دیدبان شمارہ 12

کافی ہے

۔

کافی ہے آدمی کے لیے

سادہ سا گھر

ایک مہربان پیڑ کی چھائوں

جھونپڑی یا غار

ایک بے نام ڈھیری

کافی ہے چھوٹا سا باغ

پرندوں کی چہکار

تھوڑا سا اناج

کھٹے میٹھے پھل

کافی ہیں

چند انسان محبت کرنے والے

انسانوں سے

چڑیوں سے

پھولوں اور تتلیوں سے

مجھے نہیں چاہیے

کسی طاقت ور گروہ کی رُکنیت

عظیم مقاصد کے لیے

زمینیں تاراج کرنے کے لیے

خدا کے لیے خزانے اکٹھے کرنے کے لیے

میں محض ایک آدمی ہوں

میرا لہو حاضر ہے

اِس عمر میں بھی

کسی ضرورت مند کے لیے

مگر میرے پاس ایک بوند بھی نہیں

کسی مقدس سرحد پر بہانے کے لیے

کسی مہان آدرش کی حفاظت کے لیے

تم اپنے پاس رکھو

پر فریب خطابات

منافق تمغے

ہیرو یا غدار

میں جو بھی ہوں

مطمئن ہوں

بہت خوش ہوں

                   ( افتخار بخاری )

افتخار بخاری

.........................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form