جمیل نقش کی یاد میں ایک غزل

2019۔۔5۔۔۔17

دیکھا کبوتروں نے کہ وہ چھت نہیں رہی

پر کھولیں یا نہ کھولیں ، یہ حسرت نہیں رہی

ویسے بھی مثل - رنگ- پریدہ ہے یہ جہاں

وہ حیرتی نہیں ہے تو حیرت نہیں رہی

دل پر تو نقش ہے اگر آتا نہیں نظر

دل مانتا نہیں ہے کہ قربت نہیں رہی

تھا آشناے خلوت - عریانی ء حیات

مٹی میں بھی حجاب کی حاجت نہیں رہی

تصویر ڈھونڈتی ہے مصور کو اب ظفر

رنگوں کو چھونے والی رفاقت نہیں رہی

صابر ظفر

( صابر ظفر کے 14 شعری مجموعوں کے ٹائٹل جمیل نقش نے بنائے تھے )

صابر ظفر

 مظفر احمد ( صابر ظفر ) ایک ممتاز غزل گو شاعر اور مقبول گیت نگار ہیں آپ کی غزلیہ شاعری کے اب تک 40 مجموعے شائع ھو چکے ہیں آپ کی اہم تخلیقات میں ابتدا ۔ دھواں اور پھول ۔ عشق میں روگ ہزار ۔ دکھوں کی چادر ۔ بارہ دری میں شام ۔بے آہٹ چلی آتی ہے موت ۔سانول موڑ مہاراں اور سر - بازار می رقصم ۔شامل ہیں آپ نے ایک ہزار سے ذیادہ گیت ۔ریڈیو ۔ پاکستان ٹیلی ویزن ۔دیگر چینلز اور ملکی اور غیر ملکی فلموں کے لئے لکھے ہیں

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form