یدبان شمارہ ١٣

نظم : کنیا پوجن

شاعر : عذرا نقوی

نیچے لان میں آج یہ کیسی چہل پہل ہے

اپنے گھر کی بالکنی سے دیکھا میں نے

ہاں یاد آیا ٠٠٠آج تو کنیا پوجن ہوگا

تتلی جیسی

رنگ برنگے کپڑے پہنے

خوشی خوشی یہ بچیاں ساری

ساتھ میں اپنی ماوں کے آج آئ ہوئ ہیں

چڑیوں جیسی پھدک رہی ہیں

آج تو ان کی پوجا ہوگی

مزے مزے کے پکوانوں سے خاطر ہوگی ، عزت ہوگی

سوچ کےپھریہ سہم گئ میں

آج تو کیسی چہک رہی ہیں

ان کا مستقبل کیا ہوگا

اپنی ماوّں جیسا ہوگا ؟

ان کی مائیں کولونی کے گھروں میں جھاڑو برتن ، صاف صفائ کرنے والی

محنت اور مشقت والی

کتنے دکھوں اور اپمانوں کے

آور پتی کی مارپیٹ کے زخموں کو آنچل میں چھپائے

اپنا مقدر جھیل رہی ہیں ، جوجھ رہی ہیں

اپنی کنیاوں کے کنیادان کی خاطر

پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہیں

چکرویو کیا یونہی چلے گا ؟

کیا کنیا پوجن کو آئ کھیلتی ہنستی کنیایوں کا

جیون بھی پھر اپنی ماوں جیسا ہوگا

زخموں کی کیاوہی وراثت ، وہی مقدر ان کا ہوگا؟

نہیں نہیں اب یہ نہیں ہوگا !

یہ آواز کہاں سے آئ ؟

کیا کوئ بچی یا اس کی ماں بول اٹھی ہے ؟

یا میری خوش فہمی تھی یہ ؟

عذرا نقوی

توصیف احمد ملک ایک نوجوان افسانہ نگار اور علم دوست انسان ہیں .آپ کا تعلق .....پنجاب جھیلم  سے ہے  اور آپ انٹیرئیر ڈیزاینر ہیں . آجکل آبھا  میں مقیم ہیں -

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form