جنگل راج واپس دو

April 15, 2020
دیدبان شمارہ 11افسانہ Story

دیدبان شمارہ ١١            

افسانہ : جنگل راج واپس دو

مصنف:  سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

علی گڑھ یوپی    

   ٹیکا ٹیک دوپہری میں جنگل میں ایک ہنگامی میٹنگ بلائی گئی تھی۔چاروں طرف جنگل میں اس بات کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا گیا تھا کہ شیر بوڑھا ہو چکا ہے۔اس کے راج میں سارے جنگل میں عوام پریشان ہیں کیونکہ کہ صبح ہوتے ہی سورج نکل آتا ہے جس سے رات کو نقصان ہوتا ہے اور گھنا اندھیرا جنگل سے فرار ہوجاتا ہے،جنگل کے خطے میں جہاں جہاں چشمے ہیں ان کا پانی ٹھنڈا ہے جو خواص کی ملکیت ہیں لیکن ان سے جنگل کے مختلف جانور اپنی پیاس بجھاتے ہیں یہاں تک کہ مختلف پرندوں کے جھنڈ روز سینکڑوں کی تعداد میں سیراب ہوتے ہیں۔چیل کووں کو تو برداشت بھی کر لیا جائے لیکن کبوتر کیوں پانی پیتے ہیں؟ان کے علاوہ بھی کئی مدے تھے جن پر جنگل کے مخصوص جانوروں کو اعتراض تھا۔سب سے زیادہ بندروں کے طبقے میں شور تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جنگل میں نیچ قوم کے جانو ررہیں یا ایسے جانور رہیں جو باہرکسی باغ سے بدلتے ہوئے زمانے کا سر پر تاج رکھے ہوئے جنگل میں آگئے تھے اور اپنی اخلاقی عادات و اطوار سے جنگل کے خوں خوار جانورو ں کے مزاج کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ہاتھیوں کو بھی اس بات کی شکایت تھی کہ باہر سے آنے والے جانوروں کا غلبہ جنگل میں بڑھتا جا رہا تھا اور وہ جنگل میں محفوظ مقامات پر رہنے والی محنت کش چیونٹیوں پر حملہ نہ کر سکتے تھے اور ان کی مستی اور بے ڈھب چلنے کو جانور معیوب سمجھنے لگے تھے۔

   یکایک جنگل میں لومڑی نے میٹنگ کے دوران آواز بلند کی

”پیارے بہنواور بھائیو!!!جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ جنگل میں آج کل کیا پریشانیاں ہیں؟؟؟ہم ان پریشانیوں کے سمادھان کے لئے جنگل میں اکھٹا ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہمارے بلاوے پر ہرن اور کبوتر نہیں آئے۔۔۔ایسا لگتا ہے وہ ہماری اس سبھا کے خلاف ہیں اور بوڑھے شیر کی حکومت میں ہی خوش ہیں۔“‘

   ابھی لومڑی کی تقریر ختم بھی نہ ہونے پائی تھی کہ چیل اور کووں کے لشکر نے شور مچانا شروع کر دیا

”Shame Shame Shame“

 لومڑی کی آوازمیں مزید توانائی نظر آنے لگی

 ”بہنواور بھائیو!!! آپ غور تو کریں کہ اس وقت ہم اور ہمارا جنگل کس دور سے گذر رہا ہے۔۔۔ساری دنیا جانتی ہے کہ جنگل راج کی کیا وشیشتائیں ہیں؟؟؟جنگل پر کس طرح راج کیا جاتا ہے؟؟؟مگر یہ بات ہمارے بوڑھے مہاراج شری مان ببر شیر صاحب کو شاید یاد نہیں رہی۔۔۔وہ چاہتے ہیں کہ جنگل میں چاروں طرف بھائی چارے کا ماحول ہو ذات پات کو ختم کردیا جائے بھیڑ اور بھیڑیا ایک جگہ سے پانی پئیں۔کبوتر اور کوئے ساتھ ساتھ دانا چگیں، طوطے ہر شاخ پر بولتے رہیں۔ہاتھیوں کے بے تحاشہ دوڑنے پر پابندی ہو۔لومڑیاں اور بھیڑئے شکار کرنے سے پہلے درخواست دیں تاکہ کسی پر بے جا ظلم نہ ہو سکے۔۔۔آپ ہی بتائیے یہ بھی کوئی بات ہوئی؟؟؟“‘

 سارے جانوروں نے یک زبان ہوکرپھر آواز بلند کی

”Shame Shame Shame“

 ”بھائیو اور بہنو!!!ہمارے مہاراج یہیں نہیں رکتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ جنگل میں ہمیشہ سورج چمکتا رہے چاروں طرف روشنی ہی روشنی ہو۔۔۔آپ خود ہی سوچئے۔۔۔ہمیں سورج کی کیا ضرورت؟؟؟ہمیں دن سے کیا لینا دینا؟؟؟یہ دن تو انسانوں کے لئے ہے یہ سورج تو انسانوں کی بستیوں کے لئے ہے۔۔۔ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے مہاراج کا تعلق انسانوں سے ہو گیا ہے جس کی وجہ سے گھنے جنگل میں سورج چمکتا رہتا ہے۔۔۔ہمیں رات کی ضرورت ہے۔۔ہم اندھیرے کے پجاری ہیں۔۔۔روشنی ہماری دشمن ہے۔“‘

 یکایک ایک الّو نے زبردست قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ہمارے مہاراج شیر سنگھ لگتا ہے بے وقوف ہیں۔۔۔بھگوان ان کو سد بدھی دے۔۔۔یا پھر ان کی آتما کو شانتی“‘

   لومڑی نے پھر صدا بلند کی

 ”بھائیو اور بہنو!!!! اب وقت آگیا ہے کہ ہم شیر سے گذارش کریں کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور ہم سب کی مرضی سے الیکشن کرکے جنگل کا نیا راجہ چن لیں۔“‘

  ”مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟کون اتنی ہمت رکھتا ہے کہ شیر کا مقابلہ کرے؟؟؟

کہیں سے ایک کالی بلی کی آواز بلند ہوئی جس کے جسم پر سورج کی تیز کرنیں اپنا قہر برسا رہیں تھیں کہ اس کو جنگل کے چوہے دن میں اچھی طرح پہچان گئے تھے جبکہ رات میں اس کی شناخت دشوار تھی۔

  ”اس کا علاج بھی کیا جائے گا“

لومڑی نے اپنی پیشانی سے پسینا پوچھتے ہوئے کہا

 ”بس۔۔۔آپ کو اتنا کرنا ہے کہ گیدڑ کا ساتھ دینا ہے۔۔۔اس نے ایک انسان نما بھیڑئے سے رابطہ کیا ہے جو شیر کی خواب گاہ میں ا س کو سوتے وقت اپنے جال میں گرفتار کر لیگا۔“

  سارے جانوروں میں خوشی کی لہر سی دوڑ گئی لیکن ایک پیڑ کی شاخ پر بیٹھے ہوئے کبوتر نے پڑ پھڑپھڑاتے ہوئے سورج سے کہا کہ

 ”اے قدرت کے شاہکار۔۔۔اے تاجدار مشرق و مغرب۔۔۔اے ترقی زمانہ کے پاسدار لگتا ہے اب تیرا وقت قریب آگیا ہے۔مجھے یہ بات جلد از جلد ان بہتے ہوئے جھرنوں اور جھیلوں کو بھی بتا دینی چاہئے جو تیرے عکس کا آئینہ ہیں کہ اب جلد ہی جنگل میں رات کا کالا قانون نافذ ہونے جا رہا ہے۔۔۔مجھے یہ بات ہرنوں کو بھی بتا دینی چاہئے جو چاروں طرف اطمنان سے جنگل کی گھاس چرتے ہیں کہ اب جلد ہی ان کو خونی لباس پہنانے کے لئے جنگل میں ایک نیا قانون لایا جائے گا“

  کبوتر تو شاخ سے اڑ گیا لیکن جنگلی جانوروں کی میٹنگ دیر تک چلتی رہی۔اختتام میں گیدڑ کے بولنے کی باری آئی تو اس نے لومڑی کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا

  ”پیارے جانورو!!! ہم سب شیر کے پاس چلتے ہیں اور اس حالت میں کہ ہمارے ہاتھوں میں سیاہ پرچم ہوں اور ہم اپنے جسم پر مختصر کپڑے پہنے ہوئے ہوں تاکہ ہم یہ بتا سکیں کہ سورج سے ہمیں کتنی اذیت پہنچی ہے“۔

  جانوروں کا ایک ہجوم نعرے بلند کرتے ہوئے”جنگل راج واپس دو۔۔۔جنگل راج واپس دو“شیر کی گپھا کے نذدیک پہنچا مگر سوال یہ تھا کہ شیر کو یہ بات سب سے پہلے کون بتائے کہ جنگل کے جانور کیا چاہتے ہیں۔

   اس کے لئے لومڑی نے ہاتھی،بلی اور چوہے کا انتخاب کیا ساتھ ہی ایک رتھ جسے دو سانڈ چلا رہے تھے اس پر بھیڑیا نما انسان شکاری اپنے بڑے سے جال کے ساتھ موجود تھا جس کی خواہش تھی کہ جلد از جلد شیر کا شکار کر لے اور اسے کسی چڑیا گھر کے حوالے کردے۔لیکن بندروں کو ذرا سا اعتراض تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شیر کو اس کا جرم بتانے کے لئے ان کا انتخاب کیا جائے اس کے لئے انھوں نے اپنے قبیلے کے سردار لنگور سے گذارش کی کہ وہ لومڑی تک ان کا پیغام پہنچائیں۔لیکن لومڑی نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ

  ”میرے پیارے بندرو!!! آپ کا کام صرف جاسوسی ہے ہم آپ کے شکر گذار ہیں کہ آپ نے ایک شاخ سے دوسری شاخ پر کودتے ہوئے بار بار سفر کیا اور اس بات کا پتا لگایا کہ شیر کمزور ہوچکا ہے لیکن آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ شیر چاہے بوڑھا ہو جائے وہ شکار کرنا نہیں بھولتا۔۔بلی اس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس کے قریب رہی ہے وہ جب اس سے ہمارا مدعا بیان کرے گی تو وہ لحاظ کرے گا۔۔۔چوہے کا اس پر احسان ہے اس نے ایک دن شکاری کا جال کتر کے شیر کی جان بچائی تھی اس لئے وہ اس کے احسان تلے دبا ہوا ہے۔۔۔ہاتھی ہمارے خیال میں شیر سے زیادہ جسمانی طاقت رکھتا ہے اگر شیر نے کچھ آنا کانی کی یا احتجاج کیا تو ہاتھی اس کو اپنی طاقت سے زیر کر سکتا ہے“۔

   برسوں سے جنگل میں سورج نہ ڈھلا تھا جھرنے،جھیل اور فوارے جھومتے رہتے اور صاف و شفاف پانی سے جنگل کے جانوروں کو سیراب کرتے رہتے تھے لیکن اچانک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سورج نے آنکھیں موند لی ہیں وہ مغرب کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔جھرنے،جھیل اور فواروں کا شفاف پانی مٹیلا اور گدلالگنے لگا تھا۔اس بات کا احساس شیر کو بھی ہو چلا تھا اس کی گپھا میں اندھیرے کا ناگ پھن نکالے آگیا تھا اور چاہتا تھا کہ اسے چشم زدن میں ڈس لے۔

 شیر کو یاد آیا کہ ایک بار جنگل میں ایک رشی آئے تھے پیاس کے مارے ان کا برا حال تھا شیر نے ان کو ایک جھرنے کا پتا بتایا تھا جس سے انھوں نے پیاس بجھائی تھی اور شیر کو دعا دی تھی انھوں نے کہا تھا

  ”تیرے جنگل میں سورج مدتوں تک نکلا رہے گا یہاں کہ جھرنوں اور جھیلوں کا پانی صاف و شفاف رہے گا لیکن جس وقت تیرا کوئی قریبی رشتے دار لومڑی کی بزم میں شرکت کرے گا اس وقت سے ڈرنا وہ دن تیرے راج کا آخری دن ہوگا۔“

 اچانک شیر کو بلی کی آواز سنائی دی

 ”مہاراج کی جے ہو!!!“

”اوہ بلی ماسی آپ!!! آئیے کیسے آنا ہوا؟؟؟“

”صرف بلی ماسی ہی نہیں میں بھی آیا ہوں سرکار!!!“‘

”کون؟؟؟ارے!!! چوہے بھیا تم؟؟؟۔۔۔کہو کیسے آنا ہوا؟؟؟۔۔۔اچانک گپھا میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے نہ پہچان سکا۔۔ماسی تو خیر یہاں آتی ہی رہتی ہیں“۔

”مہاراج میں بھی ہوں“

ہاتھی نے اچانک چنگھاڑتے ہوئے کہا

”ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔آؤ۔۔۔بیٹھو“

 ”بیٹھنا ہی تو نہیں ہے۔۔۔آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔۔۔“

بھیڑیا نماانسان شکاری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا

”کہاں؟؟؟کون؟؟؟تم؟؟؟انسان ہو یا بھیڑئے؟؟؟۔۔۔تم تو وہی ہو جو اس سے پہلے بھی جنگل میں آچکے ہو؟؟؟ اور مجھے جال میں قید کر لیا تھا۔۔۔چوہے نے میری جان بچائی تھی جال کتر کر۔۔۔“‘

”صحیح پہچانا!!!میں وہی ہوں اور آج بھی آیا ہوں۔۔۔اس بار بھی تم جال میں پھنس چکے ہو۔۔۔لیکن اب تمہاری کوئی مدد نہیں کرے گا۔۔۔کیونکہ۔۔۔جنگل کے جانور تمہارے خلاف ہیں۔۔۔وہ جنگلی قانون چاہتے ہیں۔“

   شیر کی سمجھ میں آگیا تھا کہ اب سورج مرنے والا ہے اس جنگل کے جھیل اور جھرنے زہریلے ہو چکے ہیں۔اسے ایک لمحے کے لئے اپنا ماضی یاد آگیا کہ کس طرح اس نے جنگل کو سنوارنے کے لئے خون پسینا ایک کیا تھا۔

   گپھا کے باہر جانوروں کا شور اور نعرے بلند ہوتے جا رہے تھے۔

 ”ہمیں جنگل راج واپس دو۔۔۔ہمیں جنگل راج واپس دو“

  ہرنوں کا ایک ہجوم جو جنگل میں دھما چوکڑی کر رہا تھااس نے دیکھا کہ سورج ڈھل چکا ہے اور قریب ہی بہتے ہوئے ایک جھرنے سے ٹھنڈے پانی کے بجائے لاوا پھوٹ پڑا ہے۔چاروں طرف افرا تفریح کا ماحول تھا۔ایک پیڑ کی شاخ پر بیٹھے ہوئے چند کبوتر اپنی آنکھوں سے خون برسا رہے تھے۔

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

علی گڑھ

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form