جنگل سے پرے

خوبصورت موسم تھا ۔بہت خوشگوار ہوا چل رہی تھی ۔دور تک پھیلے ہوئے مکان درختوں سے گھرے ہو ئے تھے اور مکانوں کے اس پار پہاڑوں کا تاحد نگاہ سلسلہ ۔اس کی بائیں جانب مسوری کی پہاڑیاں تھیں جو رات اس طرح رو شن ہو جاتی جیسے ستاروں بھرا آسمان زمین پر اتر آ یا ہو ۔

اس خوبصورت موسم میں بھی وہ بہت اداس تھا۔

اسے خاور یاد آ گیا۔

خاور جسے اس نے اب سے کوئی پندرہ برس پہلے پہلی بار دیکھا تھا۔اس دن وہ اپنے ایک قریبی دوست کے گھر ایک شادی میں گیا تھا جو کوئی پچاس کلو میٹر دور ایک قصبہ میں رہتا تھا ۔

وہ جب شادی کے ہال میں پہنچا تھا تو تیز روشنیوں میں اس کی آ نکھیں چکا چوند  ہو گئی تھیں ۔یہ ہال تنبؤں کو گھیر کر بنایا گیا تھا کہ اس وقت تک اس قصبہ میں کوئی شادی گھر موجود نہ تھا۔

وہ ایک صوفے پر بیٹھ گیا ۔

اچانک اس کی نظریں ایک ایسے لڑکے پر پڑیںجو تقریباً دس سال کا رہا ہو گا عجب سی وحشت ناکی تھی اس کے چہرے پر ۔آنکھیں بھی عام آنکھیں جیسی نہ تھیں ۔ان آنکھوں میں بھی ایک اجنبی سی کیفیت نظر آ رہی تھی ۔

وہ اس لڑکے پر سے اپنی نگاہیں ہٹا لینا چاہتا تھا لیکن ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔اسی وقت اس کے دوست وسیم کا ایک کزن اس کے بغل میں ا ٓکر بیٹھ گیا ۔

’’میں نے سوچا کہیں آپ تنہائی نہ محسوس کریں ،اس لئے آپ کی طرف آ گیا۔‘‘ وسیم کا کزن بولا۔

’’تمھارا شکر یہ انور ،میں سچ مچ تنہائی محسوس کر رہا تھا۔‘‘

‘‘اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔یہ تو میرا فرض ہے ۔آ پ میرے مہمان ہیں ۔‘‘

انور سے باتیں کرتے کرتے اس کی نظریں پھر اس لڑکے پر ٹک گئیں جسے دیکھ کر وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہو نے لگتا تھا۔

انور کی نظریں بھی اس کی نظروں کا تعاقب کرتی ہو ئیں اس لڑکے  پر ٹک گئیں ۔

’’انور ،یہ کون بچہ ہے؟‘‘اس نے انور سے پوچھا ۔

’’ارے آپ اسے نہیں جا نتے ۔‘‘

’’نہیں میں اسے پہلی بار دیکھ رہا ہوں یہاں آئے ہوئے بھی ایک عرصہ بیت گیا۔‘‘

’’تعجب ہے آپ کو وسیم بھائی نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔‘‘

’’ہاں انھوں نے کچھ نہیں بتایا ۔‘‘

’’یہ خاور ہے ،ہاں خاور یہ عجیب و غریب حالات میں وسیم بھائی کے ہاتھ لگاتھا۔‘‘

’’کیا مطلب‘‘؟

’’وسیم بھائی  شکار پر کسی جنگل میں گئے تھے۔وہاں انھوں نے دیکھا کہ کوئی پا نچ سال کا انسانی بچہ بھیڑیوں کے ساتھ اِدھر اُدھر ٹہل رہا ہے۔وہ اس وقت تک اس کا پیچھا کرتے رہے جب تک کہ بچہ دوسرے بھیڑیوں کے ساتھ اپنی ماند میں گھس نہیں گیا۔وہ جنگل سے لوٹ آ ئے۔چند دنوں بعد پو ری تیاری سے پھر جنگل گئے۔۔اتفاق سے وہ بچہ اپنی ماند سے نکل کر اکیلا ٹہل رہا تھا تو وسیم بھائی اور ان کے ساتھیوں نے ایک بڑے سے جال کے ذریعہ اس بچہ کو پکڑ لیا اور گھر لے آ ئے۔

وہ بچہ کسی طرح قابو میں نہ آ تا تھا۔سر کے بال بے تحاشہ بڑھے ہو ئے تھے۔ ہاتھ پیر کے ناخون لمبے لمبے عجیب خوفناک آواز میں چلاتا  ۔مگر وسیم بھائی تو پھر وسیم بھائی ہیں ۔انھوں نے دن رات ایک کر کے اسے ٹیم(tame) کرنا شروع کیا۔

شروع شروع میں تو جیسے ہی اسے کپڑے پہنائے جاتے وہ کپڑو ں کو پھاڑ کر چیتھڑے چیتھڑے کر دیتا۔

لیکن وقت تو پھر وقت ہے۔آہستہ آہستہ اس بچہ میں سدھار ہونا شروع ہو ئے۔ وہ کپڑے پہننے لگا۔انسانوں کی طرح کھانا کھانے لگا لیکن اب بھی اس کے اندر انسانی ذہانت واپس نہیں آسکی تھی۔اس کے اندر تبدیلیاں آ تو رہی تھیں لیکن بہت آہستہ آہستہ ۔

وسیم بھائی نے اس کا نام خاور رکھ دیا ہے۔اب وہ اپنا نام پہچاننے لگا ہے۔لیکن میں نے خاور کو کبھی ہنستے یا مسکراتے نہیں دیکھا ۔ہاں جس وقت اسے غصہ آ تا ہے تو خاصہ خونخوار دکھائی دینے لگتا ہے۔اس وقت اسے صرف وسیم بھائی ہی سنبھال سکتے تھے ۔‘‘ انوربولتے بولتے خاموش ہو گیا ۔

’’کیا یہ باتیں کر سکتا ہے۔‘‘اس نے انور سے پھر سوال کیا۔

’’نہیں پو ری طور پر اب بھی باتیں نہیں کر سکتا ۔صرف اپنے مطلب کی باتیں ہی کرپا تا ہے۔وہ بھی اٹک اٹک کر۔شاید خاور برسوں کے بعد پوری طرح سے بولنے لگے کہ اس کی ذہانت واپس آ نا شروع ہو گئی ہے۔‘‘

اچانک کسی نے آواز لگائی تو انور اٹھ کر چلا گیا ۔۔

کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور اس طرف چل پڑا جدھر کھانے کا انتظام تھا ۔

کھانا کھانے کے بعد اس نے سوچاکہ گھر واپس چلا جائے ۔

واپسی سے پہلے وہ وسیم سے ملا تو وسیم اسے گلے لگاتے ہو ئے بولا ۔

’’رک سکو تو رک جائو ،کل چلے جانا ۔میں نہ تو تمہیں وقت دے سکا اور نہ ہی باتیں ہی ہو سکی ۔‘‘

’’نہیں یار واپس تو ابھی جانا ہے۔پھر آئیں گے بہت باتیں کرینگے ۔ہاں مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ تم نے مجھے خاور کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا۔

وسیم ہنس پڑا ۔۔پھر بولا’’فون پر باتیں کریں گے۔‘‘

وسیم اپنے دوسرے مہمانوں کی طرف چل پڑا اور وہ اپنی کار کی طرف مڑ گیا ۔ہال  سے نکلتے وقت وہ  وہ خاور کے پاس جانا نہیں بھولا۔

’ہلو خاور‘ وہ بڑے پیار سے بولا۔

خاور نے اس کی طرف دیکھا ،اس کی آنکھوں میں عجیب سا سونا پن تھا۔خاور اسے دیکھتا رہا کچھ بولا نہیں ۔

اس نے اس کے گالوں کو تھپتھپایا اور آ گے بڑھ گیا ۔ہال سے باہر نکلتے وقت اس نے مڑ کر ایک بار پھر خاور کو دیکھا جو اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔

اس نے کار اسٹارٹ کی اور واپسی کے لئے چل پڑا۔

کچھ دنوں بعد وسیم کا فون آ یا تو اسے خوشی ہوئی ۔۔کافی دیر تک باتیں ہو ئیں ،انہیں باتوں کے درمیان جب خاور کا ذکر آیا تو وسیم نے کہا’میرے پیارے دوست یہ ایسی کوئی بڑی بات نہ تھی کہ میں تم سے ذکر کرتا۔بس یہ سمجھ لو کہ ایک انسان کو مکمل طور سے جانوربننے سے میں نے بچا نے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہا۔میں کوشش کر رہا ہوں کہ وہ نارمل انسان کی طرح ہو جائے ۔بہت اچھے اور قیمتی ٹیوشن لگا رکھے ہیں۔ایک ما ہر نفسیات بھی ہفتہ میں دو دن آ تا ہے۔یقین ہے کہ میری خواہش پوری ہو گی۔

پھر بہت سی دوسری باتوں کے بعد وسیم نے فون کاٹ دیا۔

وسیم کے فون اس کے پاس آ تے رہتے تھے۔یا پھر وہ خود بھی فون کرتا رہتا تھا۔ لیکن فون پر بات کا یہ سلسلہ رفتہ رفتہ کم ہو تا جا رہا تھاپھریہ سلسلہ بالکل ٹھہر گیا۔

وقت گزرتا جا رہا تھا ۔آگے کھسکتی ہو ئی عمر کے ساتھ وہ بھی کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا رہتا ۔کبھی صحت کے مسائل ،کبھی گھریلو الجھنیں ،پھر ملک کے سیاسی حالات نے جو رخ اختیار کر لیا تھا اس نے تو اسے ذہنی طور پر پو ری طرح سے توڑ کر رکھ دیا تھا ۔

وہ گھر کے لئے گوشت لانے سے بھی کترا نے لگا تھا کہ معلوم نہیں یہ گوشت بھی اب اسے کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے۔اس پر ایک عجیب سا خوف مسلط ہو گیا تھا اور ایک شکست خوردہ ذہنیت حاوی ہو گئی تھی ۔

وہ جب دوستوں کے درمیان بیٹھتا تو کہہ دیتا کہ کوئی سیاسی بات نہیں ہو گی اور اگر لوگ نہ مانتے اور سیاسی گفتگو چھڑ جاتی تو وہ اٹھ کر چلا جاتا ۔اس کے اعصاب دن بہ دن کمزور ہو تے جا رہے تھے ۔شاید یہ بڑھتی ہوئی عمر کا اثر رہا ہو۔وہ ایسی باتوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا جو اس کی ذہنی پریشانی کا باعث بن سکتی تھی ۔

وسیم سے بات کئے ہو ئے بھی نہ جانے کتنے برس بیت گئے تھے۔طرح طرح کی الجھنوں نے اسے فون کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔نہ وسیم کا ہی فون آیا۔اس نے سوچا کہ شاید وسیم بھی پریشانیوں میں گھرا ہو ا ہو وہ بھی اسی کی طرح سے عمر کے اس پڑائو پر ہے جہاں انسان کی زندگی ٹھہر سی جاتی ہے۔

وہ ابھی یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ گھنٹی بجی۔اس نے رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے وسیم تھا۔وہ اچھل پڑا۔اس نے سوچا کہ شاید ٹیلی پیٹھی اسی کو کہتے ہیں۔

’’ہیلو ‘اسے وسیم کی کچھ کمزور سی آ واز سنائی پڑی۔

’’ہیلو وسیم ،میں ابھی تمھارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ تمھارا فون آ گیا۔‘‘

’’چپ رہو بے مروت ،اگر میں فون نہیں کر سکا تو تم نے بھی فون نہیں کیا۔‘‘

’’میں شرمندہ ہو ں تم جو سزا دینا چاہو دے سکتے ہو ۔‘‘

’’ہاں،سزا تو دوں گا ہی اور تمھاری سزا یہ ہے کہ تم کل صبح آجائو میں بیمار ہو ں اور تم سے ملنا چاہتا ہوں ،پھر بہت سی باتیں ہو ں گی۔‘‘

وہ چند لمحے خاموش رہا کہ پھر وسیم کی آ واز آئی ۔’’ضرور آجانا کی اب زندگی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔‘‘

وہ تڑپ اٹھا ’’اچھا آجائوں گا ،خاور کیسا ہے‘‘

’’تم اب اسے پہچان نہ سکو گے ،وہ تقریباً نارمل ہو گیا ہے۔۔بس کبھی کبھی جذبات سے مغلوب ہو ر مہرو بلب سا ہو جاتا ہے اور اچانک ہکلا نے لگتا ہے۔‘‘

’’اوہ ،اچھا کل آ تا ہو ں۔‘‘پھر اسے فون کٹنے کی آ واز سنائی دی۔

وہ سوچ میں ڈوب گیا۔۔اس کی آ نکھیں خلا میں گھور رہی تھیں۔یکا یک اس نے اپنے بیٹے کو آ واز دی۔

وہ آیا تو اسے دیکھ کر بولا’’’عمران کسی ڈرائیور کو بلا لو کل وسیم سے ملنے جائوں گا۔‘‘

’’ارے اچانک آپ نے یہ پروگرام بنا لیا۔‘‘

ہاں وسیم بیمار ہے،اس کا فون آیا تھا وہ ملنا چاہتا ہے۔‘‘

’’اوہ اچھا‘‘پھر عمران چلا گیا۔

اگلی صبح جب وہ کار پر بیٹھ رہا تھا تو اسے اخیال آیا کہ کبھی وہ اپنی کار خود ڈرائیو کیا کرتا تھا۔وہ اپنی ڈرائیونگ کے لئے خاصہ مقبول تھا لیکن اعصابی کمزور ی نے اس سے اس کا یہ فن بھی چھین لیا تھا۔۔ڈاکٹر نے ایک چھوٹے سے حادثے کے بعد کہا تھا کہ اب آپ ڈرائیونگ بالکل نہ کرئیے ورنہ کسی نہ کسی دن کوئی بڑا حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔پھر گھر والے اسے کہاں گاڑی چلا نے دیتے۔

کار آ گے بڑھی تو اسے وسیم کا خیال آیا۔

قصبہ میں اچھا اسکول نہ ہونے کی وجہ سے وسیم کے والد نے شہر کے ہی اس اسکول میں نام لکھا دیا تھا کہ جس میں وہ پڑھتا تھا ۔پھر وقت کے ساتھ ہی اس کی اوروسیم کی دوستی گہری ہو تی چلی گئی تھی۔

وسیم کے والد نے شہر میں ہی ایک مکان کرائے پر لے لیا تھا جس میں وسیم کی والدہ اور اس کی بہن رہنے لگی تھیں ۔

اس کا آ نا جانا وسیم کے گھر پر برا بر رہتا  اور وسیم بھی اس کے گھر آ تا جا تا رہتا ۔

اور آج ساٹھ سال بعد بھی دونوں کی دوستی قائم تھی ۔

کوئی دیڑھ گھنٹے ڈرائیو کے بعد وہ وسیم کے گھر پہنچ گیا تھا ۔

وسیم نے اسے دیکھتے ہی گلے لگا لیا اور پھر دیر تک لگائے رکھا۔دونوں کی ہی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔

’’کیا ہوا تمہیں تم خاصے کمزور دکھائی پڑ رہے ہو ۔‘‘

’’کچھ مختلف بیماریاں اور کچھ ذہنی الجھنوں نے مل کر مجھے کافی کمزور کر دیا ہے،تم بھی تو کمزور نظر آ رہے ہو۔‘‘

’’دیکھو وسیم یہ تو age factor  ہے۔یہ تو ہو تا ہی ہے۔کب تک جوان رہیں گے اور اعصاب کی مضبوطی بر قرار رہے گے۔آدمی کوہر حال میں مست رہنا چاہئے۔جو ہو نہیں پاتا۔‘‘

ہاں یہ تو ہے۔وسیم دھیرے سے بولا۔

وہ لوگ ڈرائنگ روم میںا ٓگئے۔

دیر تک ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے خاور کے بارے میں پوچھا۔

’’ہاں دیکھو میں تو بھول ہی گیا تھا۔پھر اس نے آ واز لگائی ’خاور خاور کہاں ہو ، دیکھو انکل آ ئے ہیں۔‘‘

’’بس پا نچ منٹ میں آ یا۔‘‘اندر سے خاور کی آ واز آئی۔

خاور کی آ واز سن کر وہ چونک پڑا۔یہ آواز اسے کچھ غیر فطری سی محسوس ہوئی۔وہ وسیم کی طرف مڑ کر بولا ’’وسیم یہ ا ٓواز۔۔۔‘‘

اس کی بات کاٹتے ہو ئے وسیم بولا’’ہاں اس کی آواز کسی حد تک غیر فطری محسوس ہو تی ہے۔شاید اس کے vocal cardکی نشو نما پورے طور پر نہیں ہو سکی ۔اس سلسلہ میں کچھ کیا بھی نہیں جا سکتا ۔ڈاکٹروں نے بھی اپنی معذرت ظاہر کر دی تھی ۔آپریشن سے وہ ٹھیک بھی ہو سکتا تھا اور ہمیشہ کے لئے گونگا بھی ہو سکتا تھا ۔میں نے آ پریشن نہ کرانے میں ہی بہتری سمجھی۔‘‘

پانچ منٹ ختم ہو تے ہوتے خاور ڈرائنگ روم میں حاضر تھا۔لیکن ٹی وی پر نظریں پڑتے ہی اس کے چہرے پرجھنجھلاہٹ کے آثر نظر آنے لگے۔ اچانک وہ اپنے پپا کی طرف دیکھ کر بولا

’’پپا! میں نے آپ سے ریکویسٹ کی تھی کہ ٹی۔وی۔ پر خبریں نہ چلایا کیجئے۔لیکن آپ مانتے نہیں۔‘‘

’’کیوں خاور خبروں سے کیاہوا، آدمی کو خبریں تو ضرور دیکھنی چاہئے۔‘‘ وہ خاور کو دیکھتے ہوئے بولا۔

خاور چپ رہا لیکن وسیم بولا:

’’خاور تو پہلے خبریں بھی دیکھتا تھا اوراخبار تو بڑے شوق سے پڑھتا تھا اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ اس نے خبریں بھی دیکھنابند کر دیں اور اخبار پڑھنا بھی ۔‘‘

وسیم کی بات سن کر اس نے خاور کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے کی رنگت کسی قدر بدل گئی تھی۔

خاور نے اپنی گردن اوپر اٹھائی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا ٹھہر ٹھہر کر بولا

’’انکل اس دنیا میں اتنا خون خرابہ،اف میرے خدا۔وہ جو بے گناہ ہیں ان کے خون سے زمین سینچی جا رہی ہے۔انھوں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔انکل شاید کمزوری کی سزا موت ہو تی ہے، میں نے اسی لئے اخبار پڑھنا اور ٹی وی نیوز دیکھنا چھوڑا کہ قتل ،خون ،غارتگری میں اب اور نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

خاور ایک لمحے کے لئے ٹھہرا پھر اپنے پپا کی طرف دیکھتے ہوئے ہکلا ہکلا کر بولنا شروع کیا۔’’پپا آپ نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی۔اس ماند سے مجھے یہاں لا ئے اور آ دمی بنانے کی کوشش کی۔پپا میں وہیں بہتر تھا کہ وہاں اس قدر خون خرابہ نہ تھا۔‘‘

اچانک خاور زور زور سے رونے لگا اور روتے ہوئے بس وہی ایک جملہ دہراتا جا رہا تھا۔’’پپا میں اپنے ماند میں ہی بہتر تھا۔‘‘

ڈرائینگ روم کی فضا پوری طور پر بوجھل ہو چکی تھی۔

اسرار گاندھی، الہ آباد

اسرار گاندھی

اسرار گاندھی ایک جانے مانے افسانہ نگار ہیں اور الہ باد انڈیا میں رہائش پذیر ہیں ان کا افسانوی مجموعہ’’ ایک جھوٹی کہانی کا سچ ‘‘ منظر عام پر آچکا ہے۔ وہ عصر حاضر کے تضادات اور پیچیدگیوں کو اپنے مختصر افسانوں کا موضوع بناتے ہیں اور کامیابی اور فنی چابکدستی سے اسے انجام تک لے جاتے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form