جواں مرگ شاعر نور احمد ناز

منیر احمد فردوس،

ڈیرہ اسماعیل خان

ڈیرہ اسماعیل خان کے جواں مرگ شاعر و مدیرنور احمد ناز مرحوم ڈیرہ کے ادب میں بطورِ شاعر اور ایک متحرک ادب پرور کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔جب کبھی ڈیرہ کی ادبی دنیا میں جمود طاری ہوا تو نور احمد ناز نے ہمیشہ اس جمود کوشدت سے محسوس کیا اور انجماد کو اپنے جذبوں کی حدت سے پگھلاکر تحرک کو ہمیشہ زندہ رکھا اور ان ہی کی بار آور کوششوں سے ڈی آئی خان کا ادب ہمیشہ پروان چڑھتا رہا۔وہ ایک عمدہ شاعرتصور کئے جاتے تھے اور اردو غزل کے حوالے سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے تھے۔وہ اردو نظمیں اور ہائیکو بھی لکھتے رہے جبکہ سرائیکی زبان میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کر کے کچھ نظمیں لکھی تھیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی ادبی تنظیموں میں وہ ایک سرگرم رکن کے طور پر ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ملک گیر شہرت حاصل کرنے والی ادبی تنظیم قاصر ادبی فورم کے بانیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے ، جس کے وہ جنر ل سیکریٹری بھی رہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دامان سرائیکی وسیب کے سینئر نائب صدر اور برگِ نوجیسے ادبی جریدہ کے لئے بطور مدیر بھی کام کرتے رہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کی ادبی تنظیم ستارہِ ادب فورم کے وہ نائب صدر کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔مگر افسوس کہ نوراحمد ناز جیساخوبصورت شاعر اور متحرک ادب دوست آج ہم میں نہیں۔یہ نوجوان 14 جنوری 2013 کو ادبی دنیا کو اداسیوں کے حوالے کر کے خود زمین میں اتر گئے۔

نور احمد ناز اچانک ہی گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو گئے تھے۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود وہ اس بیماری کے ساتھ جوانمردی سے لڑے مگر آسمانوں سے اترے کچھ لمحوں نے جب ان کے کانوں میں سرگوشی کی کہ آپ ہمارے مہمان بننے والے ہیں تو انہوں نے لبیک کہا اور ان لمحوں کے ساتھ وہ ایک نئے سفر پر روانہ ہو گئے۔اس وقت ان کی عمر 39 برس تھی۔

نور احمد ناز ایک سچے، کھرے اور بہت فعال شاعر اور ادب پرور انسان تھے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے ادب میں ان کا نام کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گااور ادیب برادری کو ان کی ادبی خدمات پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جیسی دولت سے مالا مال کرے۔ آمین

ان کا منتخب کلام پیشِ خدمت ہے:

غزل

کبھی ترتیب دیتا ہے کبھی مسمار کرتا ہے

وہ اپنی بے بسی کا اس طرح اظہار کرتا ہے

گمان و بے یقینی کب کسے تکمیل کرتے ہیں

جسے امید ہوتی ہے وہی اصرار کرتا ہے

کسی اک فیصلے کے منتظر ہیں لوگ مدت سے

اسے کافر کہیں گے سب ، اگر انکار کرتا ہے

پڑاؤ کر چکا ہے کارواں ایسے علاقے میں

جہاں نہ ٹھہرنے پہ کُل جہاں اصرار کرتا ہے

کبھی تو راستے خود منزلوں سے دُور کرتے ہیں

کہیں پر خود جنوں بھی راستہ ہموار کرتا ہے

مجھے میرے ارادے ٹوٹنے سے روکتے ہیں ناز

مگر حالات کہتے ہیں سفر بے کار کرتا ہے

٭٭٭٭

غزل

کرچی کرچی ہو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

مجھ سے پہلے سو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

ذہن کو بنجر کر دیتی ہے سوچ کی سیم اور تھور

وحشت دل میں بو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

بند آنکھوں سے دیکھوں کب تک میں تیری تصویر

یاد میں تیری کھو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

دھیرے دھیرے مر جاتی ہے جب بھی ایک امنگ

آ کر مجھ پر رو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

ناز کسی کو دیکھ کے جونہی دھڑکے میرا دل

آگے پیچھے ہو جاتے ہیں اکثر میرے خواب

٭٭٭٭

غزل

ہے پسِ دیوار دھیمی روشنی

آتشیں یلغار دھیمی روشنی

ایک بھٹکی روح اور سونی سڑک

کس قدر بے زار دھیمی روشنی

چار سو تاریکیوں کے مرحلے

آہنی تلوار دھیمی روشنی

نوکِ نیزہ اور صحرا کی تپش

قافلہ سالار دھیمی روشنی

خوبصورت عالمی سٹیج پر

آخری کردار دھیمی روشنی

ریت دریا اور کوفے کا سفر

راستہ دشوار دھیمی روشنی

ناز سب کچھ یاد ہے اب بھی مجھے

بے وفا کا پیار دھیمی روشنی

٭٭٭٭

غزل

ناؤ جب وحشی سمندر کی اماں پر چھوڑ دی

اپنی قسمت کی کہانی بادباں پر چھوڑ دی

منزلوں کو دیکھتے ہی بے مروت شخص نے

راستے کی گرد پورے کارواں پر چھوڑ دی

بے مکاں ہوتے ہوئے اک مصلحت اندیش نے

اپنے دل کی ہر تمنا لامکاں پر چھوڑ دی

بادلوں کو بجلیوں سے مستیوں میں دیکھ کر

اک دعا محصور کر کے آسماں پر چھوڑ دی

لٹ گیا جب کارواں تو ناز پھر سالار نے

قافلے کی رہبری بھی سارباں پر چھوڑ دی

٭٭٭٭

غزل

سوچوں میں اضطراب ہے تنہائیاں بھی ہیں

اس کاروانِ شوق میں رسوائیاں بھی ہیں

ہل چل مچی ہوئی ہے مسلسل فضا میں آج

پر دل کے اس پڑاؤ میں رعنائیاں بھی ہیں

کہتے تھے وہ اہلِ خرد غم گسار شوق

اس بزمِ اضطراب میں شہنائیاں بھی ہیں

مشعل بجھا کے فیصلے کا اذن دے دیا

چاہو تو اس مقام پر پسپائیاں بھی ہیں

پتھر گرے ہیں آج بھی آنگن میں چار پانچ

بیری پہ ناز وقت کی پرچھائیاں بھی ہیں

٭٭٭٭

غزل

سات سُروں میں درد رچا ہے تیرے بن

کچھ یوں دل کا ساز بجا ہے تیرے بن

سبز رتوں کے ٹھنڈے میٹھے موسم میں

دل کتنا بے زار رہا ہے تیرے بن

تارا تارا تیری باتیں ہوتی ہیں

چاند ادھر خاموش کھڑا ہے تیرے بن

تجھ سے مل کر اکثر یہ احساس ہوا

دنیا میں کیا خاک پڑا ہے تیرے بن

٭٭٭٭

غزل

کچھ نہ کچھ کی خواہش میں بے نوا ہوئے ہم لوگ

لا علاج موسم میں لا دوا ہوئے ہم لوگ

غم گسار لوگوں نے دل کو یوں جلا ڈالا

بے امان لمحوں میں بے ردا ہوئے ہم لوگ

مختلف ہوئے کتنے اختلاف کرنے پر

قافلے سے بچھڑے تو جا بجا ہوئے ہم لوگ

ناز بے یقینی کے بے غلاف لمحوں میں

اپنی گونج میں چھپ کر بے صدا ہوئے ہم لوگ

٭٭٭٭

غزل

دل سراپا بے بسی ہونے کو ہے

چار سو اک خامشی ہونے کو ہے

ان دیوں کو گُل بھی ہونا ہے ابھی

ہر طرف گو روشنی ہونے کو ہے

موت سے بھی بڑھ کے کہتے ہیں جسے

تیری میری زندگی ہونے کو ہے

کالے کالے گیسوؤں کے فیض سے

شام دل کی سرمئی ہونے کو ہے

سبز رُت کے آخری ہفتے میں ناز

پانچ سالہ دوستی ہونے کو ہے

٭٭٭٭

قریہ قریہ خواب

گہری نیند میں

کالی زلفیں اجلے چہرے

قریہ قریہ خواب سجائے

ان دیکھی سی راہوں پر

کچھ دیپ جلائے

اجلی کرنیں بانٹ رہے ہیں

ایک مسافر

منزل سے انجان کسی بے سمت سفر پر چل نکلا ہے

اور کہیں بے تاب سے لمحے

ہجر کے بھاری پتھر سے سر پھوڑ رہے ہیں

دور افق پر

ارض و سما سر جوڑ رہے ہیں!!!

منیر احمد فردوس

منیر احمد فردوس کا تعلق ڈیرہ اسمعیل خان سے ہے۔ بنیادی طور پر افسانہ نار ہین۔ نثری نظمین بھی لکھتے ہین۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظر عام پر ا چکے ہیں۔

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form