کسی چقماق میں وہ آگ ھو گی

August 4, 2018
دیدبان شمارہ ۸،مزاحمتی ادبشاعری

کسی چقماق میں وہ آگ ھو گی

-----------------

جگہ یہ کون سی ھے

یہاں موسم یہ کیسا ھے

طلسمی شہر ھے یہ

کہ اے بازی گران شہر خوباں !

یہ دل آرام دل کش کوۓ جاناں

عجائب گھر ھے کوئی

کہ ہرساعت

سردیدہ جو اک منظر اترتا ھے

تو حیرت پتلیوں کی پھیل جاتی ھے

یہ سائے سائے جیسی چیز کیا ھے

جو پہچانی نہیں جاتی

کہ ہر کاندھے پہ سر کچھ اور ھے

دھڑ اور کچھ ھے

یہی دارالفنا تھا

کہ جس کے شمع خانے میں

بقا کی لو مچلتی تھی

کہ جس کی روشنی میں

سلوک عشق طے کرتے تھے پروانے

کہ جس کی آنچ چھوتی تھی

تو شریانوں میں لالہ زار کھلتے تھے

وہ شاید بجھ چکی ھے

چلو پھر ڈھونڈتے ہیں

اسی وحشی خرابے میں

جہاں پتھر میں پرکھوں نے

کوئی پوشیدہ چنگاری تلاشی تھی

کسی چقماق میں

وہ آگ ہوگی

**

انور شمیم

شاعر اور مدیر ،پٹنہ بہار (انڈیا) میں رہائش پزیر

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form