دیدبان شمارہ ١٢

لا مُتناہی نیلاھٹ

حمدیہ نظم

تنویر قاضی

مکے کے اطراف سے

اک غیبی

آواز آتی ہے

اپنا اپنا قبلہ

درست کرو

بھاگم بھاگ میں

کِس کے جُوتے لے دوڑے ہو

بے ترتیبی

ایک وقت اذان

نماز نہیں ھونے دیتی

اور کسی کی

نمازیں ،  روزے ، عمرے پہنے پھرتے ہو

غم کی آنکھوں کے ڈوروں میں

یوگا کرتے

دل کے کعبے میں جُھکتے

مشکل میں ڈالے رکھتے ہو خود کو اور اپنے جیسوں کو

تصویریں کِھنچواؤ جا کر

سطر غریبی کے نیچے لوگوں کے ساتھ

پلُو پکڑے ، روتے، اُن سے معافی مانگو

ماں باپ کے پاؤں میں بیٹھو

بِن گُٹھلی کے بھید سے بھری کھجوروں

اور آبِ زم زم کی خاطر

کتنا مہنگا پیکج لے کر آتے ہو

کنویں کا پانی صاف نہیں گاؤں میں

اور دھقان کو نہیں میسر روٹی

اپنی کچی گلیوں میں پھیرے پورے کر لیتے

ذرے ذرے میں ہیں ڈیرے

لا مُتناہی نیلاھٹ کے


تنویر قاضی

تنویرقاضی کی پیدائش  11 ستمبر  1955کو ننکانہ صاحب میں ہوئی- تعلیم  ۔۔۔  ایم ۔ اے  ۔،۔ پنجابی ، ڈپلومہ ( انسیٹیوٹ آف بینکرز ین پاکستان)کرنے   کے بعد بینکر کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھا تے ہوئے شاعری سے  بھی ناتہ نہیں توڑا .اس طرح ان کا شعری مجموعہ "جادو سبز ھواؤں کا 1998 میں آیا .ان کی پہلی  غزل "  پاکستانی ادب . کراچی  ، 1974 ..بیسویں صدی  ۔۔ دیلی انڈیا  ۔۔۔ 1974 اور پہلی  نظم ۔۔  وارث شاہ  ۔ملتان۔ (1974)میں شائع ہوئی 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form