دیدبان شمارہ ١١

تنقید

مضمون : خیال کی موت

تحریر: محمد اقبال دیوان

مابعد جدیدیت

(Post -Modernism) کے ساتھ ایک اڑچن جڑی ہے۔اسے بطور اصطلاح  مغرب میں بھی سمجھانا مشکل ہے ایسے میں پاکستان کا تو ذکر ہی کیا۔کوئی بہت ضد کرے تو اسے ٹالنے کے لیے  کہا جاسکتا ہے کہ یہ افکار مروجہ اور اظہار مستند کے خلاف ایک فرد واحد یا جماعت کی بغاوت  کا  بیانیہ ہے۔ممکن ہے اس جمع بندی پر خود  باغیوں کو بھی اعتراض ہو۔

دشواری یہ ہے کہ ’دید بان‘ جیسا موقر جریدہ اور اس  سے وابستہ  اہل تفکر،سنجیدہ مدیران  ایک ایسے موضوع کو اپنے اس مرتبہ کے مجلے میں جگہ دے بیٹھے ہیں جو نری جرات مندی  کامقام ہے۔اس اصطلاح کو بہر طور سمجھنا ضرور ی ہے اور اس سمجھنے میں سائن لینگ ویج کی طرز  پر  ایک کوشش  اس طرح کی جاسکتی ہے۔ کہ اس کے دھندلے سے خدوخال واضح ہوجائیں ۔یاد رکھیں کہ اس مضمون کا ہدف دیدبان کا وہ عام قاری ہے جو اکثریت میں ہے اور جو اس موضوع سے کما حقہ ناواقف ہے۔

مغربی دنیا بالخصوص یورپ میں نشاۃ الثانیہ(Renaissance) کی تحریک  دراصل مذہب اور حاکم کے جبر و استبداد اور استحصال کے خلاف کے خلاف بغاوت کی فکری تحریک تھی۔ ان دو اداروں کی  سب سے بڑی علامت تا حال    چرچ اور بادشاہ   کا وجود ہے۔برطانیہ، بیل جئیم،اسکنڈے نیویا تا حال ان دونوں اداروں کی سرپرستی میں جی رہے ہیں۔اس بغاوت کے نتائج کی بنیاد پر  موجودہ دنیا نے اپنی عمارت کھڑی کر رکھی ہے۔   Renaissance کی  یہ تحریک پندرھویں سے سترھویں صدی تکانسانی فکر کے ہر شعبے چاہے وہ فن سے متعلق ہو یا سائنس سے۔فکر سے جڑا ہو کہ ادب سے اس میں ظاہر ہوتی رہی

چرچ مغربی دنیا میں دنیا کے تاحال سب سے طاقت ور  ادارے  ویٹکن  اور اس کے سربراہ پوپ کی صورت میں موجود ہے۔دور حاضر میں بھی ان کی دین کی اپنی توجیہ ہے۔مشہور مبلغ شیخ احمد دیدات نے کئی مرتبہ پوپ پال جان پال  ثانی سے جن کا دور پاپائیت1978   -2005

پر محیط ہے   ان  سے  ڈائیلاگ کی کوشش کی۔ دیدات صاحب مرحوم  نے ہمیں بتایا کہ اگر پوپ اپنے نظریات سے تائب ہوجائے تو کیتھولک عیسائیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

پوپ جان پال نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد  اپنے فرمان جسے ان کے ہاں The Bull    کہا جاتا ہے اس  کے ذریعے  جس پہلی حکومت کو تسلیم کیا وہ اسرائیل کی تھی اور اسی فرمان میں انہوں نے یہودیوں کو اس الزام سے بھی بری کردیا کہ سیدنا عیسی علیہ سلام کے مصلوب ہونے  کی سازش میں وہ برابر کے شریک تھے۔اس الزام کی وجہ سے یہودیوں کا  چھ سو سال سے وٹیکن میں داخلہ ممنوع تھا  جسے  انہوں نے یک جنبش قلم  منسوخ کرکے معافی کردی۔اس فوری اقدام سے بہت ہنگامہ ہوا۔کئی لوگوں نے پوپ کے پولینڈ والے ماضی کو کھدیڑ ڈالا اور یہ کوڑی نکال لائے کہ پوپ کی والدہ یہودی تھیں۔وہ ایک پلان ٹیڈ پوپ ہیں۔اس واقعہ کو بیان کیے بغیر یہ بتانا ممکن نہیں کہ چرچ پوپ کی صورت میں اور بادشاہ حاکم وقت ہونے کے ناطے ایک فرد واحد ہی کا یونٹ تھے۔

اس تحریک روشن میں پہلی بغاوت تو     نہیں البتہ افکار تازہ کی   ایک بڑی نہر  René Descartes   نامی فلسفی نے نکالی تھی جن کا تعلق  فرانس  سے تھا۔انہوں  نے ارسطو اور اس نوعیت کے فلسفیوں کو چیلنج کیا اور   Rationalism  یعنی معقولیت   اور Enlightenmentکو فروغ دیا۔ تقلید و تائید کی بجائے عقلیت     اور تجلی افکار کو  اپنا شیوہ بنایا۔یہی وجہ تھی کہ افکار انسانی نے بطور ایک ریل کے اس پٹری پر سفر کرنا شروع کیا جس کی بنیاد نے ایک بہت بڑے    خیال کو جنم دیا  Irreligion یعنی مذہب سے بغاوت نے جنم لیا۔اس میں ایک  بہت بڑی کیل ڈارون نے بھی ٹھوکی جن کا نظریہ ارتقا دینی حلقوں اور بائبل کو  بہت مشکوک اندھیروں میں دھکیل گیا۔اس کے دلائل بائبل کے مقابل میں وزنی معقول اور اس کا مشاہدہ کہ انسان رفتہ رفتہ چمپنزی سے انسان بنا جدید ذہن کو اس بیان پر بھاری لگا کہ برسوں سے خوابیدہ ایک خدا نے کہا روشنی ہوجائے اور روشنی ہوجائے۔

بائیبل کا بیان اس حوالے سے دل چسپ ہے اور بعد کے سائنسدان اس ترتیب کو اب بگ بینگ تھیوری میں ڈھونڈتے  پھر رہے ہیں

1 In the beginning God created the heaven and the earth.

2 And the earth was without form, and void; and darkness was upon the face of the deep. And the Spirit of God moved upon the face of the waters.

3 And God said, Let there be light: and there was light.

عقل پرستی کی اس تحریک کو

سب زیادہ سہارا سیاست کے میدان میں ملا ۔ جمہوریت کے روپ میں عقلیت اور   روشن خیالی کا یہ روپ    فیصلہ ساز اداروں  کی صورت میں سامنے آیا۔  اس   غیر مذہبیت نے دنیا  کو ایک عجیب سے سحر میں مبتلا کردیا کہ جمہوریت  فرد کا وہ فیصلہ ہے جسے اپنے ظہور کے لیے اکثریت درکار ہوتی ہے۔

دنیا انسانوں کے لیے بنی ہے۔اخلاقیات ایک عالمی تقاضا ہے۔ اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں سو بہتر ہے کہ امور انسانی کی انجام دہی کے معاملے میں معاملات دنیاوی طور پر ہی نمٹے جائیں اور دین کو ان سے پرے رکھا جائے۔اس کے باوجود خفیہ طور پر مغرب کا اشرافیہ نے طے کررکھا ہے کہ وہاں اکثریت کا مذہب ہی اورجنس ہی حکومت کرے۔۔یوں

مغربی اداروں کا  یہ عجب تضاد ہے کہ  امریکہ فرانس اور پوپ کے ہاں  آج خاتون سربراہ نہیں بن سکی جب کہ پاکستان، بنگلہ دیش،سنگاپور سری لنکا بھارت جیسے ممالک میں یہ تفاخر کئی خواتین کو حاصل ہے۔روشن خیالی نے اگلا قدمEmpiricism کی جانب بڑھایا جس کے تحت ہر علم کی بنیاد وہ تجربہ ہے جس کو حواس خمسہ کی تائید حاصل ہو۔سترھویں اور اٹھارویں صدی تک اس  تحریک کے بڑے ناموں میں جان لاک،جارج برکلے اور ڈیوڈ ہیوم شامل  تھے۔اب ہمارے  اور ما بعد جدیدیت کے درمیاں صرف  EXISTENTIALISM یعنی نظریہ وجودیت باقی ہے۔اس نظریے کے تحت ہر فرد ایک آزاد انسان ہے جس کی نشوو نما میں اعمال اور حق خود ارادی یعنیWill  کا بہت بڑا رول ہے۔اس سلسلہء افکار کو فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت پذیرائی ملی اس کے سرخیل ژاں پال ساترے اور ان کی گرل فرینڈ سمون ڈی بوا تھی۔  اس کے علاوہ ان افکار کو ادب  نے عوام میں مقبول کیا۔ روسی ادیب فیدرو دوستوسکی  جن کی کتاب برادر کرامے زاف دنیا ئے ادب کے ان شاہکار وں میں سے ایک ہے جو امریکی خاتون اول ہلری کلنٹن اور سپریم کورٹ کے پسندیدہ ادیب ماریو پزو  گاڈ فادر والوں کی من پسند کتاب شمار ہوتی ہے۔  وجودیت نے اس بات کو بہت اہمیت دی کے انسان کے افکار محض عقل کی پیداوار نہیں بلکہ اس میں احساسات او ر جذبات کو بھی بہت دخل ہے۔علامہ اقبال کے ہاں بھی اس خالص عقل پرستی سے بغاوت ملتی ہے جب وہ

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشے لب بام ابھی

یا

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کو استاد کر

یا

وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں

عشق سی دیتا ہے بے سوزن و تارِرفو

ایک طویل عرصہ تک مغربی دررسگاہوں میں زیر تعلیم رہ کر ایسا لگتا ہے کہ فلسفے کا طالب علم ہونے کے ناطے علامہ اقبال کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ عشق عقل سے زیادہ صاحب ادراک ہے۔

اس فلسفہ وجودیت کو  البرٹ کامیو جو دنیا کے دوسرے کمسن ترین نوبل پرائز  یافتہ ادیب تھے وہ   کھینچ کر Absurdism  تک لے گئے جس کی رو سے افکار انسانی معنی اور بے معنی کی سرحد کے درمیاں رُلتے رہتے ہیں۔انسان اپنی دانست سے ان کے درمیاں معنی ڈھونڈ کر اسے حقیقت دوراں کا روپ دیتا ہے۔

سارترے، کامیو اور دوستو وسکی  اور ڈی بوا کو اس بات کا بہت بڑا کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ فلسفے کے خشک اور بوجھل مباحث کو ادب کی کہانیوں ،کرداروں   میں لے گئے اس میں ڈی بوا نے ایک اور راستہ جنس کا نکالا۔ ان کی کتاب  نے     جو    سن پچاس میں    Le Deuxième Sexe  ”دوسری جنس“   کے نام سے فرانس میں دو جلدوں میں شائع ہوئی اس نے    افکار نسوانی کو ایک نیا زاویہ  عطا کیا۔ اس   زاویہ کے سہارے   امریکہ میں      سن ساٹھ کی دہائی میں جنسی آزادی کی ایک ایسی تحریک چلی جسے Second-wave feminism  کہا جاتا ہے

وجودیت پر ان  اہم مفکرین اور ادیبوں  کے  افکار کو  ہر اس فرد اورگھر   تک پہنچادیا جہاں کتاب پڑھی جاتی رہی  ہے۔ علامہ اقبال کا مسئلہ دہرا تھا۔ وہ  ایک سیاسی تحریک اور ایک قوم ہندوستانی مسلمان  سے جڑ گئے۔چالاک مغرب اس بات کا حامی نہ تھا کہ اس دور کے ایک اسلامی شاعر اور مفکر کو جس سے نے اقتدار بہ زور طاقت چھینا تھا  اسے پانے اداروں کی اعانت سے  عالمی ادب میں وہ مقام دے جو

اس کے فلسفے کو دیگر محکوم اقوام میں راہ عمل اور پیغام جرات دے۔

یوں مغربی  دنیا میں انہیں دو وجہ سے پذیرائی نہیں ملی ایک تو ان کا کلام تادیر غیر ملکی زبانوں میں منتقل نہیں ہوا دوسرا دین اسلام کے اس مبلغ کو بیرونی دنیا میں قبولیت ملنا یوں بھی ناممکن تھا کہ وہ لادینی نظریات کی حامی، سیکولر اور  بہت بڑے سیاسی بھونچال جیسے اشتراکی انقلاب کو فرد یا گھرانے کے کینوس پر منتقل کرکے اس کے  باہر سے دہلیز تک اور دہلیز سے باہر تک نقل و حمل کو  علامہ اقبال کی شاعری سے زیادہ آفاقی خیال سمجھتے تھے۔

اب ہم آہستگی سے  ما بعد جدیدیت کی طرف قدم رنجہ ہوتے ہیں۔Post -Modernism کی  آمد کی   درست تاریخ تو بتانا ناممکن ہے مگر  دنیائے  افکار میں یہ خالصتا ”بغاوت کا اعلان تھا۔ماضی کے ہر خیال سے بغاوت،حقیقت کے ادراک سے بغاوت تھی۔ اس نظریے کے داعی   حدود و قیود کو غیر ضروری  مانتے ہیں ان کے نزدیک سچ کچھ نہیں، معنی کی کوئی حقیقت نہیں اور کوئی بات حتمی نہیں۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ وجودیت کی طرح اس فلسفے کے بھی سب سے بڑے داعی بھی فرانس  کے  ژاک ڈری ڈا تھے۔ان کے لیکچروں کو امریکہ میں بہت پذیرائی ملی جہاں دنیائے فن و ادب سے زیادہ  اسے عسکری اور صنعتی  ڈیزائنرز  نے بہت شد و مد سے اپنایا

امریکی  طرز زندگی سے آشنا  افراد جانتے ہیں کہ وہاں کسی نئے خیال کی پذیرائی جلد ہوتی

ہے۔جیسے اسی پوسٹ موڈرن ازم کا نتیجہ ہے کہ ان کے ڈالروں میں ارب پتی ادارے فیس بک، ایمزن،اوبر،یوٹیوب،گوگل اورBitcoin جیسے نام دنیا کو حیرت میں ڈالتے ہیں اور تجارت کے بہت بنیادی فلسفے کو رگڑا دیتے ہیں۔فیس بک، یوٹیوب اور گوگل کی اپنی کوئی پراڈاکٹ نہیں۔نہ ان کی شناخت فیکٹری یا مالیاتی ادارے کے طور پر ہوئی ہے مگر اس کے باوجود وہ بہت بڑے تاجر ادارے ہیں جن کی اسٹاک لسٹنگ خیرہ کن ہے۔ان کو آمدنی کا ذریعہ

دوسروں کا مال ہے جس کی وجہ سے وہ ارب پتی بنے ہوئے ہیں۔اوبر کی اپنی کوئی گاڑی ٹیکسی  نہیں۔ایمزن کی اپنی کوئی پراڈکٹ نہیں لیکن دوسروں کا مال بیچ کر اس کے مالک Jeffrey Preston Bezos کی دولت نے بل گیٹس کو  بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ اگر غور کریں تو  یہ تینوں ادارے  مابعد جدیدیت کے تینوں نشانات کو بہ یک چھوتے ہیں کہ سچ کچھ نہیں۔حتمی کوئی بات نہیں، کسی شے کی کوئی حد نہیں۔امریکہ کے عسکری اداروں نے اسی کو سامنے رکھ کر ڈرون ٹیکنالوجی کو آزمایا، اپنایاا ور   اس کے کئی استعمال ڈھونڈ نکالے۔اس کے کاندھے پر لاد کر لے جانے والے میزائل نے روایتی افواج کو دھول چٹادی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سائبر ٹیکنالوجی نے پورے پورے الیکشن کے نتائج مشکوک بنادیے۔ہیلری کلنٹن کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا

پاکستان کے منظر نامے میں یہ  نظریہ مابعد جدیدیت اس طرح ظاہر نہیں ہوا۔

سن ستر میں نیشنل کالج آف آرٹس کے استاد ظہور الاخلاق  جن کو بعد میں قتل کردیا گیا ان کا اصرار تھا کہ

miniature painting کی مابعد جدیدیت  میں بہت اہمیت ہے وہ اسے اپنے فن پاروں میں تجریدی آرٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ان کے بعد شازیہ سکندر اسے واپس اسی پیرائے میں لے گئیں مگر ان کا موضوع روایتی مغل مناظر نہیں تھے۔ ہم سے پوچھیں تو پاکستان میں اس معیار پر صرف صادقین پورے اترتے ہیں جن کا مکمل فن مابعد الجدیدیت کا مظہر ہے کہ اس کی لائن، رنگ، فگر،موضوعات  خطاطی اپنی قیود خود ہی متعین کرتی ہے

مثلاً اردو رباعیات میں یہ منظر نامے کہاں تھے کہ

بھولے سے کبھی اور کہیں ہوتے ہیں

ہے سایہء  دیوار یہیں ہوتے ہیں

ہم کوچہء جاناں کے علاوہ بھی کہیں ہوتے ہیں

ہوتے ہیں کبھی بھی تو نہیں ہوتے ہیں

یا

وہ جملہ حجابات کے اٹھے پردے

میں تیرا بدن دیکھ رہا ہوں ایسے

غرناطہ و قرطبہ کا سیاح جیسے

پہلی ہی دفعہ تاج محل کو دیکھے

دوسرے بڑے پوسٹ ماڈرن شعرا میں موضوعات کے چناؤ اور بیان کی بے باکی میں ہمارے نزدیک مصطفے زیدی کا نام آتا ہے۔جس میں ایک شدید علامتی بغاوت کا احساس پایا جاتا ہے جو معاشرتی منافقت کو کھول کر بیان کرتا چلا جاتا ہے

اترا تھا جس پر باب حیا کا ورق ورق

بستر کی ایک ایک شکن کی شریک تھی۔

ان کی نظموں میں یہ بہت کھل کر بیان ہوا ہے

جیسے ان کی ایک نظم۔۔۔۔خطاب

وہ کہے گی کی ان خطابوں سے

اور کس کس پہ جال ڈالے

تم یہ کہنا کہ تیرا بدن حقیقت ہے

اور سب مٹیوں کے پیالے ہیں

عشق میں اے مبصرین کرام

یہی تیکنک کام آتی ہے

اور یہ ہی لے کے ڈوب جاتی ہے۔

 پاکستان میں  یوں تو مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف شعرا اس خانے میں فٹ ہوتے ہیں جیسے عذرا عباس،افضال احمد سید، ان کی اہلیہ تنویرانجم،سعید الدین،سارہ شگفتہ، ذیشان ساحل مگر اردو ادب کے قارئین کی اکثریت ان کی شاعری سے  ناواقف ہے۔پاکستان میں بغاوت، سادگی اور بے حد  ہونے کے حساب سے بڑا نام جون ایلیا کا ہے جن کی سادہ بیانی میں ایک ایسا احتجاج ہے جو خالصتاً ایک کمرے کے آؤٹ ہاؤس میں بھائیون کے رحم و کرم  پر گارڈن ایسٹ کراچی کے گھر میں رہنے والے ایک حساس شاعر کا ہوسکتا ہے

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے

یا

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

یہ ہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

بہت نزدیک آتی جارہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں

سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس  میں جامعات میں کٹ کاپی پیسٹ قسم کا اساتذہ کی اکثریت نے علم یت کا گلا گھونٹ دیا۔جسے انگریزی میں میڈیاکر    (medicore) کہتے ہیں وہ اب جامعات  میں دانشور بن بیٹھے ہیں  پاکستان کی جامعات میں شعبہء انگریزی والے انگریزی, عربی والے عربی اور فارسی والے فارسی بول نہیں سکتے  لیکن وہ ان زبانوں کا اعلی ترین ادب کیٹس اپنی ایس نظم وچ آکھدا اے کہہ کر  مقامی زبانوں یا اردو میں پڑھائے رہے ہوتے ہیں۔پبلک جامعات میں انگریزی ادب پڑھانے والے    بیشتر استاذہ کو ایک عرصے تک اروندھتی رائے، وکرم سیٹھ اور جھمپا لہری، گارشیا مارکیز، فرینزن اور  سلویا پلاتھ کا نام بھی نہ پتہ نہ تھا سو ان کے زیر نگرانی درس لینے والے طلبا سے اتنے اہم مباحث کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یقین نہ آئے تو تفریحاً کسی اردو کے کسی استاد سے پوچھ لیں

کہ حضرت جان، پیتل کا گھنٹہ اور شب گزیدہ کسی کی تصانیف ہیں تو وہ قاضی عبدالستار کے نام سے ناواقف ملیں گے

پی ٹی وی کے زمانے میں ڈرامے اور موسیقی میں جو تجربات ہوگئے وہ بہت بڑے تھے مگر اب جو میڈیا ہے اسے اسمگلر،بلڈر، گھی اور بیکری والے چلاتے ہیں۔وہ اسے سرکار کو بلیک میل کرنے کے لیے تجارتی سہولت اور فوائد حاصل کرنے اور اپنا کالا دھن چھپانے کے لیے بطور کلاؤٹ  استعمال کرتے ہیں کہ ان کے اصل دھندے کی طرف کوئی سرکاری ادارہ میلی نظر سے نہ دیکھے۔ان میڈیا ہاؤسز کا کلاؤٹ ایسا ہے

کہ  بعض دفعہ تو اعلی عدالتیں،بڑی سیاسی پارٹیاں بھی ان کی بستر میں مچ مچاتی دکھائی دیتی  رہی ہیں۔ وہ دن کون بھول سکتا ہے جب نواز شریف کے سرمائے سے ایک مشہور چینل  جب افتخار چوہدری کی تحریک بحالی  کی حمایت میں تخت و تاج اچھال رہا تھا۔

میڈیا نے جس طرح کا  سن کر دینے والا ماحول بنادیا ہے۔سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کو جس طرح کے

ذہنی مقابلوں کا روپ دے دیا گیا ایسے میں میں کسی بہت بڑے Intellactual Dialogue کی  توقع  پاکستان میں سر دست عبث ہے۔

پوسٹ ماڈرنزم جن کا یہ نظریہ ہے کہ ایک پرفیکٹ معاشرہ جس کا پرچار مختلف فلسفیانہ نظریات کرتے ہیں ایک بلاوجہ کا بڑبولا پن ہے۔ایسے معاشرے کبھی اور کہیں بھی وجود میں نہیں آئے۔ ایسی  صورت میں بہتر ہے کہ ہر فرد اپنی دنیا کو اپنے اظہار جسے  micro-narratives    کہا جاتا ہے  اس کا اظہار اپنے عمل کے ذریعے  کرکے دنیا کو پرفیکٹ بناکر خوشیاں سمیٹے۔پاکستان کا جائزہ لیں تو یہ علامیہ بھی بے لطفی اور بے علمی کی دھند میں گم دکھائی دیتا ہے۔

٭٭٭

محمد اقبال دیوان



مصنف محمد اقبال دیوان
ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں
ان دنوں
میمن ہونے کے ناطے ایک بہت بڑے بزنس ہاؤس سے وابستہ ہیں
سیاحت اور مصوری سے خصؤصی لگاؤ ہے
اپنے اہل خانہ کے ساتھ اکثر نیویارک ،استنبول، ایمسٹرڈم اور کراچی میں قیام رہتا ہے


Related Posts

Subscribe

Thank you! Your submission has been received!

Oops! Something went wrong while submitting the form