خورشید بہ روزنے در افتاد و برفت

April 3, 2020
دیدبان شمارہ 11StoryStory

دیدبان شمارہ 11

خورشید بہ روزنے در افتاد و برفت

تحریر : عاطف ملک

بوڑھے کوہستانی نے دور سامنے نظر آتے پہاڑوں پر نظر ڈالی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ دور پہاڑ جن کی چوٹیاں گرمیوں میں لکیر دار ہوجاتی ہیں؛ دھوپ جہاں جیت جائے وہاں برف پگھل جاتی ہے، پانی کی لکیر بن کر نیچے کو بہہ جاتی ہے۔ اور اس لکیر کے آس پاس برف جمی رہتی ہے۔ پہاڑ  سے نیچے اترتا راہ، گہرا راہ مگر برف سے بھرا رہتا ہے، سفید برف سے بھرا راہ جس پر نیلا آسمان اپنا رنگ ڈالتا ہے۔ پہاڑ کے اوپر کے آسمان کو دن میں دیکھو تو کچھ زیادہ ہی نیلا لگتا ہے، اور رات کو دیکھو تو ایسا ستاروں سے بھرا ہوتا ہے کہ کسی معصوم کی جھلملاتے تاروں سے سجی اوڑھنی ہو۔

بوڑھا کوہستانی مسکرا رہا تھا، یہ پہاڑ اس کی زندگی کا حصہ تھے۔ اس کی داڑھی برف کی مانند  سفید تھی، جھاگ کی مانند سفید، اور وہ خود دھوپ کی مانند اجلا تھا۔ وقت کی دھوپ نے اس کی  داڑھی کے رنگ کو پگھلا کر سفید کر دیا تھا مگر وہ اب بھی جب کھڑا ہوتا تھا تو ایک رعب ساتھ لے کر کھڑا ہوتا تھا۔ اس کے سر کے اوپر آسمان کچھ زیادہ ہی نیلا لگتا تھا۔ بوڑھے کوہستانی کے چہرے پر وقت نے لکیریں ڈال دی تھیں۔ لکیر جہاں سے کبھی آنسو بہے ہونگے مگرآس پاس لاعلم رہا۔ اُس وقت بھی جب اُس نے جوان بیٹے کی لاش کو دفنایا تھا، اس کی آنکھیں پتھرائی تھیں۔ آس پاس کے پتھریلے پہاڑوں کی مانند پتھرائی ہوئیں، بغیر کسی ہریالی کے، سیاہ مٹیالے سخت پتھر کی مانند، پتھرائی، سخت پتھرائی، بغیر کوئی احساس دیتیں۔ مگر کبھی تو پانی بہا تھا، کسی اندھیری رات میں، جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے، جب کوئی ستارہ نہ چمکے، جب مسافر اپنے راہ بھول جائیں، جب عفریت ان راہیوں کو نگل جائے جو اپنا راہ بھول چکے ہوں اور کوئی پھر تمام عُمر ان کے انتظار میں ایسا  بیٹھا رہے کہ چہرے لکیر دار ہوجائیں۔ اُس کے چہرے کی لکیریں بتاتی تھیں کہ کبھی تو پانی بہا تھا۔

کوہستانی پہاڑ کی مانند تھا۔ لکیردار چہرہ، سفید داڑھی اور کاندھوں پر سفید اون کی بنی شال دونوں بازوں اور کمر کے گرد خوب لپٹی ہوئی۔ وہ گھر کے برآمدے میں بیٹھا تھا۔ برآمدے میں لکڑی کی جالیاں لگی تھیں۔ سبز رنگ، ترچھی لکڑیاں جو ایک دوسرے کو ایسے کاٹتی جاتی تھیں کہ ان کے درمیان ترچھے چوکور خانے بنے تھے۔ دھوپ ان سے چھن چھن کر آرہی تھی۔ فرش پر سایہ بن رہا تھا، روشن چوکور ڈبیاں، ایک دوسرے سے جڑی، فرش پر ٹیڑھی پڑی ہوئی دھوپ۔

بوڑھا کوہستانی مسکرا رہا تھا۔ دھوپ ڈھلنے لگی۔ بوڑھا کوہستانی اٹھا۔ ایک طرف پڑے بستر پر لیٹا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور مسکرا دیا۔

از موت و حیات چند پرسی آخر

خورشید بہ روزنے در افتاد و برفت

ترجمہ : زندگی اور موت کے بارے میں کیا پوچھتے ہو۔ بس یہ سمجھو کہ دھوپ روزن سے اندر آئی اور گذر گئی۔

****************

The Highlander

By Atif Malik in Urdu, Translated in English by Suhail Akhtar

A faint smile clung to the aging highlander’s lips as he squinted at the snow-capped peaks of the distant mountains. He could make out the tiny rivulets that came down the mountainside as the summer sun battled the accumulated snow. Over time, the rivulets had cut deep ravines into the mountainside which were bordered by deep snow on both sides. As he gazed upon brilliant blue of the summer sky, the old man’s smile grew a little deeper. He knew that the sky is a brighter blue when viewed from the mountain top. It made him think of the night sky, which is even more wondrous, brimming with a multitude of bright twinkling stars, like the shimmering beads sewed on to an innocent child’s quilt.

These mountains were a part of the highlander’s life. When he stood up his hulking frame reminded passerby’s of the mountains from where he had descended. His beard was as white and as deep as the snow that covered them and his soul was as bright as the sun that shone down upon them. Time had carved craggy lines into his weathered rough-hewn face like the ravines on the mountains.

Over the years tiny rivulets of tears must have flown through the craggy lines on the mountain man’s face, but no one had ever seen him cry. Not even when he buried his teenaged son. Even on that day his eyes remained dry and emotionless like the dark granite of a barren rocky mountain.

Yet tears must have flown. They must have. In the dead of a gloomy moonless, starless night when darkness engulfs everything. The kind of night when a brooding malevolent presence lies in waiting for the weary traveller who has wandered off the trodden path. The one waiting for the traveller to come home, has to wait that night and every night. He has wait even when time has carved craggy lines into his weathered face. Or was it the tears that had sculpted the highlander’s face?

The highlander was like a mountain. Craggy weathered face, flowing white beard and a white woolen cloak thrown over his broad shoulders. He was sitting cross legged in the patio of his house, the woodwork that adorned the boundary of the patio was a simple pattern of crisscrossing wooden panels whose intersections were little squares of emptiness. The sunlight cascading through panels was filtered into neat little squares of sunlight. Neat little squares of sunlight strewn across the floor, strung together like in a garland of light lying on the ground.

The highlander was still smiling as the sun began to set. The garland of light was becoming one with shadows. He rose effortlessly off the floor and lay down on his bed placed in the patio. He took another look at the distant mountains, smiled and closed his eyes.

از موت و حیات چند پرسی آخر

خورشید بہ روزنے در افتاد و برفت

(Persian Couplet)

And you ask me what are life and death

Sunlight that crept in from an oriel, and then faded away.


عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ 

Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form