ہانی السعید کے عربی تراجم

April 15, 2020
دیدبان شمارہ 11تراجمتراجم

دیدبان شمارہ 11

ہانی السعید کے عربی تراجم

عربی ترجمہ ١:

قلب الملَّاح

.

الشاعر الباكستاني: ثروت حسين

ترجمة عن الأُردية: هاني السعيد

.

لم ير أحد

قلب الملاح

حتى أقبل الليل

وسقط هو

من فوق سارية عالية

لكيلا ينهض إلى الأبد

.

لم ير أحد

قلب الملاح

عندما أُلقي

كحجر

في ماء عميق

.

لم ير أحد

قلب الملاح

وفيه فتاة نائمة...

لم يره أحد

اردو نظم ١: ملّاح کا دل

کسی نے نہیں دیکھا

ملاح کا دل

یہاں تک کہ شام آ گئی

وہ گر پڑا

ایک اُونچے مستول سے

کبھی نہ اٹھنے کے لیے

کسی نے نہیں دیکھا

ملّاح کا دل

جب وہ پھینک دیا گیا

پتھر کی طرح

گہرے پانی میں

کسی نے نہیں دیکھا

ملّاح کا دل

اور اس میں سوئی ہوئی ایک لڑکی کو—

کسی نے نہیں دیکھا

ثروت حسین

---------------------

عربی ترجمہ ٢:

السيد الجنرال

يستحم يوميًا بالماء البارد

في الصباح الباكر،

ويبدأ الاستعداد.

يرتدي البدلة العسكرية،

ويذهب مباشرة إلى الحديقة

فهو يحب كثيرًا

الهواء الطلق والأزهار المتفتحة.

.

يمر يوم عصيب جدًا،

عندما يسمع

ستة عشر شابًا،

وأربعة نواب للإقليم، ونقيبان

أحكام المحكمة العسكرية،

التي لم تُعتق فيها حتى حياة البستاني.

.

ففي هذا اليوم

يدوس السيد الجنرال على بُرعمة بحذائه قائلًا:

ليس لها رائحة،

بينما نعلم فيما بعد

أن أنف السيد الجنرال

كانت مسدودة منذ فترة.

.

أنف السيد الجنرال_ذي شان ساحل ترجمة_هاني_السعيد

جنرل صاحب کی ناک

ذیشان ساحل

جنرل صاحب روزانہ صبح سویرے

ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں اور تیار ہونے لگتے ہیں

وردی پہن کر

وہ سیدھے لان میں جاتے ہیں

تازہ ہوا اور کھلے ہوئے پھول

انہیں بہت پسند ہے

وہ دن بہت خراب گزرتا ہے

جب سولہ جوان

چار نائب صوبے دار اور دو کپتان

کورٹ مارشل کے احکامات سنتے ہیں

اور مالی کی بھی جاں بخشی نہیں ہوتی

اس دن جنرل صاحب

ایک کلی کو اپنے جوتے کے نیچے

یہ کہہ کے کچل دیتے ہیں:

اس میں کوئی خوشبو نہیں

ہمیں بعد میں معلوم ہوتا ہے

جنرل صاحب کی ناک

ایک عرصے بند تھ.......

القصيدة يمكن أن تبدأ من أي مكان

ثروت حسين

ترجمة عن الأُردية: هاني السعيد

القصيدة يمكن أن تبدأ من أي مكان

من زوجي حذاء

      أو من قبر غمرته الأمطار

أو من الزهرة التي تفتَّحت على كعب قبر

كلٌ قد وجد ملاذه في مكان ما

النمل، تحت سجادة الصلاة

      والفتيات، في صوتي

وفي جمجمة ثور ميت بنى السنجاب له بيتًا

للقصيدة أيضًا بيت

في قلبِ منفيٍّ، أو في عيون منتظِرة

عجلة تركها صانعها ناقصة

يمكن أن تُكملها القصيدة

سماء مدويَّة ليست كافية للقصيدة

      لكن القصيدة يمكن أن تتسق بسهولة في علبة طعام

يمكن أن تُعَلَّق عليها أزهار، ودموع، وأجراس

يمكن أن تُغَنَّى في الظلام

يمكن أن تُجَفَّف في شمس أيام العيد

يمكنكِ أن تريها

      في الآواني الفارغة، والقمصان الخاوية، والمهود الخالية

يمكنكِ أن تسمعيها

      تسير جنبًا إلى جنب عربات اليد والمواكب الجنائزية

يمكنكِ أن تُقَبّليها

      في الزحام عند أرصفة السفن

يمكنكِ أن تعجنيها

      في معجن حجري

يمكنكِ أن تزرعيها

      في أحواض زهور

القصيدة

      لا يمكن أن يُظْلِمها ليل

      لا يمكن أن يقطعها سيف

      لا يمكن أن يَحُدّها سور

القصيدة..

يمكن أن تنفلت، وتهجرك في أي مكان

مثل سحابة

مثل ريح

مثل الطريق

مثل كف أب..

***

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

ثروت حسین

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

جوتوں کی جوڑی سے

یا قبر سے جو بارش میں بیٹھ گئی

یا اس پھول سے جو قبر کی پائینی پر کھلا

ہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئی

چینٹیوں کو جائے نماز کے نیچے

اور لڑکیوں کو مری آواز میں

مردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہے

نظم کا بھی ایک گھر ہوگا

کسی جلا وطن کا دل یا انتظار کرتی ہوئی آنکھیں

ایک پہیہ ہے جو بنانے والے سے ادھورا رہ گیا ہے

اسے ایک نظم مکمل کر سکتی ہے

ایک گونجتا ہوا آسمان نظم کے لیے کافی ہوتا ہے

لیکن یہ ایک ناشتہ دان میں با آسانی سما سکتی ہے

پھول آنسو اور گھنٹیاں اس میں پروئی جا سکتی ہیں

اسے اندھیرے میں گایا جا سکتا ہے

تہواروں کی دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہے

تم اسے دیکھ سکتی ہو

خالی برتنوں خالی قبضوں اور خالی گہواروں میں

تم اسے سن سکتی ہو

ہاتھ گاڑیوں اور جنازوں کے ساتھ چلتے ہوئے

تم اسے چوم سکتی ہو

بندرگاہوں کی بھیڑ میں

تم اسے گوندھ سکتی ہو

پتھر کی ماند میں

تم اسے اگا سکتی ہو

پودینے کی کیاریوں میں

ایک نظم

کسی بھی رات سے تاریک نہیں کی جا سکتی

کسی تلوار سے کاٹی نہیں جا سکتی

کسی دیوار میں قید نہیں کی جا سکتی

ایک نظم

کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہے

بادل کی طرح

ہوا کی طرح

راستے کی طرح

باپ کے ہاتھ کی طرح

إن كنتِ حُبًا

ذي شان ساحل

ترجمة عن الأُردية: هاني السعيد

إن كنتِ قطرة مطر

أو دمعة

اسقطي

اسقطي

على قلبي

فهو مصنوع من ملح

وشفتاي

مصنوعتان من شمع

إن كنتِ شمسًا

إن كنتِ ذكرى

ضعي

جناح الفراشة المكسور

أو قطتي المحترقة

على سُلَّمي

فهو مصنوع من حلم

وأنا مصنوع منكِ

إن كنتِ حُبًا

اگر تم محبت ہو

ذی شان ساحل

اگر تم ہو

بارش کا ایک قطرہ

یا کوئی آنسو

گرو

گرو

میرے دل پر

یہ نمک کا بنا ہوا ہے

اور میرے ہونٹ

بنے ہوئے ہیں موم سے

اگر تم دھوپ ہو

اگر تم یاد ہو

تتلی کا ٹوٹا ہوا پر

یا میری جلی ہوئی بلی

رکھ دو میری سیڑھیوں پر

یہ بنی ہوئی ہیں خواب سے

اور میں بنا ہوا ہوں تم سے

اگر تم محبت ہو

......

ہانی السعید

ہانی السعید کا تعلق منصورہ مصر سے ہے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی تعلیم جامعہ الازہر سے حاصل کی۔ انہوں نے بہت سے اردو شعرائ کے کلام کو عربی میں ترجمہ کیا

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form