اکمل خالو کا آستانہ عالیہ

August 4, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبمضامین

”بھئی راشد واپسی میں بانس ضرور لیتے آنا“ اکمل خالو نے باآواز بلند ہدایات دیں۔

”ہاں پچھلی گلی میں نیاز کے ابا نے آستانہ کھول رکھا ہے۔ کئی گاہک وہاں نکل جاتے ہیں“ صفیہ خالہ نے بانس لانے کی اہمیت جتائی۔

اکمل خالو کا کام خوب چل نکلا تھا۔ لیکن اب پچھلی گلی میں وارثی صاحب نے بھی خانقاہ قائم کرلی تھی۔ ان کے بھاری بھر کم وجود اور سفید داڑھی کےسبب وہ پہلے ہی صوفی صاحب مشہور تھے۔ ہندوستان کے قصبہ شاہجہاں پور سے تعلق کی سبب زبان و بیان بھی بہتر تھے اور وہ زیادہ ”پیشہ روانہ“ انداز میں کام کرتے تھے۔ البتہ یہ خیال انہیں جب آیا جب اکمل خالو اپنا ”ٹھیا“ جما چکے تھے۔ اس سبقت کے سبب خالو کی مارکیٹ خاصی مستحکم تھی لیکن اب ان کی منا پلی کو نیاز کے ابا نے چیلنج کر رکھا تھا۔

راشد کو آج صبح کے ایم سی کے دفتر جانا تھا جہاں سے اسے پینشن کے پیسے لانے تھے۔ وارثی صاحب کے بڑھتے خطرے کے سدباب کے لئے انہوں نے اپنے آستانہ کو ”اپ گریڈ“ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

”میں نے پتواری سے بات کرلی ہے، وہ باہر کی دیوار اور حجرے پر سفیدی کر جائے گا۔ سلیم پینٹر سے دیوار کی پیشانی پر یہ ضرور لکھوانا ہے“ اکمل خالو نے ایک کاغذ راشد کو دکھایا جس پر لکھا تھا۔

”آستانہ عالیہ حضرت پیر طریقت، قدوت السالکین، پیر اکمل علی شاہ، چشتی، قادری، گیلانی، نقشبندی، سہروردی قدس سرہ۔ “

”یہ کن کے نام ہیں ابا؟ “

”ابے یہ کن کے نہیں میرا نام ہے، اس نام سے آستانہ کی مشہوری ہوگی“

”لیکن مطلب کیا ہے ان کا“ راشد اب تک سرتا پا سوالیہ نشان بنا کھڑا تھا۔

”مطلب کی خبر نہیں۔ ساری درگاہوں پر یہی لکھا ہوتا ہے۔ تو نے کالے پل سے نیچے درگاہ پر نہیں دیکھا“

”وہاں جہاں ایک کالا سا ننگا فقیر دروازے کے باہر بیٹھا ہوتا ہے اور ’سٹوریے‘ اس کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں۔ “

”لیکن ابا اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ “

”تم مطلب وطلب رہنے دو۔ بانس اور بلیاں یاد سے لیتے آنا۔ جھنڈے سل گئے ہیں۔ دیوار پر چونا لگ جائے گا۔ اوپر یہ لکھوا دوں گا۔ آستانہ دور سے نظر آئیے گا۔ پھر کوئی پچھلی گلی نہیں جائے گا“ اکمل خالو نے سارے پلان کی وضاحت کردی۔

اکمل خالو اس فیلڈ میں نئے تھے اور جہاں کہیں سلوک اور طریقت کے مظاہر دیکھتے انہیں لکھ لیتے۔ انہیں اس کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں تھی کہ ان کے سائلین عام طور پر ان پڑھ تھے اور انہیں پیر صاحب سے تعویذ، گنڈوں اور فلیتوں سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ خوش قسمتی سے یہ شہر کا وہ حصہ تھا جہاں مزدور طبقے کی اکثریت تھی اور تعلیم یافتہ لوگوں کی آبادی بہت کم تھی۔ لیکن انہیں اس قدر بھی آزادی میسر نہیں تھی۔ اسی گلی میں جہاں وہ رہتے تھے، ایک دو گھر چھوڑ کر تقریباً سارے گھروں میں درمیانی تعلیمیافتہ یعنی کلرک پیشہ لوگ رہتے تھے جن کے بچے اب اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اکمل خالو کی اس ماہئیت قلبی اور اس کے سبب سے وہ اچھی طرح واقف تھے لیکن ہر ایک کو اپنی عزت پیاری ہوتی ہے۔ خالہ صفیہ گز بھر لمبی زبان رکھتی تھیں، ان کے شر سے بچنے کے لئے کوئی ان کے منہ نہیں لگتا تھا۔ پھر ان کا جاتا بھی کیا تھا، کون سا وہ اکمل خالو کے گھر سے کھاتے تھے۔ اکمل خالو جانیں اور ان کا خدا جانے۔

محلے کے بچے البتہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ کوئی گلی میں آستانے کا پتہ پوچھتے آتا تو وہ اکمل خالو کے بارے میں، محلے میں زبان زد عام جملے ضرور سائل کے گوش گذار کرتے۔ غیر محلے کے سائل کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے، بہر حال اکمل خالو کا کام چل نکلا تھا کہ اس علاقے میں اکثریت ایسے ہی ضعیف العقیدہ لوگوں کی تھی۔

اب ذرا لگے ہاتھوں اکمل خالو کا بایو ڈاٹا بھی جان لیں۔

ان کا تعلق دلی کے آس پاس کے کسی گاؤں سے تھا۔ تقسیم کے بعد مہاجروں کے لئے کورنگی بسائی گئی تو بہت سے لوگوں نے اس میں بھی وہی کمال دکھائے جو ان کے بھائی بندوں نے کلیم کے ذریعے جائیدادیں حاصل کر کے دکھائے تھے۔ یہ ذرا نچلی پیمانے کی بے ایمانی تھی۔ ۔ بہت سے ایسے تھے جنہوں نے ایک سے زیادہ کوارٹروں کے قبضے لے رکھے تھے۔ بہت سوں نے قائد آباد اور جیکب لائنز کی اپنی جھگیاں برقرار رکھیں، اور کوارٹر کرائے پر چلا کر خود اپنی جھگیوں میں چلے گئے۔

اکمل خالو نے البتہ ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ جہاں اور لوگ اس گلی میں رہتے تھے وہیں وہ بھی یہی بسے ہوئے تھے۔ وہ منظرعام پر تب آئے جب اس محلے کے سکون اور بھائی چارے میں پہلی دراڑ پڑی۔

یہ اس محلے والوں کی پہلی اور شاید آخری مشترکہ“ تقریب“ تھی۔ یہ موقع تھا عید میلاد النبی کے جلسے کا، جسے محلے والوں نے مل کر منعقد کیا تھا۔ محلے کی چھوٹی سی زیر تعمیر مسجد کے امام صاحب کو اس جلسے کی صدارت کی دعوت دی گئی کہ اور کوئی معزز ہستی اس محلے میں دستیاب نہ تھی۔ یہ سرخ و سپید وجیہ اور طویل القامت امام صاحب قبائلی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور کسی مدرسے کے فارغ اور خاصے باعلم تھے جو اس محلے کے لئے ایک عجیب بات تھی۔ ہر کوئی ان سے مرعوب رہتا۔

لیکن ان کا رعب و دبدبہ اس دن زمین پر آرہا جب وہ اس جلسے میں سلام پڑھے جانے کے موقع پر اپنی نشست سے نہیں ہلے۔ یا نبی سلام علیک پڑھتے ہوئے چند لوگوں نے کن انکھیوں سے امام صاحب کو دیکھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کن انکھیاں، تنی ہوئی پیشانیوں میں ڈھل گئیں۔ ادھر سلام ختم ہوا ادھر پہلے ایک دو پھر بہت ساری آوازیں امام صاحب کے خلاف اٹھنے لگیں۔ امام صاحب نے قرآن اور حدیث کی رو سے اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کی لیکن مجمع بپھر چکا تھا۔ امام صاحب گستاخی رسول کے مرتکب قرار پائے۔

سراج بھینس والا، پٹواری صاحب، کفیل خالو اور اکمل خالو اس سارے مجمعے کی سربراہی کر رہے تھے۔ اگلے دن“ نئی روشنی“ اخبار میں ایک چنگھاڑتی سی شہ سرخی میں امام صاحب کی اس جسارت کی خبر تھی۔ اکمل خالو گروپ نے اعلان کردیا کہ اس امام کے پیچھے کوئی نماز نہیں پڑھے گا اور ساتھ ہی مسجد کے صحن میں ایک دوسرے صاحب جن کی واحد کوالیفیکیشن ان کی داڑھی تھی، انہیں امام مقرر کردیا۔ اب ایک مسجد میں بیک وقت دو جماعتیں ہوتیں۔ فریقین ایک دوسرے کو خون آلود نظروں سے گھورتے۔ بچے آتے جاتے“ وہابی گروپ“ پر آوازے کستے۔ پورا محلہ دو گروہوں میں بٹ گیا۔

اکمل خالو اور کفیل خالو کے گھر آمنے سامنے تھے۔ اس قضیے سے پہلے انہیں کبھی مسجد میں نہیں دیکھا گیا لیکن اب وہ ہر وقت وہیں نظر آتے۔ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا اور پھر ایک دن عشاء کے وقت پولیس نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور دونوں طرف کے سرکردہ لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ اکمل خالو گروپ کو مسجد کا قبضہ مل گیا لیکن دوسرے گروپ نے حکم امتناعی بھی حاصل کر رکھا تھا۔

یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اکمل خالو اب مسجد کے معاملات میں دخیل ہو گئے تھے، یہ اور بات ہے کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ وہ کسی آ ور نماز میں شاذ ہی نظر آتے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ان بیچاروں کو نماز آتی بھی نہیں تھی لیکن اتنا ضرور جانتے تھے کہ یا نبی سلام علیک پڑھی جارہی ہو تو اس کے احترام میں کھڑا نہ ہونے والا جہنمی ہے اور اس بارے میں ان کے ہمنواؤں کی کمی نہ تھی۔ یہ کھڑا ہونا کسی اور نعت اور سلام اور درود سے مشروط نہیں تھا، صرف اور صرف اسی سلام پر کھڑا ہونا لازمی ہے، یہ وہ محبت نبی تھی جس کے لئے یہ محباں رسول دوسرے گمراہ گروپ کی جان بھی لے سکتے تھے۔

یہ وہ پس منظر تھا جس میں اکمل خالو کے کمالات منظر عام پر آئے،

آئیے اب اس قصے کی طرف آتے ہیں جس کے لئے یہ داستان یوسف و زلیخا چیڑ رکھی ہے۔

خالو کے ایم سی میں کام کرتے تھے جہاں وہ خاکروبوں اور مہترانیوں کے نگراں تھے۔ ان کے ذمہ ان جمعداروں کی ڈیوٹیاں لگانا، علاقے تقسیم کرنا اور ان کی تنخواہیں بانٹنا تھا۔

اب یہ کوئی ایسا کام تو تھا نہیں کہ جس لے لئے اس ملازمت کا کسی سے ذکر کیا جائے لیکن اس کام کا آخری پہلو خاصہ منافع بخش تھا۔ خاکروبوں کی تعداد خاصی تھی۔ ان تک تنخواہ پہنچتے پہنچتے اس کا قلیل حصہ اکمل خالو کے بابرکت ہاتھوں میں منتقل ہوتا رہتا۔ بے چارے ان پڑھ خاکروبوں کو کچھ پتہ ہی نہ چلتا لیکن خالو کے پاس کثیر رقم جمع ہوجاتی۔

فلک کج رفتار کب یوں کسی کو پھلتے پھولتے دیکھتا ہے۔ چند ایک نوجوان خاکروبوں کو دال میں کالا کچھ واضح طور پر نظر آنے لگا اور آخر بات محکمے کے اعلی افسران تک پہنچ ہی گئی۔ خالو بہت زیادہ پڑھے لکھے تو تھے نہیں نہ ہی اتنے بہت زیادہ ہوشیار تھے۔ شواہد اس قدر واضح تھے کہ کوئی جواب نہ بن پڑا۔ نتیجتاً ملازمت سے برخواست کیے گئے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی تفتیش شروع کی گئی۔

بہر حال، اوپر والا ایک در بند کرتا ہے تو سو در کھولتا ہے۔ خالو کے شر خیز دماغ میں ایک ایسا آئیڈیا سمایا کہ ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے۔ مسجد کے جھگڑے میں انہیں محلے والوں اور آس پاس کے قریبی محلوں کی دینی اور علمی فراست کا اندازہ ہوگیا تھا چنانچہ انہوں نے ایک ایسا صائب فیصلہ کیا کہ نہ صرف گھر بیٹھے چار پیسے بھی بن جائیں اور ساتھ ہی اگر کوئی انکوائری کے لئے یہاں کا رخ کرے تو خالو کی شرافت اور راست بازی کے ہی گن گاتا ہو واپس جائے۔ چنانچہ خالو نے پیر بننے کا تہیہ کرلیا۔

شروع شروع میں اس کام میں پیشہ روانہ رکاوٹیں پیش آتی رہیں کہ اہل محلہ میں بد خواہوں کی کمی نہ تھی۔ لیکن خالو نے ایسا پیشہ چنا تھا جس کی ناکامی کا کم ازکم کے اس محلے میں کوئی خدشہ نہیں تھا۔ جہاں بیٹیاں شادی نہ ہونے کے سبب ڈیپریشن کا شکار رہتی ہوں اور اس ڈیپریشن کو کسی جن یا بدروح کی کار ستانی قرار دینا ہو، جہاں دمہ کا علاج ڈاکٹر کے بجائے، بوتلو ں پر پھونکے ہوئے پانی سے ہوتا ہو، جہاں اولاد ہونے میں تاخیر یا نرینہ اولاد نہ ہونے کو قدرت کی مرضی کے بجائے کسی جادو ٹونے کا اثر سمجھا جائے، وہاں اتنے موثر اور کم خرچ پیشے کی ناکامی کا کیا سوال۔ آہستہ روی سے ہی سہی لیکن کام چل نکلا۔

خالو پیر صاحب بن گئے، اور صفیہ خالہ پیرنی۔ محلے والوں نے اس معاملے میں سکون کا سانس لیا کہ پیرنی بننے کے بعد صفیہ خالہ کی بدزبانی کے عذاب سے بچ گئے جس نے آئے دن گلی والوں کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔

ان کا بیٹا راشد بھی بابا بن گیا، اور بیٹی نسرین جو پہلے بے بی کہلاتی تھی اب بی بی بن گئی۔ لیکن ان کا ترپ کا پتہ ان کی وہ معذور بیٹی تھی جس کی نشو نما کسی وجہ سے رک گئی تھی۔ اب سترہ اٹھارہ سال کی یہ بچی تین چار سال کے بچے کی طرح پڑی رہتی اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی وحشت نظر آتی۔ خالو اسے قدرت کا معجزہ قرار دیتے اور سائلین کے ہاتھ سے پیسے نہ لیتے بلکہ انہیں اندر کمرے میں ایک کونے میں ڈھیر اس بچی کے پاس رکھنے کو کہتے۔ سائل اس نیم اندھیرے کمرے میں یہ عجیب الخلقت مخلوق دیکھ کر ویسے ہی عجیب کیفیت سے دو چار ہوتا اور جو کچھ ہوتا وہ نذرانہ اس بد نصیب کے قریب رکھ کر اپنے دن پھرنے کی دعائیں کرتا۔

اسی نیم تاریک کمرے میں ایک کونے میں بابا راشد ایک سبز چوگوشیہ ٹوپی اوڑھے، گردن جھکائے، منہ ہی منہ میں کچھ بد بداتا رہتا جس میں کبھی کبھار، حق، ہو اور اللہ کے الفاظ سنائی دیتے۔ لیکن وہ کن انکھیوں سے سائل کے ہاتھ پر نظر رکھتا، اور اگر کوئی سائل پیسہ رکھنا بھول جاتا تو زور سے حق اللہ کہہ کر اس متوجہ کرتا کہ ہم بھی یہیں موجود ہیں۔

سائل کے کمرے سے نکلتے ہی ان پیسوں کا کچھ حصہ بسرعت اپنے نیفے میں منتقل کرتا کہ سائل کے جاتے ہی پیر صاحب اور پیرنی فوراً اند داخل ہوتےاور آمدنی کو اپنے قبضے میں لے لیتے۔

کبھی کبھار خالو اس بچی کو دیکھ کر سوچتے کہ کاش یہ دو سر لے کر پیدا ہوتی تو آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا تھا۔

اس کام کا مالی پہلو تو خاصا تسلی بخش تھا لیکن اس میں جو اصل چاشنی اور رنگینی تھی، خالو اس سے محروم تھے۔ گاؤں دیہات کے پیر تو بلا شرکت غیرے سائل مردوں اور عورتوں کا علاج کرتے ویسے بھی مرد سائل برائے نام ہی ہوتے، یہ سارے مسائل عورتوں ہی کو پیش آتے اور انہی کی بڑی تعداد اپنی مرادیں بر آنے کے لئے ان پیروں اور ولیوں سے رجوع کرتی ہیں۔

خالو کی بڑی خواہش تھی، کہ اولاد کی خواہشمند عورتوں، رشتہ کے انتظار میں بوڑھی ہوتی دوشیزاؤں، اور جن لڑکیوں پر جن یا سائے نے قبضہ کیا ہو ان کا علاج تنہائی میں اور یکسوئی سے کریں لیکن ایسے موقع پر خالہ وہاں جم کر بیٹھ جاتیں اور ٹس سے مس نہ ہوتیں۔ خالہ بڑی کائیاں تھیں۔ جب کوئی نوجوان اپنی بیوی کو لے کر آتا جو اولاد سے محروم ہوتا تو اس سے تو تمام تفصیلات بالمشافہ حاصل کرتیں لیکن یہی سوالات خالو کو خواتین سے نہ کرنے دیتیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر خالہ کو کسی کام سے اندر بھیجنے کی کوشش کی، لیکن پیر اکمل جن پر اب ایک زمانہ اعتماد کرتا تھا، صفیہ خالہ کو ان پر چند آں بھروسہ نہیں تھا۔

چونکہ اب کام مستقل بنیادوں پر ہو رہا تھا چنانچہ کبھی کبھار خالو کو ایسے لمحے میسر آجاتے اور یہی جستجو اس کام کو دلچسپی کا باعث بنائے ہوئے تھیں ور ان کا دل لگا ہوا تھا۔

یہ سب کچھ یوں ہی چل رہا تھا کہ پچھلی گلی میں وارثی خالو یعنی نیاز کے ابا نے انہیں کمپیٹیشن دینا شروع کردیا۔ جس کا مقابلہ کرنے کے لئے آج انہوں نے راشد کو واپسی پر بانس اور بلیاں لانے کی ہدایت کی تھی۔

آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ راشد کہاں اور کس لئے گیا تھا، جہاں سے واپسی پر اسے یہ سامان لانا تھا۔

اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ اکمل خالو نے ملازمت سے برطرف ہونے سے پہلے ایک اور کارنامہ انجام دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک ضعیف العمر اور ان پڑھ خاکروب جو ایک آدھ ماہ میں ریٹائر ہونے والا تھا، اس کے پینشن کے کاغذات اپنی محیرالعقول صلاحیتوں کے ذریعے اپنے نام کر لئے تھے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے، تو بھیا جہاں، کئی منزلہ پلازے صرف کاغذوں پر کھڑے ہوکر اپنی پوری قیمت وصول کر لیتے ہیں، جہاں ایک ایک پلاٹ تین تین چار چار لوگوں کو الاٹ ہوجاتا ہو اور جہاں جعلی ڈگریوں والے ملک کی قانون سازی کرتے ہوں، جہاں بہروپیے اور مداری عالم بن کر رمضان میں تماشے دکھائیں، وہاں ایک ان پڑھ کے کاغذات میں ادل بدل کرلینا کون سا بڑا کام ہے اور یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب یہ شناختی کارڈ کا ٹنٹا بھی نہیں تھا۔ اکمل خالو خود تو وہاں جا نہیں سکتے تھے چنانچہ راشد اس خاکروب کا بیٹا بن کر اس کی پینشن وصول کرتا رہتا۔ جن لوگوں نے اس کی شناخت کی تصدیق کرنا ہوتی وہ اپنا حصہ پہلے ہی نکال چکے ہوتے، کچھ راشد مار لیتا اور خالو کے ہاتھ بہت کم رقم آتی لیکن بہرحال ایک لگی بندھی اور مستقل آمدنی تو تھی۔

لیکن جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ فلک کج رفتار کہاں چین لینے دیتا ہے۔ کبھی کبھار ایک حقیر سی چیونٹی پہاڑ سے ہاتھی کی سونڈ میں گھس کر اسے ڈھیر کردیتی ہے۔ خالو نے جسے بے ضرر سا ان پڑھ سا دیہاتی جانا تھا، اسی عنایت مسیح کا بیٹا جوزف مسیح کچھ پڑھ لکھ گیا تھا۔ وہ باپ سے ایک دن پوچھ بیٹھا کہ اس کی ملازمت بلدیہ میں مستقل تھی یا عارضی، عنایت کو بھلا کیا پتہ اس نے کوئی ایسا ہی جواب دیا۔ جوزف کو لیکن کرید لگ گئی، اس نے کچھ دوستوں کی مدد سے پتہ لگالیا کہ اس کا باپ بلدیہ کا مستقل ملازم تھا اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کا مستحق تھا۔

سوال یہ تھا کہ عنایت مسیح کو ریٹائر ہوئے تو کئی ماہ ہوگئے تھے اور اسے اب تک پینشن کیوں نہیں بھیجی گئی۔ پتہ چلا کہ پینشن کے لئے کاغذات یا کارڈ لے کر خود آنا پڑتا ہے یا کسی کو نامزد کرنا پڑتا ہے۔ تو کیا اتنے ماہ کی پینشن عنایت مسیح کے حساب میں جمع تھی؟ جوزف کو ان سوالوں کے جواب چاہیے تھے۔ جب وہ متعلقہ شعبے میں گیا تو اسے بتایا گیا کہ عنایت مسیح کا بیٹا تو کئی ماہ سے یہ پینشن وصول کر رہا ہے۔

جوزف کے لئے تو یہ ایک نئی خبر تھی کہ اس کا کوئی اور بھی بھائی ہے۔ بہرحال اس نے متعلقہ محکمے کو تمام شواہد فراہم کر دیے۔ اکمل خالو تو پہلے ہی مشتبہ تھے اور ان کے خلاف انکوائری چل رہی تھی۔ جب کبھی کوئی تفتیش کے لئے جاتا تو یہی رپورٹ لے کر لوٹتا کہ وہاں تو کوئی پیر صاحب رہتے ہیں۔ یہ تفتیش کنندہ بھی کسی بزرگ ہستی سے پنگا لینے سے خوفزدہ تھے چنانچہ واپس آکر خیر کی ہی خبر دیتے۔ راشد آج بھی پہنچا تو پینشن دینے والے اہلکار نے جوزف کو بتایا کہ یہ ہے عنایت مسیح کا بیٹا۔

۔ ۔

”ابھی تک لوٹا نہیں۔ آج ہی بانسوں پر جھنڈے بھی لگوادیں گے۔ پتواری سے آج ہی دیوار پر قلعی کروائیں گے۔ “ اکمل خالو نے جیب سے کاغذ نکال کر دیکھا ”آستانہ عالیہ، حضرت، پیر طریقت۔ “

دروازے پر دستک ہوئی۔ ” آجاؤ بھئی“

”پردہ کروالیں“ باہر سے ایک مردانہ آواز آئی

”ہائیں! کون ہی بھئی؟ “ اکمل خالو کسی زنانہ سائل کے منتظر تھے۔

ارے یہ کیا۔ ایک پولیس والا ایک سادہ لباس میں ملبوس اہل کار کے ساتھ دروازے پر کھڑے تھے۔

”کون ہو بھئی۔ کیا چاہیے“

”ذرا ہمارے ساتھ چلئے“ سادہ لباس والے نے جیب سے ایک کاغذ نکال کر دکھایا۔

یہ کورنگی تھانہ تھا۔ شام تک نہ جانے کیا کچھ سوالات ہوتے رہے۔

”بھئی اسے اندر بھیج دو“ تھانے دار کی آواز آئی۔ ”باقی تفتیش کل کریں گے“

نیم تاریک کمرے میں، جس کے دروازوں پر سلاخیں لگی تھیں۔ فرش پر کچھ ڈھیر سے نظر آئے۔ ایک ڈھیر میں جنبش ہوئی اور ایک رونی سے آواز آئی“ ابا“

یہ پیر طریقت، قدوت السالکین، پیر اکمل علی شاہ کے ہونے والے سجادہ نشین راشد بابا کی آواز تھی۔

------------------------------

عبدالشکور پٹھان

 شکور پٹھان کا تعارف خود ان کی زبانی :روداد کچھ یوں ہے کہ میرا پورا نام عبدالشکور پٹھان ہے. کراچی میں پیدا ہوا. گورنمنٹ کامرس کالج سے بی کام کیا. مادری زبان کوکنی ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں. ۱۹۷۵سے بسلسلہ روزگار بیرون ملک ہاں کراچی میں گلشن اقبال میں رہائش ہے. دوبئی میں ملازمت کرتا ہوں اور گھر شارجہ میں ہے.ہر سال کراچی جاتا ہوں لیکن پچھلے ڈھائی سال سے کچھ ایسے حالات ہوئے کہ کراچی نہ جاسکا. اور یہی وجہ بنی اس بلاگ کے شروع کرنے کی.مطالعہ کا شوق ہے لیکن لکھنے کا اس سے پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا. کراچی کے حالات پر دل کڑھتا تھا اور وہ دن یاد آتے تھے جب یہ شہر پرسکون اور محبت اور رواداری کا گہوارہ تھا ابتدا میں کچھ مختصر سا تبصرہ کرتا تھا اپنے فیس بک پیج پر. احباب نے اسے پذیرائی بخشی تو اسے باقاعدہ سوچ سمجھ کے لکھنا شروع کیا. یہ کوئی معلوماتی مضامین نہیں. صرف میری مبہم سی یاد داشتیں اور تاثرات ہیں ان ہستیوں کے بارے میں جو میرے شہر کیلئے باعث افتخار ہیں.یہ ہے میری مختصر سی داستان.کہیں یہ بھی دبی ہوئی خواہش کہ میرے شہر کراچی کے اچھےدنوں کو یاد کرکے شاید کسی کے دل میں اس شہر کی محبت جاگے اور وہ اپنی بساط کے مطابق اس شہر کی کھوئی ہوئی رونقیں بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے.والسلامدعاؤں کا طالب.شکور پٹھان

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form