جاوید فیروز کا کلام

August 9, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبشاعریشاعری

دیدبان شمارہ ہشتم

جاوید فیروز کا کلام

منظر مری آنکھوں کے اجڑنے کے نہیں تھے

کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہیں تھے

تھک ہار کہ بس سوچوں کی ترتیب بدل دی

حالات تھے ایسے کہ سنورنے کے نہیں تھے

سہہ ڈالا انہیں بھی دل نادان نے چپ چاپ

وہ حادثے جو جاں پہ گزرنے کہ نہیں تھے

فیروز کہانی میں کوئ ربط نہیں تھا

کردار تھے ایسے کہ بچھڑنے کے نہیں تھے

وہ حادثے جو جاں پہ گزرنے کے نہیں تھے

فیروز کہانی میں کوئ ربط نہیں تھا

کردار تھے ایسے کہ بچھڑنے کہ نہیں رھے

۔۔۔

اسے ضد ھے

کہانی انت پہ پہنچے تو

ہر کردار ھنستا مسکراتا ھو

نہ اس کی سانس ھی اکھڑے

نہ اس کی آنکھ ھی چھلکے

مگر کیسے یہ ممکن ھے

کہانی کار لکھتے وقت

سچ کی روشنائ سے

مقدر کی سیاہکاری کے سارے سارے

سانحے تحریر کرتا ھے

وہ اپنے خون سے کردار کی تخلیق کرتا ھے

تو پھر کیسے یہ ممکن ھے

کہانی انت پہ پہنچے

تو ہر کردار ھنستا مسکراتا ھو

نہ اس کی سانس ھی اکھڑے

نہ اس کی آنکھ ھی چھلکے۔۔۔۔۔۔!!!

تخلیق۔۔۔۔جاوید فیروز

جاوید فیروز

........................

........................

....................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form