی سنائی دی؛ 

ہوا بھی تو مجھے پار کر لیتی ہے ، چنانچہ تم بھی پار کر لو گی ۔  ندی نے جواب میں کہا؛

میں تو تمہاری مزاحمت کا شکار ہوں تم تو میرے پانی کو پیتی جا رہی ہو ، جبکہ ہوا تو فضا میں اڑتی تمہیں پار کر لیتی ہے ۔  تم اپنی مخصوص شکل اور انداز میں مجھے پار نہیں کر سکتیں ۔ تم یا تو مجھ میں غائب ہو جاﺅ گی یا دلدل بن جاﺅ گی ۔ تمہیں ہوا کی مدد لینا ہو گی تاکہ تم اپنی منزل تک پہنچ سکو ۔  

 سرگوشی ابھری ۔

 لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ 

 تمہیں خود کو ہوا میں تحلیل کرنا ہو گا ۔

 ندی کو یہ مشورہ قبول نہیں تھا ۔ وہ پہلے کبھی تحلیل ہوئی ہی نہیں تھی ۔ وہ اپنی انفرادیت کھونا نہیں چاہتی تھی اور کیا پتہ ، اگر وہ اپنی انفرادیت ایک دفعہ کھو بیٹھے تو وہ اسے دوبارہ حاصل کر بھی پائے گی یا نہیں ؟ 

ہوا یہ کام کرتی ہے ۔  

 آواز پھر ابھری ،  یہ پانی خود میں تحلیل کر لیتی ہے ، صحرا پار کراتی ہے ، پانی بادل بنتا ہے ، مینہ بن کر برستا ہے اور پھر سے ندی بن بہنا شروع کرکے ساگر میں جا ملتا ہے ۔  

میں تمہاری بات پر یقین کیسے کروں ؟  

چاہے تم مانو یا نہ مانو لیکن یہ سچ ہے ۔ نہ ماننے پر کیچڑ یا دلدل بننا تمہارا مقدر ٹہرے گا اور اس میں بھی کئی سال لگ جائیں گے اور کیچڑ یا دلدل تو ندی نہیں کہلاتی ۔ 

 لیکن کیا میں وہی ندی نہیں رہ سکتی جیسی کہ میں اس وقت ہوں ۔ 

تم کسی بھی صورت میں اپنی موجودہ حالت برقرار نہیں رکھ سکتی ، 

ریت نے پھر سرگوشی کی،  تمہارا  لازمی جزو  ہوا اپنے ساتھ لے جائے گی جو بعد میں پھر ندی کی شکل اختیار کر لے گا ، جیسی کہ تم اس وقت ہو ۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہی نہیں کہ تمہارا  لازمی جزو  کیا ہے؟ 

یہ سن کر ندی کے خیالات میں بدلاﺅ آیا اور اسے یہ بھی یاد آیا کہ جب وہ گھاٹیوں سے مزید ترائی میں اترتی تھی تو اس کا کچھ حصہ  چھل  بن کر ہوا میں کچھ دیر معلق رہتا اور پھر اس میں آ ملتا تھا ۔ یہ لازمی طور تو نہیں ہوتا تھا لیکن حقیقت میں کئی بار ہو چکا تھا ۔

ندی نے خود کو بخارات میں تبدیل ہونے دیا جنہیں ہوا نے خوش آمدید کہتے ہوئے بانہوں میں سمیٹا اور انہیں پیار اور حفاظت سے میلوں دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر لے گئی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے انہیں بوندوں کی شکل میں نیچے اتار دیا ۔

ندی کو چونکہ ریت کی بات پر اعتبار نہیں تھا لہٰذا اس نے اپنے اس نئے تجربے کو لمحہ بہ لمحہ یاد رکھا اور جب وہ بوندوں کی شکل سے ہوتی پھر سے ندی کی ہیت میں آئی تو اس نے دل میں خود سے کہا ؛ 

ہاں ! اب مجھے اپنی اصل حقیقت سے شناسائی ہوئی ہے ۔ 

ندی کے لئے یہ ایک نئی جانکاری تھی ۔ریت نے سرگوشی کی؛  مجھے یہ پہلے سے پتہ ہے کہونکہ میرے سامنے یہ سب ہر دن ہوتا ہے اور میں اس وجہ سے بھی اس عمل کو جانتی ہوں کہ میں پہاڑوں سے لے کر صحرا تک بہتے پانیوں کے دونوں اطراف میں بھی پھیلی ہوئی ہوں ۔ 

سیانے ایسے تو ہی نہیں کہتے کہ جیون ندیا کی کتھا تو ریت پر لکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ حکایت سب سے پہلے ملک فارس سے تعلق رکھنے والے13 / 14ویں صدی کے ایک اہم صوفی شاعر شیخ محمود شبستری

( 1288 ءتا 1340 ء)

کی کتاب  گلشن راز

Mystic Rose from the Garden of the King

میں رقم ہوئی تھی ۔ اس کتاب جو غالباً 1311 ء لکھی گئی تھی ، میں پہلے صفحے پر یہ درج ہے ۔بہ نام آنکہ جان را فکرت آموخت(اس کے نام، جس نے روح کو سوچ عطا کی)چراغ دل بہ نور جان بر افروخت( اور دل کے چراغ کو روح کی روشنی سے منور کیا)فرانسیسی ماہر طب ، سیاح اور مغل شاہی خاندان و شہزادے داراشکوہ کے معالج فرانکوئیس برنیئر(1620 ء تا 1688 ء) نے اپنی کتاب

( Lettre sur le Quietisme des Indes , 1688 )

میں اِس کتاب سے تفصیلی استفادہ کیا تھا ۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ مختلف ناموں سے کیا گیا جن میں سب سے اہم فیئرفیکس کارٹرائٹ کی کتاب

' Mytic Rose from the Garden of the King ‘

ہے جو 1899 ء میں شائع ہوئی تھی ۔ مندرجہ بالا اردو قالب

( Retelling )

کا ماخذ تیونس کے  "اوَد عفیفی “( وفات ؛ 1870 ء)  کی بیان کردہ روایت ہے ۔ اوَد عفیفی نے جب یہ حکایت اپنے  شاگردوں کو سنائی تو انہوں نے اِس کی وضاحت چاہی جس پر اس نے اُن سے کہا تھا کہ وہ اس کا مطلب جاننے کے لئے خود صحرا میں جائیں اور مطلب تلاش کریں ۔

قیصر نذیر خاور

 قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست ۱۹۵۳ ء کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ سرکار کی نوکری سے بطور ڈی جی ایجوکیشن ، او پی ایف ، وزارت ِ ہیومن ریسورس ، پاکستان ، ریٹائر ہوئے ۔ افسانہ نگار ، انشاء پرداز اور مترجم ہیں ۔ اب تک آٹھ نصابی کتب ( کمپیوٹر سائنس ) لکھ چکے ہیں ۔ سیاست پر ایک کتاب ' انگولا سے زائر تک ' بھی لکھی ۔ مورا کامی کے افسانوں کے ان کے ترجموں کا انتخاب ' یک سِنگھے ' ( بارہ افسانے ) کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ تخلیق مُکرر کی ایک اور کتاب ' حکایات ِ عالم ' ( ۱۰۱ حکایات کا انتخاب ) کے نام سے بھی سامنے آ چکی ہے ۔ نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس افسانوں کا ترجمہ " جولیٹ اور دیگر کہانیاں " حال ہی میں سامنے آیا ہے ۔ ' عالمی ادب سے ایک انتخاب ' نامی ترجموں کا مجموعہ اور ' عالمی ادب اور افسانچہ ' زیر اشاعت ہیں ۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form