خلیل جبران کی نظم کا اردو ترجمہ

March 4, 2017
شمارہ - ٤،عالمی انتشار تراجم

Publish Date : 2017-04-03

خلیل جبران کی نظم کا اردو ترجمہ

دیدبان شمارہ چہارم

کچھ نیکی اور بدی پر  خلیل جبران

اردو ترجمہ:  عینی علی

میں تمہاری تعریفوں کے پل باندھ سکتا ہوں پر تمہاری برائی پر آواز نہیں اٹھا سکتا  

اور بدی کیا ہے تمہاری وہ اچھائی جو اپنی تشنہ کامی سے ہار کر متشدد ہو چلی ہے۔

بیشک نیکو کاری کی بھوک اپنا رزق سیاہ پوش غاروں میں تلاش کرتی ہے، اور اس کی پیاس اسے مردہ پانیوں سے  بھی سیراب کرتی ہے

تم اپنی ذات کی یکتائی میں سراپا نیکی ہو پر تمہاری دوئی بھی تمہیں مجسم  شیطا ن نہیں بنا دیتی

کہ اک بٹا ہوا گھر بھی محض ایک بٹا ہو گھر ہے ڈاکوؤں کی آماجگاہ نہیں

اور ایک بنا پتوار کی کشتی بھی خطرناک سمندروں میں بلا مقصد بھٹک تو سکتی ہے مگر تہہ میں ڈوبنے کی سزاوار نہیں

تم میں اچھائی ہے اگر تم اپنی ذات کو دان کر پاؤ تو پر تمہاری خودغرضی بھی تمہیں مجسم شیطان نہیں بنا دیتی

کہ جب تم پانے کی جستجو میں ہو تو اس جڑ کی مانند ہو جو زمیں کی تہ کے سینے سے چمٹی اسے چوستی ہے

کہ یقینا کوئی پھل جڑ سے یہ مطالبہ  نہیں کر سکتا"مجھ سے ہو جاؤ ، پکے ہویے جھکے ہوئے اور ہمیشہ پر تواضع“

کہ دینا پھل کی ضرورت ہے تو نچوڑ لینا جڑ کی

تم میں اچھائی ہے جبکہ تمہاری گویائی بیدار ہے

 مگر تم ہر گزمجسم شیطان نہیں جب تم خوابیدہ ہو پر تمہارے الفاظ بلا مقصد منضبط ہیں

اور جبکہ لڑکھراتی زبان بھی بے زبانی سے بہتر ہے

جب تم اپنے مقصد کی جانب جرات مندی اور عزم سے بڑھتے ہو تو تم اچھے ہو

 پر جب تمہارے قدم لڑکھرایئں تم اس وقت بھی ہر گز مجسم شیطان  تو نہیں

کہ لڑکھڑانے والے بھی پلٹنے والے تو نہیں۔ مگر تم جو مضبوط اور رواں ہو دیکھو کہ تم لڑکھراتے نہیں

اس گریز پا کے سامنے جو نیکی کو بہانہ کرتا ہے

تمہاری اچھائی کے انداز ان گنت ہیں اور تم مجسم شیطان بھی نہیں جب کہ تم برے ہو

تم  ایک جہاں گرد کی مانند فقط بلا مقصد ہاتھ پاؤں مار رہے ہو

حیف کہ بارہ سنگھا کچھوے کو سبک رفتاری نہیں سکھا سکتا

تمہاری اچھائی پنہاں ہے تمہاری عظیم تر ذات کی کھوج میں : اور یہ کہ یہ تشنگی ہی تمہارا تمامتر ہے

 تمہی میں سے کچھ کی تلاش سمندروں کی طرف بھاگتی وہ رو ہے، جو جنگلوں کے گیت اور چٹانوں کے راز ساتھ لیے  دوڑی چلی جاتی ہے

اور کسی میں ایک پرسکوں ندی جو زاویوں کے پیچ ہوخم میں اپنا آپ کھوتی جاتی ہے اور جھک کرسبک روی سے راستے بدلتی ہوئی اپنے ساحل سے جا ملتی ہے

مکر جان لو کہ کوئی تشنگی کبیر کا مارا کسی تشنگی صغیر کے مسافر کو یہ نا کہ پائے کہ" تم سست رو اور جامد ہو "

کہ نیکی کی سچائی کو یہ دلیل کافی ہے کہ وہ کسی بے لباس سی یہ سوال نا کرے کہ تمہارا لباس کہاں ہے ؟ اور کسی بے گھر سے کہ تمہارا مکان کیسے ڈھے گیا

On Good and Evil

Kahlil Gibran

Of the good in you I can speak, but not of the evil.

For what is evil but good tortured by its own hunger and thirst?

Verily when good is hungry it seeks food even in dark caves, and when it thirsts it drinks even of dead waters.

You are good when you are one with yourself.

Yet when you are not one with yourself you are not evil.

For a divided house is not a den of thieves; it is only a divided house.

And a ship without rudder may wander aimlessly among perilous isles yet sink not to the bottom.

You are good when you strive to give of yourself.

Yet you are not evil when you seek gain for yourself.

For when you strive for gain you are but a root that clings to the earth and sucks at her breast.

Surely the fruit cannot say to the root, "Be like me, ripe and full and ever giving of your abundance."

For to the fruit giving is a need, as receiving is a need to the root.

You are good when you are fully awake in your speech,

Yet you are not evil when you sleep while your tongue staggers without purpose.

And even stumbling speech may strengthen a weak tongue.

You are good when you walk to your goal firmly and with bold steps.

Yet you are not evil when you go thither limping.

Even those who limp go not backward. But you who are strong and swift, see that you do not limp before the lame, deeming it kindness.

You are good in countless ways, and you are not evil when you are not good,

You are only loitering and sluggard.

Pity that the stags cannot teach swiftness to the turtles.

In your longing for your giant self lies your goodness: and that longing is in all of you.

But in some of you that longing is a torrent rushing with might to the sea, carrying the secrets of the hillsides and the songs of the forest.

And in others it is a flat stream that loses itself in angles and bends and lingers before it reaches the shore.

But let not him who longs much say to him who longs little, "Wherefore are you slow and halting?"

For the truly good ask not the naked, "Where is your garment?" nor the houseless, "What has befallen your house?"

عینی علی

....................................

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form